عرس بابا فرید

عرس بابا فرید
پنجاب کی دھرتی ہمیشہ سے ہی ولیوں اور صوفیوں کی سرزمین رہی ہے جنہوں نے یہاں انسانی فکر وفلسفے کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ان صوفی بزرگان میں سے ایک نام حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کا ہے۔ جنہوں نے اپنی تعلیمات میں لوگوں کے حقوق، برابری اور بھائی چارہ کی بات کی۔آپ کی تعلیمات انسانیت کے قریب تر تھیں۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت علاوالدین صابر پیا نے آپ کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔

حضرت صابر پیا کی گدی؛ آپ نے بابا فرید کی تعلیمات کا سلسلہ آگے بڑھایا

حضرت صابر پیا کی گدی؛ آپ نے بابا فرید کی تعلیمات کا سلسلہ آگے بڑھایا

آپ کا اثر پنجاب کی صوفی روایت پر نہایت گہرا ہے۔ خاص کر بابا نانک آپ سے بے حد متاثر تھے۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک آپ کی وفات کے بعد پندرہ سو انتالیس (1539) اور پندرہ سو انہتر(1569) عیسوی کے دوران جب پاکپتن آئے تواس وقت یہاں موجود شیخ ابراہیم نامی شخص سے ملے جو بابا فرید کی شاعری کی ترتیب و تدوین کا کام سر انجام دے رہے تھے۔گرو نانک نے ان سے (پاکپتن سے چند میل دور) جسے اَب ٹبہ نانک سر کہا جاتا ہے کے مقام پر بابا فرید کی شاعری پڑھی اور اکٹھی کی جو سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب میں موجود ہے۔

آپ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ آپ اہل تحقیق کے نزدیک پنجابی کے پہلے بڑے اور باقاعدہ شاعر ہیں جن کا کلام تحریری شکل میں محفوظ ہو سکا۔ انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے لوگوں کے قلب اور روح پر جمی فرسودگی اور زنگ کو اتارنے کی سعی کی۔

گرنتھ صاحب میں بابا فرید الدین ؒ کے 114 صوفیانہ اشلوک اور چار شبد شامل ہیں۔ گرنتھ صاحب میں کل اشلوکوں کی تعداد 130 ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ مذہب کے لوگ حضرت بابا فرید الدینؒ کے افکار کو انتہائی عقیدت سے دیکھتے ہیں۔ جس کی مثال انڈیا میں پنجاب کے علاقے ضلع فرید کوٹ میں قائم فرید میڈیکل یونیورسٹی ہے۔اس یونیورسٹی کے تحت متعددمیڈیکل کالج کام کر رہے ہیں جبکہ چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی میں بابا فرید ؒ پر پی ایچ ڈی کروائی جارہی ہے۔ اب تک دو سو سے زائد طلبا بابا فرید کے انسانی فلسفے پر پی ایچ ڈی مکمل کرچکے ہیں۔اس کے برعکس اگر پاکستان میں ان کی تعلیمات کے فروغ کی بات کی جائے تو قابل افسوس ہے کہ کوئی قابل ذکر ادارہ موجود نہیں ہے۔

معاشرے میں پھیلی عدم برداشت، نسلی امتیاز، فرقہ واریت اور نظریاتی تنازعات میں اپنے دور کی تاریکی ختم کرنے والے ان مفکروں کی شاعری اور تعلیمات کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے لیکن ایسا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب کی صوفی روایت اب محض عرس، میلوں اور قوالی کی صورت میں ہی باقی رہ گئی ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ شدت پسندی کے اس دورابتلاء میں اب بھی کوئی ان بابوں کا نام لیوا ہے۔

