شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا
شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا
ہم۔۔۔۔ اپنے آپ کو شہر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!

 

جس پہ نصب تھے ہمارے پاؤں
پا نی میں بہہ گئی وہ سڑک

 

وہ راستے ۔۔۔۔۔۔
ہمارے حافظوں سے کہیں دور نکل چکے
جو ۔۔۔۔ہماری تصویروں سے بھرے رہتے تھے
اب ہمیں کون بتائے گا؟
کہ۔۔۔ ہمارے مکان کا دروازہ
کس سڑک کی سیدھ میں کھلا کرتا تھا؟؟
ہم جو ہمیشہ سے چاہتے تھے
ہمارے مکان کھو جائیں !!

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

جو شعر در شعر کہے بہ راہے مدح سرائی
بہ اندازِ رعد خوش گذران مہینہِ جُون جب شجر ارغوان ہو پورا کِھلا،
لیکن یہ علم میری زبان گنگ کرائے کہ
تم لوگوں نے اسے کیسے اندازِ گراں قدر صنّاعی سے موزوں کیا ہوگا۔

اندھوں کی نگری

ستیہ پال آنند: یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!

آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

نسیم سید: تم جانتے ہو
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں