شاعر

شاعر
شاعر
تم نے کبھی
رات کے سکوت میں
Click کی گونج سے
نغمہ کوئی جگایا ہے؟
خیر چھوڑو
بے ادبی کا بوجھ
سینے پہ پتھر نہیں ہوتا
ہواؤں میں اُڑو
عیش کرو
آسمانوں میں کوئی خدا نہیں ہے
میری فکر چھوڑو
میں تو زمین پہ
اپنے جیسے لوگوں کا
ریت اور پانی سا
بے پناہ شاعر ہوں


Related Articles

مایوسی

افتخار بخاری: میں وقت میں
چلتے چلتے رکا
تا کہ بچوں کی خاطر
خریدوں
میں کچھ روٹیاں

کھرے عشق کا المیہ

شارق کیفی: محبت کا حد سے گزرنا ہی بے کیف کرتا ہے اس کو
کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 10 دسمبر 1971- گھاٹ کی طرف

وہی ہوا جس کا گزشتہ رات میں نے اندازہ لگایا تھا۔فجر کے وقت ہمیں حکم ملا کہ پوری مسلح پلٹون تیار کی جائے ۔گھنشام گھاٹ گاوں کو کلیئر کرنے کا حُکم تھا کیونکہ ہمیں اس طرف سے مُکتی باہنی بہت پریشان کر رہے ہیں۔