شام دروازہ بند کر دیتی ہے

شام دروازہ بند کر دیتی ہے

شام دروازہ بند کر دیتی ہے
تمہارے منہ پہ مکھیاں بیٹھ جاتی ہیں
میرے اندر کتا دُم ہلانے لگتا ہے
صبح میرے معدے میں سانپ ڈستا ہے
دفتروں کے منہ کھل جاتے ہیں
اور لوگ سڑکیں چاٹنے لگتے ہیں
مکھیاں اس سیارے سے اڑ کیوں نہیں جاتیں
اکتا کر
یا بدہضمی کے ڈر سے
یا کم از کم میرے گھر سے

Image: Ray Cesar

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

نامکمل

سلمان حیدر: نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں

نغمۂ جنوں

رانا غضنفر: میرے حرفِ جُنوں کے سندیسے
بزمِ آفاق سے اُبھرتے ہیں
اور میں نغمہِ جنوں لے کر
پھر کسی جُستجو میں نکلا ہوں

دکھ گوتم سے بڑا ہے

نصیر احمد ناصر: دکھ برگد سے گھنا ہے
دھیان کی اوجھل تا میں
گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ کا انکھوا عورت کی کوکھ سے پھوٹتا ہے