عشقِ رسول کی متشدد تعبیریں مسترد کرنا ہوں گی- اداریہ

عشقِ رسول کی متشدد تعبیریں مسترد کرنا ہوں گی- اداریہ

فیض آباد دھرنا اور اس کے نتیجے میں ریاستی پسپائی پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے ایک اور خطرناک رحجان کی سنگین ترین علامت ہے۔ شدت پسندی کی اس شکل کی بنیاد پیغمبر اسلام سے جنونی عشق اور اندھی عقیدت پر رکھی گئی ہے۔ 'عشق رسول' اور 'ختم نبوت' کی بنیاد پر شہری آزادیوں، انسانی حقوق اور جمہوری مساوات کو نظر انداز کرتے ہوئے خادم حسین رضوی اور ان کے ساتھیوں نے نہ صرف ریاستی عملداری کو بری طرح چیلنج کیا ہے بلکہ پاکستان میں مذہبی شدت پسندی اور عدم برداشت کی بنیاد پر تشدد اور قتل و غارت گری کو ایک اور مذہبی جواز مہیا کیا ہے۔ عشق رسول کے نام پر تشدد کو جائز سمجھنا توہین مذہب و رسالت کے الزامات کے تحت ناول نگاروں، مصنفوں اور کارٹون بنانے والوں پر حملے کرنے کا باعث بنتا ہے، مشتعل ہجوم کو اختلاف رائے کرنے والوں کو قتل کرنے پر اکساتا ہے اور ممتاز قادریوں اور علم دینوں کی زہریلی فصل تیار کرتا ہے۔

فیض آباد دھرنا اور اس کے نتیجے میں ریاستی پسپائی اس بات کے غماض ہیں کہ مذہب اور نظریے کی تمام ایسی صورتیں جو خود کو جمہوری اقدار، انسانی مساوات اور بنیادی حقوق سے بالاتر سمجھتی ہیں، معاشرے اور ریاست میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو فروغ دیتی ہیں۔ انتخابی قواعد میں ختم نبوت سے متعلق حالیہ ترامیم پر تمام سیاسی جماعتوں کی پسپائی مذہبی شدت پسندی کے سامنے گٹھنے ٹیکنے کا ایک اور سیاہ باب ہے، عشق رسول کے نام پر تشدد کی حالیہ لہر عوامی سطح پر بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کو پامال کرنے کا تباہ کن تسلسل ہے۔ ختم نبوت اور عشق رسول کے نام پر تشدد اور خونریزی کو جائز سمجھنا ایک ایسی غارت گری کی بنیاد ثابت ہو گا جو جلد یا بدیر پاکستان میں ایک سخت گیر مذہبی فسطائیت کو جنم دے گا۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس خونریزی کی بنیاد کسی عقلی بنیادوں پر استوار سیاسی مذہبی نظریے پر نہیں بلکہ عشق رسول کی ایک گمراہ کن، متشدد اور غیر علمی اندھی عقیدت پر استوار کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں مذہبی شدت پسندی کی یہ لہر طالبان، القاعدہ یا داعش کی سیاسی دہشت گردی سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہو گی۔ اس شدت پسندی کی ایک صورت توہین مذہب و رسالت کا قانون ہے تو دوسری شکل ممتاز قادری جیسے قاتلوں کو جنم دینے والا عشق رسول۔ اس شدت پسندی کا ایک مظہر فیض آباد دھرنا ہے تو دوسرا عورتوں، غیر مسلموں، ہم جنس پرستوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین۔۔۔۔ شدت پسندی کے یہ تمام مظاہر معاشرتی بھی ہیں، سیاسی بھی اور ثقافتی بھی۔۔۔ عشق رسول کی یہ متشدد شکلیں اسلام اور پیغمبر اسلام کو پرامن اور صلح جو قرار دینے کی تمام فکری اور عملی کوششوں کی نفی ہیں۔ عشق رسول اور ختم نبوت کے نام پر تشدد اور نفرت کو ہوا دینے والی یہ روش بہت جلد جہادی لشکروں سے کہیں زیادہ خطرناک مشتعل ہجوموں کی شکل اختیار کر سکتی ہے یہی وجہ ہے عشق رسول کی متشدد اور نفرت آمیر تعبیروں کو مسترد کرنا ضروری ہے۔

سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور عسکری اداروں کی جانب سے غیر جمہوری اور غیر انسانی مطالبات کرنے والے افراد کے سامنے گٹھنے ٹیکنے کی یہ پہلی مثال نہیں، ختم نبوت، نفاذ شریعت اور نظام مصطفیٰ کے بینروں تلے ماضی میں بھی متعدد تحریکیں، گروہ اور لشکر ان انسانی حقوق اور شہری آزادیوں پر حملے کرتے آئے ہیں جنہیں آئین ِپاکستان اور انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ریاستی پسپائی
پیغمبرِ اسلام کسی بھی اور مقدس یامذہبی شخصیت کی طرح ، ہر زمانے میں مختلف سیاسی اور سماجی تعبیروں کے تحت متعدد تحریکوں کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اُن کی زندگی کو ہر زمانے کے مسلمانوں کی جانب سے مختلف پیرائے میں سمجھا اور اختیار کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام مذہب کے نام پر قتل کرنے والوں سے لے کر مذہب کے نام پر خدمت کرنے والوں تک، ہر مسلم گروہ، تنظیم اور جتھے کے لئے ایلگ الگ معنی اور جذبے کی بنیاد رہے ہیں۔ پیغمبراسلام کی ذات طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گردوں کے لئے بھی تحریک کا باعث ہے اور عبدالستار ایدھی جیسے انسان دوستوں کا مذہب بھی، آپ کی محبت میں ممتاز قادری جیسے قاتل اور دہشت گردزندگیاں چھینتے ہیں اور تو دوسری جانب اقبال جیسے دانشور عشق رسول میں تخیل کے نئے در کھولتے ہیں۔۔۔

ایک جمہوری، انسان دوست اور روادار معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام سے عقیدت، محبت اور علمیت کے جتنے بھی تعلق اور جتنی بھی تعبیریں ہیں، ان کی متشدد صورتوں اور انسانی حقوق سے متصادم مظاہر کو مسترد کیا جائے۔ پیغمبر اسلام سے عقیت، محبت اور احترام اپنی جگہ مگر اس بناء پر کسی مذہبی، صنفی یا سیاسی اقلیت کے حقوق اور آزادیوں کو سلب یا محدود کرنے کا کوئی جواز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پیغمبر اسلام کے اتباع کی کوئی بھی دعوت ہو، عشق رسول کی کوئی بھی جہت ہو، سنت رسول کا کوئی بھی چلن ہو اگر وہ انسانی حقوق اور بنیادی شہری آزادی کو محدود کرنے کا باعث ہے اور متشدد ہے تو غلط ہے اور ہر فرد کو انہیں مسترد کرنا چاہیئے۔

ٰImage: Daily Pakistan

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

The Revolutionary Standoff: Assessing the Damage – Editorial

The much hyped and live telecasted political drama in the capital is finally moving towards its drop scene. Both leaders of the twin protests have announced...

علم دین یا سر سید احمد خان-اداریہ

دو فروری 2015 کودہشت گردی سے متاثرہ پاکستان کی منتخب اسمبلی میں فرانسیسی ہفت روزہ شارلی ایبڈوپر حملہ آور دہشت گردوں کے لواحقین اور اس ہفت روزہ کے مالک کو قتل کرنے والے کے لیےانعامی رقم کا اعلان اور اس پر حزب اختلاف اور حکمران جماعت کی خاموشی یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے پاکستان میں دہشت گردی کی ترویج کا نظریاتی عمل ابھی بھی سرکاری سرپرستی میں جاری ہے۔

Punishing the Rapists - Editorial

Rape is perhaps the least reported crime in Pakistan. The recorded figures are just a thin fraction of the actual number of incidents.