فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس
فرات میں پھینکی ہوئی پیاس
خشک ٹہنیوں پہ سبز موسم طلوع ہو سکتا ہے
اس زندگی کی آ خری لگام کھینچتے تک
جس کی ہنہناہٹ میں سمندر خود کشی کے بارے میں سو چا کرتا تھا
لوگ ہمارے دریا اپنی مٹھیوں سے پھسلنے نہیں دیتے
ہم حسینؓ کے نام کی پرچیا ں
ان آ نکھوں میں ڈال آ ئیں گے
جن کی ویرانی سے زمین اندھی ہوتی جا رہی ہے
جب پیاس بدن کی کھونٹیو ں سے اتار لی جائے گی
ایک نیا جہنم ہمیں خوش آمدید کہے گا
اور ۔۔۔۔ہم
پانی ذخیرہ کرنے کے جرم میں
خدا کی ساری بارشیں خود پر حرام کر لیں گے

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

سٹی ہائٹس

نصیر احمد ناصر:زمیں ماں ہے، زمیں کا خواب تھا لیکن
زمیں زادوں کی آنکھوں میں
فلک بوسی کا سپنا ہے جسے تعبیر ہونا ہے

Theory

سارا دن دھوپ دیوار
دیکھتا رہتا ہوں
ٹرمیں سوچتا رہتا ہوں
نظمیں توڑتا رہتا ہوں
تھیسز جوڑتا رہتا ہوں

کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی