صدا کر چلے

صدا کر چلے
صدا کر چلے
(چوک چوبرجی پر، زیر تعمیر اورنج لائن میٹرو کی سائٹ کے قریب ایک گرد آلود ناشتے سے پہلے۔۔۔)

 

تو اب یوں ہے کہ جینے سے اچٹتا جا رہا ہے جی
ہر اک امکانِ خوش وقتی سے رغبت اتفاقی ہے
جلیسِ منبرِ ہستی کا خطبہ سن چکا ہوں میں
بس اب اک زہر خندِ نیستی کی جائے باقی ہے

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
یہاں سے اپنے خوابوں کے جنازے ڈھو رہا ہوں میں
ارادوں اور آدرشوں کی بکھری کرچیاں چن کر
بس اک دو دن میں اپنے گھر روانہ ہو رہا ہوں میں

 

ابھی کچھ وقت میں اس کا صفایا ہو چکا ہو گا
یہ اک آلودگی جو راستوں کو کاٹ کھاتی ہے
یہ اک بے ڈھنگ سا جو نقشِ پا سڑکوں پہ دِکھتا ہے
یہ اک مجذوب سی آواز جو گلیوں سے آتی ہے

 

یہ آوارہ جسے مارا نئی سمتوں کے دھوکے نے
یہ بھک منگا جو ان جاڑوں میں ننگے پاؤں پھرتا ہے
یہ بدمستا کہ جو اپنے غرورِ ناتوانی میں
سنبھلتا ہے، قدم بھر ڈگمگا جاتا ہے، گرتا ہے

 

جو شورِ محض میں پل بھر کو توفیقِ شنیدن ہو
تو ہر سیدھی نصیحت سن کے الٹی بات کہتا ہے
مثالی منظروں کو آپ ہی میں نقش کر کے پھر
انہی امثال کے خودساختہ زنداں میں رہتا ہے

 

کسی نے بات کی، اس کی زباں بولی کہ ہکلائی
کسی نے حال پوچھا، آنکھ ہے، کمبخت بھر آئی
کسے معلوم اس مجلوق تنہائی سے کچھ پہلے
اسے کس طور حاصل تھا دماغِ بزم آرائی

 

سخن کے باب میں اک اعتمادِ تام تھا اس کو
یہ حرف و صوت کے قضیوں پہ کھل کر بات کرتا تھا
بزرگوں کے بہت سے برمحل اشعار پڑھ پڑھ کے
یہ شمعِ بزم کی لَو بن کے دن سے رات کرتا تھا

 

زمستاں اس کو نرم و گرم پہلو میں سلاتا تھا
اجازت لے کے بجتی تھیں بہارِیں نوبتیں اس سے
منڈیروں کے پرندے اس کی سیٹی سے شناسا تھے
گلی میں کھلکھلا کر بولتی تھیں عورتیں اس سے

 

خوشا وقتے کہ جانش بود جانِ حلقۂ خوباں
حضورِ دلربایاں شغلِ ساز و نغمہ ھا کردن
شبِ آدینہ با ابرِ سپیدِ مَے پریدنھا
زمانہا بر دریچہ انتظارِ آشنا کردن

 

اسے کیا کیا نموئے شوق کی دولت میسر تھی
فراغِ ذوقِ بیکاری، خمارِ شانِ رسوائی
شبستاں اس کو بیداری کی خلعت سے نوازے تھے
مگر پھر بھی انہی جادوئی راتوں سے نہ بن پائی

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
ہوا اب بند مجھ پر یہ درِ بازارِ محرابی
تمہارے شہر کی راتوں میں اب کم کم ہی ملتی ہے
وہ دلجوئی، وہ جاں بخشی، وہ بے فکری، وہ خوش خوابی

 

یہ چادر اور پھیلانے کو پاؤں بھی تمہارے ہیں
ہوس کی راہ میں کیوں سرخ قالینیں بچھاتے ہو
تم اپنی حسرتِ تعمیر کو پالو، مگر یہ کیا
مرے رومان کے پالے مقابر ڈھائے جاتے ہو

 

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں

 

عدم کی شاہرہ پر راستے کیا، اور منزل کیا
تم اس پر جس قدر رفتار پاؤ، کچھ نہ پاؤ گے
جہانِ ارتقا کی بھول بھلیوں اور سرابوں میں
یہی کچھ دور تک دوڑو گے اور پھر ہانپ جاؤ گے

 

الم یہ ہے کہ قرنوں کے نشانِ وقت پیما بھی
اسی تاریخ کے ٹکڑوں پہ ہی اب پل نہیں سکتے
ستم یہ ہے کہ اطوارِ تمدن کی بساطِ نو
بچھی ہے یوں کہ اب اس پر پیادے چل نہیں سکتے

 

تمہارے شہر میں اک اجنبی راہگیر ہوں اب میں
یہاں پر مجھ کو اک ذاتی ضروری کام تھا، سو ہے
مرے رومان کی دنیا بھلے سنورے، بھلے اجڑے
تمہارا شہر اک دلکش کتابی نام تھا، سو ہے

Asad Fatemi

Asad Fatemi

Asad Fatemi is a freelance writer and a poet. He is a former editor of Urdu section of Laaltain. He lives in his hometown in district Jhang.


Related Articles

کالے تجھے کتا کھالے

ممتاز حسین: اوئے کالے تجھ میں تو سب رنگ ہیں تیرے سب رنگ نکل جائیں تو میں بچتاہوں۔ چٹا صرف بے رنگ۔۔۔چٹا سائیں۔ تو جمع ہے میں تفریق ہوں۔ آؤ ہم آنکھوں کے ڈھیلوں کو بدل لیتے ہیں تمہاری آنکھین کالا دیکھیں اور میں سفید۔ ‘‘

ستیہ وان ساوتری

"تمہارے پتی کی موت تو قسمت میں لکھی تھی۔ اس کو تو کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ البتہ تم ایک مراد اور مانگ سکتی ہو، اس کے بعد واپس لوٹ جاؤ۔"

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے

قاسم یعقوب: عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
زمیں پاؤں کی ٹھوکرپرپڑی ہے
آسماں مرضی کا منظر چاہتا ہے
رتجگے کی شب کروموسوم کی ہجرت پہ پہرہ دے رہا ہے