شبلی نعمانی شاعری اور شعریت : ایک جائزہ

شبلی نعمانی شاعری اور شعریت : ایک جائزہ
شبلی کا ڈکشن جو اپنے عہد سے قدرے قدیم ہے اس کو شبلی نے اس طرح اپنی شاعری میں جذب کیا ہے کہ آج سو،ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس کا مطالعہ ہماری روانی کو متاثر نہیں کرتا
شبلی کے اردو کلیات کے حاصل مطالعہ کے طور پر یہ جملہ اتنا سٹیک ہے کہ اس ایک جملے میں کئی مضامین سما سکتے ہیں۔ میری بھی یہ ہی کیفیت تھی، شبلی کی اردو شاعری جس میں زور بیان اور ایک مختلف نوع کا تسلسل بڑے دلچسپ انداز میں یکجا ہوئے ہیں اس کو پڑھتے ہوئے حقیقتاً شاعری کے مطالعہ کا احساس ہوتا ہے۔ میں بعض دفعہ حیران بھی ہو اکہ شبلی کا ڈکشن جو اپنے عہد سے قدرے قدیم ہے اس کو شبلی نے اس طرح اپنی شاعری میں جذب کیا ہے کہ آج سو،ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس کا مطالعہ ہماری روانی کو متاثر نہیں کرتا مثلاً صعب، زشت، حنظل، ناصبور، مسخر، خذف اور پرخچے جیسے الفاظ، فرق آسماں، خزینۃ البضاعت، خوں نابہ فشاں، کاسہ دریوزہ اور لطمہ خور زمانہ جیسی تراکیب کو اگر ہم اس زمانے میں بھی لطف اندوز ہو کر پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی شاعری کا ہی کمال ہے۔ شبلی نے اور بھی کئی لفظ ایسے استعمال کئے ہیں جس میں سبھا، تھیٹر ، ایکٹر ، امیج ،ممبر ،منیجنگ کمیٹی وغیرہ کو شاعرانہ رنگا رنگی عطا کر دی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایسے شاعر جس کی شاعرانہ حیثیت مسلم ہو اس کے یہاں ان باتوں پر نظر کرنا اہم نہ ہو لیکن شبلی کے شعری مزاج کا جائزہ لیتے ہوئے ان باتوں کی طرف نگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کی بنیاد ی وجہ یہ ہے کہ شبلی کی شعری صلاحیتوں کے اعتراف کے ساتھ اس کے عدم اعتراف کے جواز بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔
شبلی نعمانی کی اردو شاعری پر ان کے انتقال یعنی ۱۹۱۴ ؁ء کے بعد سے اب تک بہت سے مضامین لکھے گئے ۔ ان کی شخصیت پر بھی جتنے لوگوں نے کام کیا ہے انہوں نے کہیں اجمالاً اور کہیں تفصیلی انداز میں ان کی شاعری کا بھی جائزہ پیش کیا ہے ۔ ایسی کئی شخصیات ہیں جن ہیں مولانا ابو الکلام آزاد، سید سلیمان ندوی ، سید صباح الدین عبدالرحمن ، جمیل جالبی، ظفر احمد ، مرزا محمد بشیر اور شمس بدایونی وغیرہ کا شمار ہوتا ہے، جنہوں نے مولانا کی شاعری پر اپنی اپنی رائے دی ہے ، اس کے علاوہ بھی نہ جانے کتنے ایسے مضامین اور موضوعات ہیں جن پر بحث کرتے ہوئے شبلی نعمانی کی شاعری پر اظہار خیال کیا گیا ۔ مثلاً ’کلیم الدین احمد ‘نے ’اردوشاعری پر ایک نظر‘ میں شبلی کی اردو شاعری پر بات کی ہے۔ اسی طرح جدید اردو نظم : نظر یہ و عمل میں پروفیسر عقیل احمد صدیقی نے حالی اور آزاد کے ضمن میں شبلی کی اردو شاعری کا تذکرہ کیا ہے۔ مورخین کا کیا ذکر کہ رام بابو سکسینہ جیسے کئی مورخین کو شبلی کی شاعری کے تعلق سے ایک رائے دینا ضروری معلوم ہوا، لیکن جمیل جالبی نے اس سلسلے میں اہم اور دلچسپ گوشہ اپنی تاریخ ادب اردو جلد چہارم ، حصہ دوم میں تحریر کیا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی منظر اعظمی کی کتاب ’اردو ادب کے ارتقا میں ادبی تحریکوں اور رجحانوں کا حصہ‘ بھی ہے جس میں شبلی کی شخصیت اور شاعری پر منظر اعظمی صاحب نے چند صفحات رقم کیے ہیں۔
