فرصتِ شوق کہاں

فرصتِ شوق کہاں

'نقاط' فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بوڑھا داستان گو، پیوند بھرے چوغے، جس نے اسے وقت کی بھول بھلیوں سے آزاد کر دیا ہے، سال خوردہ عصا نما لاٹھی تھامے، ایک ایک کی طرف دیکھتا ہے۔۔۔ ’’اس جھیل کی داستان سنیں گے، بس سو روپے۔۔۔ چلیے پچاس، پچیس۔۔۔جو آپ کا جی چاہے اس جھیل کی داستان۔۔۔‘‘ لیکن داستان سننے کا وقت اور شوق کہاں، کہتے ہیں چودھویں کی رات جھیل پر پریاں اُترتی ہیں، تخت سجایا جاتا ہے اور رقص ہوتا ہے۔
وہ دیر سے جھیل کنارے بنچ پر بیٹھا، برف سے اٹے پہاڑوں کو دیکھ رہا ہے جنھوں نے اپنے ہاتھوں کے بُک میں پانی کا یہ تھال اٹھا رکھا ہے۔ بچے ماں کے ساتھ گلیشیر کی طرف نکل گئے ہیں اور برف کے گولے بنا کر ایک دوسرے کی طرف پھینک رہے ہیں، وہ بنچ پر بیٹھا جھیل پر رقص کرتی دھوپ کی کرنوں کو دیکھے جا رہا ہے۔۔۔ یہ وقت بھی کیا شے ہے؟۔۔۔ ایک کروٹ، منظر بدل جاتا ہے۔۔۔ سارا ماحول سنسان ہوگیا ہے۔
برف پوش چوٹی سے چاند سَر نکالتا ہے، بوڑھا داستان گو کھنکھار کر گلا صاف کرتا ہے اور اُسے، کہ اب یہاں اس کے سوا کوئی نہیں، مخاطب کرکے کہتا ہے۔۔۔ ’’ تو سُنیے جناب ہزاروں برس پہلے اس جھیل کی تَہ میں ایک محل تھا جس میں ایک شہ زادی اپنی سہیلیوں کے ساتھ رہتی تھی۔‘‘
وہ لمحہ بھر کے لیے چونکتا ہے۔۔۔’’میں یہاں اکیلا ہوں، وہ سب مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں؟‘‘
لیکن دوسرے ہی لمحے داستان گو کی گونجتی آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر پلٹتی ہے۔۔۔ ’’ تو جناب یہ خوب صورت شہ زادی کسی کی منتظر تھی۔‘‘
’’کس کی؟‘‘
’’یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھی، لیکن کوئی اس کے دل میں سرگوشی کرتا تھا کہ کوئی یہاں آئے گا۔‘‘
’’وہ شہ زادی کسی جن کی قید میں تو نہیں تھی‘‘ وہ سوال کرتا ہے۔ داستان گو لمحہ بھر کے لیے سوچ میں ڈوب جاتا ہے۔
’’مقام۔۔۔ ہاں و ہ مقام کی قید میں تھی، اگر آپ اسے جِن کہتے ہیں تو کہا جا سکتا ہے۔‘‘
’’مقام کی قید۔۔۔ یہ وقت کی قید ہی ہے‘‘ وہ اپنے آپ سے کہتا ہے۔۔۔ ’’انسان کی بے بسی ہی اس کا خسارہ ہے۔‘‘
’’بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘ داستان گو دہراتا ہے۔
’’اُس نے یہ سب کھیل رچایا اور اسے خسارے سے بھی دوچار کیا‘‘ تو کیا وہ خود خسارے میں نہیں کہ اپنے بنائے کو خود ہی برباد کرتا ہے۔‘‘
مجذوب نے یاہُو کا نعرہ لگایا اور چیختی آواز میں بولا۔۔۔ ’’چُپ او بے ادب چُپ۔‘‘
اُس نے جھنجلا کر کہا ’’ بولنے کی بھی اجازت نہیں، میری بے بسی، اے میری بے بسی، میں خسارے میں ہوں۔‘‘
مجذوب اسی غصے میں بولا۔۔۔ ’’جب تُو بھیدوں کو نہیں جانتا تو بولتا کیوں ہے؟‘‘
’’بھیدوں کو جاننے کے لیے تو ظرف کی ضرورت ہے۔‘‘ مرشد نے کہا۔
’’یہ سارا کھیل وقت کا ہے، اور وقت مقام بھی ہے اور ماورائے مقام بھی۔‘‘
داستان گو نے کھنکھار کر گلا صاف کیا۔۔۔’’تو جناب شہ زادی کسی کی منتظر تھی۔ ہر چودھویں کی رات وہ محل سے نکل کر جھیل کنارے آتی، تخت سجایا جاتا، سہلیاں رقص کرتیں۔۔۔‘‘
’’اور آج چودھویں کی رات ہے‘‘ اُس نے سَر اُٹھایا۔۔۔’’ تھال سا چاند، روشنی کے کنارے کنارے بھرا، برف پوش چوٹی سے اُبھر کر تقریباً درمیان میں آگیا تھا۔۔۔ سُنا ہے چودھویں کی رات پریاں جھیل پر اُترتی ہیں، رقص کرتی ہیں اور۔۔۔ وہ بنچ پر اکیلا ہے، دور دور تک کوئی نہیں۔۔۔ ’’حیرت ہے گھر والے اسے یہاں چھوڑ گئے ہیں، انھیں احساس ہی نہیں کہ وہ ان کے ساتھ نہیں۔‘‘
’’تو جناب‘‘ داستان گو داستان کی گم شدہ کڑیاں جوڑتے ہوئے بولا ’’ایک دن شہ زادہ آ گیا۔۔۔ اڑن کھٹولے پر اُڑتا ہوا، شہ زادی نے اسے دیکھا، یہ تو وہی ہے جس کے وہ خواب دیکھتی رہی ہے۔‘‘
’’تو پھر۔۔۔‘‘ اُس نے بے خیالی میں پوچھا۔
داستان گو کو بات کاٹنا بُری لگی، چند لمحے خاموش رہا پھر کہنے لگا۔۔۔’’تو جناب اسی لمحے وہ جن جو مستور تھا، نمودار ہوگیا۔‘‘
’’وہی پرانی داستان، ایک ہی آغاز، ایک ہی انجام، خسارہ ہی خسارہ۔‘‘
مرشد چُپ، مجذوب چُپ، داستان گو تجسس قائم کرنے کے لیے لمحہ بھر خاموش، اور وہ جسے اس کے گھر والے بھول کر یہاں چھوڑ گئے تھے۔۔۔ چاند اب جھیل کے بالکل اوپر تھا، تخت سج چکا تھا، رقص شروع ہوچکا تھا لیکن تخت خالی تھا۔۔۔
’’شہ زادی کب آئے گی؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
داستان گو مسکرایا۔۔۔’’جِن نے شہ زادی کو جھیل کی تَہ میں قید کر دیا اور شہ زادے کو برف بنا کر پہاڑ کی چوٹی پر چپکا دیا، تو جناب۔۔۔‘‘
’’یہ جِن کہاں سے آگیا؟‘‘
’’کہیں سے بھی نہیں‘‘ مرشد بولا۔۔۔‘‘ وہ تو ہمیشہ سے شہ زادی کے اندر تھا۔‘‘
’’اثبات ہی میں نفی ہے‘‘ وہ بڑبڑایا۔۔۔‘‘ اور جب میں کچھ جاننے کی کوشش کرتا ہوں تو اعتقاد ڈول جاتا ہے، میں خسارے میں ہوں تو وہ بھی تو خسارے میں ہے۔‘‘
مجذوب نے پھر یاہو کا نعرہ بلند کیا۔۔۔‘‘ او بے ادب، تیرا ظرف نہیں، تو کیا بھیدوں کو جان سکتا ہے؟‘‘
’’شہ زادہ برف بنا پہاڑ کی چوٹی پر ہے اور شہ زادی جھیل کی تَہ میں۔۔۔ تو یہ رقص کس کے لیے ہے؟‘‘
’’تو جناب‘‘ داستان گو داستاں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔‘‘ یہ رقص انتظار کا ہے، بھیدوں کے افشا کا وقت آئے گا۔‘‘
’’کب۔۔۔؟‘‘
’’یہ تو کسی کو معلوم نہیں کب۔۔۔؟‘‘
’’کچھ بھید اُس نے اپنے آپ تک محدود رکھے ہوئے ہیں‘‘ مرشد بڑبڑاتا ہے۔۔۔
’’اور میں اس معاملے میں بے بس ہوں، اسی لیے خسارے میں ہوں‘‘ اُس نے خود سے کہا۔
’’تو جناب، یہ رقص انتظار کا ہے‘‘ داستان گو چوغا ٹھیک کرتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔‘‘ یہ عجب مقام ہے، یہاں آکر سب کچھ بھول جاتا ہے۔‘‘
اُس نے سر ہلایا۔۔۔’’ٹھیک کہتے ہو، مجھے میرے گھر والے بھول گئے ہیں‘‘۔۔۔ پھر خیال آیا۔۔۔’’کیا معلوم وہ سمجھتے ہوں میں ان کے ساتھ ہوں۔‘‘
کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا۔۔۔’’ تو وہ کون ہے جسے وہ اپنے ساتھ سمجھ رہے ہیں۔‘‘
’’وہ تمھی ہو‘‘ مرشد نے سرگوشی کی۔
’’لیکن میں تو یہاں ہوں۔‘‘
’’تم وہاں بھی ہو اور یہاں بھی‘‘مرشد مسکرایا۔
رقص جاری تھا، برف بنا شہ زادہ پہاڑ کی چوٹی سے جھانکتا ہے اور جھیل کی تَہ میں قید شہ زادی آہ بھرتی ہے۔
’’تو جن کہاں گیا؟‘‘
داستان گو اُس کے سوال پر خوش ہوا۔۔۔’’ آپ بڑی توجہ سے داستان سُن رہے ہیں، تو جناب! ہوا یوں کہ جن اپنی بے وقوفی سے محل میں بند ہوگیا۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
’’اُس نے باہر نکل کر دروازہ بند کرنے کی بہ جائے اندر ہی دروازہ بند کردیا اور غشی میں چلا گیا۔‘‘
’’تو ساری کہانی ایک دائرے میں ہے۔۔۔ وقت اور مقام کے دائرے میں قید، صرف شہ زادہ باہر ہے۔‘‘
’’شہ زادہ بھی باہر نہیں‘‘ مرشد بولا۔۔۔ یہ سب ایک ہی مقام ہے، کوئی چوٹی پر، کوئی تَہ میں اور ہم بھی جو برسوں بعد یہ کہانی سن رہے ہیں۔‘‘
مجذوب نے پھر نعرہ مستانہ بلند کیا۔۔۔ ’’بھید، بھید ہے جسے کوئی نہیں جانتا، سوائے اُس کے۔‘‘
’’باقی سب بے بس ہیں اور خسارے میں ہیں‘‘ مرشد بڑبڑایا۔

