شکاری چینل

شکاری چینل
شکاری چینل
فضاؤں میں بارود اور فاسفورس کی بو تحلیل ہو کر
مٹیالے غبار کی صورت اوپر کو اٹھتی ہے
جمے ہوئے خون اور جلتے گوشت کی چراند
کہیں سے آ رہی ہے جیسے یہ باس دماغ میں بس گئی ہے
کچھ دن سے کسی خود کش بمبار نے دھماکا نہیں کیا ہے
کوئی نئی اور سستی سنسنی خیز خبر کے انتظار میں
سادیت پسند شہری جماہی لیتے ہوئے چینل بدل رہا ہے
شکاری چینل کو اپنی ریٹنگ کی فکر ہے
کسی مارننگ شو کی پریزنٹر کی بے ہنگم ہنسی کا تسلسل
کراہتے چیختے زخموں کو چھیلیتی سی محسوس ہوتی ہے
لہجوں میں تھکن اترتی چلی جاتی ہے
مگر طوفان ہاؤ و ہو میں شل ہوتے اعصاب کا پتا نہیں چلتا
جیسے کسی جنگل میں جا نکلے
گیڈر وں کی اونچی آوازیں
اور بھی تیز اور تیز ہوگئی ہوں
جھینگروں کا شور اور بہتے جھرنوں کی مدھم لہریں مٹ چکی ہیں
بس سرسراتے سانپوں کی لپلپاتی زبانیں
تہذیب کے سینے سے گرتا لہو چاٹ کر
اور بھی توانا ہوتی جا رہی ہیں
پھر خاموشی سی چھا جاتی ہے
گہرا سکوت جیسے طوفان کی آمد سے پہلے شور تھم جائے
یکایک
سناٹا تڑاخ کی آواز سے چٹخ جاتا ہے
زناٹے دار تھپڑ کی بازگشت فضاء کو چیر جاتی ہے
ایکبارگی ہر طرف سکتہ چھا گیا ہے
مگر سرگوشیاں پھر سے تیز ہونے لگتی ہیں
کانٹوں بھری زبان
یہی ہونا چاہئے تھا اس کے ساتھ
نہیں نہیں کچھ بھی ہے
چہرہ تو پھول جیسا ہے
، عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتے
پھر سب کچھ گڈ مڈ ہونے لگتا ہے
سادیت پسند شہری
تھپڑ والا منظر ریوائنڈ کر کے دیکھتا ہے
شکاری چینل کو خبر مل گئی ہے
تہذیب و تمدن گلے مل کے روتے ہیں
اور اسمارٹ ریموٹ کے بٹن دبا کر
قدیم دیو مالائی چینل دیکھنے لگتے ہیں

Image: Sabir Nazar

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salma Jilani

Salma Jilani

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan, she worked as a lecturer for eight years in Govt Commerce College Karachi. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University. She has been teaching in different international tertiary institutes on and off basis. Writing short stories in Urdu is her passion which have been published in renowned quarterly and monthly Urdu literary magazine such as Funoon, Shayer, Adab e Latif, Salis , Sangat and Penslips magazine and in children’s magazines as she writes stories for children as well. She also translates several poems of contemporary poets from all over the world into Urdu and vice versa, since she considers translations work as a bridge among different cultures which bring them closer and remove stereotyping.


Related Articles

(غزل - (ظفر خان

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے

ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ

مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے

سراب میں جل پری

حسین عابد: سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا
جو میری آنکھوں، رگوں
روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے

محشر-1

کوہ سلیماں کی
خاک سے آندھیاں لپٹی ہیں
اوردو سربریدہ
پیغمبروں کا ظہور ہے