میں نہ شاعر ہوں نہ میں نے کسی شاعر سے اصلاح لی ہے ، یہ جو کبھی کبھی موزوں کر لیتا ہوں، شاعری نہیں تفریح طبع ہے۔
بہر حال میں نے شبلی کی اردو شاعری اور اس پر ان کے ان چند ناقدین کی آرا کا مطالعہ کیا جو وقتا فوقتا ضبط تحریر میں آتی رہی ہیں، تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے تمام ناقدین ان اس امر میں مجبور محض ہیں کہ ’ شبلی کی شاعری پر صرف تاریخی ، مذہبی اور سیاسی انداز کی گفتگو کی جائے ‘۔ جس کے تحت شبلی اور ان کے دور کے تمام حالات کا جائزہ لیا جائے اور اسی تناظر میں ان کی اردو شاعری کے معیار اور مرتبے کو اجاگر کیا جائے۔وہ ناقدین حق بجانب بھی ہیں کہ شبلی کی شعری بساط کچھ ہے بھی ایسی کہ ان کی شاعری پر اس طرح کی گفتگو کے علاوہ کسی قسم کی بات کرنا مہمل تصور کیا جائے گا۔ بعض ناقدین نے شبلی کی اردو شاعری سے بحث کرتے ہوئے خود شبلی کی اپنی رائے جو انھوں نے اپنی شاعری کے متعلق تحریر کی تھی، اسے سامنے رکھ کر ان کی شاعری کا تجزیہ کیا ہے۔ شبلی کی اپنی رائے خود ان کی شاعری کے بارے میں کہاں تک درست ہے؟ اس سوال سے اگر الجھا جائے تو شبلی کو غیر شاعر قرار دینے میں کچھ دیر نہ لگے گی ۔ کیوں کہ اگر کوئی شخص اپنی شاعری کے تعلق سے یہ رائے رکھتا ہو کہ :
'میں نہ شاعر ہوں نہ میں نے کسی شاعر سے اصلاح لی ہے ، یہ جو کبھی کبھی موزوں کر لیتا ہوں، شاعری نہیں تفریح طبع ہے۔'
شاعری تفریخ طبع نہیں، بلکہ مافوق الفطری کائنات کا رمز ہے اور اس عالم بالا سے اس فن شاعری کا اشتقاق سے جہاں سے خیال عدم وجود سے وجود میں آتا ہے۔
(صفحہ نمبر :۳۴۱ ، جلد نمبر :۱ ، مکاتیب شبلی ، بحوالہ مضمون :شمس بدایونی)
تو اس تفریح طبع کو کیوں کو شاعری تسلیم کیا جائے۔ جب کہ ہم نے اپنے متقدمین کے منہ سے 'شاعری جزواست از پیغمبری 'اور 'شعر انتہا العلوم کا نام ہے' جیسے مقولے سنے ہیں ۔ ہم تو شاعری کو بصورت ساحری گردانتے ہیں اور وہ بھی ایسا سحر جس کے آگے بنگال کا جادو بھی ہیچ ہے ۔ متقدمین کی تو خیر جانے دیجیے ہمارے تو متاخرین میں بھی ایسے کئی ادیب ہیں جو شاعری کو زندگی اور لفظ کے باطنی معاملا سے نبرد آزما قرار دیتے ہیں ۔’ انیس ناگی ‘ کی کتاب ’ شعری لسانیات‘میں ایسے مباحث مل جائیں گے۔ جو لوگ غالب ؔ کے تفریح طبع والے جملے کو شبلی ؔ کے تفریح طبع والے جملے سے ملاتے ہیں جس میں ایک مثال شمس بدایونی صاحب کی بھی ہے تو ان کو یہ خیال کرنا چاہئے کہ غالب ؔ نے اپنے اردو کلام کی سنجیدگی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ یہ غالبؔ ہی کا شعر ہے کہ :

