فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

اسد محمد خان کا یہ انٹرویو رفاقت حیات نے ان کی رہائش گاہ پر کیا۔ اسد محمد خان کا یہ انٹرویو اس سے قبل "ادبی دنیا" پر بھی شائع ہو چکا ہے۔

اسد محمد خاں صاحب نے جب مجھے فون پر اپنا پتہ بتایا تو میں ”واجد اسکوائر“ کا نام سن کر چونکا۔ واجد اسکوائر۔ مجھے یاد آیا کئی برس پہلے اردو ادب کے نقاد اور افسانہ نگار شہزاد منظر اور مایہ ناز شاعر، نقاد اور ریڈیو براڈکاسٹر حمید نسیم بھی تو اسی واجد اسکوائر میں رہا کرتے تھے اور تب میں ان سے ملنے وہاں جایاکرتا تھا۔ اسی لئے میں نے اسد محمد خان صاحب سے فوراً کہہ دیا۔ یہ جگہ میری دیکھی بھالی ہے۔ میں باآسانی پہنچ جاﺅں گا۔

اسد محمد خاں صاحب سے انٹرویو کے لیے اتوار کا دن اور گیارہ بجے کا وقت طے ہوا تھا۔ اتوار کا دن کراچی کی سڑکوںاور گلیوںکے لئے آرام کا دن ہوتا ہے۔ اسی لئے شہر کی سڑکیں اور گلیاںہفتے بھر کی ہنگامہ خیزی کے بعداس دن ذرا دیر تک اونگھتی رہتی ہیں۔ میں اپنے شاعر دوست ذوالفقارعادل کے ہم راہ اس علاقے میں پہنچا تو میری یادداشت نے میرا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ کیوں کہ میں یہاں آخری بار ۸۹۹۱ ءمیں آیا تھا۔ تب سے اب تک یہاں بہت سی نئی عمارتیں بن گئی تھیں۔ ہمیں ایک ہوٹل پر بیٹھے لوگوں سے واجد اسکوائر کاراستہ پوچھناپڑا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلی سڑک پہ واجد اسکوائر ہے۔ ہم آگے چل پرے۔

واجد اسکوائر اپارٹمنٹ کے مین گیٹ پر چوکیدار نے ہمیں روکا۔ ہم نے اسے بتایا کہ ہم اسد محمد خان صاحب سے ملنے آئے ہیں۔ وہ ہمیں ان کے اپارٹمنٹ کا نمبر بتانے لگا تو ہم نے اسے کہہ دیا کہ ہمیں اپارٹمنٹ کا نمبر معلوم ہے۔ میرے شاعر دوست ذوالفقار عادل نے اپنی موٹر سائیکل واجد اسکوائر کے اے بلاک میں اپارٹمنٹ نمبر اے۔ 11 کے سامنے روک دی۔ واجد اسکوائر کے تمام بلاک انگریزی کے حرف” I“ جیسے ہیں،جو کمپاوئنڈ کی چوڑائی میں ایک سرے سے دوسرے تک چلے جاتے ہیں۔ ہر بلاک پانچ منزلوں پرمشتمل ہے۔ اسدمحمد خاں صاحب کا اپارٹمنٹ پہلی منزل پر واقع ہے۔ ہم دونوں سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل تک پہنچے۔ یہاں آمنے سامنے دو اپارٹمنٹ تھے۔ ایک کے باہر دیوار میں نصب، دھات سے بنی چھوٹی سی نام کی تختی پر اردو میں جلی حروف میں ”اسد محمد خان“ لکھا ہوا تھا۔

ہم نے دروازے کے ساتھ دیوار میں نصب گھنٹی بجائی تو کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور بیگم اسد محمد خاں نمودار ہوئیں۔ ہم نے مودبانہ سلام کیا۔ انہوں نے دروازہ کھولا۔ ہم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔ اسد محمد خاں صاحب کی آمد سے قبل انہوں نے ہماری تواضع کی۔ ہم شربت پیتے اسد صاحب کا انتظار کرنے لگے۔

اسد صاحب کا ڈرائینگ روم ان کی نثر کی طرح کسی بھی قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا۔
