صبح کا ستارہ

صبح کا ستارہ
صبح کا ستارہ
صبح کا ستارہ

 

ننھے بچے کی روشن آنکھ کی طرح
چمک رہا ہے
اور کسی وقت
چھوٹے بادل کے نیچے
چھوٹی سی نیند بھی کر لیتا ہے

 

اور بچہ
ماں کے سینے کے آسمان میں
رینگنے لگتا ہے

 

کیونکہ آسمان
ماں کے سینے جیسا وسیع و عریض نہیں ہو سکتا
اس لیے اک بچے کے
بڑے ہونے کی مسافتوں کو
سال بلکہ صدیاں بھی بیت سکتی ہیں

 

زندگی کے کھلے مرتبان کے اوپر
مکھیاں بھنبھناتی ہیں
مگر لوگ کانٹے دار باڑوں کے اندر
محفوظ ہیں
اور صبح کے پرندے
ماؤں کے ہاتھوں کی دعاوں کو
اپنی چہچہاہٹ کی نغمگی دیتے ہیں

 

جھونپڑیوں کے باہر
مٹی میں لتھڑے کپڑوں کی زندگی میں
کوئی ستارا ٹانکا نہیں ہوا

 

مگر شہر کو جاتی کچی پٹڑیوں کے بیچ
جہاں پاؤں کے نشان
گوبر اور کانٹے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں
ایک ننگے بچے کے سفر کے لیے
ایک آسمان ہمیشہ کھلا رہتا ہے


Related Articles

بُو باس کا عالم

سدرہ افضل: ممکن ہے
کوئی آدم زاد یہاں سے گزرا ہو
جس کے تلووں کی مٹی سے
ہُو باس کا عالم ٹپکا ہو
عمر کا خالی پَن مہکا ہو

لعوقِ عشق و عرقِ آگہی

حسین عابد: تجسس کی ہوا لگتے ہی ایسا عارضہ لاحق ہوا
کوچہ بہ کوچہ مانگتا ہوں وہم کی خیرات
رہ چلتوں کی جیبوں سے ڑا لیتا ہوں سکے بے یقینی کے
جھپٹ کر چیل کی منقار سے شک کا نوالہ چھین لیتا ہوں

مجسمہ ہائے آب

رضی حیدر:
ہم مگر باقی رہیں گے
ہم خداؤں کے حروف
ہم ابابیلوں کی چونچ
ہم ہی ماہی کی زباں
ہم مجسمہ ہائے آب