فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس
فرات میں پھینکی ہوئی پیاس
خشک ٹہنیوں پہ سبز موسم طلوع ہو سکتا ہے
اس زندگی کی آ خری لگام کھینچتے تک
جس کی ہنہناہٹ میں سمندر خود کشی کے بارے میں سو چا کرتا تھا
لوگ ہمارے دریا اپنی مٹھیوں سے پھسلنے نہیں دیتے
ہم حسینؓ کے نام کی پرچیا ں
ان آ نکھوں میں ڈال آ ئیں گے
جن کی ویرانی سے زمین اندھی ہوتی جا رہی ہے
جب پیاس بدن کی کھونٹیو ں سے اتار لی جائے گی
ایک نیا جہنم ہمیں خوش آمدید کہے گا
اور ۔۔۔۔ہم
پانی ذخیرہ کرنے کے جرم میں
خدا کی ساری بارشیں خود پر حرام کر لیں گے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

محبت کے بغیر ایک نظم

نصیر احمد ناصر: سچ ہے
آسمان سے سفارتی تعلقات استوار کیے بِن
شاعری ہو سکتی ہے
نہ زمین پر رینگنے کے حقوق مِلتے ہیں!

ضبط کا خرچ

شارق کیفی: کوئی یہ سوچتا ہے اگر
کہ اس نے مجھے اپنے غم میں رلا کر
بڑا معرکہ کوئی سر کر لیا ہے
تو پاگل ہے وہ

پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

حفیظ تبسم:
وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی