شکن

شکن

جب نورانے ٹیکسی میں اپنے بغل میں بیٹھی ہوئی عورت کی طرف نگاہ ڈالی جو کہ بوڑھی اور دیکھنے میں شکستہ حال تھی،تو نہ جانے کیوں اس کی ساری توجہ اس عورت کے ہاتھوں پر ٹھہر گئی جو کہ کالے بھدے اور بے انتہا سکڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھوں کی کالی رنگت فطری بھی نہیں تھی۔نورا نے جب اس عورت کی ہتھیلیوں پر غور کیا تواسے نظر آیا کہ اس کی ہتھیلیوں میں لکیروں کا ایک جال تھا جو ضرورت سے زیادہ گنجلک معلوم ہوتا تھا۔وہ لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی گزر رہی تھیں۔جن میں نورا کوزندگی اورقسمت کی واضح لکیریں کہیں نظر نہیں آئیں۔ بس لکیریں ہی لکیریں اور کالے دھبے۔ رشک اور موازنہ چونکہ عورت کی فطرت ہے ،لہذا نورافوراً اپنے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوئی، جس نے اس کو یکبارگی مایوسی میں ڈھکیل دیا۔عمر کے اس پڑاؤ میں جب جھریاں چہرے کو اپنا مسکن بناتی ہیں وہ اس کے چہرے سے اتر کر ہاتھوں کو ا پنی گرفت میں لے چکی تھیں،چالیس سالہ نورا جب اٹھارہ سال کی عمر میں ماٹی کی بیوی بنی تو وہ ایک خوبصورت ہاتھوں والی نازک اندام لڑکی تھی ،لیکن چالس برس کی عمر تک اس نے پانچ بچے پیدا کیے اور اپنے ہاتھوں کی روشنی ان کی پرورش کی نذر کر دی۔
"تو کیا ہوا؟ اب عمر بھی تو ہو گئی ہے اور ڈھلکی ہوئی عمر میں جھریاں نہیں پڑیں گی تو اور کیا ہوگا۔"
اسی جملے کو دہرا کر وہ بار بار اپنے اندر کی جاگی ہوئی عورت کوتھپکا کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ "
اور پھر ہاتھوں میں جھریاں آ بھی گیئں تو کیا ؟آخر پانچ بچوں کو پالا پوسا ہے "
ہزار ہا کوششوں کے باجودخود احتسابی کی نگاہیں اس کی اندھی امید کو جھٹلا رہی تھیں۔ دفعتا اسے یادآ گیا کہ اس کے برابر میں بیٹھنے والی عورت خاصی بوڑھی ہے۔
" یہ بڑھیا ہے اس کے ہاتھ میں یہ منحوس لکیریں ہیں تو ہیں، لیکن میں!"
اور پھر اسے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جو اس کی عمر کو پہونچ کر بھی جوان دکھتے تھے۔ جیسے کے اس کی پڑوسن یا اس کی دور کی رشتہ دار صبیحہ ان کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ غلط کا م کرتی ہیں اور یہ غلط کام کس نوعیت کے تھے۔ یہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ کافی دیر تک اسی پس وپیش میں مبتلا رہی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت کی منزل آ گئی ہے۔پھر کچھ دیر میں اس کی بھی منزل آ گئی:
"دھیولا بازار والے اتر جایئں"
ڈرائیور کی آواز نے اسے ہوشیار کیا۔وہ جلدی سے اتری اور ڈرائیور کوپیسے دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دی۔وہ اس تیزی سے گھر کی طرف جارہی تھی کی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا جھریوں کے خیال کو ٹیکسی ہی میں جھٹک چکی ہو۔اب اسے یہ خیال ستانے لگا تھا کہ ماٹی اگر گھر آگیا ہوگا تو کھائے گا کیا۔ اس نے گھر سے نکلتے وقت ماٹی کے لیے کچھ پکایا کر نہیں رکھا تھا۔نورا کو ڈر تھا کہ ماٹی اس بات پر ناراض ہوسکتا ہے۔اس کے لئے کیا پکانا چاہیے۔ بےچارہ ماٹی! سارا دن کام کرتا ہے اور بچےبھی تو انتظار کر رہے ہیں ہوں گیں۔بھوکے،پیاسے۔ کیا کھلائے ،کیا پکائے اور ماٹی کے لئے آج کیسے تیار ہو۔انہیں خیالوں کے بیچ اس کا پیدل راستہ ختم ہو چکا تھا اور وہ گھر کے سامنے تھی۔
گھر آتے ہی نورا چولھے کے پاس پہونچ گئی،جلدی جلدی ماٹی کے لئے کھانا تیار کیا اور نہا دھو کر خود کو سنوارنے کے لئے آئینہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ،آئینہ کے سامنے پہونچ کر ایک بار پھر سے وہ خالص نورا بن گئی۔ نہ کسی کی ماں اور نہ ہی کسی کی بیوی بس نورا ایک عورت،آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اپنے چہرے کی شکنیں بھی واضح طور پر نظر آنے لگیں تھیں:
"ایک ،دو ،تین، چار، پانچ، چھ، دس،بارہ،پندرہ ،اتنی ساری میں بوڑھی ہو رہی ہوں کیا "
ارے پگلی بچوں میں ایسا ہی ہو جاتا ہے آدمی۔ ایک بار اس نے پھر سے خود کو دلاسا دیا۔
"لیکن خود کو دیکھو !تم بوڑھی کہاں ہوگئی ہو،یہ جھریاں تمہیں یاد نہیں۔"
یہ لکھر ماٹی نے دی ہے۔ وہ دیکھو سب تم پر ہنس رہے ہیں تمہارے سسرال والے۔
۔۔۔۔۔"یہ شکن،ماٹی نے جب تمھیں مارا تھا تب کی ہے لیکن وہ تو روز ہی مارتا ہے۔ روز کے حساب سے ایک،دو،تین اور یہ گال پر جو شکن ہےیہ کھانادیر سے پکا تو اس نے پھینک دیا تھا یہ اس کے ماتم میں بنی تمہیں یاد نہیں"اسے یاد ہے سب ہاد ہے، ہاتھوں کی جھریاں ان بچوں کی ہیں۔کیا وی بھی قصور وار ہیں؟
"لیکن میں انھیں معاف کر سکتی ہوں۔"
اس نے خود کو جواب دیا اب وہ خود کا احتساب کرنے لگی تھی۔
"یہ شکن جو ماتھے پر ہے یہ کب کی ہے؟"
وہ ماتھے پر زور دے کر اسے مزید واضح کر کے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آخ تھو! اچانک اس کے چہرے پر کسی نے تھوک دیا، اسے یاد آگیا تھا یہ گہری لکیر اس تھوک کی تھی جو ماٹی نے اس پر تھوکا تھا، اس کے چہرے پر ماٹھی نے تھوکا تھا، وہ بھی پرائی عورت کی باتوں میں آکر۔
"اپنے چیتھڑوں کو نہیں سنبھال سکتی جیسی تو بد صورت ویسے تیرے چیتھڑے بد صورت، کیا لیپا پوتی کرے بیٹھی ہے۔"
تھو!!۔
اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔
Image: Sadaf Fatima