مختصر سا ڈرائینگ روم سادگی اور سلیقے سے آراستہ تھا۔ دیواروں پر کسی عظیم مصور کی کسی شہرہ آفاق پینٹنگ کا کوئی عکس آویزاں نہیں تھا۔ بیٹھنے کے لئے عام سا صوفہ سیٹ اور اس کے برابر میں ایک چھوٹی سی شیشے والی الماری رکھی تھی۔ الماری پر حبیب یونیورسٹی کی جانب سے اسد محمد خاں صاحب کے ساتھ منائی جانے والی ایک شام کا سووینیئررکھا تھا۔ اس کے برابر میں تہذیب فاﺅنڈیشن کی جانب سے ملنے والے ایوارڈ کی یادگاری شیلڈ رتھی۔ اور برابر میں لکڑی سے بنا ہوا گھوڑے کا ایک میورل رکھا تھا۔ شیشے والی الماری تین خانوں پر مشتمل تھی۔ پہلے خانے میں رنگین برتنوں والے شوپیس رکھے تھے جب کہ دوسرے خانے میں اسد صاحب کی اب تک چھپنے والی تمام کتب سجی ہوئی تھیں۔ اس سے نیچے والے خانے میں لغات اور کچھ نئے ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں رکھی تھیں۔ اس ڈرائینگ روم کی دو کھڑکیاں باہر کی طرف کھلتی تھیں۔ ان کھڑکیوں سے واجد اسکوائر سے ملحق کسی دوسرے اسکوائر کے فلیٹ دکھائی دے رہے تھے۔ کھلی ہوئی کھڑکیوں سے روشنی اندر آرہی تھی۔
اسد صاحب کا ڈرائینگ روم ان کی نثر کی طرح کسی بھی قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ خود تشریف لے آئے۔ انہوں نے ہم سے پرتپاک انداز میں مصافحہ کیا اور صوفے پر بیٹھ گئے۔ ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ جب گفتگو شروع ہوئی تو انہوں نے اپنے مخصوص دھیمے اور نپے تلے لہجے میں گفتگو شروع کی:

سوال:آپ حال ہی میں نیو دہلی، انڈیا میں منعقدہ جشنِ ریختہ میں شرکت کرکے لوٹے ہیں۔ ایسے جشن اور ادبی میلے، جو آج کل بہت زیادہ ہورہے ہیں۔ آپ کے خیال میں ان کے اردو ادب اور ہماری ادبی دنیا پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
اسد محمد خاں: ایک بنیادی بات یہ ہے کہ،آج کے دور میں ہمارے ہاں کتاب کے خریدار بہت کم ہیں۔ اگر میں اپنے زمانہ طالب علمی کی بات کروں، جب میں ایس ایم کالج اور کراچی یونیورسٹی میں طالب علم تھا، اس زمانے میں ظاہر ہے، نصاب کے علاوہ بہت کم کتابیں چھپا کرتی تھیں، مگر پھر بھی کتابیں خریدنے کا چلن عام تھا۔ اور پنجاب میں خاص طورپر لاہور جو ڈھائی سو برسوں سے اشاعت کا مرکز رہا ہے۔ منشی پریم چند کی پہلی کتاب وہیں چھپی تھی اور ملک بھر مقبول بھی ہوئی تھی۔ منشی پریم چند نے بھی یہ بات کہی تھی کہ لاہور برِصغیر میں کتابوں کی اشاعت اور فروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ تو جب سے لے کر آج تک یہی روایت چلی آرہی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ یہاں کراچی میں اور دوسری جگہ پر کتنے ہی پبلشر آئے مگر جم نہ سکے۔ جبکہ لاہور میں نسل در نسل کتاب چھاپنے اور خریدنے کی ایک روایت چلتی رہی۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کا تعلق کسی پڑھے لکھے یا ادبی گھرانے سے ہو، تب ہی آپ کو کتاب خریدنے کا شوق ہو۔ پنجاب میں ایک عام آدمی بھی کتاب خریدتا ہے اور رکھتا ہے۔ یہ ایک بہت دل خوش کن صورت حال ہے۔ میں بھی بہر حال لاہور سے کتاب چھپواناچاہتا تھاتو۰۱۰۲ءمیں ایک جانے مانے پبلشر نے مجھ سے میری کتاب شائع کرنے کی اجازت مانگی، میں نے اجازت دی اور ساتھ ہی کچھ اپنی کتابوں کا مواد فراہم کیا۔ اب وہ میری کتابیں چھاپتے ہیں۔ ریختہ جیسے جشن اور پاکستان اور ہندوستان میں ہونے والے ادبی میلوں کی وجہ سے بھی ان ملکوں میں کتابیں فروخت ہونے لگی ہیں اور زیادہ سے زیادہ شہروں تک پہنچ رہی ہیں۔
دیکھیے! یہ اشتہار وں کا دور ہے۔ گزشتہ پندرہ بیس برسوں سے تمام شعبہ ہائے زندگی پر اشتہار غالب آگئے ہیں۔ ان کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ آج کل تو مذہبی حضرات بھی اپنے گھروں کے باہر اشتہار لگوادیتے ہیں کہ اگر کسی کو مغفرت کروانی ہے تو ان اوقات میںتشریف لائیے۔ یعنی آج کے دور میں اشتہار بازی کا سہارا لیے بغیر مغفرت کی دعا کرنے والا بھی دستیاب نہیں ہوتا۔
خیر چھوڑیے۔ ۔ ۔ میں اپنی ابتدا کی بات کر رہا تھا۔ ان دنوں سینیئرز میں ایک شانِ بے نیازی ہوتی تھی۔ جوہم نے بھی ا پنے بڑوں مثلاً اطہر نفیس، محشر اور سلیم احمد وغیرہ میں دیکھی:انہیں شعر کہتے دیکھ کر ہمیں بھی ہمت ہوئی کہ ہم بھی شعر کہیں یا گیت لکھیں۔ کیوں کہ وہ بڑے قلم کار کمال سلیقے سے شعر گوئی کر رہے تھے اور پوری سچائی سے ادب سے جڑے ہوئے تھے۔
میں جہاں پیدا ہوا، وہاں کا حال یہ تھا کہ ادب سے زیادہ جاسوسی ناول اور دیگر سنسنی خیز چیزیں چھپا کرتی تھیں۔ ہم اپنے ناناکو سب حکایات اور داستانیں اور طلسمات پڑھتے ہوئے دیکھا کرتے تھے، یعنی عام دلچسپی کی کہانیاں، بہرام ڈاکو، سلطانہ ڈاکو اور اس جیسے دوسرے قصے بھی۔ یہ سب وہ بڑے اہتمام سے اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ پریم چند کی کتابوں کا پورا سیٹ بھی ان کے پاس ہوتا تھا۔ اور اگر کوئی نئی کتاب دلی یا لاہور سے چھپتی تھی تو وہ اسے فوراً حاصل کرتے تھے۔ یہ تو بہت پرانی باتیں ہوئیں مگر بعد میں ہمارا معاشرہ کتاب سے دور ہونے لگا۔ معاشرے کی کتاب سے یہ دوری فیسٹیولز جیسے اجتماعات کے بغیر ختم نہیں ہو سکتی تھی۔ انہوں نے پبلشرز کو رائٹرز کے ساتھ جوڑا۔ رائٹرز کو اس سے پہلے پبلشرز کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ اس سے پہلے جو پبلشرز ہوتے تھے، کسی ایک مقبول رائٹر پر قبضہ کرلیتے تھے اور پھر دھڑادھڑ اسی کی کتابیں چھاپتے رہتے تھے۔ یعنی یہ ہوتا تھا کہ شاعری اور سنجیدہ ادب کی کتابیں پبلشر چھاپنے پرتیار نہیں ہوتے تھے۔ افسانوں کی اشاعت پبلشرز کے لئے پرکشش تھی کیوں کہ اکثر لو گ سلسلہ وار کہانیاں پڑھنا چاہتے تھے۔ بہر حال کراچی میں جتنے بھی ادبی میلے ہوئے میں وہاں جاتا رہا۔ پانچ سات بار لاہور اور اسلام آباد یا دلی اور علی گڑھ بھی جانا ہوا۔

ہمارے دادا بہت خوش ہو کر بتاتے تھے کہ تم اس گھر میں پیدا ہوئے تھے، جسے انگریز کے جوتے صاف کرنے والوں نے برباد کرنے کی کوشش کی تھی۔
سوال: کیا آپ کے ماضی کا یا آپ کے آباﺅاجداد کے ماضی کا آپ کے فکشن پر کوئی اثر ہوا؟اگر ہوا تو آپ کے خیال میں وہ کیسا اثر ہے؟
اسد محمد خاں:ماضی کا اثر میرے فکشن پر بے شک ہوا۔ گزشتہ پانچ چھ صدیوں کے دوران افغانستان اور سرحد کے قبائل نقلِ مکانی کر کے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آکر آباد ہوئے۔ ہندوستان میں کل چھ سو چھوٹی بڑی ریاستیں تھیں۔ جن میں سے بیس تیس۔ ۔ ۔ بڑی ریاستیں پٹھانوں کے پاس تھیں۔ رام پور، شاہ جہاں پور، بھوپال،خورجہ وغیرہ۔ یہ سب نقلِ مکانی کرنے والے پٹھانوں کی ریاستیں تھیں۔ مغلوں کے بعد ہندوستان مٹ رہا تھا۔ راج پوت اپنے علاقوں پر قبضہ کر رہے تھے۔ پٹھان جن کے پاس مغلوں کی فوج کی بیشتر کمان رہی تھی اور وہ فوج میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے، تو ان کے واپس جانے کا سوال ہی نہ تھا۔ وہ سال میں ایک آدھ بار اپنے آبائی علاقے کا چکر لگا آتے تھے۔ ویسے پٹھانوں کو ہندوستان میں رہ کر زمینوں اور زمین کے باسیوں کو سنبھالنے کا سلیقہ بھی آگیا تھا۔ ہمارے جدِ اعلی اورنگ زیب کی فوج کے سالار تھے۔ ان کے علاوہ بیشتر سالار بھی پٹھان ہی تھے۔ ہمارے جدِ اعلی نے سب کو یک جا کیااور ان سے کہا کہ زندہ رہنا ہے تو ہم کو منظم ہونا چاہیے۔ چنانچہ بھوپال میں ایسے ہی ہوا۔ کملا پتی جو بھوپال کے آخری راج پوت حکم راں کی بیوی تھی۔ اس کا شوہر ایک جنگ میں مارا گیاتواس رانی نے ہمارے جدِاعلی کو فوج کے سب سے اہم عہدے پر مامور کیا۔ رانی کے کتنے ہی قرابت دار اِس جنگ میں مارے گئے تھے تو اس نے ہمارے جدِ اعلی کے ہاتھ پر راکھی باندھی اور کہا کہ آج سے آپ میرے بھائی ہیں۔ اس کا بیٹا ابھی بہت چھوٹا تھا۔ رانی نے کہا۔ ” میرا بیٹا فنِ حرب سے ابھی ناآشنا ہے۔ آپ اسے مکمل فنِ حرب اور حکمرانی کے طور طریقے سکھائیں گے اور اس کی دیکھ بھال کریں گے“۔ رانی یہ سب کہنے کے ایک دو دن بعد خود سَتی ہو گئی۔ وہ ایک تالاب میں اپنی چھ سات سہیلیوں کے ساتھ ڈوب مری۔ جدِ اعلی نے اس جگہ پر ان کی یادگار بنوائی تھی، جس کی دیکھ بھال اور تعمیر جاری رہی۔ انہوں نے چار برس تک راج کمار کی خوب تربیت کی۔ پھر وہ کسی مرض میں مبتلا ہوگیا۔ ایک ڈیڑھ مہینہ بیمار رہ کر چل بسا۔ اس وقت تک انگریز ریاست میں آچکے تھے اورتمام ریاستیں انگریز کے ساتھ تعاون کر نے پر مجبور تھیں۔ انہوں نے جدِ اعلی سردار دوست محمد خاں کو ریاست کا نگران مقرر کر دیا۔ تین چار برس بعد ریاست کا نواب بنا کر گدی پر بٹھا دیا۔ اس طرح وہ ریاست کے باضابطہ حاکم بن گئے۔
ہمارے خاندان اور تمام پختون خاندانوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ مذہبی تعلیم کے بعد جب بچے اپنا نام لکھنا سیکھ لیتے تھے تو وہ ان سے خاندان کا شجرہ لکھواتے تھے اور اس طرح انہیں ازبر کرا دیتے تھے۔ وہ شجرہ چالیس پچاس نسلوں پر محیط ہوتا تھا۔ بزرگ بچوںسے پوری سو کاپیاں بنواتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اس سے تمہارا خط بھی ٹھیک رہے گا اور یہ بھی یاد رہے گا کہ ہم سپاہی لوگ تھے، ہم افغانستان اور صوبہ سرحد سے آئے تھے اور بھوپال ریاست کے حاکم بنے تھے۔
تو یہ ہماری تربیت کا پہلا سال تھا۔ جنگِ عظیم دوم یعنی 1939ءسے پہلے ہمیں نام وغیرہ لکھنا آگیا تھا۔ اس کے بعد ہم سب کی باقاعدہ تعلیم شروع ہوئی۔ شجرہ نسب لکھنا کوئی انوکھی بات نہیں ہوتی تھی۔ بھوپال میں ہر پٹھان کے پاس ایک صندوق شجروں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ شجرے میں ہربات بے کم و کاست لکھی جاتی تھی۔ اگر ہمارے خاندان میں کوئی سرکار کا باغی یا کوئی ٹھگ گزرا ہے، تو ہمارے دادا تھے تھے، اس کا پورا نام لکھو، فاضل خان باغی یا عادل خان ٹھگ۔ یہ سن کر ہم ہنستے تھے، تو وہ ہمیں ڈانٹتے تھے کہ نالائق ہنسو نہیں۔ یہ مقامِ عبرت ہے کہ اپنے ہی گدی نشینوں نے کس طرح ہمیں بے توقیر کیا۔ اپنے نافرمان قرابت داروں کو ٹھگ مشہور کیا۔ ہم نے اپنے خاندان میں شامل تمام لوگوں کے مناصب اور مراتب نہ صرف تحریر کیے بلکہ انہیں ہمیشہ یاد بھی رکھا۔ شجرے میں بہت سے اہم واقعات بھی درج کیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر دادا نے مجھے بتایا کہ تم لوگ جس گھر میں پیدا ہوئے ہو، اسے انگریز کے خوشہ چینوں نے آگ لگا دی تھی۔ کیوں کہ ہمارے جدِ اعلی میں سے ایک جرنیل نصرت محمد خاںنے 1857ءکی بغاوت میں ایک بھیل جرنیل اور جھانسی کی رانی کا ساتھ دیا تھا۔ جب ان لوگوں کو انگریز کے ہاتھوں شکست ہو گئی، تو ہمارے بزرگ نصرت محمد خاں عرف کولے میاں نے بھوپال آکر اپنے اس گھر میں روپوشی اختیار کی۔ انگریزوںکو معلوم ہوا کہ وہ ہمارے خاندان سے تھا، تو انہوں نے یہ سب کیا۔ نصرت محمد خاں اپنے ساتھیوں کے ہم راہ فرار ہو گئے۔ گویا ہم ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے۔
