غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں

غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں
غیر جانبدار سرزمین کے نقشے میں
جہاں چھتوں پر
کبوتروں کی گٹکتی ہوئی آوازوں میں
مدغم ہوتی
پروں کی پھڑپھڑاہٹ کے بجائے
سوختنی قربانیوں کا دھواں پھیلا ہے
میں دو گھروں کے درمیان
نومینز لینڈ" میں ہوں"
ہوا کے رحم و کرم پر
ایک ناکارہ وجود
جسے سانس لینے کے لیے
ہوا کا دم بھرنا پڑتا ہے

اسی "نومینز لینڈ" میں
ایک گھر تھا
جسے اُنہوں نے پہلے دو حصوں میں تقسیم کیا
پھر بلا اجازت
اُن حصوں کی دیواریں بدل دیں
اور
چھتریوں پر موجود
قاصد کبوتروں کی گردنوں سے
محبت کے تعویذ نکال کر
اُن میں ناموں کے کتبے لٹکا دیے

قاسموں کی کلائیوں سے
جڑے پنجے
دہکتی سلاخوں کی طرح
دونوں کے آنگنوں پر تن گئے
آنگنوں کے چھتنار پیڑ
کیاریوں میں کھلے پھول
اور اُن پر اُڑتی رنگ برنگی تتلیاں
اُن سلاخوں کی تپش سے راکھ ہوتے گئے

سبز رنگ کا منتظر
دنیا کا جادوئی نقشہ
پیلا پڑتے پڑتے سرمئی اور بھورا ہو گیا
مگر
سرخ کی قید سے آزاد نہ ہو سکا

میں چلاتا رہا
تم نے میرے گھر کا
یہ کیا کیا؟
یہ میرا گھر تھا
میرا آنگن ،کیاریاں اور کبوتر

میں پوچھتا رہا
تم نے میرے کبوتروں کی گردنوں میں
محبت کے سندیسوں کے بجائے
ناموں کے کتبے کیوں لٹکا دیے؟؟

لیکن
ہر بار میرے پھیپھڑے
دھوئیں سے بھر دیے گئے
اور چھتوں سے
سوختنی قربانیوں کی مہک اٹھتی رہی

Related Articles

آدمی قید ہے

تصنیف حیدر: آدمی قید ہے
وقت میں، خون میں، لفظ میں
آدمی قید ہے

زمانہ اپنی سختیوں کے ساتھ کھڑا ہے

عذرا عباس: وہ بھوکے پیٹ سہم جائیں گے
پہلے ایک دوسرے کا منہ تکیں گے
پھر اپنی اپنی کھڑکیاں بند کر لیں گے

سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا جب وہ ہنستے