شاہزادی اب نہیں ہے‎

شاہزادی اب نہیں ہے‎

شہسوارو!
وقت کے گھوڑوں سے اترو!
شاہ زاد ی، جسکی تند تلوار کے ڈر سے کبھی دشمن کے ہاتھی،
اپنی فوجوں کو کُچل دیتے تھے وہ جنگجو سپاہی خاک ہوتی ہے
نِگوں سر، پر علم، اونچے اٹھاؤ
دل کی دھڑکن کو طرب کی تھاپ سمجھو
اور رجز گاؤ
خمیدہ حوصلوں کی لاش پرپڑھ کر انھیں پھونکو
ابھی جرأت کے بھالوں نے
نجانے کتنی زرہوں سے گزرنا ہے
اگر پیتل کی ڈھالوں کی نڈر آنکھوں کو پگلانے کا یارا
شاہ زاد ی ہی کے بس میں تھا تو سن لو شاہ زادی اب نہیں ہے
اب تمہاری سہمی تلواروں کو لڑنا ہے
المناکی؟
خدا کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں
درد اتنا ہے کہ آھن کو نگل جائے
زبیحوں کا لہو پی لے
خدا کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں
درد اتنا ہے کہ راتیں نیند کی دیواریں چاٹیں گی
مری ہڈیاں چبائیں گی
خدا کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں
درد اتنا ہےکہ میری روح کا خیمہ اکھڑتا ہے
مگر نیزوں کو نیچے کرنا تلواروں کو رکھ دینا گناہ ہے
شاہزادی کی شجاعت کے علم اونچے کرو !!
گر شاہ زادی اب نہیں ہے اس کی شمشیروں نے جینا ہے
گلوں کو پھاڑ کر چیخو!!
ابھی گھمسان کا رن ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Razi Haider

Razi Haider

Razi Haider is an engineer by profession , Kashmiri by heart , a poet and photographer. His Interests include politics, ontology, ethical philosophy, theology film and photography history.


Related Articles

ریحانے جباری

نصیر احمد ناصر: میں نے قتل کیا ہے
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا

آدمی قید ہے

تصنیف حیدر: آدمی قید ہے
وقت میں، خون میں، لفظ میں
آدمی قید ہے

Playing Along – A Poem

Playing Along It was her most private belief That I did not exist Actually I was to her An imaginary