عاشق نامراد کا استعفیٰ

عاشق نامراد کا استعفیٰ
منتظم و مہتمم اعلیٰ ا۔ ب۔ ج،
محکمہ جوروستم، عشوہ و ادا ڈویژن
بارگاہ حسن و جمال۔

مضمون:استعفیٰ بوجوہ اندیشہءِ ان فرینڈی و ڈی ایکٹیویشن

اے میری جان کی پیاری دشمن --- آپ کے کوچہءِ خلد آفریں میں میں دیوانہ وار کام کرتے ہوئے اس مجنوں کو دو برس کا عرصہ ہوا چاہتا ہے۔ کہنے کو تو محبت و عشق میں دو سال کا عرصہ نہایت ہی مختصر و قلیل ہوتا ہے اتنا قلیل کہ رخ لیلیٰ کے رخسار پر موجود تل کی حمدوثنا میں ہی گزر جائے مگر تمہاری محبت و التفات کے بغیر یہ تمام عرصہ اس مفلوک الحال اور غریب الوطن دیوانے پر ایسے گزرا جیسے صحرائے عرب کی تپتی ریت پر قیس نامراد پر انتظار محمل کی صدیاں بیتی ہوں گی، جیسے چناب کی چھلوں پر تیرتی سوہنی پر سازشوں کے جال پھیلے تھے، جیسے رانجھے نے ڈولیاں اٹھتے دیکھی ہوں گی۔

یہ دو سال تمہارے قرب کی طلب میں ایسے گزرے جیسے جاں بلب مریض پر وقت نزاع رک جائے۔ جیسے تپتے صحرا میں ایک پیاسا مسافر راستہ بھٹک جائے، جیسے شب فراق کے گھڑیال کی سوئیاں تھم جائیں، جیسے پیاسے کے حلق میں کانٹے اگ آئیں۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ اس عرصہ کے دوران کبھی کبھی صحرا میں بارش کی مانند وہ پر کیف لمحات بھی آئے جن میں تمہاری مسکراتی نظر نے مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اجالے کا کام کیا۔ تمہارے وقتی التفات نے دیوانے کی ٹوٹتی آس وامید کو تمہارے کچھ اورستم سہنے کا حوصلہ دیا۔ پر شو مئی قسمت یہ سلسلہ کبھی طوالت اختیار نہ کر سکا۔ تمہاری تنک مزاجی، نازیانہ روش اور ہٹلرانہ رویے کے باعث اس عاشق نامراد کی عزت و خودداری اور کام کی لگن کا جنازہ ایسی دھوم سے نکلا کہ شرمند گی کے مارے متوفی خود اپنے جنازے میں شرکت سے قاصر رہا۔ میں اسے بھی عاشقی کی ایک رسم جان کرآپ کی صحبت اور کرم نوازی کا منتظر رہا لیکن آپ کی مسلسل بے اعتنائی نے اس عاشقِ لاچار کے لئے امید کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔

عشق کے مروجہ دستور کے مطابق راقم تمہارے تمام آن لائن اور آف لائن ظلم و ستم خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا ہے، محبت کی رسم زمانہ کے مطابق اس عاشق نے تمہارے سوا کبھی کسی کے سٹیٹس کو اپ لوڈ ہوتے ہی لائیک نہیں کیا، کبھی کسی کی Profile Pic کو So cute نہیں کہا، کبھی کسی کے لیے Feeling Loved کا آپشن استعمال نہیں کیا، ہم نے تو تمہارا جمعہ مبارک کا پہلا فارورڈ میسج ابھی تک ان باکس میں محفوظ کر رکھا ہے، وہ یو ایس بی جس میں تمہیں ٹورنٹ سے "دل والے" کا ایچ ڈی پرنٹ ڈاون لوڈ کر کے دیا تھا ابھی تک فارمیٹ نہیں کی، وہ سِم جس سے تمہیں پہلے پہل تنگ کیا تھا اس کی بائیو میٹرک تصدیق تک نہیں کرائی، کون ہے جو اس عشق کے سائبر سپیس میں میری ہم سری کر سکے؟ یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک سیلفی کی تمنا میں اس لاچار نے کتنے ہی گھنٹے منہ ٹیڑھا کرنے کی مشق کی ہے۔

