شرمین عبید کا آسکر اور میاں انار سلطان

شرمین عبید کا آسکر اور میاں انار سلطان
ساکنانِ ارضِ پاک کے حسّاس طبقات و جماعتیں ملالہ یوسفزئی کے ڈھائے گئے مظالم کے درد سے خون کے آنسو رو رہے تھے۔ دکھ و الم کی نشاۃِ ثانیہ جاری تھی۔ نئے نئے نابغے نئی نئی کتابیں دراز کر رہے تھے بلکہ کتابیں داغ رہے تھے۔ کتابوں پہ کتابیں، کالموں پہ کالم، تقریروں پہ تقریروں کے جے-ایف تھنڈر اڑائے جا رہے تھے پر نا تو ان کے غیض کو ٹھنڈ پڑتی تھی اور نا ہی غضب کو۔ بہت کمزور ہوئے پڑے تھے بھاری بھرکم جُثّوں اور کئی من وزنی دماغوں والے۔ "دیس کو بیچ دیا اس ملالہ لڑکی کے باپ نے! ننگِ قوم، حمیت فروشِ دین نے اپنی دُنیا بنا لی" کی تسبیح پھرولتے رہتے تھے۔

ہمارے دین اور دیس کے متعلق اہلِ مغرب سازش کی بھٹی چالُو رکھتے ہیں۔ بس جُونہی موقعہ ملتا ہے فوراً تیار مال پارسل کرکے باہر پھینک دیتے ہیں۔"
کچھ روز پہلے ہی ہم نے ڈاکٹر دانش کے ٹی وی پروگرام اور جناب عامر ہاشم خاکوانی کے "محققانہ" کالم کی معاصر آن لائن جریدے "ہم سب" پہ اشاعتِ نو کے چرچے سنے۔ ہر دو اصحاب نے اپنی پوری ذہنی توانائی صرف کر کے اس بچی اور اس کے والد کے بزعمِ خود ایم آر آئی کیئے تاکہ ان کی نیتوں کی کوئی ہائی ڈیفینیشن تصویر بن سکے۔ داخلیت سے پریشان و مفلوک خارجیت سے کوڑیاں گھڑی گئیں۔ لفظوں کے کُھرے نکالتے نکالتے اپنی جوتیاں چٹخا ماریں۔ اے کاش کچھ اپنے موضوع کے متعلق بھی کوئی ایک مضبوط و مدلل حوالہ بُنتے لیکن یہ ہو نا سکا۔ وہی انداز رہا جس طرح آیتوں کے سیاق و سباق سے میراتھن برت کے معنی نکالنے کا۔ ہوا بھی تو یہ کہ اپنی نگارشات میں زیادہ تر خود اپنی ذہنی حالت کا ہی سیپارہ بن کے رہ گئے۔ شاہد خود ہی مشہود بنا رہا اور انجانے میں بڑے بلند آہنگ میں اپنی کامیابی کے جھنڈے بھی خود ہی گاڑتے رہے۔

یہ کافر بڑے صریح ظالم ہیں۔ کہنے کو تو یہ دعوے کرتے ہیں کہ انسان دوستی ہماری اوڑھنی اور بچھونی ہے۔ پر اوّل درجے کے جھوٹے ہیں۔ یہ ہمارے وطن کے چند حسّاس طبقات کا ذرا برابر بھی بھرم نہیں رکھتے۔ ابھی ابھی تو ان حسّاس طبقات و جماعتوں کے ملالہ کے گرد تازہ بحث کے باعث زخم ہرے تھے کہ ایک اور سانحہ ہوگیا۔ سانحے سے بھی بڑا حادثہ۔ کیا کہا آپ نے میاں انار سلطان؟ "یہ سانحہ نہیں تھا!"

اچھا تو یہ کیا کوئی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

"ہمارے دین اور دیس کے متعلق اہلِ مغرب سازش کی بھٹی چالُو رکھتے ہیں۔ بس جُونہی موقعہ ملتا ہے فوراً تیار مال پارسل کرکے باہر پھینک دیتے ہیں۔" جی، جی آپ بالکل درست ارشاد کرتے ہیں۔ "یہ مغرب والے ایسے ہی فارغ لوگ ہیں۔ کالوں، گندمیوں اور پِیلوں سے کام لیتے رہتے ہیں اور خود سازش کے تانے بانے بنتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی دین و دیس فروش رالیں ٹپکاتا ان کے آس پاس آتا ہے تو اسے فوراً انعام و اکرام اور خلعتیں عنایت کرتے ہیں۔ بس پہلے کچھ شرطیں ان دین و دیس فروشوں کے سامنے رکھتے ہیں،" میاں انار سلطان نیم وا آنکھوں سے بولا۔

دیکھو نا ابھی پھر شرمین عبید چنائے کو انہوں نے دوسرا آسکر انعام دے دیا ہے حالانکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ ایوارڈ وہ اس گانے لکھنے والے کو دیتے جس نے لکھا تھا کہ "مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔"
پر یہ شرطیں کون سی ہوتی ہیں؟ "بھائی صاحب، سادہ سی شرطیں ہوتی ہیں۔ جیسے کہ اپنے دین اور دیس کے بُرے اور کمزور پہلوؤں پر خبریں لگاؤ، مضمون لکھو، کتابیں رقم کرو، فلمیں بناؤ، اور کیا! یہ دیکھو نا ابھی پھر شرمین عبید چنائے کو انہوں نے دوسرا آسکر انعام دے دیا ہے حالانکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ ایوارڈ وہ اس گانے لکھنے والے کو دیتے جس نے لکھا تھا کہ "مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔" کتنی اچھی اور بے لوث بات کی تھی۔ یا پھر جناب جنرل راحیل شریف کو جنہوں نے ایک نجی رہائشی کمپنی ڈی ایچ اے کے ہاتھوں سے لگ بھگ آٹھ ایکڑ زمین جناب عمران خان کو سرطان کا ہسپتال بنوانے کے لئے عطیہ کردی ہے۔ لیکن یہ کبھی آسکر یا نوبل ایسے بندے کو نہیں دیں گے۔ یہ اچھے لوگوں کی کبھی ہمت افزائی نہیں کریں گے،" میاں انار سلطان ناک کو پُھلائے اور آنکھوں کو گول کئے گویا۔

تو شرمین عبید چنائے کو کس بات پہ آسکر انعام مل گیا؟ " انہیں پرانے اصولوں پہ کہ دین و دیس کو بدنام کرو اور انعام حاصل کرو۔ اس ناہنجار خاتون نے پاکستان میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل پہ ڈاکیومینٹری بنائی ہے اور اس پہ ان گورے 'بندروں' نے اپنے بغض اور کلیجے کو ٹھنڈ ڈالنے کے لئے شرمین عبید کو پھر آسکر دے دیا ہے۔"

اچھا، تو یہ بات ہے۔ تو کیا میاں انار سلطان آپ کے خیال میں ہمارے ہاں غیرت کے نام پر قتل کا مسئلہ نہیں ہے کیا؟ " اس بات پہ بحث ایک الگ بات ہے، پر دیکھیں نا جی، اب گھر کی باتیں گھر ہی رہنی چاہئے نا۔ ایسے ہی خوامخواہ بیگانوں کے سامنے اپنا پیٹ ننگا کرنے کا کیا فائدہ۔ ہمیں اپنے ملک کے سافٹ امیج کا خیال رکھنا چاہئے نا اور کُھلی بے غیرتی نہیں کرنی چاہئے۔"

اس ناہنجار خاتون نے پاکستان میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل پہ ڈاکیومینٹری بنائی ہے اور اس پہ ان گورے 'بندروں' نے اپنے بغض اور کلیجے کو ٹھنڈ ڈالنے کے لئے شرمین عبید کو پھر آسکر دے دیا ہے۔
میاں انار سلطان اپنے غصے کے اظہار کے لئے کوئی کتاب لکھنا چاہتا تھا کہ کوئی ڈاکٹر دانش اس اپنے پرائم ٹائم میں مزید الّم غلم کرنے دے۔ اس سلسلے میں اس نے کئی عامر خاکوانی صاحبان کی تحقیقیں جلد ہی پڑھ لینی تھیں تا کہ اسے اور ان جیسوں کو ہر بات اور آن پہ سازش ہی کامن سینس لگے۔

لیکن ہمارے ذہن مین چند خیال گھوم رہے تھے کہ سوچنے، سمجھنے، جانچنے، پرکھنے اور اپنی جانچ پرکھ کو ایک فنکارانہ کاوش و مصنوعہ کی شکل میں دُنیا کے سامنے پیش کرنے سے قبل محض اس بات کو مّدِ نظر رکھنا ہی اشد ضروری ہوتا ہے کہ غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے۔ صاحبِ فکر و خیال اور فنکاران کو اس بات کی خاطر چپ نہیں سادھنی ہوتی کہ ایسا سچ کتنوں کو نا گوار گزرے گا۔ زیادہ تر سچ خوش ذائقہ تو نہیں ہوتے لیکن ان کی تاثیر البتہ خوش کن ہی ہوتی ہے۔ اکثر افراد، معاشرے اور قومیں صرف خوشامدیں سننا پسند کرتی ہیں اور تنقید کی آہٹ ہی پہ دشمن ہو جاتی ہیں۔ بیشتر یہ دیکھا گیا ہے کہ جسموں کے ناسور نشتروں اور کڑوی دواؤں سے ہی درست اور صحت مند حالت کو واپس لوٹتے ہیں محض چونچلوں اور قالین کے نیچے کچرا پھینکتے جانے سے نہیں۔

وما علینا الالبلاغ
Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

کیا یہ وطن سب کا ہے؟

سجاد گوہر کا تعلق ہزرہ برادری سے ہے اور وہ نیشنل کالج آف آرٹس کے طالب علم ہیں۔ ان کی یہ ویڈیو بلوچستان اور باقی پاکستان کے بیانیے میں موجود تفاوت کا اظہار ہے۔

کبھی ہم بھی "چائے والے" تھے

محمود فیاض: کبھی ہم بھی چائے والے تھے
چائے کا پوا پکڑے
ہاتھ ساکن تھے

پِنک: ایک عُمدہ سوشل ڈرامہ

احمد حماد: سینماٹوگرافی بتا رہی تھی کہ فلم کا مقصد صرف اور صرف کہانی میں پنہاں سندیس کی ترسیل ہے۔ فلم بین کے جمالیاتی حَظ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