صرف ایک گیت کافی نہیں

صرف ایک گیت کافی نہیں

"بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے " کے خالق میجر عمران رضا کی لالٹین سے خصوصی گفتگو

سوال :اس گیت کے لکھنے کا خیال کیسےآیا؟ اور کیا آپ کے خیال میں اس گیت سے لوگوں میں طالبان کا خوف کم ہوا ہے؟

جب پشاور سانحہ ہوا تو اس وقت میں ایک دستاویزی فلم کی تیاری کے سلسلے میں کراچی میں موجود تھا اور اس صدمے کے باعث تین چار روز کام نہیں کرپایا۔ میں چاہتا تھا کہ میں اس حملے میں بچ جانے والے بچوں سے ملوں اور یہ جان سکوں کہ جب وہ اپنی درس گاہوں میں واپس جائیں گے تو تب ان کے احساسات کیا ہوں گے۔ میرے سامنے میرا اپنا بیٹا بھی تھا جو سکول جاتا ہے ، میرے سامنے وہ بچے بچیاں بھی تھے جو اب اپنے سکولوں اپنی کلاسوں میں جب دوبارہ جا کر بیٹھیں گے تو خوف زدہ ہوں گے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کا ابھی کوئی مذہب، کوئی نظریہ اور کوئی شہریت نہیں لیکن اس کے باوجود ان کا قتل کرکے دشمن نے اپنی گراوٹ ظاہر کی ہے۔
انسانی تاریخ میں کبھی کسی جنگ میں یوں ارادتاََ بچوں کا قتل عام دیکھنے کو نہیں ملا اور نہ ہی کبھی کسی نے اس فعل کو بہادری کی علامت سمجھا ہے۔
انسانی تاریخ میں کبھی کسی جنگ میں یوں ارادتا بچوں کا قتل عام دیکھنے کو نہیں ملا اور نہ ہی کبھی کسی نے اس فعل کو بہادری کی علامت سمجھا ہے۔ ہمارے تو گھر، گلی اور محلے میں بچوں پر ہاتھ اٹھانے والے کو گالی دی جاتی ہے اور اس کی تحقیر کی جاتی ہے، اسے "چل اوئے" اور"بچے پر ہاتھ اٹھاتا ہے" جیسے فقروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میرے لیے طالبان نے اس حملے کے ذریعے اپنا آپ پہلے سے کہیں بزدل اور کم تر ثابت کیا ہے۔ انہوں نے بچوں کا قتل کرکے خود کو حقیر کر لیا ہے۔ اگر دشمن کا خوف ہم سے قدآوراور ہم سے زبردست ہو جائے تو ہم چھوٹے پڑ جائیں گے۔ یہ گیت دشمن کو چھوٹا کرنے اور اس کی کم تری ظاہر کرنے کی کوشش ہے ، یہ ہماری برتری ثابت کرنے کا خیال ہے۔ عام لوگوں کے ذہن میں طالبان کا تصور قتل و غارت میں مشغول ایک غیر مرئی مشین کا سا ہے لیکن اس واقعے نے ان کا چھوٹا پن ثابت کیا ہے اور طالبان کا خوف کم ہوا ہے۔ آج ایک عام محافظ بھی خود کش حملہ آور سے الجھتا ہے اور اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے دلوں میں طالبان کا ڈر کم ہوا ہے۔

 

سوال :ہندوستان سے لڑی جانے والی جنگوں کے برعکس طالبان اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہمارے گیت نگار، گلوکار اور فنکار پہلے کی طرح حساس اور متحرک دکھائی نہیں دیتے۔ اس پر کیا تبصرہ کریں گے؟
دیکھئے تخلیق کا کام ابلاغ کا ہے اور ایک زوال پذیر اور حس لطافت سے محروم قوم کا فن کار کیسے کسی ارفع جذبے یا برتر مقصد کی ترویج کر سکے گا؟ ایک ہجوم جس کا کوئی مشترکہ مقصد اور منزل نہ ہو وہاں کا فنکار بھی گردونواح سے اسی قدر لاتعلق اور سطحی ہوگا۔ ہم برے شائقین (Audience) ہیں اسی لیے ہمارے سامنے برے تخلیق کار ہیں۔یہاں سب کہتے ہیں کوئی اور کرے، پشاور سانحے سے اگلے ہی روز لوگ پکنک بھی منارہے تھے اور تفریح بھی کررہے تھے۔ ہم ایک قوم نہیں اس لیے بھی یہ جنگ ہم سب کی اور ہمارے فنکاروں کی جنگ نہیں بن پائی۔

