صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں؟

صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں؟
حال ہی میں آئی 2 امریکی فلمیں، Django Unchained اور 12 Years a slaveجن اصحاب نے نہیں دیکھیں میرا مشورہ ہے ضرور ملاحظہ کریں، دونوں فلموں کی کہانی انیسویں صدی کے امریکہ پر مبنی ہے جب غلامی کا رواج عام تھا- ان فلموں سے امریکی معاشرے میں غلاموں سے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک اور ان کے استحصال کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔ امریکی تاریخ کے تاریک پہلو دُنیا کے سامنے خود امریکی فلم ساز ہی لے کر آئے ہیں- ان فلموں کو کافی ایوارڈ بھی ملے مگر امریکہ میں کسی نے ان فلمسازوں پر "مشرقی اورپاکستانی ایجنڈے" کے تحت کام کرنے کا الزام نہیں لگایا، نہ کسی نے یہ کہا کے یہ فلمیں "پاکستانی سازش "ہیں امریکہ کو بدنام کرنے کی جب ہی ان فلموں کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کے تمام فلم ایوارڈز کے لئے نامزد ہوئیں- نہ کسی نے یہ کہا، ان فلم سازوں کو امریکی تاریخ نظر آتی ہے، عربوں کی تاریخ نظر نہیں آتی؟ کیا اُنہوں نے غلاموں کا کم استحصال کیا؟ یہاں تک کے خلیفہ اور سپاہ سالار کے درمیان اس بات پر جھگڑا ہو جاتا تھا کے مفتوح علاقوں کے اچھے غلام اور کنیزیں سپہ سالار نے اپنے پاس رکھ لئے خلیفہ کو نہیں پیش کیے- عرب ممالک میں آج تک غیر ملکی ملازمین کے ساتھ غلاموں والا سلوک ہوتا ہے یہ نہیں دکھائی دیتا اِنکو؟ نہ کسی نے یہ کہا ان فلم سازوں کو انڈیا نظر نہیں آتا جہاں آج بھی غربت اور افلاس کے ہاتھوں انسان کی حالت غلاموں جیسی ہے؟ ان فلم سازوں کو پاکستان نہیں نظر آتا جہاں آج تک مزارعوں کی حالت وڈیرے اور جاگیردار کے زرخرید غلام جیسی ہے جہاں ہر سال غیرت کے نام پر ہزاروں عورتیں غلاموں کی طرح قتل کر دی جاتی ہیں یا اُنکے چہرے تیزاب پھینک کر مسخ کر دیے جاتے ہیں، جہاں 16 سالہ بچی تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے پر گولی کھاتی ہے- ان فلم سازوں کو سعودی عرب نظر نہیں آتا جہاں عورت کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں، گیارہ ستمبر کے حملے نظر نہیں آتے جس میں 3000 امریکی مارے گئے؟ یہ اُس پر بات کیوں نہیں کرتے؟ امریکیوں پر ہونے والے ظلم پر اِن رُوپے اور ریال خور فلم سازوں کی زبانوں کو تالا لگ جاتا ہے؟ ان فلم سازوں کو شمالی کوریا اور ایران کیوں نہیں نظر آتا؟ روس کی یوکرین میں مداخلت پر یہ بات کیوں نہیں کرتے؟ اُس پر کوئی فلم کیوں نہیں بناتے؟ یہ ہزار سال پہلے گزرے وائکنگز کی تاریخ پر بات کیوں نہیں کرتے جنہوں نے برطانیہ پر حملے کرکے انسانوں کو تہہ تیغ کیا- اِنکو تاریخ میں چنگیز اور ہلاکو کی قتل و غارت نہیں یاد ان کو سٹالن، مسولینی اور صدام کے دور میں مارے گئے لوگوں پر کوئی فلم بنانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟ افغانستان میں طالبان نے جس طرح تاجکوں اور ہزارہ کا قتلِ عام کیا یہ اُسکی بات کیوں نہیں کرتے؟ ان کو تاریخ میں صرف امریکیوں کی برائیاں ہی نظر آتی ہیں اور امریکہ دُشمن یہودی نواز آسکر جیوری جس نے ان برائیوں پر مبنی فلموں کو بھرپور پذیرائی دی، یہ سب امریکہ جیسی تاقیامت قائم رہنے والی نظریاتی ریاست کے خلاف ایک منظم سازش ہے-
امریکی تاریخ کے تاریک پہلو دُنیا کے سامنے خود امریکی فلم ساز ہی لے کر آئے ہیں- ان فلموں کو کافی ایوارڈ بھی ملے مگر امریکہ میں کسی نے ان فلمسازوں پر "مشرقی اورپاکستانی ایجنڈے" کے تحت کام کرنے کا الزام نہیں لگایا، نہ کسی نے یہ کہا کے یہ فلمیں "پاکستانی سازش "ہیں امریکہ کو بدنام کرنے کی جب ہی ان فلموں کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کے تمام فلم ایوارڈز کے لئے نامزد ہوئیں-
اب ذرا شرمین عبید چنائے کی اُس ڈاکومنٹری کو یاد کیجئے جسکو پہلی پاکستانی آسکر یافتہ فلم کا اعزاز حاصل ہوا- مگر اُس پر ہمارا رویہ کیسا تھا؟ کیا وہ ڈاکومنٹری غلط بیانی پر مبنی تھی؟ کیا پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات پیش نہیں آتے یا شرمین نے کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کو پاکستان کے نام سے منسوب کرکے دُنیا میں ہماری رسوائی کا سامان کیا؟ مجھے تو اُس میں کوئی بھی ایسی بات نظر نہیں آئی جو حقائق سے متضاد ہو- بہت سے لوگوں کا کہنا تھا تیزاب پھینکنے کے اِکا دُکا پیش آنے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا-ایسے افراد سے میری گزارش ہے کہ تیزاب پھینکنے کے واقعات کم نہیں ہاں ان سے متعلق آواز نہ اٹھانے، قانون سازی اور قانونی تحفظ کے فقدان کے باعث ایسے واقعات سامنے ہی کم لائے جاتے ہیں۔ اور پھر کیا کسی جرم کا کم تعداد میں وقوع پذیر ہونا اس جرم کی سنگینی کو کم کر دیتا ہے، میرے خیال میں ایسا نہیں ہے- دوسرا اعتراض یہ پیش کیا گیا کہ مغرب کو پاکستان کی اچھائیاں نظر نہیں آتیں؟ ارفع کریم جیسی ہونہار بچیاں نظر نہیں آتیں؟ ایدھی جیسے لوگ نظر نہیں آتے؟ فلاں صاحب اور فلاں خاتون نظر نہیں آتی؟ نگاہِ انتخاب ٹھہرتی ہے تو خامیوں پر ہی کیوں؟ مگر ان حضرات کو یہ نظر نہیں آتا کے ارفع کریم کو آپ جانتے ہی امریکی کمپنی مائیکروسافٹ کی وجہ سے ہیں وہ اگر اُسکو پذیرائی نہ دیتے تو شاید ہمارا میڈیا بھی نہ دیتا اور ہمیں خبر بھی نہ ہوتی کے ملک میں اس نام کی کوئی بچی کبھی گزری- ایدھی صاحب کو درجنوں غیر ملکی ایوارڈز مل چکے- یہ ساری باتیں کوئی امریکی بھی کر سکتا ہے مذکورہ بالا 2 فلموں کے ہدائیتکاروں کے بارے میں، کہ اِنکو امریکی تاریخ میں گزرے ابراہم لنکن جیسے لوگ نظر نہیں آتے جنہوں نے غلامی کی قبیح رسم کا خاتمہ کیا؟ مگر وہ لوگ ایسی باتیں نہیں کرتے کیونکہ وہ خبطِ عظمت یا نرگسیت میں مبتلا نہیں ہیں-
بہت سے لوگوں کا کہنا تھا تیزاب پھینکنے کے اِکا دُکا پیش آنے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا-ایسے افراد سے میری گزارش ہے کہ تیزاب پھینکنے کے واقعات کم نہیں ہاں ان سے متعلق آواز نہ اٹھانے، قانون سازی اور قانونی تحفظ کے فقدان کے باعث ایسے واقعات سامنے ہی کم لائے جاتے ہیں۔ اور پھر کیا کسی جرم کا کم تعداد میں وقوع پذیر ہونا اس جرم کی سنگینی کو کم کر دیتا ہے
