صلاح الدین درویش:خواب نامے کا دیباچہ

صلاح الدین درویش:خواب نامے کا دیباچہ

رات کے تیسرے پہر خواب میں
درویش دیکھا،جو
ایک ہاتھ میں انسان دوستی کا پرچم
دوسرے میں احتجاج کا بینر لیے کھڑا تھا
سینکڑوں کے مجمع میں
تاریخ کے مردہ کرداروں پر گرجتے
اس کی وحشت سے معبد کانپ رہے تھے
مجھے لگا ، یہ وہی شخص ہے
جس سے بچنے کا معاہدہ ناقدین نے کرلیا ہے

میرے اندر خوف کی برف گررہی تھی
کہ اُس نے حقارت سے مسکراتے ہوئے کہا
کائنات کے پچھواڑے شمشیر چلانے کے ہنرتو بخشے گئے
لیکن یہ بتانا پسند نہیں کیا
کہ جنگ کس کا فرض عین ہے

مجھے لگا آج انکشاف کی رات ہے
اس سے پہلے جھوٹ کے تہوار میں رنگ رلیاں منائیں
تیسری دنیا کے فلسفے پر قہقہے لگائے
اور دماغ کے گھونسلے میں ترقی پسندی نے بچے جَن دیئے
ہاں!بہت سسک لیے
اب درویش کے ہاتھ پرمابعد جدید بیعت کر لینی چاہیے

میں سیدھا کھڑا ہوکر پکارنا چاہتا تھا
اے بزرگِ انسان و کائنات
ہمارے خواب حدود سے آگے نکل چکے ہیں
انھیں مرنے سے بچالے
ہماری مشکل آسان کر
رات کے تیسرے پہرپیاس کی شدت سے آنکھ کُھلی
وہ کہیں نہیں تھا،مگر
میز پر درویش نامہ پڑا تھا

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

شاعری میری ضرورت ہے

قاسم یعقوب: شاعری میری پہچان بننے سے زیادہ
میری ضرورت کو پورا کرتی ہے
میرا شاعری سے وہی تعلق ہے
جوکسی بھیڑ کا اپنی اون سے ہوتا ہے

نظم خدا نہیں

نصیر احمد ناصر: نظم خدا نہیں
لیکن ہر جگہ موجود ہے

شہر

شہر، اگرچہ ایسا کوئی یقین نہیں رکھتا
سب کو خوش آمدید کہتا ہے، جیسے وہ اکیلا آیا ہے۔
ضرورت کی فطرت دکھ کی طرح
بلکل ہر ایک کے اپنے مُطابق ہوتی ہے