شام دروازہ بند کر دیتی ہے

شام دروازہ بند کر دیتی ہے

شام دروازہ بند کر دیتی ہے
تمہارے منہ پہ مکھیاں بیٹھ جاتی ہیں
میرے اندر کتا دُم ہلانے لگتا ہے
صبح میرے معدے میں سانپ ڈستا ہے
دفتروں کے منہ کھل جاتے ہیں
اور لوگ سڑکیں چاٹنے لگتے ہیں
مکھیاں اس سیارے سے اڑ کیوں نہیں جاتیں
اکتا کر
یا بدہضمی کے ڈر سے
یا کم از کم میرے گھر سے

Image: Ray Cesar

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

گونگے لفظ چبانے والو

سلمان حیدر: پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

پریشر ککر کی تقلید

سلمان حیدر: میں کچن میں لوٹا تو وہ میرے سنک کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا

آپ کا نام پکارا گیا ہے

ستیہ پال آنند: دھند ہے چاروں طرف پھیلی ہوئی
میں بھی اس دھند کا کمبل اوڑھے
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھا ہوں