صاحب ، کتا اور چور

صاحب ، کتا اور چور
بھانت بھانت کے کتے بھانت بھانت کے لہجوں میں بھونک بھونک کر اپنے وجود، اپنی ذات اور نسل کی پہچان بتا رہے تھے۔ کچھ کتے شانِ بے نیازی سے آنے جانے والوں پربتجاہلِ عارفانہ ایک آدھ نظر ڈال لیتے اور پھر اپنا راتب کھانے میں مصروف ہو جاتے اور کچھ سستی کے مارے اپنے پنجوں پر منہ رکھے خود پر بیٹھنے والی مکھیوں کو محض بھنووٴں کی حرکت سے اڑانے پر اکتفا کر رہے تھے۔ کتوں کی خرید وفروخت کے کسی مرکز میں آنے کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا۔
ہمیں بتایا گیا کہ کتوں میں بھونکنے والے کتے کون سے ہیں اورکاٹنے والے کون سے۔ اور یہ کہ جو بھونکتے ہیں وہ کب کاٹ سکتے ہیں اور جو کاٹتے ہیں وہ کتنا بھونک لیتے ہیں۔نیز یہ بھی کہ کس وقت وہ بھونکنے کے ساتھ کاٹتے ہیں اور کاٹنے کے ساتھ بھونکتے ہیں۔
ہوا یوں کہ آس پڑوس میں پڑنے والے مسلسل ڈاکوں اور چوریوں سے پریشان اور نجی محافظوں کی مشکوک وفاداریوں سے نالاں ہو کر ہم نےایک سگ پرست اور سگ شناس دوست کے مشورے سے رکھوالی کے لیے ایک عدد اعلیٰ نسل کا کتا رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کےلیے ہمیں کتوں کی خریدوفروخت کے اس مرکز کی زیارت کے شرف سے بامشرف ہونا پڑا۔جہاں تک آس پڑوس میں ہونے والی چوریوں کا تعلق ہے تو شنید تھی کہ یہ کام کتوں کے رکھوالے، اپنےکتوں کی فروخت اور دام بڑھانے کے لیے خود کروا رہے تھے۔ بہرحال کتے اب ناگزیر ہو چکے تھے۔
حفاظت کی غرض سےسدھائے جانے والے ان کتوں کے تحفظ کے لیے قائم کردہ کئی حفاظتی حصاروں اور مراحل سے گزر کر ہم یہاں پہنچے تھے۔ اپنی شناخت پر اٹھنے والی شکی نگاہوں کی تسلی کرواتے کرواتے ہمیں اپنا آپ بھی مشکوک سا لگنے لگا تھا۔ تاہم، اپنا گرتا ہوا اعتماد بمشکل اور بظاہر بحال کرتے ہوئے ہم کتوں کی فوج ظفر موج ملاحظہ کرنے لگے۔
کتوں کی مختلف نسلوں سے تو ہم واقف تھے نہیں،اس لیے ان کے مزاجوں سے ان کی ذات اور وفاداری کا اندازہ کرنے لگے۔دیکھا کہ کچھ کتے کان اور دم اونچےکیے خواہ مخواہ چاک و چوبند کھڑےتھے، ہر آنے جانے والے پر غرّاتےیا خشمگین نظروں سے گھور کر دیکھتے۔ اس سے اور کچھ نہیں تو ان کی موجودگی کا احساس ضرور ہو رہا تھا ،ورنہ شاید ان پر نظرہی نہ پڑتی۔
ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ کتے کی جذباتی و ذہنی کیفیت کا اندازہ اس کی دم سے ہوتا ہے۔
کچھ کتے عمر رسیدہ ہو چکے تھے ،مگر پھر بھی بہت اچھے ماحول میں رکھے ہوئے تھے۔ یہ بڑے آرام سے زبانیں لٹکاےٴ بیٹھے تھے۔ ہر ایک آنے جانے والے کو بے التفاتی سے گھورے چلےجا رہے تھے۔ کبھی کبھی ڈانٹنے کے انداز میں کسی نو آموز کتے یا نووارد شخص پر بھونک بھی دیتے۔ان کا بھاری پڑتا جسم ان کی کمزور پڑتی ٹانگوں کے لیے ایک ناگوار بوجھ بنا ہوا تھا، جسے وہ بظاہر بڑی متانت سے سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کا کوئی کام معلوم نہیں پڑ رہا تھا ۔ پوچھنے پربتایا گیا کہ ان کی بےکاری کے باوجود انہیں یہ مراعات ان کی سابقہ خدمات کی بنا پر فراہم کی گئی تھیں۔ کتوں کے نگرانوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ سبکدوشی کے بعد کتے کے اخراجات اور راتب پر اٹھنے والا خرچ ایک جوان کتے کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔۔بہرحال، ان کا استحقاق کسی طور مجروح نہیں ہونے دیا جارہا تھا۔
ہمیں بتایا گیا کہ کتوں میں بھونکنے والے کتے کون سے ہیں اورکاٹنے والے کون سے۔ اور یہ کہ جو بھونکتے ہیں وہ کب کاٹ سکتے ہیں اور جو کاٹتے ہیں وہ کتنا بھونک لیتے ہیں۔نیز یہ بھی کہ کس وقت وہ بھونکنے کے ساتھ کاٹتے ہیں اور کاٹنے کے ساتھ بھونکتے ہیں۔ ہر کتے کی اوقات اور مزاج اس لحاظ سے مختلف تھا۔ مرکز میں رکھے گئے کتے باہر سے آنے والے واردین پر بہت غصہ ہونے لگے تھے۔ وجہ یہ معلوم ہوئی کہ مرکز کی چار دیواری میں پڑے پڑے انہیں باہر کی دنیا سے زیادہ تعلق نہیں رہتا،اس لیے باہر والوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر پاتےاورانہیں دیکھتے ہی کان، دم کھڑے کر کے بھونکنے لگتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ بھونکتے بھونکتے جوش میں آ کر گلےکی رسی کہیں ڈھیلی پڑ گئی تو کاٹ بھی لیا۔ ایسے حادثات رونما ہونے کی وجہ سے لوگ یہاں کا رخ کم کرنے لگے تھے ، تاہم، جب آنا ہی پڑتا تو خود حفاظتی اور خود شناختی کا مقدور بھر بندوبست کر کے آتے ۔