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Sadaf Fatima

Sadaf Fatima

صدف فاطمہ اردو زبان کی نئی نسل سے تعلق رکھتی ہیں، یہ اردو میں افسانے بھی لکھتی ہیں اور شعر بھی کہتی ہیں، ان کا اردو زبان و ادب اور اسلامیات کا مطالعہ خاصہ وسیع ہے، اردو میں تنقیدی اور تحقیقی مضامین بھی لکھتی رہی ہیں۔ بنیادی طور پر لکھنو کی رہنے والی ہیں، مگر ان دنوں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے ایم فل کر رہی ہیں۔


Related Articles

لوتھ

محمد حمید شاہد: بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔

فنِ گزشتگان

اسد رضا: ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا کہ خنجر ، چاقویا کوئی بھی اوزار چلاتے وقت تمہارا ہاتھ زخمی نہ ہو۔ اگر تمہارے خون کا ایک بھی قطرہ لاش پر گر گیا تو تمہاری نسلوں میں یہ فن ختم ہو جائے گا اور تم صرف کمہار پیدا کر سکو گے”۔

فن کدہ

تینوں نے ایک ساتھ فیصلہ کیا اورقدم آگے بڑھا دیئے، مگرکوششوں کے باوجود، راہ داری میں کھڑے معززین شہر کی بڑی تعداد نے، بوڑھے شاعر، منحنی طبلہ نواز اوربیمار مصورکو آگے بڑھنے کا راستہ ہی نہی دیا۔