شک تشدد کی بنیاد ہے؟

شک تشدد کی بنیاد ہے؟
وہ شکل سے بچے اغواء کرنے والا لگتا ہے، اس کے بیٹے کی شکل اس کی اپنی شکل سے نہیں ملتی سو یہ بچے اٹھانے والی ہے، اس کا بچہ مسلسل رو رہا ہے تو اس نے اس بچے کو زبردستی اٹھایا ہے، وہ شکل سے ہی دھندا کرنے والے لگتی ہے، یہ تو بولتا ہی کھسروں کی طرح ہے، اس کے چہرے پر داڑھی ہے، اس کی تلاشی لینا ضروری ہے، یہ جینز پہن کر پھر رہی ہے اس کا چال چلن مشکوک ہے۔۔۔۔۔۔ کیا ہماری شکلیں، حلیے، چال ڈھال اور بول چال کی بنیاد پر ہی یہ فیصلے کیے جائیں گے کہ ہمیں ایک ہجوم اکٹھا ہو کر مارنے پیٹنے لگے، یا پولیس والے ہمیں ناکے پر روک لیں، یا ہمارے ہم جماعت ہمارا مذاق اڑنا شروع کر دیں یا پورا دفتر ہمارے بارے میں مشکوک ہو جائے؟؟

یہ شک کرنے کی حس بھی کیا قدرت نے ہمارے ارتقاء کے دوران ہمیں سجھائی تھی کہ جس طرح ہم خوراک کو سونگھ کر، چکھ کر، دیکھ کر اس کے کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح شکلیں دیکھ کر دوستیاں بڑھائیں یا دروازے بند کر لیں۔
یہ شک کرنے کی حس بھی کیا قدرت نے ہمارے ارتقاء کے دوران ہمیں سجھائی تھی کہ جس طرح ہم خوراک کو سونگھ کر، چکھ کر، دیکھ کر اس کے کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح شکلیں دیکھ کر دوستیاں بڑھائیں یا دروازے بند کر لیں۔ کیا آوازوں سے بدکنا، داڑھیوں سے ڈرنا، جینز کی پتلونوں سے نفرت کرنا بھی ہمارے جینز کی کارستانی ہے؟ آخر کس طرح سے ایک شبہ ایک الزام کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر ایک ہجوم کو مشتعل کر دیتا ہے جو کسی بھی قسم کی تحقیق کے بغیر اپنے ہی جیسے انسانوں کو مارنے لگتے ہیں، جلا دیتے ہیں یا ان کی بستیوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ شامی مہاجروں، افغان مہاجروں، ہندوستان سے آنے والے مہاجروں سمیت ہر کسی کے بارے میں جس کے رسم و رواج، مذہبی رسوم اور ثقافتی اقدار ہم سے مختلف ہیں وہ ہمارے لیے مشتبہ ہے اور ہمارے طرزِ زندگی کا دشمن ہے۔

ہمارے بچے کب اور کہاں اور کیوں یہ سیکھتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی شکل و شباہت کی بنیاد پر دیکھو اور فیصلے صادر کر دو۔ انہیں کون یہ بتاتا ہے کہ ہر وہ حلیہ یا شکل و شباہت جو تمہیں مشکوک محسوس ہو اس پر پتھر برساو، اسے لہو لہان کر دو اور اسے آگ لگا دو۔ یہ صرف پاکستان نہیں یہ ہر جگہ ہے۔ کہیں برقینی پہن کر نہانے سے مسئلے ہیں، کہیں جینز سے خار کھائی جاتی ہے، کسی کو عربی سن کر دہشت گردی کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو کسی کو ہر یہودی، ہندوستانی اور امریکی دشمن نظر آتا ہے۔ کوئی برقع اور داڑھی دیکھ کر انتہا پسند قرار دے رہا ہے اور کوئی لڑکے لڑکی کو ساتھ دیکھ کر ان کے جسمانی تعلق کی گواہی دینے کو تیار ہے۔

ہمیں مشکوک حلیے سے کیا مسئلہ ہے؟ یہ شک کہاں سے پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کو لوگوں کو قتل کرنے، گرفتار کرنے پر اکساتا ہے یا مسکرا کر بات کرنے تک سے منع کر دیتا ہے۔ ہم نے کیوں یہ فرض کر لیا ہے کہ پشتون ہو گا تو نسوار کھاتا ہو گا، سکھ ہو گا تو بے وقوف ہو گا، شیخ ہو گا تو کنجوس ہو گا، یہودی ہو گا تو مسلمان دشمن ہو گا، مولوی ہو گا تو بنیاد پرست ہو گا، داڑھی والا ہو گا تو دہشت گرد ہو گا، جینز والی ہو گی تو فاحشہ ہو گی۔۔۔۔۔۔ کیا ہم انسانوں کو محض انسان نہیں سمجھ سکتے اور کیا ہم ان سے نفرت یا محبت کرنے، ان کے بارے میں فیصلہ کرنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے مشتعل ہونے سے پہلے انہیں جاننے کی زحمت کر سکتے ہیں؟