 

جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں ہو نہ رشک فارسی
گفتہ غالبؔ ایک بار پڑھ کر اسے سنا کہ یوں

 

غالب ؔ کی مثال ایسے معالات میں کیا دی جائے کہ اردو ہو یا فارسی غالبؔ ہر دو لحاظ سے غیر معمولی ہیں ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاعری تفریخ طبع نہیں، بلکہ مافوق الفطری کائنات کا رمز ہے اور اس عالم بالا سے اس فن شاعری کا اشتقاق سے جہاں سے خیال عدم وجود سے وجود میں آتا ہے۔ ایسے مباحث کا یہ مقام نہیں لیکن متن کے وسیع تناظر پر بات کی جائے تو کسی بھی شعر کو تفریح طبع نہیں کہا جا سکتا ۔اس ضمن میں شبلی اور شبلی کے ناقدین سے بالکل ایک جیسا صحو ہوا ہے۔جس طرح شبلی نے اپنی شاعری کو تفریح طبع جانا اسی طرح ان کے ناقدین نے بھی ان کی شاعری کو ایک خاص طبعی احاطہ تک محیط رکھا ۔ اس کے پس پردہ ہمارے ناقدین کا وہ سلجھا ہوا رویہ بھی کار فرما ہے جو کسی بھی قسم کے الجھاو میں پڑ کر متن کی عجیب و غریب تو جیہات تک پہنچنے کو بیکار محض سمجھتا ہے۔
علی گڑھ تحریک نے زبان و ادب کو جس طرح نئے تناظر میں دیکھنے کی بنا ڈالی اس سے اردو کے کلاسیکی شعری رویہ سے اختلاف تو کیا گیا لیکن سر سید نے جس پر اعتماد طریقے سے شعر و ادب کا جدید لائحہ عمل ترتیب دیا اس سے قدیم شعری روایت سے انحراف کرتے ہی بنا ۔
خیر اب میں اپنے موضوع پرآتے ہوئے شبلی کی اردو شاعری میں شعریت کے پر چند باتیں عرض کئے دیتا ہوں، لیکن کلام شبلی کی شعریت سے کسی نوع کی بحث کا آغاز کرنے سے قبل شعریت کے مفہوم کی وضاحت پیش کر دینا بہتر ہے۔
' شعریت سے مراد کلام منظوم کی وہ خصوصیت ہے جو اسے شعر کا درجہ دیتی ہے ۔ جذبے کا گداز ، فکر و احساس کی لطافت اورپیرایہ بیان کی خوبی شعریت کے بنیادی عنصر ہیں ۔ شعری روایت بھی اس سلسلے میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔ یوسف حسین خاں لکھتے ہیں: ’ شعریت تخلیقی فکر اور جذبے کی ہم آمیزی کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ دونوں جزو مل کر حسن ادا کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں جس کا انحصار بڑی حد تک تجربے کی صداقت اور اصلیت پر ہوتا ہے۔
(صفحہ نمبر : ۱۱۰، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ابو الاعجاز حفیظ صدیقی ، مقتدرہ، پاکستان)
شعریت کے اس مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ شعری روایت بھی شعریت کے باب سے ہی تعلق رکھتی ہے۔اب اس شعری روایت سے شارح کی کیا مراد ہے اس سے قطع نظر ہم شبلی کو جس شعری روایت کا امین قرار دیتے ہیں وہ اپنے عہد کا جدید ترین شعری رویہ تھا ۔ علی گڑھ تحریک نے زبان و ادب کو جس طرح نئے تناظر میں دیکھنے کی بنا ڈالی اس سے اردو کے کلاسیکی شعری رویہ سے اختلاف تو کیا گیا لیکن سر سید نے جس پر اعتماد طریقے سے شعر و ادب کا جدید لائحہ عمل ترتیب دیا اس سے قدیم شعری روایت سے انحراف کرتے ہی بنا ۔ شبلی جن شعری روایات کو آگے بڑھانے میں عمر بھر کو شاں رہے اس کا آغاز پنجاب میں انجمن پنجاب کے اس مشاعرہ سے ہوتا ہے جسے ۱۸۷۴ ؁ میں کرنل ہالرائیڈ کی ایما پر مولانا محمد حسین آزاد نے منعقد کیا تھا۔ آزاد اور حالی اس روایت کی اولین کڑیاں ہیں ۔ ان دونوں شعرا نے اپنے فورا بعد آنے والی نسل کو بڑی حد تک متاثر کیا ۔ اس میں ایک شبلی ہی نہیں ان کے علاوہ بھی کئی نام شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پروفیسر عقیل احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ :
شبلی نے صرف اپنے اشعار ہی نہیں بلکہ ان مقالات اور ان کتب و رسائل میں بھی اپنے جذبات کی گدازی کو روا رکھا ہے جو نظم کے مقابلے نثر میں تب تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کسی کو اپنے محرک سے شدید قلبی وابستگی نہ ہو ۔
'آزاد اور حالی نے نظم جدید کا جو بھی تصور پیش کیا اس نے انیسویں صدی کے اختتام تک ہی نہیں بعد تک کے نظم نگاروں کو بھی متاثر کیا ۔ ان کے معاصر نظم نگار شعرا کے علاوہ وہ شعرا بھی جو بیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آئے ، حالی اور آزاد کے شعری اصولوں کی پیروی کرتے رہے ۔ اسمعیل میرٹھی ، شبلی ، شوق قدو ائی ،وحید الدین سلیم ، نظم طبا طبا ئی ، سرور جہاں آبادی ، نادر کاکوروی ، چکبست اور اکبر وغیرہ اہم ہیں ۔ ان شاعروں نے زیادہ تر ایسے موضوعات پر نظمیں لکھنا پسند کیا جن سے اخلاقی اصلاح ہو سکے یا جو عام لوگوں میں قومی جذبہ بیدا ر کر سکے یا پھر ایسی نظمیں جن میں مناظر فطرت کی عکاسی کی گئی ہو ۔ یہ پورا دور بنیادی طور پر ’’ موضوعاتی شاعری ‘‘ کا دور تھا ۔'
(صفحہ نمبر : ۳۱ ، جدید اردو نظم : نظریہ و عمل ، مصنف : عقیل احمد صدیقی )

 

شبلی نے جس شعری روایت کو اپنا یا اس کے حسن و قبح سے ہمیں بحث نہیں ، بحث اس بات سے ہے کہ شبلی نے اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے شعریت کے بنیادی اصولوں یعنی جذبے کا گداز ، فکر و احساس کی لطافت اور پیرایہ بیان کی خوبی وغیرہ کو کس حد تک تھامے رکھا ہے؟ شبلی موضوعاتی شاعری کریں یا غیر موضوعاتی، علی گڑھ تحریک کے لئے شعر کہیں یا جامعہ عثمانیہ تحریک کے لئے شعر میں شعریت کتنی ہے یہ دیکھنا ہر اس قاری کو مقصود ہے جو شبلی کے اردو کلیات کا مطالعہ کرتا ہے۔ شبلی نے صرف اپنے اشعار ہی نہیں بلکہ ان مقالات اور ان کتب و رسائل میں بھی اپنے جذبات کی گدازی کو روا رکھا ہے جو نظم کے مقابلے نثر میں تب تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کسی کو اپنے محرک سے شدید قلبی وابستگی نہ ہو ۔ شبلی کے اردو کلیات میں جس طرح کا کلام بھرا پڑا ہے اس سے اس امر کا ثبوت بہر طور فراہم ہوتا ہے ۔ رہی فکر و احساس کی لطافت تو اس کا انحصار شبلی کے ہرا س قاری کے لئے جدا جدا ہے جو شبلی کی شاعری کو اپنے فکر و احساس کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ ہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ لطافت سے مراد کثافت کی ضد نہیں بلکہ یہاں اس عمدگی اور خوبی کی بات ہو رہی ہے جس سے شعر کے فکری اور حسی نظام میں بلاغت پیدا ہوتی ہے۔ شعر جب اپنے شعوری یا غیر شعوری محر کات سے جنم لیتا ہے تو سب سے پہلے قاری اور سامع کا تاثر اسی لطافت سے پیدا ہوتا ہے، کسی بھی شعر میں جب تک فکر و احساس کی لطافت پر غور نہ کیا جائے تب تک شعر میں تاثر کی کمی کا احساس کار گر رہتا ہے۔ غور سے مراد بھی یہ ہی ہے کہ غیر شعوری عمل کے بجائے شعر میں الفاظ کی نشست و برخاست اور لفظ کے حذف و اضافے کو شعوری کوششوں سے بہتر بنایا جائے کہ شعر کو بہتر سے بہتر شکل مل سکے ۔ شبلی ان معاملات میں مجھے ذاتی طور پر کچھ کاہل نظر آتے ہیں، انہوں نے یک گنا تساہلی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو ان کا شعری منظر نامہ قدر بہتر ہو سکتا تھا۔ اس معاملے میں شبلی سے کیوں چوک ہوئی اس کے تعلق سے تو کچھ نہیں جا سکتا ،لیکن کہاں چوک ہوئی اس پر بات ہوسکتی ہے۔ شبلی کے اشعار کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے ایسے شعر نظر آتے ہیں جن میں شبلی نے اس فکر و احساس کو بلندی عطا کی ہے ۔ لیکن ان اشعار کی تعداد اتنی کم ہے کہ ان کو شعریت کی موجودگی کی دلیل بنانا مشکل ہے ۔ اگر چہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کسی شاعر کے ایک شعر میں بھی اپنے قاری کو متاثر کرنے بھر کی شعریت موجود ہو تو اس کے کلام میں شعریت کے عنصر سے انحراف نہیں کیا جاسکتا پھر بھی میں شبلی کے کل اردو کلام کا جائزہ لیتے ہوئے اس نتیجے پر نہیں پہنچتا کہ ان کے کلام میں شعریت ان اعلی اوصاف کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے جس کو شعریت کی موجودگی کے لئے کافی سمجھا جائے ۔ شمس بدایونی نے بھی شبلی پر اپنے مضمون میں اس لطافت کا ذکرکیا ہے جس کو شعریت کا ایک جزو قرار دیا جاتا ہے پروہ ذکر اتنا ناقص ہے کہ اس پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔ فرماتے ہیں :
