عجیب الخلقت

عجیب الخلقت

کسی کے متعلق کچھ لکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے پوری طرح جانا جائے، لکھنے کے لیے تو بس ذرا سی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے اور قلم خود بہ خود چلنے لگتا ہے۔ میں کئی روز سے اپنے ایک دوست یا یوں کہیے کہ دوست نما شخص کو بغور دیکھ رہا ہوں،اس لیے نہیں کہ ان کو دیکھنے سے مجھے کسی طرح کی کوئی خوشی نصیب ہو رہی ہے، بلکہ اس لیے کہ ان کے عادات و اطوار مجھے کاغذ اور قلم کی طرف مستقل دھکیل رہے ہیں۔ میں حالاں کہ ان پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا ہوں،کیوں کہ ابھی نئے نئے تعلقات ہیں اور اتنی زیادہ بے تکلفی بھی نہیں کہ ان سے کوئی بہت گہرا مذاق کا رشتہ استوار ہو گیا ہو۔ پھر بھی کیا کیا جائے کہ ان کی ذات کے عجیب و غریب حالات مجھے پریشان کئے دے رہے ہیں۔ میری اور ان کی ملاقات کو ابھی صرف چند روز ہی گزرے ہیں اور وہ بھی ایک حادثاتی نوعیت کی ملاقات ہے کہ جناب ایک نازنین کے ہاتھوں تازہ تازہ قتل ہو کر دوستوں کے ساتھ کے لیے پریشان ہیں اس لیے میرا کندھا کبھی کبھی مستعار لے لیتے ہیں۔ عشق کی تفصیل میں نہیں جاوں گا کہ بہت سے احباب و شناسا اس سے واقف ہیں، صرف ان کا ذکر خیر کچھ یوں کرنا مناسب ہے کہ موصوف بلا کےمزیدار انسان ہیں۔ حالاں کہ ہر وقت پریشان رہتے ہیں، نہ دن میں کھانے کا ہوش ہے،نہ رات کو سونے کا، کوئی ایسی اچھی عادتیں بھی نہیں کہ کسی کو انہیں دیکھ کر بہت کچھ سیکھنے کا حوصلہ ملے، اردو ادب کے طالب علم ہیں اور اس کا بھی مطالعہ فکشن کو چھوڑ کر چہار جانب مشکوک ہے۔

یہ تو ان کے ظاہری کوائف ہیں، مگر جو لوگ ان کو ذرا دنوں سے جانتے ہیں وہ اس بات کی تائید کریں گے کہ کسی بھی صلاحیت کے نا ہونے کے باوجود انسان کس طرح دلچسپ ہو سکتا ہے۔ صلاحیتوں سے میری مراد تخلیقی صلاحیت نہیں ہے کیوں کہ آں جناب کے بقول وہ افسانہ نگار ہیں اور یہ بات خود میں بھی جانتا ہوں کہ ان کے چند ایک افسانے اردو کے مختلف ادبی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں،میرے نزدیک صلاحیت سے تو انسان کی پوری شخصیت مراد ہوتی ہے۔جس میں اس کے ہاو،بھاو سے لے کر اس کا سراپا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا، پھرنا، ہنسنا، بولنا اور جملہ بشریاتی حرکات و سکنات کا شمار ہوتا ہے۔ آں جناب کو اس تناظر میں میں گزشتہ کئی روز سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عشق کا جو تذکرہ میں نے اوپر کیا اس کے حوالے سے اتنا کہنا تو جائز ہے کہ اس کم بخت جذبہ پر شوق میں بری ناکامی کے بات آدمی بے انتہا عجیب الخلقت ہو جاتا ہے اور اگر حضرت کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہے تو وہ اتنا غیر منطقی بھی نہیں کہ علامہ تو پہلے ہی سے اتنے عجیب الخلقت تھے کے نو عمر خواتین اور بچے انہیں کسی طور انسان کی اولاد ماننے کو ہی تیار نہ ہوتے تھے۔ ماں، باپ اگر مار کوٹ کر اپنے تجربات کی بنیاد پر انہیں یہ باور کرا دیں تو کرادیں کہ انسان ایسے بھی ہوا کرتے ہیں تو اور بات ہے۔مگر بچوں کو کسی طور یقین نہ آتا تھا۔ بزرگوں کا معاملہ اس امر میں ذرا مختلف تھا کہ وہ ایسے ہی کسی شخص کو انسان ماننے پر مصر رہتے ہیں جو بلا کا بے ضرر ہو۔

بہر کیف قبلہ سے پہلی ملاقات مجھے اچھی طرح یاد ہے، حضرت مجھ سے بڑے تکلفات سے ملے تھے، علیک سلیک کے بعد میں نے ان سے کافی دیر تک تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا، دیکھنے میں تو نہیں لگے تھے مگر انسان ذہین نکلے اور جلد بھانپ گئے، جلد مجھے اس بات کی اطلاع دے دی کہ میں آپ کے متعلق کافی کچھ جانتا ہوں، لہذا یہ پینترا مجھ پر نہ آزمائیں۔ اس ملاقات کے بعد مجھے لگا کہ انسان خواہ مسکین صورت اور نہ تراشیدہ صفات ہےمگر عقل رکھتا ہے۔ اگلی دو ایک ملاقاتوں میں انہوں نے مزید اپنے اسی امر کا ثبوت دیا۔ سحر اس وقت ٹوٹا جب حضر ت ایک نشست میں کسی بات پر ذرا کھل کھلا کر ہنسے۔ میں تو آج بھی اس ہنسی کو یاد کرتا ہوں تو رواں رواں لرز اٹھتا ہے کہ علامہ ہنسے کیا تھے خود کو ایک مصیبت میں گرفتار کر بیٹھے تھے۔ ہنسنے کی حالت چونکہ زمین پر کھڑے کھڑے طاری ہوئی تھی لہذا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب گرے اور تب گرے۔اس وقت تو میں بہت حیران ہوا کہ اللہ رحم یہ بھی کوئی ہنسی ہے، مگر مزید دو چار ملاقاتوں میں اس بات کا علم ہو گیا کہ حضرت خواہ ہنستے وقت خود پر سے مکمل اختیار کھو بیٹھیں، مگر گرنے کی سعی ہمیشہ ناکام ہی رہتی ہے، در اصل اس ارتعاش مسلسل میں کچھ ان کا بھی قصور نہیں کہ بدن میں سوائے رگوں کے بے ترتیب جال کے خدا نے کچھ رکھا ہی نہیں ہے،جس کے باعث اوپر کا بدن ہنستے وقت الجھی ہوئی ڈور کے گچھے کی طرح نیچے کی طرف گرنے لگتا ہے، چونکہ ٹانگوں کی جگہ دو عدستلی نما ہڈیاں موجود ہیں اس لیے حضرت زمین پہ بکھر نے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ایک آدہ مرتبہ تو میں نے بڑھ کر سہارا بھی دینے کی کوشش کی مگر جب تک میں سہارا دوں دوں حضرت عالم خندہ شوری سے پھر اسی جذبی حالت پر لوٹ چکے ہوتے ہیں جس میں انہیں استقال ہے۔ وہ طبعیتاً ذرا کم گو واقع ہوئے ہیں،ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جن مستند ذرائع سے مجھے ان کے حوالے سے معلوم ہوا تھا اس کے پیش نظر یہ ہی رائے بنتی ہے، مگر میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ علامہ کم گو صرف مجمع عام اور مردوں کے بیچ ہی واقع ہوئے ہیں، جوان اور خوبصورت لڑکیوں کے درمیان تو ان کی چیچاہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ میں جب کبھی اکیلا ان کے ساتھ ہوتا ہوں تو اس بات پر یقین ہی نہیں کر پاتا کہ یہ وہ ہی شخص ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ تو شعر شور انگیز معلوم ہوتا ہے اور اکیلے میں آتے ہی میر کے ان زخم خردہ بہتر نشتروں کی مانند نظر آنے لگتا ہے جن پر کبھی بہارکے آنے کا گمان ہی نہیں بنا۔بہت ہوا تو بات کا جواب ہوں، ہاں میں دے دیا اور پھر وہ ہی قبرستان سی خاموشی۔بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ منہ میں زبان ہی نہیں ہے، صرف ماتھے پر آنکھیں چپکی ہیں جن سے ہر سوال کا جواب حاصل کیا جا سکتا۔ ان کی ہئیت کا من جملہ بیان تو نا ممکن ہے اور اس عہد میں اس کی کچھ خاص ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی کہ تصویر اتروانے کا فن بہت ترقی کر گیا ہے۔ پھر بھی اگر ان کی ذات کو جملوں میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو کچھ یوں ہی بنتا ہے کہ ایک اکھڑی اکھڑی صورت، جس پر زمانے بھر کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا بوجھ۔ اکہرا بدن اور اتنا اکہرا کہ اکہریت بھی اپنی معنیاتی ترسیل میں اس سے منکر ہو جائے کہ اس کو اکہرا نہیں کہا جا سکتا۔ذرا کچھ دودھ ملائی کھائے تب کہیں جا کر اکہرا ہو۔ الجھے الجھے بال اور اس پر غضب کی بے چارگی۔ سر میں ایک ایک ہاتھ تیل کھڑا کر کے بالوں کی دو طرفہ جڑوں کو اس میں گلے گلے تک ڈبو کر اس طرح دور سے آتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی چال پر آدھے سارس اور آدھے شتر مرغ کا گمان ہوتا ہے۔ پیچھے سے دیکھو تو بالائی بدن گردن سمیت نیچے کی دنیا سے بے خبر معلوم ہوتا ہے۔ ٹانگیں پتلی اور لمبی، کمر اردو غزل کے معشوق کی مانند، بازو اور سینہ کمزوری کے سبب کمان کی طرح آدھے گول اورکناروں پر سے آگے کی جانب نکلے ہوئے اور پاوں کے پنجے ایسے کہ مور بے مایہ بھی شرما جائے۔میں اکثر ان سے کہتا ہوں کہ قبلہ اس جہان فانی میں آپ اپنی شکل کے تنہا ہیں۔ اس پر وہ مسکرا کر شرما سے جاتے ہیں، کیا پتہ ان تک میرے حقیقی جذبہ اظہار کی ترسیل ہوتی ہے یا نہیں، لیکن میرے دو ایک دیگر احباب جوہم دونوں کے مشرکہ دوست ہیں ان کو اس جملے کی زیریں ساخت کا علم بخوبی ہو جاتا ہے۔ ویسے تو اللہ کی بنائی ہر صورت موہنی مورت ہے،لیکن خدا کی پناہ کہ وقنا ربنا عذاب النار بھی تو کوئی چیز ہے۔اگر ایسی خناس صفت اشیا اس دنیا میں نہ ہوتیں تو کسی کو اس کے قہار ہونے پر کیوں کر یقین آتا اور یہ کیا کوئی کم بڑی بات ہے کہ ایک انسان میں کئی ایک چرند، پرند ایک ساتھ جمع ہو جائیں، جس کا تصور بھی باندھنا پکاسو و مانی جیسےتخلیق کاروں کی قدرت صنعائی سےبعید ہو۔ اس میں بھی ایک طرح کا حسن ہی مضمر ے کہ ماتھا بن مانس کا، آنکھیں مرغی کی، گال چمگادڑ کے اور ناک طوطے کی، کانوں کی بناوٹ ہاتھی جیسی مگر اس سےکچھ چھوٹے اور بال اس ڈری ہوئی سیائی کے مانند جس نے عالم خوف میں اپنے کانٹے پھیلا دیے ہوں۔ چہرے کی ہئیت نہ دبی ہوئی نہ لمبی نا گول نہ کھڑی نہ مربع نہ مستطیل نہ مثلث نہ چاندہ نہ پرکار نہ ڈوائڈر ایک بالکل ہی نئی طرح کا زاویہ تھا،جسے فیثا غورث اگر دیکھ لیتے تو ان کی دریافت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔

ان کی کچھ باتیں تو ایسی تھیں کہ اگر مجھے کوئی سوتے سے اٹھا کر پوچھ لیتا کہ یہ اوصاف کس میں پائے جاتے ہیں تو میں اسی عالم استغراق میں ان کا نام نامی پکار اٹھتا۔ مثلا ً کبھی اگر کوئی ایسی بات کہتے جس پر وہ آپ کا اتفاق چاہتے ہوں، یا داد وصول کرنے کے خواہاں ہوں یا پھر تصدیق ہی چاہ رہے ہوں تو جملہ مکمل کر کے اپنی ریڑھ کی ہڈی کو آخری حد تک گول کر کے آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں گے اور اپنی گردن اس طرح سے ہلکے ہلکے گھمائیں گے جیسے گویا ان کے سر پر کسی نے منوں وزنی پتھر رکھ دیا ہو۔اس پر مستزاد یہ کہ آنکھوں پر جوایک عددعینک نہایت موڑے گلاسوں کے ساتھ چڑھی ہوتی ہے وہ اس گردش بےہنگم کی وجہ سے کھسک کر ناک پر اتر آتی۔ اس وقت ایک عجیب مضحکہ انگیز صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ آں جناب کی بات کی تصدیق کرو، داد دو یاصورت حال سے محظوظ ہوتے رہو۔ میں تو اس امر کو بھی اپنی ایک عزیز کے بتلانے پر ہی جان پایا کہ جس موقع پر حضرت اپنے مخصوص انداز میں آ پ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں اور اپنی گردن کو اس جلالی مرغے کی مانند ہلائیں جو ابھی میدان جنگ میں اترا ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ سے اپنے جملے کی دا د چاہ رہے ہیں۔

میں ان کو بعض اوقات گھنٹوں گھورتا رہتا ہوں۔ جس کے رد عمل میں وہ بھی مجھے گھورنے لگتے ہیں۔ جب ذرا دیر ہو جاتی ہے تو میں ان کی نظروں کی تاب نہ لا کر خود اپنی آنکھیں ایک آدھا منٹ کے لیے ادھر ادھر ہٹا لیتا ہوں، مگر شوق نظر ہے کہ پھر جلد ہی اسی راہ پر لگا دیتا ہے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ میں اسی عالم حیرانی میں انہیں تک رہا تھا جس میں اکثر تکا کرتا تھا کہ مجھ سے استفسار کر بیٹھے کہ کیا گھور رہے ہو۔ میں نے دبے ہوئے لہجے میں کہا کہ آپ میں گھورنے جیسا تو بہت کچھ ہے مگر فی الحال آپ کے افکار کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر دنوں دنوں خاموش رہ کر آپ سوچتے کیا ہیں۔ کہنے لگے تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں نے کہا کہ ایک اچھا افسانہ نگار اس کے علاوہ اور کیا سوچ سکتا ہے کہ تخلیق کے نئے پیرائے کیا ہو سکتے ہیں، نئے کردار کیوں کر وضع ہوں اور کہانی کے جدید سوتوں کا سراغ کیسے ہاتھ آئے۔ کہنے لگے غلط میں ہمہ وقت ان سب بیکار کی باتوں میں ڈوبنے کو فضول جانتا ہوں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر کیا سوچتے ہیں۔ کہنے لگے سوچ رہا ہوں بریلی جا کر کارچوبی کا کام سیکھ لوں تاکہ اگر کوئی کام نہ ملے تو اپنا اڈا لگا کر آرای کا کار خانہ ہی کھول لو۔ میں نے لاحول پڑھی کہ اس میں اتنا غور کرنے کا کیا ہے، حد ہے کہ اگر آری، زردوزی ہی کرنی تھی تو اردو سے ایم۔اے کیوں کیا۔ کہنے لگے پہلے تو یہ ہی لگتا تھا کہ اردو سے ایم۔اے کر کے نوکری مل جائے گی، مگر اب میں کچھ امید نہیں رکھتا، کیوں کہ اردو میں اب صلاحیت کو تسلیم کرنے والے اور سراہنے والے ختم ہوتے چلے جارہے ہیں۔میں نے کہا کہ ایسا بھی کوئی قحط نہیں ہے آپ اپنی پڑھائی جاری رکھئیے اور اللہ کی رحمت سے پر امید رہیے۔ابھی میں انہیں دلاسا ہی دے رہا تھا کہ اچانک زور سے چھینک دئیے او ر چھینک کے ساتھ منہ سے رال کی ایک لکیر بہہ کر ان کی داڑھی پر لٹکنے لگی۔ میں نے اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیا اورچپ چاپ وہاں سے اٹھ گیا۔ شام کو دوبارہ ان کی طرف گیا تو دیکھا اسی عالم میں بیٹھے ہیں اور خلا میں گھورے جارہے ہیں۔ صبح کی رال داڑھی پر لٹکے لٹکے سوکھ چکی تھی اور اس درمیان میں ان کے بدن سے جتنا پسینا نکلا تھا اس سے کمرے کی فضا معطر ہو رہی تھی۔

نہانے کا انہیں ذرا شوق نہ تھا۔ میں نے آخری بار نہانے کی تاریخ معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس کو گزرے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔ بدن پر میل کی کئی پرتیں جمع ہو گئیں تھی جس کی وجہ سے صحت نکل آئی تھی۔ بدن پر جگہ جگہ جالے لگے تھے، اور ہاتھ پاوں کا یہ عالم تھا کہ

دیوار و در پہ بن گئیں شکلیں عجیب سی
کچھ راز تھے جو آپ اگلتے رہے مکاں

پسینہ روز اتنی مقدار میں لباس میں جذب ہوتا تھا کہ پیرہن کاغذی ہو چلا تھا۔ بد بو تو اب دور کی خبر ہو گئی تھی، عالم یہ ہو چلاتھا کہ کومہ کے مریض کو اگر ان کے حجرئے مبارک سے آٹھ میل دور لٹا دو تو وہ قے کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہو۔ مرگی کے مریض تو بس خبر سن کر ہی ٹھیک ہوجایا کرتے تھے۔ ان کے پسینے کی مہک اتنی کھٹی اور زہر آلودہ تھی کہ جہنم کا آخری درجہ یاد آجاتا تھا۔ میں نے ایک روز بالاصرار ان سے نہانے کا عزم لے لیا کہ محلے کے بچے طاعون کا شکار ہو رہے تھے اور علاقے کے قبرستان کی زمین مہنگی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وہ یہ خبر سن کر غسل خانے تک گئے اور یہ کہہ کر الٹے پاوں واپس آگئے کہ موسم سرمہ چل رہا ہے مئی تک رک جاو کہ ذرا دھوپ نکلے تو نہانہ ٹھیک لگے۔

کاہل بھی بہت اعلی درجے کے ہیں۔ جگر کے تعلق سے سنا ہے کہ دار الکہلا کے صدر تھے، اگر یہ صاحب جگر کے معاصر ہوتے تو مجھے یقین ہے کے جگر صاحب بخوشی اپنی نشست خالی کرنے میں لمحہ ضائع نہ کرتے۔ مجھے اس بات کا علم ان کے روز مرہ کے معمولات سے ہوا ہے۔ مثلا ً صبح صادق سے شام تک اورشام سے رات دیر تک ان کا معمول یہ کہ رات بھر جگ کے آرام کرتے ہیں اور صبح میں چھ بجے سونے لیٹتے ہیں، شام کو چار بجے نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور دوسرے دن صبح تک بستر پہ پڑے پڑے اس بات کا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ جب سے وہ حادثا ہوا ہے نیند تو جیسے آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ میں نے ایک روز مشورہ دیا کہ آپ شام کوحجرے سے باہر نکل آیا کریں اور دیر تک سیر و تفریح میں رہیں۔بدن خود اتنا تھک جائے گا کہ بستر پر پیٹھ لگاتے ہی نیند آ جائے گی۔ میری تجویز سے خوش ہوئے اور اگلے روز سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ بھی کیا، مگر تین روز تک نہ چائے خانے پر نظر آئے نہ سیر کے میدان میں۔ میں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ حجرے سے باہر نکلنے کی کوشش میں بخار نے آ گھیرا ہے، میں عیادت کو گیا تو کہنے لگے کہ یہ سب تمہارا قصور ہے نہ تم تبدیلی ہوا کا مشورہ دیتے اور نہ میں بیمار پڑتا۔ میں نے حیران ہو کر کہا کہ کیا کمرے سے باہر قدم رکھنے کو تبدیل ہوا کا عمل کہتے ہیں۔ اس پر مزید بپھر کے کہنے لگے ڈاکٹر تو یہ ہی کہتا ہے کہ پچھلے کئی روز سے اس کمرے میں بند رہنے سے باہر کی آب و ہوا آپ کے لیے اجنبی ہو چلی ہے۔ لہذا اگر اب کی باہر جانے کا ارادہ ہو تو پہلے چھتری اور گرم کپڑوں کا انتظام کر لیجیے گا، کیوں کہ اند ر پڑے پڑے آپ نے کمرے کا درجے حرارت اتنا گرا دیا ہے کہ باہر جاتے ہی ٹھنڈ لگنے کا خدشہ ہے۔

اس روز سے میں انہیں کسی بھی طرح کا کوئی مشورہ دینے سے پہلے سو مرتبہ غور کرتا ہوں۔ان کی شخصیت باغ و بہار کی ضد اور چہار درویش کا مرکب ہے۔میرے تعلقات ابھی ان سے نئے ہیں مگر میں کوشش کر رہا ہوں کہ ان کی حالت میں سدھار پیدا ہو۔ اگر مئی تک یہ رشتہ بنا رہا تو اس کے دور تک چلنے کے امکان ہیں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

آ ہم جسموں کا روزہ افطار کریں

آ ہم جسموں کاروزہ افطار کریں

نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے

رفاقت حیات: نیر مسعود کی کہانیوں میں ان کا زرخیز تخئیل کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں میں لکھنو کی تہذیب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےاور کہیں کہیں ماورائی عنصر بھی موجود نظر آتا ہے۔

کلیشے

چار سو مرے پھیلی
زندگی کلیشے ہے