عورت اور لباس کے انتخاب کا حق

عورت اور لباس کے انتخاب کا حق
یہ عورت کے انتخااب اور آزادی کا معاملہ ہے، مغرب بمقابلہ مشرق یا مذہب بمقابلہ غیر مذہب کا نہیں۔ عورت کو کیا پہننا ہے کیا نہیں، اسے اپنا آپ کتنا چھپانا ہے کتنا نہیں یہ معاملہ عورت کے فیصلے پر منحصر ہونا چاہیئے اور یہ انتخاب کی آزادی کے بنیادی اصول کا تقاضا بھی ہے کہ ہر شخص کو اپنی نجی زندگی میں اپنی پسند کے مطابق اپنا طرزِ زندگی اختیار کرنے کا حق ہے۔ مغرب کا ثقافتی برتری کا احساس بھی اتنا ہی آزادی مخالف نظر آنے لگا ہے جتنا عرب، ایران یا پاکستان کا ہے۔ محض ثقافتی اقدار کی بنیاد پر ایک جانب عورت کو اپنا بدن چھپانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب اپنا بدن ظاہر کرنے پر اور یہ دونوں جبر کسی بھی طرح جائز نہیں۔ جس منطق کی بنیاد پر پردے اور برقع کے مسلط کیے جانے کو غلط کہا جاتا ہے اسی بنیاد پر اس معاملے پر پابندی کو بھی دیکھا جانا چاہیئے۔

عورت کو کیا پہننا ہے کیا نہیں، اسے اپنا آپ کتنا چھپانا ہے کتنا نہیں یہ معاملہ عورت کے فیصلے پر منحصر ہونا چاہیئے اور یہ انتخاب کی آزادی کے بنیادی اصول کا تقاضا بھی ہے
فرانس سمیت یورپ بھر میں جاری اس بحث کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے اور اس تناظر یں کوئی بھی فیصلہ کرنے یا رائے قائم کرنے سے پہلے حجاب یا برقع پر پابندی کے حق میں دیے جانے والے دلائل کو بھی سمجھنا چاہیئے۔ اس معاملے میں درج ذیل جواز مختلف حلقوں کی جانب سے دیے جا رہے ہیں:

1: برقع پردے کے اس تصور کی علامت ہے جس کے تحت ایک عورت کا جسم اس کی بجائے کسی اور (خدا، شوہر یا معاشرے)کی ملکیت تصور کیا جاتا تھایعنی عورت کے جسم پر اس کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، اس لیے پردے یا اس کی تمام علامتوں کو مسترد کیا جانا چاہیئے۔

2: پردہ ایک مذہبی حکم کے تحت مسلط کیا جاتا تھا، اور مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیے جانے اور معاشرے اور ریاست کی مذہب سے علیحدگی کی بنیاد پر عوامی مقامات پر مذہبی علامتوں کا استعمال ممنوع قرار دیا جانا چاہیئے۔
3: پردہ مغربی معاشرے کے لیے اس لیے بھی ناقابل قبول ہے کیوں کہ یہ عورت کو ایک جنسی وجود قرار دینے کے مترادف ہے ، پردے کا مطلب یہ بھی ہے کہ عورت کو جنسی جرائم کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اس لیے اسے ترک کرنا ضروری ہے۔
4: پردہ عورت کے بنیادی انسانی حقوق جیسے جقل و حرکت کی آزادی، اپنے جسم پر اختیار، اپنے لیے فیصلہ کرنے کے اختیار اور مذہبی آزادی کی نفی کرتا ہے اس لیے اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیئے۔

5: پردے پر پابندی کے پیچھے ثقافتی برتری کا احساس بھی موجود ہے جس کی بنیاد پر مغرب کے سوا تمام معاشروں اور ان کی اقدار کو پسماندہ خیال کرنا بھی ہے۔ اس کے پیچھے مغرب کا اخلاقی برتری کا وہ احساس بھی موجود ہے جو نوآبادیاتی ادوار سے آج تک دنیا بھر کر آزاد کرانے کے نام پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہاں مغرب کے اس طرز عمل کو بھی مورد الزام ٹھہراناضروری ہے جو مشرق یا اسلام سے متعلق ایک مخصوص جامد تصور کے سوا کوئی اور طرز فہم اختیار کرنے کو تیار نہیں، یعنی اسلام اور مسلمان دقیانوسی، فرسودہ اور وحشیانہ اقدار کے نمائندے ہیں۔

6: مغرب کے ہاں رائج اچھے مسلمان کی تعریف بھی پردے اور برقعے سے متعلق رویوں کی بنیاد ہے جس کے تحت اچھا مسلمان وہی ہے جو مغربی اقدار ثقافت اور قانون کو تسلیم کرے اور س کے لیے روکاوٹ بنے بغیر زندگی گزارے۔