 

سوال: آپ کے خیال میں کسی نقطہ نظر، کسی جذبے یا کسی مقصد کی ترویج کے لیے تخلیق کیا گیا ادب، ادب عالیہ قرار دیا جاسکتا ہے؟
جواب: قرآن بھی کلام ہے اور ایک مقصد کے ابلاغ کے لیے ہے، ہم سب لفظ کی طاقت اور اس سے آنے والی تبدیلی سے واقف ہیں۔ تخلیق کار کا کام نمائشی گھڑے بنانا نہیں بلکہ ایسے گھڑے بنانا ہے جو پانی کو ٹھنڈا کرسکیں۔ فنکار کا کام کسی صنف یا کسی فن کو زندہ رکھنا نہیں بلکہ خیال کو زندہ رکھنا ہے اور اس خیال، فکر، مقصد یا نظریے کے ابلاغ کے لیے تخلیق کار مختلف اصناف اور فنون کا سہارا لیتا ہے۔ فکری اور تمدنی ارتقاء میں تخلیق کار انسانی لشکر کی قیادت کرتے رہے ہیں اور ان تخلیق کاروں نے انسانی فلاح کا باعث بننے والی تخلیقات، ایجادات اور فن پاروں کے ذریعے ہی اس ارتقاء کو یقینی بنایا ہے۔

 

سوال: پاکستان میں حب الوطنی کو عسکریت کے ساتھ مشروط کیا جاتا رہا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب: ایسا ہوتا آیا ہے لیکن یہ ہونا بھی چاہیے، یہ ضروری ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران اس جنگ کے باعث ہر فوجی پاکستانی اور ہر پاکستانی فوجی بن چکا ہے۔ یہ جنگ اب صرف عسکری اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ عام لوگوں کی زندگی میں اور ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی ہے۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ خود کش حملہ آور کو روکنے والا گارڈ اس جنگ کا سپاہی نہیں، یا جو لوگ دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں وہ اس جنگ سے متاثر نہیں ہوئے۔ ملک حالت جنگ میں ہو تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی ایک ہی خیال رکھے اور حفاظت کرے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران روس اور جرمنی کا ہر فرد سپاہی تھا اس لیے آج ہر پاکستانی اس جنگ کا حصہ ہے کیوں کہ دشمن ہمارے گھر کے اندر آ گھسا ہے ۔

 

سوال:کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا لکھا گیت دہشت گرد بیانیے کے خلاف ابلاغ کی جنگ میں ایک سنگ میل ہے؟
جواب: ابلاغ کی جنگ تو ہم لڑ ہی نہیں رہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ طالبان کے حامی ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ پچھلے دس برس سے ہمارے ذرائع ابلاغ طالبان کے موقف کو نمایاں کرنے میں مصروف ہیں، اس وقت تو صرف انہی کا بیانیہ سامنے آرہا ہے۔ ابلاغ کی اس جنگ کو جتنے کے لیے صرف ایک گیت کافی نہیں۔ ہمیں اس مسئلے پر روز بات کرنا ہوگی، گھر، گلی، دکان سے لے کر اخبار اور ٹی وی تک اس موضوع کو اپنی بات چیت کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایسا ملک جہاں میچ ہارنے اور بچوں کے مرنے کا دکھ ایک جیسا ہو، اوربچوں کی موت کے اگلے ہی روز سب کچھ معمول پر آجائے وہاں صرف ایک گیت کافی نہیں۔
The Laaltain

The Laaltain

For Open and Progressive Pakistan


Related Articles

New or Old Pakistan; what is there for the People of FATA

To live in the so-called tribal areas of Pakistan is to live under a constitutionally sanctioned dictatorship.

کوئی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

کتنے قطروں کو سمندر کر گیا
کام پورا کر کے اپنے گھر گیا
تاقیامت وہ رہے گا جاوداں
کوئی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

And the Search for Heroes Continues

The question of national heroes cannot be addressed without doing away with the ideological presuppositions of our state.