شبلی نعمانی کے اشعار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ شبلی جو بنیادی طور پر ایک متکلم اور مورخ تھے انہوں نے اپنے اشعار میں اسی پیرایہ بیان کو روا رکھنے کی کوشش کی ہے جوان کے موضوعات نے ان کے ذہن پر ترتیب دیئے تھے
شبلی کے اردو کلام کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ۱۸۸۳ ؁ سے پہلے کا دور جس میں صرف چند اشعار دستیاب ہیں جو کلیات میں شامل نہیں اور مابعد ۱۸۸۳ ؁ ء تا ۱۹۱۴ ؁ء ۔ یہ تمام کلام کلیات کی صورت میں موجود ہے۔ ۱۸۸۳ ؁ ء اور ۱۸۸۴ ؁ء میں کہی جانے والی غزلوں میں وہ تمام لوازم ملحوظ رکھے گئے ہیں جو اس دور کی غزل یا بہ الفاظ دیگر حسن و عشق کی روایتی شاعری کے لئے مخصوص ہیں ۔ خیال بندی ، معاملہ بندی، شوخی اور خود سپردگی کا اظہار جا بجا ملتا ہے ۔ تغزل کا رچا ہوا روایتی اسلوب ان غزلو ں میں نمایاں ہے۔ کہیں کہیں فارسی لطافت کی بھی جلوہ گری ہے۔
(صفحہ نمبر ۲۰۹ ، شبلی بحیثیت اردو شاعری ، ڈاکٹر شمس بدایونی )
اس کے علاوہ شمس صاحب نے اپنے پورے مضمون میں شبلی کے اشعار میں لطافت کے موضوع پر کہیں بحث نہیں کی ہے ۔ فارسی لطافت سے ان کی مراد کیا ہے اس کو جاننے کے لیے شبلی کے فارسی کلام کا جائزہ لینا ہوگا ۔ پھر اس جملے کے تعلق سے کوئی رائے دی جا سکتی ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی کرتا چلوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شبلی نے فارسی میں اردو سے بہت زیادہ شعر کہے ہیں۔ اردو میں ان کے اشعار کی کل تعداد حد سے حد، سات سو ہوگی جبکہ فارسی اشعار کی تعداد اس سے دو گنا سے بھی بہت زیادہ ہے اس سلسلے میں ظفر احمد صدیقی فرماتے ہیں :
شعر کہنا شبلی کو آتا ہے پر شعریت کے لازمی اجزا کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ان کے کلام کو اس نہج پر کلام نہیں کہا جاسکتا جن بنیادوں پر میر ،غالب ، انیس ، اقبال اور فیض وغیرہ کے کلام کو کلام کہا جاتا ہے۔
'ایک محتاط انداز ے کے مطابق شبلی نے کم و بیش پانچ ہزار شعر کہے ہیں اور تقریبا تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے، چنانچہ ان کے یہاں غزلیات، قصائد، مثنوی، مراثی، مسدس، ترکیب بند، قطعات اور جدید منظومات سبھی کے نمونے ہیں۔ انہیں یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اردو کے علاوہ فارسی میں بھی انہوں نے قابل قدر شعری آثار یاد گار چھوڑے ہیں۔
(صفحہ نمبر : ۷۵،۷۶ ، شبلی ، ظفر احمد صدیقی )
بہر کیف فکر و احساس کی لطافت کے بعد جو چیز بچ رہتی ہے وہ ’پیرایہ بیان ‘ ہے۔ یہ اتنا پیچیدہ معاملہ ہے کہ اس کے اثبات اور انکار دونوں کے تعلق سے کوئی فیصلہ دینا بہت مشکل امر ہے۔پیرایہ بیان کے انکار کا جواز اس لئے ممکن نہیں کہ ہر تخلیق اور تحریر کا اپنا ایک پیرایہ بیان ہوتا ہے جس کے وجود کے بغیر تحریر کی موجودگی کو تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ اسلوب کا تعین تو پھر ممکن ہے کہ اس کو دس میں سے ایک کی تقسیم میں بانٹا جا سکتا ہے جبکہ پیرایہ بیان کو اس طرح بانٹنے کاکام اس لیے نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ہر تحریر میں لفظ اور انشا کو برتنے کے طریقوں سے پیرایہ بیان کے ترتیب پانے کا عمل وجود میں آتا ہے ۔ جس طرح دس تحریریں ایک تحریر نہیں ہو سکتیں اسی طرح دس پیرا یہ بیان کو ایک پیرایہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اس بنیاد پر گمان گزرتا ہے کہ شبلی کی شاعری میں پیرایہ بیان کی موجودگی کا اثبات کرتے ہی بنتا ہے، لیکن معا ملا اتنا سلجھا ہوا نہیں در اصل پیرایہ کے لفظی معنی سے یہ ابہام پیدا ہوتا ہے کہ ہر لفظ جس کی اپنی ایک پو شاک ہے اپنا ایک آرائشی نظام ہے اس لباس، زینت اور زیور چا ہے جو کہہ لیا جائے اس کے وجود سے انکار مشکل ہے۔