کبھی آپ نے سُنا ہے کوئی سفاک قاتل عدالت میں پیش ہوا ہو اور وہاں وکیل کہے جج صاحب آپ کو یہ نظر نہیں آتا کے قاتل دس لوگوں کی کفالت بھی کر رہا تھا اور رفاہی کاموں میں پیش پیش تھا؟ نہیں جب مقدمہ پیش ہوتا ہے تو صرف جرم پر ہی بات کی جاتی ہے جرم کے علاوہ انسان اپنی ذاتی زندگی میں کیسا ہے اس سے دُنیا کی کسی عدالت کو سروکار نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی بھی ضابطہ انصاف کے تحت فیصلہ محض اسلئے تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ ملزم میں کچھ اچھائیاں بھی موجود ہیں- تنقیدی فلمیں، تحریریں یا ڈکومنٹریاں بھی ایک طرح کا مقدمہ ہوتی ہیں اُسکے جواب میں چھلانگیں مارنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی- آج امریکہ اگر اپنے تمام تر جنگی جنون کے باوجود سپر پاور ہے اور اُنکا معاشرہ ہمارے معاشرے سے زیادہ منظم اور حقیقت سے قریب ہے تو اُسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کے وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا جانتے ہیں اور تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں- آپ کسی امریکی شہری کو کہیں کے اُنکے ملک نے ویت نام پر حملہ کرکے غلطی کی- وہ آگے سے یہ نہیں کہے گاکہ اگر حملہ کر دیا تو کیا ہوا؟ آپ نے 71 ء میں بنگلہ دیش میں جو کیا اُسکا کیا؟ بلکہ وہ تسلیم کرے گا کہ ہاں ہم نے غلطی کی تھی- اِسکے برعکس آپ پاکستانیوں سے 71 ء پر بات کرکے دیکھ لیں اکثریت 71ء کے واقعات کی ذمہ داری شیخ مجیب سے لے کر اندرا گاندھی اقوامِ متحدہ اور امریکی بحری بیڑے تک سب پر عائد کرینگے اور اُسکو دُشمن کی سازش گردانیں گے مگر اپنی غلطی نہیں تسلیم کرینگے- اگر ہمیں اپنی حالت بدلنی ہے تو سب سے پہلے اپنی سوچ بدلنا ہوگی، نرگسیت اور خبطِ عظمت سے باہر نکلنا ہوگا ورنہ ہر گلی سے لال ٹوپی والوں کا لشکر نکلے گا جو ہاتھ میں پتھر اٹھائے لال قلعہ فتح کرنے مارچ کرتا ہوا واہگہ کی جانب پیش قدمی کرے گا مگر راستہ میں ہی پولیس کا لاٹھی چارج دیکھ کر اپنا ارادہ ملتوی کرکے واپس گھر آجائے گا-
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ریو اولمپکس میں پاکستان کی شرمناک نمائندگی

غضب خدا کا کہ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بلکہ عالم اسلام کا قلعہ مملکت خدادا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بیس کروڑ آبادی سے ہمیں صرف سات جوان ملے جو ریو اولمپکس میں سبز ہلالی پرچم کی نمائندگی کریں گے۔

وقت کے کینوس کا طلسمی رنگ-سنڈی کرافورڈ

خرم سہیل: زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے والی یہ حسین خاتون اب بھی بے حد پرکشش ہے اور اپنے بعد آنے والی حسین عورتوں کو بھی شہرت کے سفر میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔

اپر دیر تبدیلی کی زد میں

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ جناب عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں عموماََ اس جملے کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ ’’تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آچکی ہے ‘‘۔