’’اور میں تو دہرے خسارے میں ہوں، میرے گھر والے جانے کسے، مجھے سمجھ کر ساتھ لے گئے ہیں۔‘‘
’’تو جناب!‘‘ داستان گو بولا۔۔۔’’ ابھی تھوڑی دیر میں چاند آگے نکل جائے گا اور پھر انتظار، اگلی چودھویں رات کا انتظار۔‘‘
’’تو میں اس وقت تک یہیں بیٹھا رہوں گا، اس کہانی میں ، میرا کیا کردار ہے؟‘‘
’’ہمارے کردار تو کہانی کار کے منشا کے مطابق ہیں‘‘ مرشد بولا۔۔۔’’ وہ چاہے تو کردار کو باقی رکھے، چاہے تو ختم کر دے۔‘‘
’’چاہے کہانی ہی بگڑ جائے‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’کہانی بھی وہ خود ہی ہے، وہی مقام ہے وہی وقت اور ہم سب خسارے میں ہیں۔‘‘
’’جب سب کچھ وہی ہے تو خسارے میں بھی وہی ہے۔‘‘
مجذوب چلایا۔۔۔ ’’گستاخ، بے ادب، چُپ، چُپ‘‘
مجذوب کی چیخ اور غصہ سے چیختی آواز نے چونکا دیا۔
روشنی کی کرنیں غائب ہوگئی تھیں، بارش کی کنیوں نے جھیل کی سطح پر رقص شروع کر دیا تھا، بیٹے نے اُس کے کندھے کو ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔’’ کن خیالوں میں گم ہیں ہم آپ کو کتنی دیر سے ڈھونڈ رہے ہیں اور آپ یہاں بیٹھے بھیگ رہے ہیں۔‘‘
اتنی دیر میں بیوی بھی آگئی۔۔۔’’ ارے آپ تو بُری طرح بھیگ گئے ہیں، اٹھیں اٹھیں جلدی اٹھیں۔‘‘
بارش جانے کب کی تیز ہو گئی تھی اور مسلسل پھوار جھیل کی سطح پر مجذوبوں کی طرح رقص کر رہی تھی! سر سے پائوں تک بھیگا ہوا داستان گو للچائی آواز میں کَہ رہا تھا، ایک ایک کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔’’ اس جھیل کی داستان سنیں گے۔ بس جناب سو روپے، پچاس، کچھ ہی جو آپ کا جی چاہے، جنابــ۔۔۔
اس جھیل کی داستان۔‘‘
لیکن داستان سننے کا وقت اور شوق کسے؟

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Niqaat

Niqaat

Quarterly Niqaat is highly regarded in literary circles as a literary magazine. Qasim Yaqoom founded it in 2006 and it is being published regularly.


Related Articles

لُون پلیتھن

پیدل پگڈنڈی کی ریت ابھی گرم تھی۔ میرے سامنے کے افق پر پیلے گؤ کے گھی میں تلے گئے انڈے کے جیسے سرخی مائل زرد سورج کو دن بھر کی مسافت دھیرے دھیرے کھائے جا رہی تھی۔

گدڑی

بھاری بھرکم مشینوں کی سمع خراش اور تخریب آمیز آوازیں میری نیند میں ایسی مخل ہوئیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے اپنے اوپر منوں بوجھ محسوس کیا۔

پارینہ لمحے کا نزول

محمد حمید شاہد: یک لخت مجھے یوں لگا کہ اُس کا قد بہت بڑا ہو گیا تھا۔ اس قدر بڑا کہ میں ایک چیونٹی جیسی ہو گئی۔ اُس کا وجود پورے گھر میں پھیل گیا اور میں کہیں بھی نہیں تھی ۔