(غزل - (ظفر خان

(غزل  - (ظفر خان

ghazal-zafar-khanیہ عالم اپنی تنہائی کی ہیبت سے بھرا ہے

ہمیں دیوار و در کا خوف ورثے میں ملا ہے

ہے کوئی زخم شاید اسکی پیشانی کا تعویذ

مرا مرکب ندی میں چلتے چلتے جھانکتا ہے

وہ مدھم روشنی ہے پھر حویلی کے کھنڈر میں

اور اسکی اوٹ سے کوئی پرندہ کوکتا ہے

توانائی ہے ان ہاتھوں میں حرفِ نارسا کی

لہو کی روشنائی سے قلم چلنے لگا ہے

یہ آئینہ چمک اُٹھے گا یکسر چُور ہو کر

اندھیرا جس کے سربستہ تبسم میں کٹا ہے

جو دریا راستہ تبدیل کرنا چاہتا تھا

سمندر ہے کہیں ساحل کے پہلو میں بچھا ہے

سفر ہے نیلگوں پانی میں گہرائی کی جانب

مرے حصے کا ساحل میری مُٹّھی میں دبا ہے

(Published in The Laaltain - Issue 7)


Related Articles

Mob the Omnipotent

سرمد بٹ: آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے (گلزار)

گلزار: لکیر اپنی جگہ سے ہٹتی نہیں، نہ ہٹتا ہے وہ سپاہی
چَھپے ہوئے لفظ کی طرح سے پڑے ہیں دونوں

مجھے تم سے محبت ہے

ثروت زہرا: مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے