عمر قید

عمر قید

مجھے اپنے ہی جسم میں
قید کر دیا گیا ہے
پچھلے کئی سالوں میں
اس جسم کے اندر
مَیں بہت سی عمر قیدیں
گزار چکا ہوں
لیکن میری رہائی نہیں ہو پا رہی ہے

میرا برتاؤ بھی سب سے بہت اچھا ہے
ملنسار بھی مشہور ہوں
جیلر نے کئی مرتبہ
اچھے رویے پر
مجھے شاباشی بھی دی ہے

میرا کام میں دل بھی بہت لگتا ہے
کبھی کبھی تو
مقررہ وقت گذرنے کے بعد بھی
کام میں جُتا رہتا ہوں
وقت پہ سو بھی جاتا ہوں
صبح سویرے آنکھ بھی کھل جاتی ہے

لیکن جب سے قید خانے میں
نیا جیلر آیا ہے
صفائی کا انتظام بہتر ہو گیا ہے
غذا بھی اچھی مل رہی ہے
کشادہ کھڑکی سے
سورج بھی دیکھ پاتا ہوں
ہوا بھی تازہ چل رہی ہے
دوا بھی وقت پہ مل رہی ہے

قید خانہ جب سے
کشادہ ہو گیا ہے
میری اس قید میں
کئی اور سالوں کا
اضافہ ہو گیا ہے ۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

میری شکایتیں بھی تو سن

کاش میں تمہیں بتا سکتا
یہ لفظ کس قدر اجنبی ہوگئے ہیں
اب گزرتے ہوئے سلام بھی نہیں کرتے
کوئی بات کرو تو منہ موڑ لیتے ہیں

آؤ گِنیں کتنے مارے گئے

عذرا عباس: آؤ ہاتھ اُٹھا کر دعا کریں
ان کے لئےجنت میں جگہ خالی رہے

ہاں میری محبوبہ

سرمد صہبائی: لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں