شنگھاؤ غار

شنگھاؤ غار

ہم زندگی کو زندگی کہتے تھے
اور موت کو موت
پھر ہمیں نیند سے اٹھا کر
حکم دیا گیا
کہ
موت، زندگی ہے اور زندگی موت
ہم غار کی دیواروں میں مجسم، وہ تنہائی تھے
جسے صورت دیتے ہوئے
مؤرخ نے تیشے کا استعمال کیا
ہماری رگیں کاٹ ڈالیں
اور ان میں خون کی بجائے
نظریات ٹھونس دیے
لندن سے نیویارک تک تالیوں کی گونج
میں
ہمارے منہ میں
اپنی زبان دے کر
ہمیں دوبارہ پتھر کی
مورتیوں میں بدل دیا اور
کتاب کی کسی سطر میں ہمیں
اپنے آپ کو تلاش کرتے ہوئے
کسی آرکیالوجسٹ کے ذہن میں، اپنے نقش
کو بحال کرواتے
صدیاں بیت جائیں گی
تب ایک اور غار میں ہمیں پھر سے زندہ کیا جائے گا
Image: Joseph Loughborough

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

پیمبران سحر کا نوحہ

غمزدہ قوم کا اُن ننھے شہیدوں کو سلام

آنکھ بھر اندھیرا

ابرار احمد: ادھر کوئی دیوار گرتی ہے
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں

سرمائی بارش میں بحرِ ابدیت کی جانب

نصیر احمد ناصر:آبائی راستوں سے گزرتے ہوئے
قدموں کی آواز سنائی نہیں دیتی
وقت زمین کو آگے کی طرف دھکیلتا رہتا ہے