شہ رگ کی بالکونی سے

شہ رگ کی بالکونی سے

خدا جو شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے
اس کو اپنا دکھ سنانے کے لئے
مُردوں کو جنجھوڑنے والا بہت خوش ہے
کہ خدا نے اس کی سن لی
اور وہ بھینس کے تھن کو چھُونے سے پہلے
---- کا نعرہ لگائے گا
مگر بھینسیں زیادہ دودھ دینے سے
اس مرتبہ بھی مُکر گئیں
کہ بھینسا ہل میں جُتا ہوا تھا
اختلاط کو ترسی ہوئی بکریاں
احتجاج لکھنے والا قلم ڈھونڈتی رہیں
مگر بکرے قربان ہو چکے تھے
وہ اب کہیں دور سے اپنی اپنی بکری کو
لَو لیٹر بھیجتے ہیں
مگر بکریوں کے کان
دوسری آواز کے انتظار میں کھڑے ہیں
محبت کے شیِرے میں ڈوبی ہوئی دوسری آواز
خدا شہ رگ کی بالکونی میں براجمان
تماشہ دیکھ رھا ہے
Image: Roberto Matta


Related Articles

اندھوں کی نگری

ستیہ پال آنند: یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!

راندہء درگاہ

کے بی فراق: چنالی : گوادر کے جنوب میں پہاڑی کے بالکل ساتھ ہی واقع ایک تاریخی جگہ کا نام جہاں چیچک زدہ لوگوں کو رکھا جاتاتھا۔

مرگ پیچ

نصیر احمد ناصر: مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے
دوڑتا پھرتا ہوں
سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے