عقل کے نام ایک خط

عقل کے نام ایک خط
میری محبوب عقل!

تو نے قدیم دور سے مجھے جدیدیت، اور مابعد جدیدیت کے دور میں لا کھڑا کیا ـ تیری وجہ سے نت نئی سائنسی ایجادات نے دنیا کا نقشہ بدل دیا
میں تمہیں اپنی زندگی کا بنیادی عنصر مانتا ہوں، میں تمہارے سہارے ہی اس کائنات کے تمام اسرار، تمام بھید، سبھی راز آشکار کر رہا ہوںـ میں جانتا ہوں کہ میں پتھروں کے دور کا باسی تھا تو ہی تھی جس سے میں نے صحیح سوچنے کی عادت ڈالی اور تاریک دور سے روشن دور میں داخل ہو گیا، میں خونخوار تھا چیر پھاڑ دینے والے خصائل کے تابع تھا تو ہی تھی جس نے مجھے اس پر سوال اٹھا کر ایسا کرنے سے روک لیا، مجھے معلوم ہے میں ہزارہا بے معنی توہمات میں گِھرا ہوا تھا، تو توُ ہی تھی جو مجھے اس اندبھیارے سے نکال لائی تھی، میں جنگ اور غلامی کے نظام کو واجب سمجھتا تھا تو نے اس کو رفع کرنے میں میری مدد کی، تو نے زرعی نظام کو تشکیل دینے میں اور اس کو کو بہتر بنانے میں معاون کا کردار ادا کیا۔ میں بہت سی راہوں میں الجھتا رہاتو نے مجھے بچایا اور صحیح طور سے جینے کا سلیقہ سیکھاتی رہی ـ

تو نے قدیم دور سے مجھے جدیدیت، اور مابعد جدیدیت کے دور میں لا کھڑا کیا ـ تیری وجہ سے نت نئی سائنسی ایجادات نے دنیا کا نقشہ بدل دیا جہاں لاکھوں بچے ایک معمولی بیماری سے معذور اور مارے جاتے تھے تو نے اس کا راستہ بند کردیا، جہاں میری عمر تیس برس ہونا بھی ایک ناممکن سی چیز بن گئی تھی تو نے اس کو بڑھا دینے کا کارنامہ سر انجام دیا، تو نے لوگوں میں حیات بانٹ دی ـ تیری وجہ سے صنعتی انقلاب دیکھنے میں آیا جس نے میرے رہنے سہنے میں نکھار پیدا کردیا مجھے آسائشیں فراہم کیں مجھے یہاں پہنچا دیا کہ اب ایک بچہ بھی ہزار سال پہلے کے بوڑھے سے زیادہ چیزیں جانتا اور سمجھتا ہے ـ میں تیری عظمت کہ اور کتنے گن گاؤں؟ فلسفہ، نفسیات، سائنسی تحقیق کا طریق کار، سماجیات، عمرانیات، معاشیات ان سب کو تو نے جلا بخشی ـ

یا میں دو محبت کرنے والے جوڑے سے یہ کہہ دوں کہ محبت کی کوئی حقیقت نہیں یہ صرف ایک جبلی جبر ہے جسے محبت کا جھوٹا نام دے دیا گیا یہ جنسی جذبے کہ سوا کچھ نہیں
لیکن میں اب تھک چکا ہوں، میں اب ہار چکا ہوں ـ میں نہیں چاہتا کہ تجھ سے ذرہ برابر بھی دوری اختیار کروں ـ مجھے معلوم ہے تیرے لیے یہ محبت بھرے جملے کوئی معنی نہیں رکھتے، یہ وصال و فراق تیرے لیے فریب سے زیادہ نہیں، لیکن پھر بھی میں اپنا درد بیان کر رہا ہوں ہاں درد! یہ درد بھی تو بے معنی ہے، یہ بھی تو ایک بے ڈھنگی شئے ہےـ میں یقیناً ہار گیا ہوں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے آخر؟ ایک ماں جو اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر غمزدہ ہے کیا اس کو کہہ دوں کہ یہ جذبات بے کار ہیں؟ یہ صرف سیروٹنن (Serotonin) کی سطح کم ہونے کا نتیجہ ہے جو درد اس ماں کو محسوس ہورہا ہے وہ محض جسم میں ہونے والے کیمیائی تعاملات کے سوا کچھ نہیں! یا میں دو محبت کرنے والے جوڑے سے یہ کہہ دوں کہ محبت کی کوئی حقیقت نہیں یہ صرف ایک جبلی جبر ہے جسے محبت کا جھوٹا نام دے دیا گیا یہ جنسی جذبے کہ سوا کچھ نہیں! مرد میں Testosterone ہارمون اس کا ذمہ دار ہے اور خواتین میں Estrogen ۔۔۔۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ یہ تمام جذبات درد، رنج، خوشی، غصہ، امید سب کے سب ایک ڈرامے سے زیادہ نہیں! اور مجھے کیا کرنا چاہیے؟

