طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب
یونیور سٹی اور کالجز میں روز بروز مدارس کے طلبہ کی تعداد میں جو اضافہ ہو رہا ہے، اس سے مدارسِ اسلامیہ کے فارغین کی حصول علم کے تئیں دلچسپی اور سنجیدگی کا اظہار بخوبی ہوتاہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ(دہلی)،علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی(علی گڑھ،یوپی) اور مولانا آزاد(حیدرآباد) وغیرہ کے ساتھ ساتھ دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی(دہلی) جیسے تعلیمی اداروں میں بھی ان طلبہ کا ریشو بتدریج ارتقا کی منزلوں سے ہم کنار ہو تا نظر آ رہا ہے ۔یہ ایک خوش آئند بات ہے ،لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان میں اکثریت ایسے بچوں کی ہے جو صر ف اسلامیات کی کلاسوں کے ڈویژن میں دیکھے جاتے ہیں،البتہ کچھ دور اندیش طلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب بھی کرتے ہیں ۔یہ ایک دیگر بحث ہے کہ ان طلبہ کو کون سے مضامین کی جانب توجہ کرنا چاہئے یا وہ کیوں کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔لیکن جہاں مذکورہ بالاطلبہ دوسرے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں انھیں میں ایک بڑی جماعت ان طلبہ کی ہوتی ہے جو’ اردوادب‘کی جانب اپنے کاروانِ علم کا رخ موڑ دیتے ہیں۔

