فلسطینیوں کے نام ایک محبت نامہ

فلسطینیوں کے نام ایک محبت نامہ
ہمیں نعرے لگانے ہیں
ہمیں جوشیلے لفظوں کے سبھی ٹائر جلانے ہیں
تدبر کی، تفکر کی یہاں ساری ٹریفک جام کرنی ہے
ہمیں ہڑتال بھی اک عام کرنی ہے
تم اپنے بچے جلواؤ گے، نعرے ہم لگائیں گے،
تم اپنی مائیں ، بہنیں، بیٹیاں اک بار مرواؤ گے
ہم امت کے اس غم میں خود اپنا شہر لوٹیں گے، لہو میں ڈوب جائیں گے۔
کہ ہم جیسا نہیں ہمدرد کوئی
اے محمد مصطفٰیﷺ یاں تیری امت کا
اگر مارے غنیم اک امتی تیرا
تو ہم اس امتی پر سینکڑوں گھر آپ اپنے وار سکتے ہیں۔
خود اپنے شہر میں لاشوں بھری سب بوریاں کب یاد ہیں ہم کو۔
بس اک تصویر ہم کو چاہیے مولٰی
کہیں خوں میں نہائے ایک لاشے کی
ہمارے پاس دیں کی نذر کو یہ آبگینہ ہے
جھلکتی ہے تری امت کی جس میں آبرو اب تک
Zafar Khan

Zafar Khan

Zafar Khan is a teacher and poet. He lives in Pennsylvania, United States.


Related Articles

زمانہ اپنی سختیوں کے ساتھ کھڑا ہے

عذرا عباس: وہ بھوکے پیٹ سہم جائیں گے
پہلے ایک دوسرے کا منہ تکیں گے
پھر اپنی اپنی کھڑکیاں بند کر لیں گے

طویل افسانے کی نظری اساس

صنف کی شناخت،ادبی صنف کاتعین،ادبی صنف کے امتیازی نشانات،ہیئت ومواد کی سطح پر صنف کے فاصلاتی وشناختی خصائص کی نشاندہی،یہ

مزاح کی مابعد الطبعیات

عبدالمجید عابد: ہمارے معاشرے میں پدر شاہی نظام، فوج، ذات پات کے نظام اور ملا کی اجاری داری ہے۔ عمدہ لطائف وہ ہوں گے جو ان برتر قوتوں پر چوٹ کریں، ان کی بے مائیگی پر طنز کے نشتر چلائیں، ان کے استبداد کی مخالفت کریں۔