کیا ہم انسانوں کو محض انسان نہیں سمجھ سکتے اور کیا ہم ان سے نفرت یا محبت کرنے، ان کے بارے میں فیصلہ کرنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے مشتعل ہونے سے پہلے انہیں جاننے کی زحمت کر سکتے ہیں؟
شک کو الزام بننے اور الزام سے ایک مشتعل ہجوم بننے کے دوران کہیں کی بھی مرحلے پر سوچنے کا موقع کیوں نہیں ملتا؟ حکومتیں، مذہب، معاشرے اور خاندان بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ خوف کا مقابلہ کیسے کیا جائے، شک کو رفع کیسے کیا جائے، انسانوں پر بھروسہ کیسے کیا جائے بلکہ یہ سب کہ سب مل کر ہمیں لوگوں سے کہیں زیادہ ڈرنے، نفرت کرنے اور انہیں خود سے کم تر سمجھنے کی تربیت دیتے ہیں۔ یہ سب مل کر ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم دوسروں سے خوف کھائیں اور اس خوف کو شک، نفرت، غصے اور اشتعال کی شکل دے کر اس آگ میں سب کو جلا دیں۔ ہمیں بچپن سے ہی غیر مذہب والوں، غیر ملکیوں، دوسری برادری والوں، دوسری زبان والوں اور دوسری رنگت والوں سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں نفرت کے تیزاب کتابوں کی صورت میں انڈیلے جاتے ہیں۔

اپنے آس پاس توہین مذہب کے الزامات کے تحت، اغواء کرنے والے کے شبے کے تحت یا دشمن کا ایجنٹ ہونے کے شک کی بناء پر ہجوم کو اکٹھا ہوتے دیکھ کر میں سمجھ گیا ہوں کہ کس طرح تقسیم کے وقت ساتھ ساتھ رہنے والے ایک اجتماعی اشتعال کے تحت لوٹ مار اور غارت گری کا حصہ بن گئے۔ تب بھی یونہی افواہیں پھیلتی ہوں گی کہ فلاں جگہ ہندووں نے اتنے مار دیے، فلاں جگہ مسلمانوں نے اتنے لوٹ لیے، وہاں سکھوں نے حملہ کر دیا، یہاں مسلمانوں نے عزتیں لوٹ لیں اور بس۔۔۔۔۔ یہ افواہ، شک اور اشتعال کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ ہم سب اکٹھے ہو کر کسی کے بھی خلاف کچھ بھی کر سکتے ہیں حتیٰ کہ وہ سب کچھ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا کہ ہم کر سکتے ہیں، ہم کسی کا گھر جلا سکتے ہیں، کسی کو مار پیٹ کو معذور کر سکتے ہیں، کسی کو قتل کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اور آپ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں اور کریں گے، کسی بھی افواہ کے تحت یا کسی بھی شبے میں۔

ہم نے ڈرتے ہیں، ہم شک کرتے ہیں، ہم الزام لگاتے ہیں، ہم ہجوم بناتے ہیں اور پھر کسی بھی شخص کو مارنے پر تُل جاتے ہیں۔ ہم افواہ سنتے ہیں، افواہ کو پھیلاتے ہیں اور پھر افواہ کو سر پر سوار کر کے پٹرول کے کنستر، ماچس کی تیلیاں، لاٹھیاں، ڈنڈے اور بندوقیں لے کر افواہ کا مقابلہ کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم الزام لگاتے ہیں، الزام پر ایمان لے آتے ہیں اور پھر کہیں نہ کہیں اس الزام کے تحت کسی نہ کسی جگہ توڑ پھوڑ کی راہ نکال لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہم کرتے ہیں یا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں یا اپنے ساتھ ہوتا ہوا برداشت کرتے ہیں مگر ہم میں سے کوئی بھی نہیں جو چلا کر ایک افواہ، ایک شبے، ایک الزام اور ایک ہجوم کا راستہ روک سکے۔۔۔۔۔
Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmed is a marketing executive from Bahawalpur and regularly writes for Laaltain.


Related Articles

ISIS Links with Pakistan: Past & Present

ISIS have declared themselves the winners of the global race towards a Caliphate, and as such its gains and losses will shape the future face of Jihadism in Pakistan and across the world.

جنسی استحصال کا شکار مستقبل

یہ معاملہ محض پنجاب حکومت یا پنجاب پولیس کی نااہلی اور عدم تعاون کا نہیں، یہ معاملہ شہباز شریف، میاں محمود الرشید اور سراج الحق کے بیانات اور گنڈا سنگھ والا نامی گاوں پہنچنے والی اہم شخصیات کا بھی نہیں، یہ معاملہ چند روزہ خبری ابال کا بھی نہیں، یہ معاملہ صرف 234 بچوں کا بھی نہیں بلکہ یہ معاملہ پنجاب، پاکستان، جنوبی ایشیا اور اس پوری دنیا کے بچوں کا ہے جنہیں مختلف اوقات میں، مختلف طرح سے مختلف مقامات پر جنسی تشدد اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

معاشرے کی اصلاح میں صوفیاکرام کا کردار

تالیف حیدر: جس طرح دنیا کا ہر بڑا حکیم اپنی حکمت سے اپنے معاشرے میں پھیلی خرابیوں کا علاج کرتا ہے اسی طرح ہر صوفی دوسرے صوفی سے الگ جداگانہ انداز میں معاشرے کی اصلاح کا کام انجام دیتا ہے۔