اردو چونکہ مدارس کی اول زبان ہے اس لئے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اپنی ابتدائی سطح پر’ منہاج العربیہ‘ پڑھتے پڑھتے اور’ تسہیل المصادر‘ رٹتے رٹتے ہی ان بچوں کی اردو بحیثیت محرر و مقرر اتنی اچھی ہو جاتی ہے جو عام طور پر اسکولوں کے دسویں، بارہویں جماعت کے طالب علموں کی بھی نہیں ہوتی ،لیکن یہ موازنہ اسی حد تک قائم رہتا ہے، کیوں کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اسکولوں سے نکلے ہوئے وہ سنجیدہ طلبہ جو B.A(Urdu)میں داخلہ لیتے ہیں وہ کہیں نہ کہیں اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اسکولنگ کے زمانے میں انھوں نے زبان کو سیکھنے میں جوبے توجہی برتی ہے اسے پورا کرنے میں اب کو تاہی کی گئی تو ان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس لئے وہ سنجیدگی سے زبان و ادب کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں ،اور جلد ہی ’دیر آید درست آید‘کے مصداق وہ مقام حاصل کر لیتے ہیں جہاں ان کا مستقبل تو محفوظ ہوتا ہی ہے ساتھ ہی انھیں ادب میں بھی ایک اعلی مقام حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس اردو کے اولین حقدار جو اپنے تئیں ایک خاص قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کا حال وہی ہوتا ہے جو’ کچھوے اور خر گوش ‘والی کہانی میں خرگوش کا ہواتھا۔اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم دو ہیں ۔اول یہ ہے کہ اردو زبان جسے وہ بچپن سے پڑھتے اور لکھتے چلے آتے ہیں اور جسے وہ عربی اور فارسی کے توسط سے سیکھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں، اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ اردو نہ تو عربی کی قواعد کے ذریعے سیکھی جا سکتی ہے نہ فارسی کی،بلکہ اس کے کچھ اپنے قوانین ہیں جن کو اگر بغور نہ پڑھا گیا تو لاکھ عربی،فارسی میں مہارت حاصل کر لی جائے اردو نہیں آ سکتی ۔ایک بات کی وضاحت یہاں اور ضروری ہے کہ جس نوع کی اردو یہ طلبہ اپنے مدارس کےاساتذہ سے پڑھتے ہیں ، انھیں اس بات کا گمان ہی نہیں گزرتا کہ وہ ایک ایسے استاد سے اردو زبان پڑھ رہے ہیں جس نے خود کبھی با قاعدہ زبان سیکھنے کی غرض سے اردو کے ادبی متن کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ اسی اٹکل پچو سے یہ اردو زبان سیکھی ہے جس طرح اس کے طلبہ سیکھ رہے ہیں۔میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا ہوں کہ جس اردو سے مدارس کے اساتذہ اور طلبہ اپنا کام نکالتے ہیں وہ اردو ہی نہیں یا جو زبان ’مدارس اسلامیہ ‘کی قوم بولتی ہے اسے اردو سے ہٹ کر کوئی تیسری زبان کہا جائے گا۔ میرا موقف صرف اتنا ہے کہ یہ حضرات’ اسلامیات ‘کا مطالعہ کرنے کے لئے اردو زبان کا مطالعہ کرتے ہیں نہ کہ’ زبان ‘سے انھیں کچھ علاقہ ۔ یہ کوئی برا فعل نہیں کہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جو بچے اردو میں’ تاریخ ‘پڑھتے ہیں یا ’جغرافیہ‘ پڑھتے ہیں انھیں بھی زبان کا علم نہیں ہوتا اور جب وہ اس زبان میں ان مضامین کا پرچہ حل کرتے ہیں تو ان پرچوں کو جانچنے والا بھی زبان کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا ،بلکہ جواب کی جانب اپنی توجہ مرکوز کردیتا ہے اور اسی کی بنیاد پر طلبہ کو نمبر دیتا ہے۔ بالکل یہی عمل مدارس میں ہوتا ہے مثلاً’فقہ‘ جو مدارس میں ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے۔ اس کا استاد پرچہ جانچتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ فلاں لفظ جو حقیقتاً مذکر ہے وہ طالب علم نے لکھنے کی رو میں مونث کر دیا، یا فلاں مونث، مذکر، وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ البتہ کی جگہ کیونکہ لکھا ہے یا کیونکہ کی جگہ لیکن ،اسے اس سے بھی بحث نہیں کہ گانو کا املہ گاؤں ہے یا گاؤ۔اس لیے مدارس کی حد تک تو یہ طلبہ معصوم گردانے جا سکتے ہیں،لیکن اس متواتر عمل کی وجہ میں زبان سے آنکھ مچولی کھیلنے کی اگلی منزل ان کے حق میں کافی خطر ناک ثابت ہوتی ہے ۔کیوں کہ یہ فعل عمل متواتر کی وجہ سے ان کے یہاں اتنا پختہ ہو جا تا ہے کہ وہ ان کی تحریر اور تقریر کا حصہ بن جاتا ہے،یہ زبان کی ایک ایسی کمزوری ہے جس کو دور کرنے کے لیے مدارس کے طلبہ کو شدید محنت درکار ہوتی ہےجو مدارس کے طلبہ اس میدان میں بہت کم کرتے ہیں ۔کیونکہ غلط لکھتے لکھتے اور پڑھتے پڑھتے ان کے دل و دماغ میں یہ بات گھر کر جاتی ہے کہ انھوں نے اپنے اساتذہ سے جو سنا اور پڑھا یا جس طرح وہ لکھتے پڑھتے آ رہے ہیں وہی درست ہے۔چاہیں لغات ہزار چیخیں کہ بھیا یہ لفظ یوں نہیں یوں ہے، مگر وہ اپنے ڈھرے سے رائی برابر نہیں کھسکتے۔کیونکہ بچپن سے اردو پڑھنے کا جو غلغلہ ان کے ذہنوں پہ طاری ہوتا ہے وہ انھیں اپنے ہی آگے surrender کرنے سے روک دیتا ہے ۔لہٰذاایسے طلبہ ادب تک پہنچنے کے سیڑھی یعنی’زبان کے صحیح علم‘ سے ہی محروم ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ لا حاصل مطالعے کی صورت میں ان کی مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔

قواعد سے نا واقفیت کی بنیاد پر دوسرے بھی کئی مسائل ان کی بول چال کی زبان میں در آتے ہیں ۔مثلاً صوتیات کا وہ قاعدہ جو عربی میں مستعمل ہے یہ طلبہ اسے اردو میں بھی روا رکھتے ہیں ،یعنی ’ع ‘جو عربی میں حلق کے درمیانی حصے سے نکلتا ہے یہ طلبہ حسب عادت اسے اردو میں بھی اسی طرح پڑھتے ہیں،اردو میں مصوتوں اور مصمتوں کے استعمال، ان کی قرات اور ان کی تعداد سے بھی واقف نہیں ہوتے۔املہ کے پیچیدہ مسائل کا علم ہونا تو درکنار اپنی تعلیم مکمل ہونے کے کئی کئی سالوں تک ہاے مختفی کے صحیح استعمال سے بھی واقف نہیں ہو پاتے۔یہ اور اسی قسم کی بنیادی باتیں مدارس کے طلبہ میں اردو زبان سے لا علمی کے سبب پیداہوتی ہیں۔جس سے ان کی تحریر اور تقریر تو متاثر ہوتی ہے ساتھ ہی وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اردو ،عربی یا فارسی کے قاعدوں کے مطابق نہیں چلتی اسی لئے اردو کو یونیوسٹیز میں بحیثیت زبان چننے کے بعد اگر یہ طلبہ تھوڑی سی توجہ اس طرف کر یں تو یہ بہت جلد ان کمیوں کو دور کرسکتے ہیں اور پھر عربی ،فارسی اور اردو سے واقفیت کی بنیاد پر وہ جو کام کر سکیں گے کوئی اچھے سے اچھے اور بڑے سے بڑے اسکول کا اسٹوڈنٹ نہیں کر سکتا۔لیکن اس کے لئے انھیں اپنی بنیادوں کو تلاش کرنا پڑے گا اور اس خشت اول کو درست کر نا ہوگا جو معمار کی غلطی سے کجی کا شکار ہوئی ہے۔

یہ تو تھی زبان کی بات اب دوسرا اور سب سے اہم مسئلہ ادب کا ہے ۔ادب کے متعلق مدارس کے طلبہ کا کیا رویہ ہے اس پہ کچھ کہنے سے پہلے میں کچھ اہم باتوں کی جانب آپ کی توجہ مرکوز کرانا چاہوں گا۔ یہ بات تو ’ ادب‘ کا ہر وہ قاری جانتا ہے جو ادب کو تھوڑا بہت پڑھ چکا ہے کہ اس تین حرفی لفظ کی تشریح کے لئے مشرق سے لے کر مغرب تک کے کئی intellectuals نے اپنے کئی کئی صفحات کالے کئے ہیں اور اپنی تمام تر معلومات کی روشنی میں What is literature ? کی پہلی کو سلجھانے کی کوششیں کیں ہیں۔ سب کی نہ صحیح لیکن بیشتر اہم مصنفین کی باتوں کو دنیا نے تسلیم بھی کیا اور ایک مدت کے بعد اس نظریے کو رد کرنے میں دیر بھی نہ لگائی ۔اسی طرح اردو ادب کی تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ہمارے یہاں بھی ادب کے متعلق کئی نظریے قائم ہوئے اور پھر نئے نظریے کی روشنی میں اسے رد بھی کیا گیا،چونکہ ادب کا واسطہ براہ راست تحریر اور تقریر سے ہے،اس لئے اس کی دو Main streamsنثر اور نظم ہیں۔منثور ، منظوم پیراے میں ہر تحریر یا تقریر ادب میں شمار نہیں ہوتی ۔کسی بھی تحریر یا تقریر کو ادب قرار دینے کے کچھ ضابطے ہیں جن کی بنیاد وں پر انھیں ادبی اور غیر ادبی ملصقات سے مزین کیا جاتا ہے،پھر اس پر الگ الگ نظریوں سے مباحثے ہوتے ہیں۔
from the very beginning ہمارے یہاں جن تصورات کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا وہ متصوفین کے ارشادات و ملفوظات تھے،ان ملفوظات نے حتی المقدور مشرقی زندگی کو ایک lifestyle دینے کی کوشش کی اور اس کی یہ سب سے بڑی انفرادیت ہے کہ یہ lifestyle انھوں نے کسی سے مستعار نہیں لیا ،بلکہ اسلامیات اور ویدک تعلیمات نے نسلاًبعد نسلاِِ زندگی کا attitude اورaptitude ان کے وجدان میں پھونکا جس سے یہ طرز زندگی وجود میں آیا۔چونکہ ادب کا real phenomenaزندگی کا ارتقا ہے اس لئے ان صوفیانہ اقوال کوزندگی کے ہر شعبے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح زندگی پہ کبھی جمودطاری نہیں ہوتا اور وہ مسلسل اپنے مرکز سے آگے کی جانب متحرک رہتی ہے۔اسی طرح یہ اقوال بھی زندگی کی قدروں کے مطابق اپنا چولا(اسلوب اوررویہ) بدلتے رہتے ہیں۔مثلاً’کتاب اللمع‘کے مصنف یا مقرر نے اپنے گرد و پیش کے جن معاملات کی جانب نگاہ کی اور اسے آگے کی سمت دھکیلا’ کشف المحجوب‘ اور’ فوائد الفوائد ‘کے مقرروں نے اسے اور ارتقا سے ہم کنار کیا۔اسی طرح تلسی داس،نام دیو اور کبیر وغیرہ نے بھی اپنا اپنا کردار نبھایا۔آج ہم جس ادب کا مطالعہ کر رہے ہیں وہ ایک ،دو دن کا کھیل نہیں بلکہ صدیوں کی چمن بندی کا ثمرہ ہے۔انھیں مخلصین کی کاوشوں نے ولی ؔ کو پیدا کیااور پھر بتدریج میرؔ ،سوداؔ ،دردؔ ، مظہرؔ ،صہبائیؔ ،مومن ؔ اور غالبؔ سے اس گلستان کی رونق میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ادبیات کے مطالعہ کی حیثیت سے اس طالب علم کو کبھی ادب کا پوراطالب علم نہیں کہا جا سکتا جس نے اپنے اساطیر یا دیومالائی ادب کا کچھ مطالعہ نہ کیا ہو اور ساتھ ہی ساتھ جدید ادب پر بھی اس کی اچھی نگاہ نہ ہو۔آئے اب ہم ان طلبہ کا جائزہ لیں جو مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد Urdu honors کرتے ہیں اورB.A ہی نہیں بلکہ M.AاورPhDتک ان کے کیا حالت رہتی ہے۔