میں ننھے بچوں کو یہ کیسے کہوں کہ آگے بڑی کٹھن زندگی تمہارا انتظار کر رہی ہے تمہارے بچپن کی کہانیاں فضول ہیں؟ سپر مین جیسی کوئی چیز نہیں؟ چاند پر پریاں نہیں رہتیں، کیا اس کو یہ بھی بتا دوں کہ زندگی ایک جبر ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں کیوں کہ تم چاہے جو مرضی کرلو آخر کار موت انتظار کر رہی ہے اور تمہارے ان کارناموں سے کوئی فرق نہیں پڑتا! اور کیا کرنا چاہیے؟ کیا سب کو یہ بتا نہیں دینا چاہیے جس نتیجے پر تو نے مجھے پہنچا چھوڑا ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں! یہ ایک ہیچ اور بکواس شئے ہے؟؟ اور اگر ہے بھی سہی تو آخر میں اسے گزاروں ہی کیوں؟ یہ فالتو کے دکھ درد جھیلوں ہی کیوں؟ اور جب میں یہ مان چکا ہوں تو میرے لیے منطقی طور پر یہ درست ہے کہ میں خودکشی کر لوں! یعنی جب کوئی ایسی چیز ہی نہیں جس کے لیے مجھے زندہ رہنا چاہیے تو مرجانا عقلاً درست ہوا نا! اسی لیے میں ہار چکا ہوں۔ لیکن میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ مجھے تیری ضرورت کس لیے تھی؟ جواب ملتا ہے زندگی گزارنے کے لیے کیونکہ زندگی ہوگی تو تیرا فائدہ بھی ہوگا زندگی کا وجود ہی مفقود ہو جائے تو تیری ضرورت کیا ؟ اب جب تو نے مجھ سے زندگی کی تمام رعنائیاں چھین لی ہیں اور مجھ سے زندگی کو ختم کرا دینے کہ درپے ہے تو خیال آتا ہے کہ مجھے تیری ضرورت زندگی کو جلا بخشنے کے لیے تھی زندگی نا ہو تو تیری ضرورت ہی کیا تھی؟

میری پیاری عقل ! مجھے معاف کرنا میں تجھ سے زیادہ عقلمند ہوگیا ہوں مجھ کو معاف کرنا!
Rehan Naqvi

Rehan Naqvi

Rehan Naqvi is a student. Science, Religion and Literature are his areas of interest.


Related Articles

خیبر پختونخواہ میں روایتی دو سالہ ڈگری پروگرام کی بجائے چار سالہ آنرز پروگرام شروع کرنے کی سفارش

ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ نے خیبر پختونخواہ میں جاری دوسالہ گریجوایشن اور دو سالہ ماسٹر دگری کے نظام کو چار سالہ آنرز پروگرام کے ذریعے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیاست کھیڈ نئیں زنانیاں دا

1965 کی جنگ میں گائے گئے گیت" جنگ کھیڈ نئیں زنانیاں دا"کا سب سے تکلیف دہ پہلو اس گیت کے بول" جنگ کھیڈ نئیں زنانیاں دا"کا خواتین سے ہی گوایا جانا ہے۔

تمہارے اتنے سوالوں کا ایک جواب

علی ڈگری اسکینڈل پر ایف آئی اے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیاہے، وزیر داخلہ نے انٹر پول اور ایف بی آئی سے بھی مدد مانگ لی ہے اور فرمایا ہے کہ میڈیا کسی کے پیچھے لگ جائے تو اسے اللہ ہی بچا سکتا ہے۔