ضیاء الحق سے رفاقت مرزا تک - اوم پوری کے دس یادگار فلمی کردار

ضیاء الحق سے رفاقت مرزا تک - اوم پوری کے دس یادگار فلمی کردار
اوم پوری کی فنکارانہ صلاحیتوں، گرج دار لب و لہجے اور امن پسندی کی معترف ایک دنیا ہے۔ تقریباً نصف صدی پر محیط فلمی کرئیر میں اوم پوری نے بشمول ہندوستانی، امریکی، انگریزی اور پاکستانی فلموں میں بہت سے یادگار کردار کیے جن میں سے کچھ کا تذکرہ حاضر ہے۔

1۔ ضیاضیاء الحق- فلم "چارلی ولسنز وار (2007)

افغان جہاد اور سرد جنگ کے پس منظر میں بننے والی یہ فلم ایک عیاش کانگریس مین اور اس کی پاکستان اور امریکی اداروں کی مدد سے روسی افواج کے خلاف افغان مجاہدین کی امداد کے متعلق ہے۔ اوم پوری نے فلم میں اس وقت کے پاکستانی صدر مملکت جنرل ضیاء الحق کا کردار بہت دلچسپ انداز میں نبھایا ہے۔

2۔ بھیکو ۔ فلم " آکروش" (1980)

ایک مظلوم کسان بھیکو کے کردار میں اوم پوری فلم کا کافی حصہ بغیر کچھ کہے شاندار فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ سمیتا پٹیل، امریش پوری، نصیر الدین شاہ کی موجودگی میں اوم پوری نے یہ کردار بہت خوبی سے نبھایا ہے اور بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

3۔ انسپکٹر- فلم "اردھ ستیا" (1983)

گووند نہلانی کی اس فلم میں بطور پولیس انسپکٹر بلاشبہ اوم پوری کی اداکاری یادگار ہے۔ فلم میں نصیر الدین شاہ، سمیتا پٹیل اور امریش پوری بھی شامل تھے۔ فلم نےبہت سے ایوارڈ سمیٹے اور اوم پوری کے کام کو خوب سراہا گیا۔

4۔ آہوجا – فلم "جانے بھی دو یارو" (1983)

کندن شاہ کی طنزو مزاح سے بھرپور فلم میں اوم پوری نے ایک عادی شرابی اور ٹھیکے دار آہوجا کا کردار ادا کیا ہے جو مرکزی کرداروں، دو فوٹوگرافروں (نصیر الدین شاہ اور روی) کی طرح اپنے مفادات کے لئے ایک اعلیٰ افسر کی خوشنودی چاہتا ہے۔ فلم کا یادگار حصہ مہا بھارت کا وہ اسٹیج ڈرامہ ہے جس میں ایک لڑکی کے کئی دعویدار اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

5۔ باپ جی – فلم "نرسہما" (1991)

باپ جی کے کردار میں اوم پوری انڈر ورلڈ کے ایک ڈان کے روپ میں جلوہ گر ہوتے ہیں اور فلم کا ہیرو باپ جی سے بغاوت پر اتر آتا ہے۔

6۔ سناتھن – فلم "ماچس" (1996)

گلزار کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فل کاپس منظر پنجاب میں سکھوں کے خلاف ہونے والا آپریشن بلیو سٹار ہے۔سکھ مزاحمت پسند سناتھن کے روپ میں اوم پوری نے اس فلم میں جان ڈال دی ہے۔فلم کی کہانی ایک عام نوجوان کے شدت پسند بننے کے متعلق ہے اور ماچس استعارہ ہے ان جوانوں کے لئے جو نا مساعد ملکی حالات میں کبھی بھی بھڑک سکتے ہیں۔

7۔ جارج خان- فلم" ایسٹ از ایسٹ" (1999)

ستر کی دہائی میں ایک پاکستانی نژاد جارج خان، اس کی انگریز بیوی اور سات بچوں کے گرد گھومتی یہ کہانی خوب ہے جس میں اوم پوری کی یادگار پرفارمنس ہے۔ مغربی ماحول میں تیزی سے پروان چڑھتے ھوے جارج کے بچے اپنے روایت پسند اور سخت گیر پاکستانی باپ کے لئے ایک چیلنج بن جاتے ہیں۔

8۔ پرویز- فلم "مائی سن ء دی فناٹیک" (1997)

برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور پرویز کے کردار میں اوم پوری نے ایک ایسے باپ کا کردار ادا کیا ہے جس کا بیٹا مذہبی شدت پسندی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اوم پوری کو اس کردار پر برسلز فلم فیسٹیول میں بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

9۔ انسپکٹر پنڈت – فلم "مقبول" (2003)

شکیسپئر کے ڈرامے مکبیتھ سے ماخوذ اس فلم میں ممبئی کی زیر زمین مافیا اور جرائم سے منسلک دنیا کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کرپٹ پولیس انسپکٹر پنڈت کےکردار میں نصیر الدین شاہ کے ہمراہ اوم پوری نے بہترین اداکاری کی ہے۔

10۔ رفاقت مرزا - فلم "ایکٹر ان لاء (2016)

مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والی پاکستانی فلم ایکٹر ان لاء اوم پوری کی پہلی پاکستانی اور ان کے نصف صدی پر محیط شاندار فلمی کیریئر کی آخری فلموں میں سے ایک ثابت ہوئی۔ فلم میں رفاقت مرزا کا کردار ایک ایسے باپ کا ہے جو اپنے بیٹے کو ایک کامیاب وکیل دیکھنا چاہتا ہے لیکن اس کا بیٹا اداکار بننا چاہتا ہے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کیا اُردو کی نئی نسل کو زبان نہیں آتی؟

تالیف حیدر: زبان آنے اور نہ آنے کا جھگڑا اردو میں پرانا ہے ، مگر اب ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں اس عہد میں ہمیں کم از کم اردو کے تعلق سے تو یہ قطعی غلط فہمی نہیں پالنا چاہیے کہ کوئی شخص اردو میں شعر کہہ رہا ہے اور اچھے شعر کہہ رہا ہے یا افسانہ لکھ رہا ہے یا مضمون لکھ رہا ہے اس کے باوجود اس کو زبان نہیں آتی ۔

ڈِیپ واٹر ہورائزن؛ حقیقی سانحے پر مبنی پُر تاثیر فلم

احمد حماد:
ڈیپ واٹر ہورائزن کا اسکرین پلے حیران کُن حد تک اچھا ہے۔ اور ویژیول ایفیکٹس بھی اعلیٰ پائے کے ہیں۔ جس قدر ویژیولز پاورفُل ہیں، اتنا ہی اچھا ساؤنڈ ڈیزائن ہے۔

فکرِ فیض اور نوجوان نسل

فیض جیسے نوابغ کے بعد کا خلا پر کرنے کے لیے صدیوں کا انتظار درکار ہے، اور فیض اپنی وفات کے ربع صدی بعد بھی بدستور ترقی پسندوں کے لیے حجت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور آج بھی ہم ترقی پسند ادب کے زمانۂ فیض سے ہی گزر رہے ہیں۔