28 ستمبر سے پاکپتن میں دربار بابا فرید کے سالانہ 774 عرس کی رسومات جاری ہیں۔ 25 ذوالحجہ سے شروع ہونے والی یہ رسومات دس محرم تک جاری رہتی ہیں۔یہ ذہن میں رہے کہ پاکپتن میں بابا فرید کے علاوہ بھی متعدد صوفیاء کے مزارات موجود ہیں، جن میں موج دریا ، خواجہ عزیز مکی اور حضرت سخی چن پیر گیلانی کا مزار قابل ذکر ہے۔

 بابا فرید کے پوتے علاء الدین موج دریا کے مزار کا ایک منظر

بابا فرید کے پوتےہ علاء الدین موج دریا کے مزار کا ایک منظر

عرس کی پہلی رسم ختم شریف بدست سجادہ نشین معززین، زائرین و عقیدت مندان کے ہمراہ آستانہ عالیہ کے مغربی محراب میں ادا کی گئی۔

دربار کے راستے میں جلائے گئے چراغ

دربار کے راستے میں جلائے گئے چراغ

ختم شریف کے بعد زائرین وعقیدت مندان میں "جلے دمشتری (حلوے اور میدے کی بنی چھوٹی چھوٹی روٹیاں)" اور میٹھا پانی تقسیم کیا گیا۔

ختم کے تبرکات

ختم کے تبرکات


ختم کے تبرکات زائرین میں تقسیم کیے جا رہے ہیں

ختم کے تبرکات زائرین میں تقسیم کیے جا رہے ہیں


زائرین میں شکر تقسیم کی جا رہی ہے

زائرین میں شکر تقسیم کی جا رہی ہے

ختم شریف کے بعد محفل سماع کی نشست بھی منعقد کی گئی جو یکم تا چھ محرم تک جاری رہی۔

محفل سماع میں قوال حضرات بابا فرید، خواجہ امیرخسرو، حضرت احمد جام اور میراں سید کا عارفانہ کلام اور پر اثر ہندی اشلوک اور دوہے پڑھتے ہیں۔

نو محرم کو دربار عالیہ کو غسل دیا جائے گا اور دس محرم تک آخری ختم کے ساتھ مزارات پر غلاف چڑھا کے عرس کا اختتام کر دیا جائے گا۔

9

دربار کا صحن

دربار کا صحن


دربار کو رات کے وقت برقی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے

دربار کو رات کے وقت برقی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے

عرس کی تقریبات میں مقامی آبادی کے علاوہ دیارِ غیر میں مقیم عقیدت مند بھی شریک ہوت ہیں۔ پچاس سالہ محمد عمران، ڈربن (جنوبی افریقہ) سے اپنے دوستوں کے ہمراہ پاکپتن میں بابا فرید الدین کے عرس میں شرکت کے لیے آئے ہیں جہاں وہ عرس دربار فرید الدین کی دیگر رسومات کے ساتھ ساتھ بہشتی دورازہ کی خاص رسم ادا کرنے کے خواہشمند ہیں۔

بہشتی دروازے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں سے گزرنے والا جنتی ہو گا

بہشتی دروازے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں سے گزرنے والا جنتی ہو گا


زائرین کے ہجوم کو منظم کرنے کے لیے جنگلے نصب کیے گئے ہیں

زائرین کے ہجوم کو منظم کرنے کے لیے جنگلے نصب کیے گئے ہیں


بہشتی دروازے سے گزرنے کے خواہشمند افراد کی طویل قطار

بہشتی دروازے سے گزرنے کے خواہشمند افراد کی طویل قطار

جنوبی افریقہ سے آئے اس وفد کا پاکپتن میں یہ پہلا دورہ نہیں ہے بلکہ یہ 2003ء سے متواتر پاکپتن آرہے ہیں اور ہر سال عرس میں شرکت کرنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔

محمد عمران بتاتے ہیں کہ ان کے آباو اجداد کا تعلق حیدرآباد دکن (انڈیا) سے تھا جو تقریبًا ڈیڑھ سو سال قبل محنت مزدوری کی غرض سے جنوبی افریقہ چلے گئے۔