کتوں کے نگرانوں نے ہمیں تربیت یافتہ کتوں کی تربیت کا مظاہرہ بھی دکھایا۔ کتے اپنے نگران کے حکم پر بلا چوں چراں عمل کرتے۔ حکم کتنی ہی بار دیا جاتا اور کتنا ہی بے تکا کیوں نہ ہوتا، وہ کر گزرتے۔ حتیٰ کہ ایک ہلکے سے اشارے پر اپنے ہی بھائیوں پر بھی پِل پڑتے ۔ یہ دیکھ کر ہم تربیت کاروں کی تحسین کیے بغیر نہ رہ سکے۔ ہمیں بتایا گیا کہ کتوں کا آپس میں ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ یہ ایک دوسرے کا پچھواڑہ سونٖگھ کر ایک دوسرے کی ذات، اوقات اور علاقے کا پتا چلا لیتے ہیں ۔ وہیں یہ بھی طے کر لیتے ہیں کہ کس نے اپنی دم ٹانگوں میں دبا کر آداب بجا لانا ہے اور کس نے سر اٹھا کر دوسرے سے اس کی اوقات کے مطابق سلوک کرنا ہے۔
کتوں کی مخصوص عادات کے بارے ہمیں یہ آگاہی دی گئی کہ کتے جہاں ہوتے ہیں اس علاقے کےاطراف میں مختلف جگہوں پر پیشاب کرکے اپنی سرحد قائم کر لیتے ہیں۔ اور اگر کوئی دوسرا کتا اس علاقے سے گزرے تو بلا اشتعال بھونکنا شروع کردیتے ہیں، اور اگر کھلے ہوئے ہوں تو لڑ بھڑ کر باہر سے آئے کتے کو نکال باہر کرتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ کتے کی جذباتی و ذہنی کیفیت کا اندازہ اس کی دم سے ہوتا ہے۔ دم کھڑی ہو تو وہ غصے یا اعتماد میں ہوگا۔ اس حالت میں اس کے منہ نہیں لگنا چاہیئے، دم درمیان میں ہو تو یہ اس کی نخوت کم ہونے کا اشارہ ہے اس حالت میں اسے کسی بھی کام کے لیے راضی کیا جا سکتا ہے۔ دم مسلسل ہل رہی ہو تو سمجھ لینا چاہیئے کہ کتا خوشامد کے موڈ میں ہے۔ اس حالت میں اگر اس کے ساتھ کتوں والی کی جائے تو برا نہیں مناتا۔ دم اگر ٹانگوں میں دبی ہو تو کتا ڈرا ہوا ہوتا ہے۔ اس حالت میں بهی اس کے زیادہ قریب نہیں جانا چاہیئے۔ یہ اس وقت دفاعی نفسیات کا شکار ہوتا ہے اور آپ کو بهی اپنا دشمن سمجھ کر کاٹ سکتا ہے۔ کتا اگر اپنی ہی دم کے پیچھے گول گول گھوم رہا ہو تو سمجھ جائیے کہ کتا بور ہو رہا ہے۔
بہت تلاش و جستجو اور لیت و لعل کے بعد ایک کتا ہمیں پسند آ ہی گیا جو ڈیل ڈول کے اعتبار سے بھی کتا ہی لگتا تھا۔زیادہ تر اسی نسل کے کتے اس مرکز میں رکھے گئےتھے۔ دام چکا کر ہم اس کتے کو چمکارتے پچکارتے اور اس کے منہ لگنے سے بچتے بچاتے اسے گھر لے آےٴ۔
ایک ہفتے بعد ہمارے وہ سگ پرست اور سگ شناس دوست ، جو ہماری کتوں کی خریداری کے وقت شہر سے باہر تھے،ہم سے ملنے ہسپتال آےٴ۔انہوں نے ہمیں بتایا کہ جس نسل کا کتا ہم لے کر آےٴ تھے وہ ایسا کتا تھا جو چوروں اور ڈاکووٴں پر تو فقط بھونکتا ہی ہے، مگر جب کاٹتا ہے تو اپنے ہی مالک کو کاٹتا ہے۔ان تاخیری معلومات پر ہم نے اپنے دوست کا شکریہ ادا کیا اوراحتیاطاً ایک اور انجکشن اپنے پیٹ میں لگوا لیا۔
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr. Irfan Shehzad completed his Doctorate in Islamic Studies from NUML. He regularly writes for various research periodicals, magazines and websites. Human psychology, Jihad and religious militancy are his areas of study.


Related Articles

حکایات جنوں

خدا کے ترازو کے آس پاس داڑھیوں، مسواکوں، تسبیحوں، مصلوں، برقعوں،صحیفوں، کھجوروں، تلواروں، ٹخنے سے اونچی اور ٹخنے سے نیچی شلواروں اور لوٹوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ، خدا نے انسانوں کی صرف روحیں تولنے کا حکم دے دیا تھا۔

The Madness of Readymade Letters[i]

Dr. Javed Jalees, a psychiatrist, has put me to a really difficult test. It is a test of my skill to write,

شکن

صدف فاطمہ: اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