پیرایہ کہ ایک معنی ڈھنگ بھی ہیں جسے طرز اور روش بھی کہا جا سکتا ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بیان کے طرز اور اس کے ڈھنگ کو جب تک شعر یا تحریر میں اس طرح استعمال میں نہ لایا جائے کہ اس طرز کو ایک جدا گانہ روش یا الگ ڈھنگ کی تحریر کہا جا سکے تب تک کسی بھی شعر یا تحریر میں پیرایہ بیان کا اثبات ممکن نہیں ۔ وہ ڈھنگ کیا بلا ہے اس کی مثال خود شبلی کے کلام سے ملتی ہے۔ شبلی نعمانی کے اشعار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ شبلی جو بنیادی طور پر ایک متکلم اور مورخ تھے انہوں نے اپنے اشعار میں اسی پیرایہ بیان کو روا رکھنے کی کوشش کی ہے جو ان کے موضوعات نے ان کے ذہن پر ترتیب دیئے تھے ۔ ان کے اردو کلیات کا مطالعہ کرتے وقت کئی بار میرے ذہن میں اس خیال نے سر اٹھا یا کہ شبلی نعمانی جن اسلامی تاریخی واقعات کو پڑھتے ہیں، ان سے اس حد متاثر ہوتے ہیں کہ وہ واقعات ان کے جذبات و احساسات کا حصہ بن جاتے ہیں پھر وہ انھیں من و عن نثر سے اردو نظم کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں ۔ جس کے لئے شائد انھیں اتنی محنت بھی نہ کرنی پڑتی ہو جتنی کہ حفیظ کو شاہنامہ اسلام لکھنے میں کرنی پڑی ہوگی ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ان واقعات کو اپنے ذہن اور دل پر طاری کئے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں جذبہ کا گداز تو حاصل ہوتا ہے پر پیرایہ بیان نہیں مل پاتا ۔ شبلی اپنا پیرایہ بیان خلق کرنے میں علی گڑھ تحریک اور حالی و آزاد کے تتبع کی وجہ سے بھی ناکام رہے ۔’صبح امید‘ جو ان کی کل اردو شاعری میں کچھ اس درجے کی نظر آتی ہے کہ اس سے متاثر ہوئے بغیر رہنا مشکل تھا ، یہاں بھی اس تتبع نے ان کا’ پیرایہ بیان‘ان سے چھین لیا۔ ’قصیدہ اردو ‘ میں اس پیرایہ بیان کی جھلکیاں نہ کے برابر ہیں ۔کہیں کہیں کسی شعر سے ایسا لگتا ہے کہ شبلی ایک نئے قسم کا پیرایہ بیان خلق کرنے میں کامیاب ہو جاتے اگر ان کے یہاں اقبال جیسی شعری صلاحیت پائی جاتی۔ اقبال بھلے ہی بقول عقیل احمد صدیقی ’حالی کے نظریہ شعر اور بعد کے رد عمل کا کامل امتزاج ہوں‘ لیکن ان کے کلام میں شعریت کے لازمی جزو ’ پیرایہ بیان ‘ کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس پیرایہ بیان نے شبلی کی شعری عدم شناخت کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالاں کہ شعر کہنا شبلی کو آتا ہے پر شعریت کے لازمی اجزا کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ان کے کلام کو اس نہج پر کلام نہیں کہا جاسکتا جن بنیادوں پر میر ،غالب ، انیس ، اقبال اور فیض وغیرہ کے کلام کو کلام کہا جاتا ہے۔
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of PhD Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

قرۃ العین حیدرکی یاد میں

محمد حمید شاہد: قرۃ العین حیدر کے تخلیقی قرینے اور مزاج کو سمجھنے کی نیت ہو تو” میرے بھی صنم خانے” کے آغاز ہی میں وہ ہمارے لیے اشارے فراہم کر نا شروع کر دیتی ہے۔

اگر یہ انسان ہے (انتخاب)

پریمو لیوی: تمام صحت مند قیدی (ماسوائے کچھ ایسے مصلحت اندیشوں کے جو آخری لمحے میں بے لباس ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپ گئے) 18جنوری 1945 کی رات کے دوران کوچ کر گئے۔ مختلف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے یہ کم و بیش بیس ہزار افراد تو ضرور ہوں گے۔انخلاء کی پیش قدمی میں یہ تقریباً مکمل طور طور پر غائب ہو گئے۔ البرٹو ان میں ہی تھا۔شاید کسی دن کوئی ان کی داستان رقم کرے۔

زمین اور آسمان

ساری کائنات سناٹے میں رہ گئی، زمین یوں تو اس خوف سے بے نیاز تھی کہ اسے انسان سے بے خبری تھی جب آسمان کے اس پیغام کے قدم زمین سے چھوئے تو اس نے جان لیا کہ آج سے وہ ایک بڑی سی قبر کےسوا اور کچھ نہیں۔