'فوج کے ہاتھوں پٹنے والے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں' آئی ایس پی آر کا انکشاف

'فوج کے ہاتھوں پٹنے والے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں' آئی ایس پی آر کا انکشاف
یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

راولپنڈی: گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی ٹویٹس میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ (المعروف گوئبلز) نے موٹر وے پولیس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ملک دشمن موٹر وے پولیس کی جانب سے فوج کے خلاف رچائی جانے والی "اٹک سازش کیس" کے مقدمات قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کا اعلان کیا۔

میجر جنرل عاصم باجوہ نے پارلیمان سے موٹروے پولیس پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کرنےاور تمام فوجی ڈرائیوروں، سابق فوجیوں، فوجی افسران کی بیگمات، ہمسایوں اور خانساماوں کے لیے چالان فری ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ قومی شاہراہوں، بحر ظلمات اور شاہراہ دستور پر جیپوں، ٹینکوں اور فوجی ٹرکوں کی آمدورفت کی اہمیت واضح کرنے کے لیے انہوں نے نسیم حجازی کے ناول کے اقتباسات اور اقبال کے اشعار بھی ٹویٹ کیے۔

براہ راست ٹویٹس کے اس سلسلے میں انہوں نے 'اٹک سازش کیس' کی حقیقت عوام پر واضح کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس مقصد کے لیے آئی ایس پی آر کے صدر دفتر میں قائم گرافکس ڈویژن نے لائسنس یافتہ فوٹوشاپ خریدنے کے لیے بجٹ طلب کر لیا ہے۔ گرافکس ڈویژن نوشہرہ میں پیش آنے والے واقعے کی حقیقی فوٹیج سامنے لانے کے لیے جیمزکیمرون کی خدمات حاصل کرے گا۔جیمز کیمرون اس مقصد کے لیے واہ انڈسٹریز ٹیکسلا میں تیار کردہ سی جی آئی الخالد ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔

آئی ایس پی آر کے آفیشل اکاونٹ سے شیئر کی گئی یہ ٹویٹس بلوچ لڑکیوں، عسکری لاڈلوں اور سینیئر صحافیوں نے متعدد مرتبہ ری ٹویٹ کیں۔ ان ٹویٹس کی اشاعت کے بعد دفاع پاکستان کونسل نے فوج کے مطالبات کی منظوری تک ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنے اور احتجاجی ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اس قانون کو پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے طے کیے جانے والے ٹرمز آف ریفرنس میں بھی شامل کرائے گی۔

سابق ایس ایس جی کمانڈو جنرل پرویز مشرف نے (ریڑھ کی ہڈی نہ ہونے کے باوجود) اس واقعے کو بنیاد بنا کر اپنی انتخابی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ شیخ رشید کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اگر حکومت نے یہ مطالبات تسلیم نہ کیے تو اگلی عید سے پہلے اس کی 'سرعام قربانی' دی جائے گی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری پر ٹریفک انتظامات فوج کے حوالے کئے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسی صورت حال پیش نہ آئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فوج کے بعض ڈرائیوروں نے شاہراہ دستور کی غلط جانب ڈرائیونگ کرتے ہوئے غلطی سے وزیراعظم ہاوس اور پاکستان ٹی وی کو جانے والی سڑکوں پر اپنے ٹرک موڑ لیے تھے تاہم ماضی میں کبھی ایسی غلطیوں پر چالان کاٹنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔

Related Articles

معلومات تک رسائی کا قانون

1973 کے آئین کے آرٹیکل 19 میں ریاست شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیتی ہے مگر یہ قانون صرف کاغذی حد تک رہا

احتجاج کا حق اور سڑکوں کی سیاست

مظاہرین کی جانب سے اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے درمیان حد فاصل کہاں کھینچی جائے گی اس کا دارومدار ہمیشہ کسی ریاست میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور تسلسل پر ہے۔

اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ

معاف کرنا، تمہیں پچھلا خط محبت کے ساتھ لکھا تھا مگر یہ خط تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