'جنوبی افریقہ میں اس وقت مسلم کمیونٹی کم آباد تھی تاہم حیدر آباد سے آئے بیشتر لوگ وہاں کے بزرگ خواجہ حبیب علی شاہ کے مریدین میں سے تھے جبکہ حبیب علی شاہ خود حافظ پیر دستگیر اور خواجہ نور محمد تونسہ شریف (پاکستان) کے مریدوں میں سے تھے۔'

انہوں نے بتایا کہ انہی مریدان میں ولی عہد سید محمد شاہ جہانگیری حیدرآباد (سندھ، پاکستان) اور حضرت شاہ غلام محمد المعروف صوفی صاحب ڈربن (ساوتھ افریقہ) میں معروف بزرگ ہستیوں کے نام سے جانے جاتے تھے جن کے فیض نے انہیں درِ فرید دکھایا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے پیر سید محمد شاہ نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی جہاں وہ بابا فرید کے عرس سے فیض یاب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سال پاکپتن آنے کی طلب نے ان کی طبیعت ایک مریض کی سی بنا دی ہے جس کے لیے یہ عرس ہر سال ایک دوا ثابت ہوتا ہے۔

عمران کے ساتھ ان کے دوست زین العابدین اور نظام دین بھی ہر سال پاکپتن آتے ہیں لیکن عمران کی خواہش ہے کہ ان کے بیوی، بچے بھی ایک دفعہ عرس بابا فرید پر ان کے ساتھ ضرور آئیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے رہن سہن اور ماحول میں مطابقت نہ ہونے کے باعث ان کے خندان کے باقی افراد یہاں نہیں آ پاتے۔

'ٹرانسپورٹ، رہائش اور ماحول میں فرق سے مطابقت اختیار کرنا دوسرے ممالک سے آنے والے زائرین کے لیے قدرے مشکل ثابت ہوتا ہے۔'

عرس کے دوران کیسری رنگ کے دھاگے جنہیں پیچے بھی کہا جاتا ہے بانٹے جاتے ہیں۔ یہ دھاگے اس واقعے کی یاد میں بانٹے جاتے ہیں جو بابا فرید کے پہلے خلیفہ سے منسوب ہے۔ روایت ہے کہ آپ کے پہلے خلیفہ نے اپنے آخری ایام میں اپنی قمیص کے ٹکڑے غرباء میں تقسیم کیے تھے۔

عرس مبارک کی تقریبات 25 ذوالحج سے پاکپتن میں ان کے مزار پر شروع ہوتی ہیں اور دس محرم الحرام تک جاری رہتی ہیں۔

کیسری دھاگے تقسیم کیے جا رہے ہیں

کیسری دھاگے تقسیم کیے جا رہے ہیں


زائرین کیسری دھاگے پکڑنے کی کوشش میں

زائرین کیسری دھاگے پکڑنے کی کوشش میں

تصاویر: رضا اختر
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Raza Akhtar

Raza Akhtar

پنجاب لوک سجاگ کے ساتھ بطور ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر منسلک ہیں۔ بلاگ، افسانے اور علاقائی سماجی پہلوؤں کو تحریر کا حصہ بنانا پسند کرتے ہیں۔


Related Articles

یہ بی بی سی لندن ہے

"یہ بی بی سی لندن ہے اب آپ رضا علی عابدی سے خبریں سنئیے" اپنے دور کی خوبصورت آواز کے ساتھ ایک خوبصورت نام ۔۔۔ خبریں سننے کے لئے شائق سامعین کی ایک بڑی تعداد ریڈیو کے گرد جمع ہونا شروع کردیتی تھی۔

جاوید چوہدری کا ایک فرضی کالم

آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم، پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گی۔

بلائنڈ لو؛ خامیاں کم خوبیاں زیادہ

بلائنڈ لوّ البتہ ایسی بَور فلم ہرگز نہیں ہے۔ یہ فلم آپ کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ اور انٹرول کے بعد کی فلم کو تو گویا سانس روک کر دیکھنا پڑتا ہے۔