یہ ہمارا ہی کلیجہ ہے کہ تمہاری شیئر کردہ puppies کی ویڈیوز بھی تین تین سو بار دیکھی ہیں، یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ تمہارا گڈ مارننگ لائک کرنے کے لیے ہمسائیوں کے وائی فائی کا پاس ورڈ جان پر کھیل کر بیسیوں مرتبہ چرایا ہے۔۔۔۔۔۔ ہائے وہ چیٹنگ کہ جس کے شوق میں ہم نے پی ایس ایل کے میچ تک نہ دیکھے، ہائے وہ زمانہ جو تیرے ساتھ ٹویٹتے گزر گیا ہائے وہ جوانی جو تیرے پیچھے فیس بکیاتے برباد ہوئی، ہائے وہ تمہارے سکرین شاٹ والے وال پیپر جنہیں پورن دیکھتے ہوئے ہٹا دیا کرتا تھا۔۔۔۔۔ تمہیں ٹیکسٹنگ کرتے جو انگلیاں فگار ہوئیں اور ایزی لوڈ کراتے کراتے جن پیروں میں آبلے پڑ گئے وہ سب رائیگاں گئے۔۔۔۔ وہ تمام سمائیلی جو تمہیں بھیجے بین کرتے ہیں، اب کسی پروفائل پر نگاہ نہیں رکتی، اب کسی کو سٹاکنے کا من نہیں کرتا، تمہارے بعد کسی کو فالو نہیں کیا نہ کسی کو ری ٹیٹ کروں گا۔ ہم ہی ہیں جو تمہارے غلط ہجوں والے میسج اور سٹیٹس قرآن و حدیث سمجھ کر پڑھتے اور حفظ کرتے رہے ہیں۔

یہ عاشق تمہارے در پر اپنی عزت، اپنی خود داری اور اپنی جان تو قربان کر سکتا ہے لیکن یہ محبت اس عاشق کا غرور ہے اور اور اس غرور کو خاک میں ملانے کی اجازت یہ عاشق خود اپنی محبت کو بھی نہیں دے سکتا۔ بقول عاشقان کے پیرو مرشد مرزا اسد اللہ غالب مدظلہ عالی:

دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

اس سے پہلے کہ ماموں کے لڑکے کا رشتہ آتے ہی تم اپنا اکاونٹ deactivate کر دو، اس سے قبل کہ تم اپنا نمبر بدل ڈالو، اس سے پہلے کہ تم اپنی فرینڈ لسٹ میں سے میرا نام مٹا دو یہ عاجز یہ لاچار یہ عاشق نامراد تمہارے حضوراپنا استعفی پیش کرتا ہے۔ تو اس بیمارِ عشق پر برخلاف مزاج ذرا مہربانی فرما کر اس استعفٰی کو قبول فرمایا جاوے۔

فقط
عاشقِ نامراد
@یاسر شہباز
#عاشق نامراد کا استعفیٰ

Related Articles

اسلام آباد کی ٹیکسیاں کیا؟ شاہسواریاں

یہ اسلام آبادی ٹیکسیاں اپنی روح میں وفاق کی علامت ہیں۔ یہ صوبے کے ہر شہر سے سمیٹ کر، گھسیٹ کر، گلے میں رسی ڈال کر، ٹرک پر لاد کر اسلام آباد میں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔

کوک سٹوڈیو، کاروبار اورثقافتی بخار

کوک سٹوڈیو کے پروڈیوسرز ڈیفنس کے ان بچوں جیسے ہیں جو سال میں ایک مرتبہ گرمی کی چھٹیوں پر اپنے ممی پاپا کے "ویلج " جاتے ہیں اور وہاں "کاوز" اور "ٹیوب ویلز" اور "فیلڈز" دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

آئیے آخرت سنواریئے ! چند مجرب ، مفید ، آزمودہ نسخہ جات وٹوٹکے

اگر آپ حرام خور ہیں یعنی حرام کی کمائی کھاتے ہیں اورحرام یو ٹیوب دیکھتے اپنے بچوں کے منہ میں بھی حرام نوالہ ڈالتے ہیں ۔