فزکس کے سات ان سلجھے سوالات (پہلا حصہ)

فزکس کے سات ان سلجھے سوالات (پہلا حصہ)

تحریر : ڈین فاک
مترجم: فصی ملک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آئزک نیوٹن کا ابھی ٹائم مشین سے ظہور ہو جائے تو اسے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہو گی کہ فزکس نے کتنی ترقی کر لی ہے۔وہ چیزیں جو کبھی ایک معمہ تھیں ابھی کالج میں نئے آنے والے طالب علموں کو پڑھائی جاتی ہیں۔ستاروں کے اجزائے ترکیبی اس کی ایک مثال ہے۔
نیوٹن سوٹزرلینڈ میں لارج ہیڈرون تصادم گر جیسے تجربات کو دیکھ کر حیران ہو گا اور شاید یہ جان کر اچھا محسوس نہ کرے کہ اس کے تجاذبی نظریے کی جگہ ایک اور نظریے نے لے لی ہے جس کا خواب آئن سٹائن نامی ایک شخص نے دیکھا۔کوانٹم میکانیات اسے عجیب محسوس ہو گی ۔ خیر یہ تو دورِ عصر کے سائنسدانوں کو بھی ایسی ہی لگتی ہے۔

لیکن ایک بار جب وہ رفتار پکڑ لے گا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ نیوٹن جدید طبیعیات کی حاصل کردہ ترقی کی تعریف نہ کرے۔جو کہ انیسویں صدی میں روشنی کی ماہیت سے لے کر بیسویں صدی میں جوہر کی ساخت اور گزشتہ برس ہونیوالی تجاذبی امواج کی دریافت تک ہے۔تاہم اب بھی طبیعیات دان ان اولین لوگوں میں سے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ ان کے پاس تمام سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا اور نئی آنے والی کتاب " ہمیں کچھ معلوم نہیں: نامعلوم کائنات کی کت" کے مصنف ڈاکٹر ڈینیل وائٹ سن کا کہنا ہے کہ کچھ ایسی بنیادی سچائیاں ہیں جن سے ہم ناواقف ہیں۔
ذیل میں فزکس کے سات ان سلجھے سوالات کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔

1۔ مادہ کس شئے کا بنا ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ مادہ جوہروں سے مل کر بنا ہے اور جوہر برقیوں(electrons)، اولیوں(Protons) اور تعدیلیوں(Neutrons) سے مل کر بنے ہیں۔اور ہم جانتے ہیں کہ برقیے، اولیے اور تعدیلیے چھوٹے ذرات سے مل کر بنے ہیں جن کو ہم کوارکس کہتے ہیں۔کیا مزید دقیق تحقیق ان سے بھی اساسی ذرات سے پردہ اٹھائے گی؟ ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے!

ہمارے پاس کچھ ہے جس کو ہم ذراتی ظبیعیات کا سٹینڈرڈ ماڈل کہتے ہیں۔ اور جو زِیر جوہری ذرات کے درمیان تعاملات کی بہت اچھی وضاحت کرتا ہے۔سٹینڈرڈ ماڈل کو پہلے سے نامعلوم ذرات کے وجود کی پیش گوئی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس طریقے سے ملنے والا آخری ذرہ ہگز بوزان تھا جس کو محققین نے 2012 میں LHC میں دریافت کیا۔

لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔

فرمی لیب کے طبیعیات دان ڈان لنکن کا کہنا ہے کہ سٹینڈرڈ ماڈل ہر چیز کی وضاحت نہیں کرتا۔یہ یہ نہیں بتاتا کہ ہگز بوزان اپنا وجود کیوں رکھتا ہے۔یہ تفصیل میں یہ نہیں بتاتا کہ ہگز بوزان کی جتنی کمیت ہے اتنی کیوں ہے۔ درحقیقت ہگز متجوزہ کمیت سے بہت زیادہ ہلکا نکلا ہے۔نظریہ یہ کہتا ہے کہ اس کی کمیت اس کی موجودہ کمیت سے ایک پدم (دس کی طاقت پندرہ) گنا زیادہ ہونی چاہیے۔