سب سے پہلی بات یہ کہ یہ طلبہ جن درسگاہوں میں اپنی تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں ان کا نظام تعلیم اتنا خراب اور یک رخی ہوتا ہے کہ روایتی و مذہبی معلومات کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کا ہاتھ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ یہ کسی قابل نہیں رہتے ۔ اگر یہ اپنی پوری زندگی اسی ایک علم کے نام کر دیں تب تو شاید ان کا کچھ بن جاے۔ لیکن جب یہ اس مذہبی دنیا سے باہر نکلتے ہیں اور کسی دوسرے دروازے کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں پھر سے ایک نئی شروعات کرنا پڑتی ہے۔اس میں ایک اہم کمزوری ان بچوں کے والدین کی ہوتی ہے کہ انھیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچوں کو مستقبل میں کیا بننا چاہیے یا کس طرح کی تعلیم ان کے مستقبل کو روشن کرے گی۔اس لئے ان کی غلطی کی وجہ سے ان بچوں کو دو، دو مرتبہ اپنی تعلیمی زندگی کی شروعات کرنا پڑتی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا جھگڑا ہے اس لئے اس موقع پر اسے نہ چھیڑنا ہی بہتر ہے۔بہر کیف یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ادب حیات پہ زیادہ توجہ دیتا ہے نہ کہ بعدالممات پر،اور مذہبی تعلیمات میں حیات سے زیادہ بعد الممات پر دھیان دیا جاتا ہے۔ مذہب میں زندگی کا ہر عمل بعد الممات کے فلسفے سے پیوست ہے جب کہ ادب میں اس تصور کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔اسی طرح ادب اور مذہب کی مبادیات میں بہت سے اختلافات ہیں جنہیں یہ طلبہ نہیں سمجھ پاتے اور اپنی جانب سے ادب اور مذہب کی تعلیمات کو ایسا خلط ملط کرتے ہیں کہ نہ ان کا شمار ہیوں میں ہوتا ہے نہ شیعوں میں۔منطق اور قدیم فلسفہ جو انھیں مدارس کے نیم پختہ علما مار کوٹ کے پڑھا دیتے ہیں ۔اس نہج پر وہ اپنی گزشتہ تعلیم کے اس حصے کو بے کار سمجھ کر پیچھے ڈال دیتے ہیں اور ان فلسفیانہ مباحث کا اطلاق ادبی مباحث کے ذیل میں کرنے کہ بجائے ادب کی معلومات کو اتنا ہلکا سمجھنے لگتے ہیں کہ میرؔ کی شاعری بھی ان کی نظر میں کوڑا ہو جاتی ہے۔ وہ اس بے جا زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ جب ہم نے ’’حصول الاشیاء با نفسھا و با شباحھا‘‘ جیسے مسائل کوپڑھ لیا تو ا دب کیا چیز ہے ۔لہذا جب ان سے ادبی نوعیت کی گفتگو کی جائے تو یہ طلبہ اس کے متعلق دو جملے بھی ٹھیک سے نہیں بول پاتے ۔کیونکہ اسے پڑھیں تبھی تو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو اس کو بنا پڑھے ہی جب یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ یہ اعلی اور یہ ادنی ہے تو پھر کیسے بات بن سکتی ہے۔معیار اور غیر معیار کا فرق تو انھیں چھو کر نہیں گزرتا ہر اس کلام کو شعر سمجھتے ہیں جو کلام موزوں ہو ۔میر ؔ اور غالب ؔ اورفیضؔ کی شاعری میں کیا فرق ہے ؟اختر ؔ شیرانی کی کیا خاصیت ہے ؟میراؔ جی اور ن م راشد کو دنیا نے کیوں سر پہ اٹھا رکھا ہے؟اقبال کے کلام میں کیا کیا کمزوریا ہیں؟ قدیم اور جدید شاعری میں کیا فرق ہے؟ اردو شاعری میں عشق کا کیا تصور ہے؟ عصرے حاضر میں کون اچھی شاعری کر رہا ہے؟ مشاعرہ بازی کے کیا نقصانات ہیں؟ وغیرہ وغیرہ جیسے سوالات کی جانب ان کا دھیان ہی نہیں جاتا۔اردو تنقید ،تاریخ وادب کا مطالعہ اتنا کم ہوتا ہے کہ کوئی بھی ڈھنگ کا آدمی ان سے بات تک نہیں کرنا چاہتا ۔نثر کے اسالیب اور بیان کا ذکر تو دور کی بات داستان، ناول اور افسانے کے اجزائے ترکیبی تک کا علم ان حضرات کو نہیں ہوتا۔ نوٹس رٹ رٹ کے ایم اے ،ایم فل تک پہنچ تو جاتے ہیں، لیکن وہاں پہنچ کر ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں کے سن کربہت افسوس ہوتا ہے۔اگر ایمانداری سے پوری لگن کے ساتھ ادب کے اہم مصنفین کی کچھ تصانیف کا یہ حضرات مطالعہ کر لیں تو کم سے کم ایم فل اور پی ایچ ڈی میں ان مو ضوعات کا انتخاب کرنے میں آسانی ہو جائے جو ابھی تک ان چھوئے ہیں۔صرف ایک ایک، دو دوکتابیں بھی یہ طلبہ گیان چند جین ،رشید حسن خاں،مسعود حسن رضوی ادیب،جمیل جالبی،شمس الر حمان فاروقی ،سلیم احمد اور گوپی چند نارنگ جیسے مصنفین کی پڑھ لیں تو اپنے اندر ادب غیر ادب کو پرکھنے کی اچھی خاصی استطاعت پیدا کر سکتے ہیں۔ان طلبہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لوہار کا کام سنار اور سنار کا کام لوہار نہیں کر سکتا اگر آپ لوہاری ترک کر کے سناری میں جٹے ہیں تو پوری مستعدی سے ادب کو پڑھنے کا عزم کیجئے۔ اسلامیات کتنا ہی اچھا subjectہو پر یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کے کہ وہ آپ کا پرانا انتخاب تھا اور ادب نیا انتخاب ہے۔
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of PhD Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

In the name of Blasphemy: Media Outlets are playing with Fire

Pakistan is among those countries which have large number of cases of blasphemy, according to the US Commission on International Religious Freedom, a government advisory panel.

We Need to Talk about Psychological Issues

It all used to begin with racing up of the heartbeat as if my heart would jump out of the

دوملکوں کے بے وقوف عوام کا قصہ

محمد اخلاق کی موت پر ایک دنیا سوگ میں ہے، ہندوستان کے اس قصے پر ان لوگوں کو زیادہ افسوس ہے، جو انسانیت کو ترجیح دیتے ہیں۔اس خبر کو میڈیا نے بھی بہت ہوا دی ہے، لوگ آگ بگولا ہورہے ہیں ، کچھ صدمے میں ہیں