غربت

غربت
غربت
وہ سمجھا سکتی ہے
ہر بات بغیر چیخے
مگروہ چیختی ہے
ڈپریشن کی مریضہ ہے

 

وہ ماں بننے کی خواہش رکھتی ہے
دل میں
اس کی کوکھ میں کینسر پھیل رہا ہے
اس کا شوہر اسے چھوڑ گیا ہے
معمولی بات پر
سالن میں نمک کیوں نہیں
نمک ہوتا تو ڈالتی

 

وہ رو سکتی ہے
پھوٹ پھوٹ کے
مگر نہیں روتی
کیونکہ اس کی آنکھ میں موتیا ہے
اسے موتیا سے عشق ہے
وہ اندھی ہوجائے گی
مگر آپریشن نہیں کرائے گی
کیونکہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں
وہ مرجائے گی
کسی کو بتائے بغیر
سسک سسک کے
کیونکہ وہ خوددار ہے
وہ کون ہے
وہ میری ماں ہے
میں کون ہوں
غربت

Image: Billie Evans

Wajih Warsi

Wajih Warsi

Wajih Warsi is a theater activist. He has been performing on stage with various theater groups since 1988. He founded Bang, Sevak and Nao Theater Workshop. He is a TV playwright and poet.


Related Articles

علی زریون کے نام ایک خط

جمیل الرحمان: پیارے علی زریون
یہاں تخت
درختوں کی لکڑی سے نہیں
معصوموں اور کمزوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے بنتے ہیں

وہ ایک پُل تھا

سوئپنل تیواری: وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں

خبر بھی گرم فقط ہے تو سنسنی کے لیے

بس ایک وقت میسر ہے آدمی کے لیے
کہاں پہنچ میں ہے خوراک زندگی کے لیے