2۔ تجاذب اتنا عجیب کیوں ہے؟

تجاذب سے زیادہ عام کوئی قوت نہیں ہے کیوں کہ یہی تو ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے پاؤں زمین پر جمائے رکھتے ہیں۔اور آئنسٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت تجاذب کے ریاضیاتی کلیات فراہم کرتا ہے اور اس کو زمان و مکان کے خم کی صورت میں بیان کرتا ہے۔لیکن تجاذب باقی تمام معلوم قوتوں (برقناطیسی اور نحیف اور قوی نیوکلیائی ) سے ایک لاکھ پدم پدم(دس کی طاقت چھتیس) گنا کمزور ہے۔

اک ممکنہ حل جو ابھی محظ خیالی ہے یہ ہے کہ زمان کی ان تین ابعاد، جن کو ہم روز مرّہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں، کے علاوہ زائد مخفی جہات (extra hidden dimensions )بھی ہیں جو ہو سکتا ہے کہ اس طرح الجھی ہوں کہ ان کو دیکھنا ممکن نہ ہو۔اگر یہ زائد ابعاد وجود رکھتی ہیں اور اگر تجاذب ان میں خارج ہو جانے کے قابل ہے تو پھر یہ اس امر کی وضاحت کر سکتا ہے کہ تجاذب اتنا کمزور کیوں ہے۔

وائٹ سن کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے تجاذب بھی باقی قوتوں کے جتنا ہی مضبوط ہو لیکن ان زائد غیر مرئی ابعاد میں خارج ہو جانے کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہو۔ کچھ طبیعیات دان یہ امید رکھتے ہیں کہ LHC میں ہونے والے تجربات زائد ابعاد کے بارے میں کوئی سراغ فراہم کریں گے۔لیکن اس میں ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔

3۔ وقت ایک ہی سمت میں جاتا کیوں دکھائی دیتا ہے؟

آئن سٹائن کے بعد سے طبیعیات دانوں نے زمان و مکان کو ایک چار ابعادی ساخت کی صورت میں سوچا ہے۔لیکن زمانہ وقت سے کچھ بنیادی لحاظ سے مختلف ہے۔ہم سپیس میں کسی بھی سمت میں حرکت کر سکتے ہیں۔ لیکن جب بات وقت کی آتی ہے تو ہمارے ہاتھ بندھے ہیں۔ہم بوڑھے ہوتے ہیں جوان نہیں، اور ہم ماضی کو یاد رکھتے ہیں مستقبل کو نہیں۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ زمانے کے برعکس وقت ایک خاص سمت کو ترجیح دیتا ہے۔طبیعیات دان اسے وقت کا دھارا (arrow of time) کہتے ہیں۔

کچھ طبیعیات دانوں کا خیال ہے کہ حرحرکیات(thermodynamics) کا دوسرا قانون اس بارے میں کچھ سراغ فراہم کرتا ہے۔یہ یہ کہتا ہے کہ کسی بھی طبیعی نظام کی ناکارگی(جو کہ انتشار کی مقدار ہے) وقت کے ساتھ بڑھتی ہے۔اور طبیعیات دانوں کا خیال ہے کہ یہ زیادتی وقت کو ایک سمت فراہم کرنے کی وجہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک ٹوٹی ہوئی پیالی کی ناکارگی(entropy) ایک ثابت پیالی سے زیادہ ہوتی ہے۔اور یقیناً ٹوٹے ہوئے کپ ثابت سے ہی وجود میں آتے ہیں نا کے اس کے برخلاف۔

ممکن ہے ناکارگی اب اس لیے بڑھ رہی ہے کیوں کہ یہ پہلے کم تھی۔لیکن یہ پہلے کم کیوں تھی؟ کیا چودہ ارب سال قبل جب کائنات بگ بینگ سے وجود میں آئی تھی تو اس کی ناکارگی غیرمعمولی حد تک کم تھی؟

کچھ طبیعیات دانوں بشمول کال ٹیک کے شان کیرول کے یہ پہلی کا گمشدہ ٹکرا ہے۔کیرول کا کہنا ہے کہ اگر آپ مجھے یہ بتا دیں کہ ابتدائی کائنات کی ناکارگی کم کیوں تھی تو باقی کی وضاحت میں خود کر سکتا ہوں۔وائٹ سن کی نظر میں ناکارگی مکمل کہانی نہیں ہے۔اس کا کہنا ہے کہ میرے نزدیک سوال کا سب سے عمیق حصہ یہ ہے کہ زمان مکان سے اتنا مختلف کیوں ہے۔(حالیہ کمپیوٹر نقالیں(computer simulations) یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ کیسے وقت میں عدم تشاکل طبیعیات کے قوانین سے ظاہر ہوا ہو گا۔لیکن یہ کام متنازعہ ہے اور وقت کی حتمی ماہیت پرجوش بحث کا موجب بنی رہتی ہے)۔

4۔ تمام کا تمام ضد مادہ کہاں گیا؟

ہو سکتا ہے ضد مادہ حقیقی زندگی سے زیادہ افسانوں میں مشہور ہو۔پہلی سٹار ٹریک میں ضد مادہ مادہ کے ساتھ تعامل کر کے وارپ ڈرائیو کو قوت فراہم کرتا ہے۔ جو پھر USS Enterprise کو زائدالضیا (superluminal) رفتار سے حرکت کراتی ہے۔جتنی وارپ ڈرائیو ایک افسانوی شئے ہے، ضد مادہ اتنا ہی حقیقی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ؐادہ کے ہر ذرے کے لیے ایک ہو بہو مگر مخالف برقی بار کا ایک ذرہ ہوتا ہے۔مثال کے طور پر پراؤان کا ضد ذرہ پروٹان جیسا ہی ہوتا ہے لیکن اس پر بار منفی ہوتا ہے۔منفی بار والے الیکٹران کا ضد ذرہ مثبت بار والا پازیٹران ہوتا ہے۔طبیعیات دانوں نے ضد مادہ کو تجربہ گاہ میں پیدا کیا ہے لیکن جب وہ ایسا کرتے ہیں تو اتنی ہی مقدار میں مادہ بھی پیدا ہوتا ہے۔یہ بتاتا ہے کہ بگ بینگ میں لازمی طور پر مادہ اور ضد مادہ کی برابر مقدار بنی ہوگی۔لیکن ہم اپنے ارد گرد ، اپنے پاؤں کے نیچے گراؤنڈ سےلے کر دور دراز کہکشاؤں تک جو بھی دیکھتے ہیں، سب عام مادہ کا بنا ہوا ہے۔

کیا وجہ ہے؟ یہاں مادہ ضد مادہ سے زیادہ کیوں ہے؟ہمارا بہترین اندازہ یہ ہے کہ بگ بینگ نے ضد مادہ کی نسبت مادہ کی تھوڑی سی زیادہ مقدار پیدا کی۔لنکن کا کہنا ہے کہ کائنات کی ابتدائی تاریخ میں صرف یہ ہونے کی ضرورت تھی(بگ بینگ کے فوری بعد کے لمحات میں) کہ ایک ارب ضد مادہ کے ذرات کے لیے مادہ کے ایک ارب اور ایک ذرہ پیدا ہوں۔اور ایک ارب مادہ اور ضد مادہ کے ذرے فنا ہو گئے اور مادہ کا ایک ذرہ باقی رہ گیا اور یہ مادہ کی وہ تھوڑی سی کمیت سے جس سے ہم سب بنے ہیں۔

لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ ضد مادہ کی نسبت مادہ کی تھوڑی سی زیادہ مقدار کیوں؟لمکن کا کہنا ہے کہ ہم اس کو نہیں سمجھ پائے۔ اگر شروع میں مادہ اور ضد مادہ کی مقدار برابر ہوتی تو وہ توانئی کے ایک دھماکے میں فنا ہو جاتے اور اس میں ہمارا وجود نہ ہوتا۔

ہو سکتا ہے ہمارے پاس 2026 میں جواب آئیں جب زیرِ زمیں تعدیل نما تجربی (DUNE) اپنا سمارہ اکٹھا کرنا شروع کرے۔DUNE تعدیل نماؤں (neutrinos) کا تجربہ کرے گا جو صفر برقی بار اور تقریباً بے کمیت ذرات ہیں۔ان کو فرمی لیب سے 800 کلو میٹر دور جنوبی ڈکوٹا میں موجود سٹانفرڈ زیرِ زمین تحقیق گاہ تک دوڑایا جائے گا۔یہ شہتیر(Beam) تعدیل نماؤں اور ضد تعدیل نماؤں پر مشتمل ہو گا۔اور اس میں اس چیز کا مشاہدہ کیا جائے گا کہ آیا ان کا برتاؤ ایک جیسا ہے یا نہیں۔اس سے ہمیں کائنات میں موجود مادہ اور ضد مادہ میں عدم تشاکل کے سراغ ملیں گے۔

5۔ ٹھوس اور مائع کے درمیانی خطے میں کیا ہوتا ہے؟

ٹھوس اور مائعات کی تفہیم بہت اچھی طرح کی جا چکی ہے۔لیکن کچھ میٹیرئل ٹھوس اور مائع دونوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔اور اس طرح سے ان کے برتاؤ کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر ریت۔ ریت کا ایک ذرہ چٹان کی طرح سخت ہوتا ہے۔لیکن دس لاکھ ذرے قیف میں پانی کی طرح بہہ سکتے ہیں۔سڑک پر چلتی گاڑیوں کا برتاؤ بھی اسی طرح کا ہوتا ہے۔وہ بھی آزادانہ گھومتی ہیں جب تک کہ کسی روکاوٹ پر رک نہ جائیں۔

لہٰذا اس درمیانی خطے کی تفہیم کے بہت سے عملی اطلاقات ہو سکتے ہیں۔

ماؤنٹ ہولیوک کالج کے طبیعیات دان کرسٹن نارڈسٹرام کا کہنا ہے کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کون سی صورتِ حال میں نظام رک یا جم جاتا ہے۔ وہ کون سے پیرامیٹر ہیں ہیں جس سے ہم اس جمنے کے عمل کو روک سکتے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ عجیب تو یہ ہے کہ کچھ حالات میں ٹریفک کے راستے میں روکاوٹ ٹریفک جام کو روک سکتی ہے اور یہ بہت ضد ادراکی ہے۔

6۔کیا ہم فزکس کا نظریہِ کل دھونڈ سکتے ہیں؟

ہمارے پاس دو نظریات ایسے ہیں جو تقریباًتمام طبیعی مظاہر کی وضاحت کرتے ہیں۔آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکانیات۔اول الذِکر گولف کی گیند سے لے کر کہکشاؤں تک ہر شئے کی توضیح کرتا ہے۔کوانٹم میکانیات اپنی حد میں اتنی ہی بااثر ہے۔

مسلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات بہت مختلف الفاظ میں ہماری دنیا کو بیان کرتے ہیں۔کوانٹم میکانیات میں واقعات زمان و مکان کے پردے پر رونما ہوتے ہیں۔جب کہ عمومی اضافیت میں زمان و مکان خود لچکدار ہے۔منحنی زمان و مکان کا نظریہ کس طرح کا ہو گا؟شان کیرول کا کہنا ہے کہ ہم نہیں جانتے، اس کا کہنا ہے کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ کس چیز کو کوانٹائز کرنا ہے۔

لیکن اس نے لوگوں کو کوشش کرنے سے نہیں روکا۔دہائیوں سے سٹرنگ نظریے(جس میں مادہ کو توانائی کی مرتعش ڈوریوں یا حلقوں کی صورت میں گمان کیا جاتا ہے)کو نظریہِ کل کے بہترین امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔لیکن کچھ طبیعیات دان حلقوئی کوانٹم تجاذب(loop quantum gravity) کو ترجیح دیتے ہیں۔جس میں سپیس کو چھوٹے چھوٹے حلقوں پر مشتمل گمان کیا جاتا ہے۔

ہر نقطہِ نظر نے کامیابی کا کچھ نہ کچھ لطف لیا ہے۔خاص کر جو تیکنیک سٹرنگ نظریے نے دی ہے اس سے فزکس کے کچھ مشکل سوال حل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ لیکن سٹرنگ نظریہ یا حلقوئی کوانٹم تجاذب دونوں کو ابھی تک عملی طور پر نہیں جانچا گیا۔لیکن کافی عرصہ سے چاہا جانے والا نظریہ کل ہم سے بچتا جا رہا ہے۔

7۔ زندگی کا ارتقا بے جان مادہ سے کیسے ہوا؟

پہلے آدھے ارب سالوں تک زمین زندگی سے خالی تھی۔ پھر زندگی نے جگہ سنبھال لی اور اس کے بعد سے یہ مسلسل پھیلتی جا رہی ہے۔لیکن زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ حیاتیاتی ارتقا سے پہلے کیمیائی ارتقا ہوا۔جس میں سادہ غیر نامیاتی سالمات نے مل کر گنجلک نامیاتی سالمات کو جنم دیا۔افضل امکان یہ ہے کہ یہ کام شاید پہلے سمندروں میں ہوا ہو لیکن کس عمل نے سب سے پہلے اسے شروع کیا؟

ایم آئی ٹی کے طبیعیات دان جریمی انگلینڈ نے حال ہی میں ایک نظریہ پیش کیا ہے۔جس میں اس نے آفرینشِ زندگی کو فزکس کے بنیادی اصولوں سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کی نظر میں زندگی ناکارگی کے بڑھنے کا ناگزیر نتیجہ ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظریہ صحیح ہے تو زندگی کا ظہور ہونا اتنا ہی حیران کن ہے جتنا ڈھلوان سے لڑھکتا ہوا پتھر۔

یہ خیال تھوڑا سا تصوراتی ہے تاہم حالیہ کمپیوٹر نقالیں اس جانب امکان فراہم کرتے ہیں۔نقالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عام کیمیائی تعاملات(اس طرح کے جو نئی زمیں پر بہت زیادہ عام رہے ہوں گے)اچھی ساخت والے مرکبات کو جنم دے سکتے ہیں۔جو بظاہر جانداروں کی پیدائش کی جانب ایک قدم ہے۔

زندگی کا علم ایک طبیعیات دان کے لیے مشکل کیوں ہے؟ طبیعیات دان یہ کہے گا کہ ہر وہ چیز جو زندہ ہے وہ توازن سے بہت دور ہے۔ ایک نظام جو توازن میں ہوتا ہے اس میں ایک جز تقریباً دوسرے کی طرح ہوتا ہے۔اور اس کے اندر یا باہر توانائی کا انتقال نہیں ہوتا۔(ایک چٹان یا بھی گیس سے بھرا ڈبہ اس کی مثالیں ہیں)۔ زندگی اس سے بالکل مخالف ہے۔ مثال کے طور پر ایک پودا سورج سے ضیا کو جذب کرتا ہے اور اس کو استعمال کر کے شوگر اور دوسرے پیچیدہ سالموں کو بناتا ہے اور حرارت کو ماحول میں خارج کرتا ہے۔

ٹورنٹو یونیورسٹی کے طبیعیات دان سٹیفن مورس کا کہنا ہے کہ "ان پیچیدہ نظاموں کی فہم فزکس کے بڑے ان سلجھے مسلوں میں سے ایک ہے۔ ان نظاموں کو ہم کیسے لیں جو توازن سے بہت دور ہیں اور خود کو زندگی جیسے پیچیدہ اور حیران کن اشکال میں ترتیب دیتے ہیں"۔

Fasi Malik

Fasi Malik

Fasi Malik teaches physics at a federal college.


Related Articles

Einstein was right

The signal was converted into sound and heard by scientists at LIGO as a chirp which lasted merely for one fifth of a second.

وجودِ کائنات

رابرٹ ایڈلر: جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔

کائنات یا کائناتیں؟

فلپ بال: متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں-- کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