7: اشدت پسند اور عسکریت پسند مسلمانوں کے حالیہ حملے بھی س عدم برداشت کی وجہ ہیں۔ یورپ میں یہ خوف بڑھ رہا ہے اور دائیں بازو کی جماعتوں کو تقویت دے رہا ہے کہ مسلمانوں سے یورپ کی آزاد خیال، لبرل اور سیکولر اقدار کو خطرہ ہے۔

بلاشبہ پردے کا روایتی اور اسلامی تصور جبر، استحصال اور پدرسری اقدار کا نمائندہ ہے اور پردے کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے باوجود فرانس میں برقینی اتروانے یا اس پر پابندی کا عمل غلط ہے۔
بلاشبہ پردے کا روایتی اور اسلامی تصور جبر، استحصال اور پدرسری اقدار کا نمائندہ ہے اور پردے کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے باوجود فرانس میں برقینی اتروانے یا اس پر پابندی کا عمل غلط ہے۔ پردے پر پابندی کے لیے دیے جانے والے درج بالا دلائل اپنے اندر کئی نقائص لیے ہوئے ہیں۔

1: پہلا مسئلہ آزادانہ انتخاب اور عورت کے اپنے جسم پر اختیار کا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عورت کو زبردستی مذہب یا ثقافت کے نام پر جسم کو چھپانے پر مجبور کیا جانا غلط ہے اسی طرح ایک عورت کو مذہب اور ریاست کی علیحدگی یا ثقافتی اقدار کی بنیاد پر جسم کو ڈھانپنے سے روکنا بھی غلط ہے۔ اگر ہم یہ جواز تسلیم کر لیں کہ برقینی یا برقع پرثقافتی اقدار اور ملکی قوانین کی بنیاد پر پابندی درست ہے تو پھر ہمیں برقعے یا پردے کو ریاستی قانون اور ثقافتی اقدار کی بنیادوں پر نافذ کرنے کو بھی درست تسلیم کرنا ہوگا۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چہرے کے نقاب پر پابندی کا معاملہ مختلف ہے۔ سیکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر یہ پابندی قابل فہم ہے کیوں کہ چہرہ شناخت کی بنیادی اکائی ہے اس لیے حجاب پر پابندی کی حمایت کی جا سکتی ہے۔

2: ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ کیا واقعی مغرب کی ثقافتی اقدار دنیا کے دیگر معاشروں کی اقدار سے برتر ہیں یا یہ کہ انفرادی اور شخصی آزادی کا جو نظم یورپ میں رائج ہے وہ بہترین ہے اور تمام دنیا کو اسے اختیار کر لینا چاہیئے؟ میرے نزدیک شخصی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کا اطلاق ہر ثقافتی اکائی کے ہاں مختلف طرز کا ہوگا۔ یہ لازمی نہیں کہ جس سفر سے عیسائیت یا مغرب گزرے وہی راستہ مسلمانوں کو بھی اختیار کرنا ہوگا۔ یورپی برتری کے حامی افراد اور ممالک کو یہ سوچنا ہو گا کہ شخصی آزادی کا کوئی ایک تصور یا شبیہہ ہی درست یا برتر نہیں۔ ایک مسلمان کو یورپ میں رہتے ہوئے اپنے مذہب کے انفرادی اعمال پر عمل کرنے کی اجازت نہ دینا اتنا ہی غلط ہے جتنا پاکستان میں سرکاری طور پر احمدیوں کو اپنے مذہب پر عملدرآمد سے روکنا ہے۔

3: یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پردہ ایک سماجی نظام ہے اور اس کا اظہار صرف لباس کے ذریعے نہیں ہوتا۔ پردے کا تصور بلاشبہ اپنے روایتی اور مذہبی معنوں میں غیر انسانی اور عورت مخالف ہے مگر صرف برقعے یا برقینی کو پردے کا اظہار سمجھ لینا غلط ہے۔ برقعے کا انتخاب ایک سے زائد وجوہ کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے اور بہت سی ایسی خواتین موجود ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ بغیر کسی دباو کے اپنی مرضی سے برقینی یا جسم کو ڈھانپنے والے لباس کا انتخاب کرتی ہیں۔ پردے کے تصور کے غلط ہونے کے باوجود لباس کے انتخاب کے حق کے تحت عورت کو برقینی یا برقع استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

فرانس میں ایک خاتون کو برقینی اتارنے پر مجبور کیا جانا کئی حوالے سے غلط ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اور مسلمانوں سے وابستہ ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
4: یورپی ریاستیں سیکولر ضرور ہیں مگر ابھی بھی وہاں لوگ مذہب کو ایک سماجی قدر کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ مذہبی معاملات کی سرکاری امور سے علیحدگی کے باوجود ان ریاستوں میں عیسائیت یا یہودیت پر عمل کے حوالے سے آسانیاں موجود ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام پر عمل کرنے کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کی جا سکتیں؟ سیکولر اقدار اور انفرادی آزادی کا محض یہ مطلب اخذ کر لینا کہ اس کے نتیجے میں ہر فرد مذہب کو غیر اہم سمجھ لے گا یہ ممکن نہیں۔ خصوصاً مسلمان مذہب کو دیگر معاملات سے برتر خیال کرتے ہیں اور کسی بھی ریاستی قانون سے مقدم سمجھتے ہیں۔ ایسے میں کیا مذہبی بنیادوں پر برقع یا پردے کی کسی بھی علامت کا استعمال ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو مسلمان اسلام کے سیاسی تصوریا دنیا بھر پر غالب ہونے کے لیے جدوجہد نہیں کر رہے کیا انہیں بھی اپنے مذہب پر عمل کی اجازت نہیں دی جائے گی؟ ان سوالات پر مزید بحث کی جانی چاہیئے۔

5: فرانس میں ایک خاتون کو برقینی نما لباس اتارنے پر مجبور کیا جانا کئی حوالے سے غلط ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اور مسلمانوں سے وابستہ ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں بھی عدم برداشت بڑھی ہے۔ یہ معاملہ اسلاموفوبیا کے بڑھنے کا بھی ثبوت ہے۔ برقینی کسی بھی طرح اسلام کے روایتی پردے کے مترادف نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان عورتوں کے لیے ساحل سمندر پر جانا اور تیراکی کرنا آسان ہوا ہے۔ کیا انفرادی آزادی اور نسائیت کی تحریک کا مقصد یہی نہیں کہ ہر فرد کو سماجی معاملات اور عوامی مقامات پر یکساں رسائی کے مواقع فراہم کیے جائیں؟ یہ واقعہ اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ یہ مرد سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں رونما ہوا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا گویا مرد ایک عورت کو یہ بتا رہے ہیں کہ اسے کیا پہننا چاہیئے۔

6: ثقافتی برتری کا یورپی تصور بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ مسلمانوں کے ہاں پایا جانے والا برتر امت کا تصور۔ انسانی مساوات، حقوق اور آزادیوں کے سماجی مظاہر ایک سے زائد شکلوں میں رونما ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مغرب میں دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت انسانی حقوق، آزادیوں اور مساوات دیگر معاشروں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں لیکن اسی وجہ سے مغرب سے ایک زیادہ ذمہ دار ار منصفانہ طرزعمل کی توقع بھی کی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے برقینی کے معاملے میں فرانس کی طرف سے اختیار کیا گیا طرزعمل غلط ہے اور ان اصولوں کے خلاف ہے جن کی بنیاد پر انسانی مساوات، آزادیوں اور حقوق کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

محض برقینی پر پابندی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یورپ مسلمان یا اسلام مخالف ہے لیکن یہ معاملہ یورپی ممالک کے لیے ایک امتحان ضرور ہے
7: یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یورپی معاشروں میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو جو آزادیاں حاصل ہیں وہ شاید مسلم اکثریت کے حامل ممالک میں بھی نہیں اور محض برقینی پر پابندی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یورپ مسلمان یا اسلام مخالف ہے لیکن یہ معاملہ یورپی ممالک کے لیے ایک امتحان ضرور ہے، ان اب اس چیلنج کا سامنا کرنا ہو گا کہ وہ ماضی میں جس طرح نسل پرستی، فسطائیت، ہومو فوبیا اور غلامی جیسے معاملات پر اپنی تصیح کر چکے ہیں اس ضمن میں بھی اپنی اصلاح کریں گے اور دنیا کے سامنے ایک بہتر مثال پیش کریں گے۔

8: مسلمانوں کو بھی اپنے طرز عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ جمہوریت اور آزادی کو محض اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کر رہے بلکہ وہ بھی جمہوریت، سیکولرازم اور لبرل ازم کو درست خیال کرتے ہیں۔ انجم چوہدری کی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض مسلمان لبرل اقدار کو استعمال کرتے ہوئے انہی لبرل اقدار اور آزادیوں کے خلاف کام کر رہے ہیں جن کی وجہ سے ان معاشروں کا جمہوری نظام کامیاب ہے

Maleeha Sarwar

Maleeha Sarwar

Maliha Sarwar is a teacher and strongly advocates gender equality and human rights.


Related Articles

A Letter to Ansar Abbasi

Hello to the torch bearer of Islam and Inspector General of moral police, Mr. Ansar Abbasi!
I am sure that you are doing well and, I hope you will like the titles I have accorded you with.

Cynicism in Pakistan

The Pakistani cynics believe they are not negative and not faulty all the times. In contrast to that, every thing is negative and faulty all the times.

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

ہیرو وہ نہیں ہوتا جو سوچنے سمجنے کی صلاحتیں ماوف کر کے اپنے عقیدے کی غلط تعبیر کی بناء پر کسی کی جان لے لے بلکہ کسی مقصد کسی نظریے یا انسانیت کی بھلائی کے لیے آواز اٹھانے والااصل ہیرو ہوتا ہے۔