شُتر بے مہار پاکستانی میڈیا

شُتر بے مہار پاکستانی میڈیا
پاکستانی میڈیا کی رپورٹنگ ، خبریں پیش کرنے کے انداز اور بریکنگ نیوز کی بے نتیجہ دوڑ کو دیکھ کر کوئی بھی ذی شعور انسان اس طرز صحافت کی ستائش نہیں کر سکتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اس قدر آزاد ہوگیا ہے کہ صحافیانہ قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ کر حساس مسائل کی غیرذمہ دارانہ کوریج کررہا ہے ۔ یہ رحجان کوئی بھی صحت مند معاشرہ قبول نہیں کرسکتا۔ میرے خیال میں پاکستانی میڈیا نے ہندوستانی میڈیا کا اثر ضرورت سے زیادہ قبول کرلیا ہے۔ جس طرح پڑوسی مُلک میں خبروں کو تڑکہ لگا کر، قافیہ آرائی کی چاشنی کے ساتھ فلمی گانوں کی تال پر لہک لہک کر پیش کیا جاتا ہے پاکستانی چینل بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔
ابھی چند ماہ قبل پاکستان کی ایک مشہور ماڈل ایان علی کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی تو تمام چینلوں پر آیان علی کی خوش روئی کے چرچے نظر آنے لگے۔ کوئی پوچھے کہ کیا ملزم کی خوبروئی بھی کبھی بریکنگ نیوز ہوئی ہے؟
جس طرح پڑوسی مُلک میں خبروں کو تڑکہ لگا کر، قافیہ آرائی کی چاشنی کے ساتھ فلمی گانوں کی تال پر لہک لہک کر پیش کیا جاتا ہے پاکستانی چینل بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔
کیا یہ بھی خبر ہے کہ آیاجیل کے اندر بیوٹی پارلر کی سہولت موجود ہے یا نہیں؟
روزانہ کی میڈیا کوریج " پروٹوکول "بن چکی ہے اور ایک قبیح جرم ''کارنامہ'' بن گیا ہے۔
عدالت میں پیشی ''بریکنگ نیوز'' اور جیل کی زندگی ''ایڈونچر''۔
ایسے جرائم کی بیخ کنی میں اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے میڈیا نے آیان علی کا جُرم نظرانداز کرکے اُن کے بناو سنگھار، تراش خراش اور وضع قطع کو اپنا موضوع بنائے رکھا۔
میڈیا کا یہی دُہرامعیار پاکستان میں بااثر مجرموں کے تحفظ کا سبب بنتا ہے۔
امیر پکڑا جائے تو پروٹوکول اور غریب پکڑا جائے ، تو چھترول ۔
پھر بھی ہمارامیڈیا گلا پھاڑ پھاڑ کر حیرت سے پوچھتا ہےکہ پاکستان میں اتنی کرپشن کیوں ہے، پاکستان میں اتنی بدامنی کیوں ہے؟اس کا علاج کیا ہے؟
رہی سہی کسر انعام گھر جیسے پروگراموں نے پوری کردی،اس قسم کے پروگرام تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دکھائے جارہےہیں جہاں میزبان حاتم طائی بنے بیٹھے ہیں جو کبھی دُونی کا پہاڑہ سُن کر موٹر سائیکل کی چابی تھما دیتے ہیں تو کبھی کچا پاپڑ پکا پاپڑ کہنے والے کو کیو موبائیل بانٹتے پھرتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروڈیوسر صاحبان ایسے پروگراموں میں ہندوستان کی نقل اُتارنا کیوں بھول گئے؟ ذہنی صلاحیت کی بُنیاد پر لوگوں کو مقابلے کی دعوت دینے کی بجائے بیہودگی اور سطحیت میں بازی لے جانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ مقابلے اور صلاحیت کے امتحان کی بجائے جو جتنا بڑا خوشامدی ہے وہ اتنے ہی بڑے انعامات لے کر جارہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر ٹی وی چینلوں کا انعام بانٹنے اور ذہنی آزمائش کا وہ کون سا پیمانہ ہے کہ جس سے پروگرام کے شرکاء اور ناظرین فیض یاب ہورہے ہیں؟ ایسے پروگراموں سے تو طارق عزیز کا نیلام گھر ہزار درجے بہتر تھا جہاں لوگ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر کار کا انعام جیت کر اپنے گھروں کو جاتے تھے۔ ایسے پروگرام واقعی معاشرے میں علم کی اہمیت کے فروغ کا باعث بنتے تھے۔
جنرل مشرف کے دور میں جب میڈیا آزاد ہوا تو پورے ملک میں تبدیلی کی لہر اُٹھی۔ ہم نے دیکھا کہ ججز بحالی کی تحریک میں ٹی وی چینل پیش پیش تھے۔ اپنی رپورٹنگ کے باعث میڈیا نے پاکستان کے چوتھے ستون کا مقام حاصل کرلیا تھا۔ لیکن یہ اتحاد بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ کچھ خفیہ طاقتوں نے لڑاؤ اور تقسیم کرو کے اُصول کو اپنایا اور میڈیا کو بڑی آسانی سے تقسیم کردیا۔ کچھ ٹی وی چینل تو حریف چینلوں کی ضد میں ہر حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔ہ اُن کا بس نہیں چلتا تھا کہ مخالف ٹی وی چینل کی نشریات ہی بند کروادیں۔ وہ میڈیا جو اپنے آپ کو اس ملک کا چوتھا ستون کہلواتا تھا اسے سبق سکھانے اور اس کی "اوقات "یاددلانے کے لیے سب سے پہلے جیو ٹی وی کو چُنا گیا جو پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ ہے۔ اُسے دیوار سے لگادیاگیا، اخبارات کی ترسیل روک دی گئی، پورے ملک میں جیوٹی وی کی نشریات کا بائیکاٹ کروایا گیا۔ چند نامعلوم افراد نے کیبل آپریٹرز کو یوں رام کیا کہ کیبل آپریٹر جیو کا نام سُن کر ہی اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے لگے تھے۔ جب جیو اور جنگ گروپ کی انتظامیہ کی طبعیت قدرے بہتر ہوگئی تو اسے دوبارہ کام کرنے کی اجازت دی گئی لیکن ساتھ ہی ایک سُرخ لکیر بھی لگا دی گئی کہ خبردار اس لکیر کو عبور کرنے کی کوشش نہ کرناورنہ۔۔۔
اس قسم کے پروگرام تقریباً ہر ٹی وی چینل پر دکھائے جارہےہیں جہاں میزبان حاتم طائی بنے بیٹھے ہیں جو کبھی دُونی کا پہاڑہ سُن کر موٹر سائیکل کی چابی تھما دیتے ہیں تو کبھی کچا پاپڑ پکا پاپڑ کہنے والے کو کیو موبائیل بانٹتے پھرتے ہیں
بظاہر آزاد نظر آنے والا میڈیا کچھ موضوعات پر خاموش ہے، اب پہلے کی سی بے باکی اور حق گوئی نظر نہیں آتی کیونکہ میڈیا گروپس کو سمجھا دیا گیا ہے کہ آپ کی حدود اتنی ہیں پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ اس وقت پورے ملک میں غیر رسمی میڈیا سنسر شپ نافذ ہے جس پر پوری طرح سے عمل ہورہا ہے۔ ہمیں برما کے مُسلمانوں کا تو بہت درد ہے اور ہر درد دل رکھنے والے مُسلمان کو ہونا بھی چاہیے۔ لیکن جو آوازیں برما کے مُسلمانوں پر ظلم کے خلاف بُلند ہورہی ہیں جانے کیوں اُنہیں پاکستان میں تین عورتوں اور ایک بچی سمیت زندہ جلائے جانے والا احمدی خاندان کیوں نظر نہیں آیا؟ اُنہیں ہر روز ہزارہ برادری کے گرتے لاشے کیوں نظر نہیں آتے؟ اسی ملک میں اسماعیلی کمیونٹی کے ڈیرھ سوسے زائد مرد وزن کو سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا لیکن کسی ٹی وی چینل نے اپنے لوگو کو سیاہ رنگ دینا مُناسب نہ سمجھا۔ اس ملک میں ماما قدیر چند عورتوں اور ایک سات سالہ بچے کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کا سب سے بڑا پُرامن احتجاج کرتا ہے لیکن پاکستانی میڈیا اُسے بالکل نظر انداز کرتا ہے ۔ صرف ایک حامد میر نے جرات کی تھی تو اُس کے پیٹ میں بھی پانچ گولیاں اُتار دی گئیں اور باقی سب دبک کر بیٹھ گئے۔ دیکھا صرف یہ جارہا ہے کہ کونسی چیز بک رہی ہے۔ غلط یاصحیح کی بحث سے قطع نظر بس سودا بکنا چاہیئے بھلےساری اخلاقی، معاشرتی اور صحافیانہ اقدار کو بالائے طاق رکھنا پڑے۔
اس وقت پورے ملک میں غیر رسمی میڈیا سنسر شپ نافذ ہے جس پر پوری طرح سے عمل ہورہا ہے
پچھلے دنوں پاکستانی صحافیوں کا ایک وفد تربیت کے لیے امریکہ گیا۔ تربیت کے دوران ایک صحافی نے امریکی اہلکار سے پوچھا کہ آپ کے ہاں روزانہ کتنی بریکنگ نیوز چلتی ہیں؟ امریکی اہلکار حیرت سے اس صحافی کا منہ تکنے لگا۔ اُس نے کہا میں معذرت خواہ ہوں ہمارے ہاں تو مہینے میں ایک یا دو بریکنگ نیوز ہوتی ہیں۔ وہ پاکستان صحافی کہنے لگا کہ میرا سر شرم سے جھک گیا کہ ہمارے ہاں تو کسی سیاسی لیڈر کے ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو وہ بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔
آخرکبھی نہ کبھی تو حکومت اور صحافی برادری کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور ایک ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا تاکہ معاشرے میں مثبت صحافتی اقدار فروغ پاسکیں تاکہ کم از کم ہم نہیں تو ہماری آنے والی نسلیں ہی کچھ اچھا دیکھ سکیں۔

Related Articles

مرد،عورت اور قبائلی سماج

روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

تصنیف حیدر: ویلنٹائن ڈے محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کی گھڑی ہے ،جو ہمیں ہماری تمام تر مصروفیت کے باوجود یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ محبت کا یہ خاص دن منانے کے لائق کیسے بنا جائے۔ورنہ تو ہماری سوسائٹی میں محبت کرنے والوں کی نہ کوئی کمی ہے، نہ کبھی ہوگی۔

پاکستانی طالبان کون ہیں؟

لفظ طالب یا طالبان سنی مسلک سے وابستہ ان جنگجووں کے لیے استعمال ہوتاہے جنہوں نے ملا محمد عمر کی قیادت میں 2001تک افغانستان پر حکومت کی۔