عشرہ // بزدلوں کے نگر میں بغاوت کا چراغ

عشرہ // بزدلوں کے نگر میں بغاوت کا چراغ

عجیب دکھ ہے اذیت ہے بے قراری ہے

'خبر ملی ہے خدایانِ بحر و بر سے مجھے'
کہ اب زمین پہ اندھیروں کی سلطنت ہو گی

وہ ایک چراغ بغات کے قافلے میں جو تھا
وہ بجھ گیا ہے مگر اس نے سر جھکایا نہیں

اب اس کے بعد بغاوت کا کس کو یارا ہے
یہ بزدلوں کا نگر، بوٹ پالشیے ہم لوگ

زمیں پہ راج وہی ظلم کی ہوا کرے گی

کہ اک چراغ کے بھجنے کے بعد کیا ہو گا
اندھیرے اور بڑھیں گے گھٹن ستائے گی

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

عشرہ/ میرا کمرہ

محمد عامر: کپ یہاں ایش ٹرے کا کام کریں
میز پر چار چھ کتابیں ہیں
نیچے کچھ بوٹ اور جرابیں ہیں

عشرہ // اُس پار اِس پار

ادریس بابر: لوگ مارے گئے
تمہیں کیا
میں سچ کہہ رہا ہوں
ہمیں کیا

عشرہ // شاہرہِ بدستور

ادریس بابر:کس کی بات ٹھیک ہے، کس کے ہاتھ صاف ہیں
آپ یار جائیں تو سب کے سب خلاف ہیں
آپ جیت جائیں تو سب گناہ ماف ہیں