ہمارے دادا بہت خوش ہو کر بتاتے تھے کہ تم اس گھر میں پیدا ہوئے تھے، جسے انگریز کے جوتے صاف کرنے والوں نے برباد کرنے کی کوشش کی تھی۔ خاندان کو جو زمینیں ریاست کی طرف سے بطور عطیہ ملی تھیں، وہ تو ریاست نے پہلے ہی واپس لے لی تھیں۔ مگر جو زمینیں ہمارے دادا نے خریدی تھیں، وہ آخر تک خاندان کے پاس رہیں۔ ان میں زیادہ تر اوبڑ کھابڑ زمینیں تھیں۔ لوگوں نے دادا سے کہا کہ میاں تم ان اوبڑ کھابڑ زمینوں پر کیا کھیتی باڑی کرو گے؟ دادا نے جواب دیا۔ کھیتی نہ سہی،کچھ نہ کچھ تو کریں گے۔ دادا نے ان پر آم اور جامن کے درخت لگا دئیے۔ ان پھل دار درختوں کی وجہ سے دادا خوش حال ہوئے۔ ریاست والے یہ سمجھتے تھے کہ زمینیں چھنوا دینے سے اور بے کار قسم کی زمینیں سنبھالے رکھنے سے کمال محمد خاں کا دماغ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر آم اور جامن کے درختوں سے دادا کو اچھی خاصی آمدنی ہونے لگی۔ وہ ہر موسم میں درختوں کا ٹھیکہ من مانے پیسوں پر دیتے تھے۔ دادا کا یہ کاروبار بہت چلا۔ دوسرے لوگ بھی ان کی پیروی کرنے لگے۔ یہ اور اس طرح کے تمام چھوٹے بڑے واقعات میں نے اپنی کہانیوں میں لکھے۔ کہیں تو یہ بیان کیا کہ ہم لوگوں نے یہ سب کچھ اپنے بزرگوں سے سنا ہے۔ اور کہیں میںنے انہیں افسانے کی شکل دے کراپنے انداز سے تحریر کیا ہے۔

سوال: کیا آپ کے خاندان میں کوئی شخص ادیب ہوا؟
اسد محمد خاں: ہمارے خاندان میں دو بزرگ شاعر ہوئے ہیں، نثار بھی تھے، بعضوں نے نوشتیں بھی چھوڑی ہیں۔ ہمارے خاندان میں کوئی شخص افسانہ نگار نہیں ہوا۔ میں شاید اپنے خاندان میں پہلا کہانی کار ہوں۔ ہمارے والدمصور تھے اور انہوں نے پورٹریٹ بنانے میں نام پیدا کیا۔ انہوں نے ٹیگور اور نہرو کے پورٹریٹ بنائے۔ انہیں بھوپال کے نواب نے مدعو کیا تھا تو انہوں نے نواب بھوپال کا بھی پورٹریٹ بنایا۔ وہ ان کا کمرشل کام تھا۔ انھوں نے قائدِاعظم کا بھی پورٹریٹ بنایا تھا، جس وقت وہ صرف محمد علی جناح ایڈووکیٹ تھے۔ وہ اس دور میں بھوپال آئے تھے جب انہوں نے بھوپال ریاست ایک مقدمہ لڑا تھا۔ ہمارے والد نے انہیں جب یہ تصویر پیش کی تو انہوں نے بہت خوش ہو کر تصویر پر آٹوگراف کیے تھے۔ نواب بھوپال نے ہمارے والد کی فنی خدمات سے خوش ہو کر ایک قطعہِ زمین انہیں تحفتاً دیا تھا۔
ان دنوں بھوپال میں غزل کی شاعری کا دور تھا۔ اور بیت بازی کے مقابلے منعقد ہوتے تھے۔ سنجیدہ لوگ بیت بازی کو پسند نہیں کرتے تھے، مگر طرحی مشاعروں میں شرکت کو ایک طرح کا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ اسی دور میں ترقی پسند لکھنے والوں کا اثر بھوپال تک پہنچا۔ تو اس کے بعد طرحی مشاعرے کو بھی فضول سمجھا جانے لگا۔ ہم نے بھی کہا کہ ہم غزل ہی کیوں لکھیں، ہم نظمیں اور گیت لکھیں گے۔ وہ ترقی پسندی کے عروج کا دور تھا۔ میں انٹر میڈیٹ کا اسٹوڈنٹ تھا اور حمیدیہ کالج میں پڑھتا تھا۔ بھوپال میں ترقی پسندوں کی کانفرنس ہمارے ہی کالج میں منعقد ہوئی تھی۔ کرشن چندر اور ان کے بھائی مہندر ناتھ وہاں آئے تھے۔ کرشن چندر ایک دو روز میں چلے گئے تھے مگر مہندرناتھ وہاں کئی روز تک ٹھہرے تھے۔ بیشتر اسٹوڈنٹس انہیں ہر وقت گھیرے رہتے تھے۔ ہم اپنے اسکول کے اولڈ بوائے احسن علی خاں اور ان کی منگیتر اختر جمال کو اپنا رہنما کہتے تھے اورسمجھتے تھے کہ یہ ہمارے موقف کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، اسے پروموٹ کر رہے ہیں۔ یہ دونوں ترقی پسند تھے۔ ان دنوں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد تھی۔ ایک صاحب اندور سے آئے تھے کامریڈ ڈانگے۔ انہوں نے بھوپال میں کمیونسٹ پاٹی کی بنیاد رکھی تھی۔
ایک احتجاج میں ہم بھی دھر لئے گئے۔ اور سترہ دن حولات میں گزارنے پڑے۔ ان کامریڈصاحب نے نواجوانوں کے بہت متاثر کیا تھا۔ ہم ان کی باتیں بہت غور سے سنتے تھے۔ وہ بہت پڑھے لکھے آدمی تھے۔ انہوں نے کمیونزم پر بے شمار کتابیں پڑھی ہوئی تھیں۔ ایک دوست نے مجھے بہت غور سے ان کی باتیں سنتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا۔ تم تو ان کی باتیں ایسے سنتے ہو جیسے یہ کوئی حدیث یا قرآن سنا رہے ہوں۔ ایسی باتیں سن کر ہم لوگ ہنستے تھے۔ ہمارے خاندان والے ہمیں کہتے تھے کہ ہم تم سب کے ہاتھ پیر توڑ دیں گے۔ تم لوگ ہنس کر ایک طرح سے قرآن کی توہین کر رہے ہو۔ ہم چونکہ کشادہ ذہن تھے، اس لیے ایسی مثالیں دینے والوں پر ہنستے تھے۔ اپنے دین اور اپنی تہذیب کا بہرحال ہم احترام کرتے تھے۔ ہم لوگ خود کو کامریڈ کہتے تھے اور اپنی میٹنگز چھپ کر کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ کمیونسٹ پارٹی پر پابندی تھی۔ چار مرتبہ ہم نے اپنے گھر میں میٹنگز کروائیں۔ پہلے صرف ہماری والدہ کو اس قصے کا پتہ تھا۔ وہ کچھ نہیں کہتی تھیں۔ جب والد کو پتہ چلا تو انہوں نے خوب سنائیں۔ اور جب ہم گرفتار ہوگئے تو انہوں نے والدہ سے کہا۔ ” دیکھا!آپ اسے اگر اس وقت روکتیں، جب آپ کو یہ سب معلوم ہوا تھا۔ تو یہ خبیث یہ کام ہی نہ کرتا۔ اس نے گھر میں چار جلسے بھی کر لئے۔ اور اب کامریڈ اور لیڈر بن کر حوالات میں بند ہے۔ “ ہمارے ماموں (والدہ کے کزن) ڈی ایس پی تھے۔ وہ ٹریننگ کے لیے بمبئی گئے ہوئے تھے۔ وہاں حکومت ہمارے پولیس آفیسرز کو تربیت دے رہی تھی۔ بھوپال سے ان کے پاس تار پر تار جارہا تھا کہ اسد کو پکڑ لیا ہے۔ بمبئی جانے سے پہلے وہ ہماری والدہ کو بتا چکے تھے کہ آپا، پولیس کے پاس اسد کے خلاف بہت موٹی فائل بن گئی ہے۔ اور یہ کسی روز دھر لیا جائے گا۔ جب ماموں بمبئی گئے تو جو قائم مقام پولیس افسر تھا، اس نے میری فائل کھول لی اور مجھے گرفتار کر لیا۔ ثبوت کے طور پر میرے ہاتھ کا لکھا ایک پوسٹران کے ہاتھ لگا تھا۔ میری رہائی دو تین روز میں بھی ہوسکتی تھی۔ کیوں کہ ماموں بمبئی سے مسلسل فون کر رہے تھے کہ یہ میرا انکوائری کیس ہے۔ اسد کو کیوں بند کیا ہوا ہے، چھوڑ دو، میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ میرے ماموں کو ٹریننگ چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ مگرمیرے کسی طرح کا اعتراف نہ کرنے کی وجہ سے اور تفتیش کے دوران ذرا بھی تعاون نہ کرنے کی وجہ سے رہائی سترہ دن بعد ہوئی۔ دراصل وہ میرے تمام ساتھیوں کی گرفتاری چاہتے تھے اور میں سب کو پھنسانا نہیں چاہتا تھا۔ پھر اچانک جب میری والدہ بیمار ہو کر ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہو گئیں، تو ماموں نے ایک ہیڈکانسٹیبل کو میرے پاس بھیجاکہ جاکر ان لیڈرصاحب سے کہو کہ آپ کی والدہ ہاسپٹل میں ہیں۔ ہیڈکانسٹیبل میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ سب بتا یا اور اس کے بعدکہنے لگاکہ تم ایک معافی نامہ لکھ دو۔ میں بولتا جاتا ہوں۔ یا تم خود ہی لکھ لو۔ والدہ کے اسپتال میں داخلے کا سن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے معافی نامہ لکھ دیا۔
اس معافی نامے کے بعد اٹھارہ آدمی گرفتار ہوئے۔ میری رہائی کے بعد کمیونسٹ پارٹی بھوپال والے میرے گھر پر پتھراﺅ کرنے لگے۔ مجھے دھمکیاں ملنے لگیں کہ تمہیں دیکھ لیں گے۔ تم نے اپنے مقصدِعین سے غداری کی ہے۔ تم نے پرولتاریہ سے غداری کی ہے۔ ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔ اسی وجہ سے مجھے پاکستان آنا پڑا۔ کیوں کہ میرے خاندان کے لوگ بڑے لٹھ باز اور تلوار باز تھے۔ مجھے لگا کہ میری وجہ سے یہ دو تین لاشیں گرا دیں گے۔ کسی نے کہا کہ خون دوسرے کریں گے مگر الزام تیرے سر آئے گااور پولیس تجھے پھر گرفتار کرلے گی۔
میرے بڑے بھائی اس وقت سیال کوٹ کے مَرے کالج میں پڑھ رہے تھے۔ تو اس واقعے کے بعد میں پاکستان آگیا۔ اگر میں نہ آتا تووہاں ایک دو کمیونسٹ مار دیے جاتے۔ وہ بھی بہت دور دور سے آئے ہوئے تھے۔ ان میں مراٹھے بھی تھے۔ سب یک زبان تھے کہ اس شخص نے ہمارے مقصد سے غداری کی ہے۔
خیر اب پڑھنے لکھنے کی سنیے۔ میں انٹر میں پڑھ رہا تھا۔ جے جے اسکول آف آرٹ سے فری ہینڈ رائٹنگ میں ڈپلوما کیا تھا۔ (ایم۔ ایف۔ حسین بھی جے جے اسکول آف آرٹ کے فاضل تھے۔ انہوں نے وہاں سے ماسٹرز کیا تھا۔ یہ ہمارے لیے بھی اعزاز کی بات تھی)۔ والد نے مجھ سے کہا: تمہارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک تو یہ کہ تم جے جے اسکول آف آرٹ سے باقاعدہ فائن آرٹس میں ڈگری حاصل کرو دوسری صورت یہ کہ پاکستان چلے جاﺅ۔ جے جے کی ڈگری لو گے تو تم کہیں بھی آرٹ ماسٹر لگ جاﺅ گے۔
میرے والد نے ٹیگور کے شانتی نکیتن سے ڈپلوما کیا تھا۔ والد صاحب نے جب ٹیگور کے ادارے میں داخلہ لیا تھا تو ہمارے دادا کے ایک ہندو دوست نے ان کو ورغلایا کہ ٹیگور تو ناستک ( لادین) ہے۔ وہ تمہارے بیٹے کو بھی اپنے جیسا بنا دے گا۔ یہ سن کر دادا نے فوراً والد کو تار بھیجااور والد بھوپال آگئے۔ دادا نے انہیں روک لیا کہ اب تم وہاں نہیں جاﺅ گے۔ میرے والد کبھی کبھی یہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ انہوں نے شانتی نکیتن میں صرف چھ مہینے ہی گزارے تھے۔ وہ وہاں کم سے کم چار سال گزارنا چاہتے تھے۔
بھوپال میں ہر سال جے جے اسکول آف آرٹ کے امتحان ہوتے تھے۔ ان کا ایک آدمی پیپر لے کر آتا تھا۔ وہ ہم سب کے سامنے پیپر کی سیل کھولتا تھا۔ وہی ممتحن ہوتا تھا۔ بھوپال کے اسکولوں سے ساٹھ ستر لڑکے آئے تھے۔ جو لڑکا امتحان پاس کرلیتا تھا۔ اسے جے جے اسکول آف آرٹ سے سرٹیفیکیٹ ملتا تھا۔ ایک امتحان میں، میں صرف پاس ہوا، جب کہ دوسرے میں فرسٹ آیا تھا کیوں کہ میرے والد نے خوب محنت کروائی تھی۔ والد صاحب پورٹریٹ بنا نے کے ماہر تھے۔
جب میں 1950ءمیں لاہور آیا تو وہاں سے ایک اخباروزنامہ احسان نکلتا تھا۔ مجھے اس میں کارٹونسٹ کی جاب مل گئی۔ دو سو روپے تنخواہ تھی۔ اخبار کے ایڈیٹر مجھے کہتے تھے کہ روز ایک کارٹون بناﺅ۔ احسان کے ایڈیٹر کا تعلق بھوپال سے تھا۔ وہ میرے والد کو جانتے تھے۔ میں نے شروع میں کارٹون بنائے لیکن میں بہت سست رفتار تھا۔ ایڈیٹر نے مجھ سے کہا۔ کوئی بات نہیں۔ ہفتے میں دو کارٹون بناﺅ۔ انہوں نے میرے لیے گنجائش نکالی۔ لیکن وہ کام مجھ سے نہیں چلا۔ میں نے وہاں جیسے تیسے دو سال نکالے۔ میں نے ایک روز ان سے پوری ایمان داری سے کہا۔ میں دو سے زیادہ کارٹون نہیں بنا سکتا۔ آپ میری وجہ سے اپنے لئے مشکل پیدا نہ کیجیے۔ اس لیے میں لاہور چھوڑ کر کراچی جا رہا ہوں۔
دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔
سوال: آپ نے ادب پڑھنا اور لکھنا کب اور کیسے شروع کیا؟ابتدا میں کن لوگوں سے متاثر ہوئے؟مطالعے میں آپ کے پسندیدہ موضوعات کیا رہے؟
اسد محمد خاں: میں اسکول میں جب نویں جماعت کا طالب علم تھا تو میں نے لکھنا شروع کردیا تھا۔ میں نے اپنے اسکول میگزین میں دو مضامین لکھے۔ ایک اپنے ہم جماعت کا مزاحیہ خاکہ لکھاتھا۔ وہ ہم سے عمر میں چھ سات سال بڑے تھے اوربہت طویل قامت تھے۔ جب وہ خاکہ چھپا تو کچھ لوگوں نے کلاس فیلو کو اکسایا کہ اسد نے تمہارا مذاق اڑایا ہے۔ اسے مارو۔ میرے والد اسی اسکول میں پڑھاتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا تو انہوں نے کلاس فیلو کو بلایا اور پوچھا کہ تم اس کے پیچھے کیوں پڑے ہو۔ اس نے بتایا کے اسد نے میرا مذاق اڑایا ہے۔ والد نے کہا۔ خاکہ کہاں ہے، مجھے دکھاﺅ۔ اس نے دکھایا۔ والد صاحب نے کہا کہ بیٹا وہ صرف ایک خاکہ ہے۔ جو کسی شخصیت پر لکھا جاتا ہے۔ تمہا رے اندر جو بھلی باتیں ہیں جیسے تم جھوٹ کبھی نہیں بولتے، چاہے ماسٹر سے پٹ کیوں نہ جاﺅ۔ اسد نے وہ بھی لکھا ہے۔ تم جب غصہ ہوتے ہو تو آدمی کے پیچھے بھاگتے ہو، لیکن تمہاری دوڑ اچھی نہیں ہے، اس لئے وہ آدمی تم سے نکل جا تا ہے۔ ۔ ۔ تو پھر تمہارا غصہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس پر وہ کہنے لگے مجھے لڑکوں نے اکسایا ہے۔ ۔ ۔ میں ان سب کے دماغ ٹھیک کردوں گا۔ اب مجھے اسد سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ وہ بے حد سادہ دل آدمی تھے۔ بعد میں والد صاحب نے یہ ساری بات مجھے بتائی کہ انہوں سے اسے سمجھا دیا ہے۔ وہ خاکہ اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔
بھوپال میں ان دنوں ترقی پسندی کی تحریک زوروں پر چل رہی تھی۔ وہ لوگ ہمیں بھی بلاتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ ان کی میٹنگ میں ایک انقلابی مضمون پڑھاتھا جو بعد میں پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔ جوظالموں، سرمایہ داروں اور حاکموں کے خلاف اور مظلوموں، مزدوروں اور محکوموں کے حق میں تھا۔ میں نے اس میں انقلاب کی نوید سناتے ہوئے مزدوروں سے یک جہتی کا اظہار کیا تھا۔ ترقی پسندوں نے اس مضمون کی بہت تعریفیں کیں۔ بعد میں ایک بزرگ جو ایک مقامی اخبار سے وابستہ تھے، انہوں نے مجھ سے کہا۔ ”میاں! یہ ترقی پسندی کی ایک لہر ہے، جس میں سب چل پڑے ہیں۔ تم ان سے سیکھو لیکن تم ان کے مسلک کی تبلیغ نہ کرو۔ “ انہوں نے مجھے بہت سے ادیبوں کی مثالیں دے کر سمجھایا کہ ایک ادیب کی کمٹ منٹ ادب سے ہونی چاہیے۔ کسی آئیڈیالوجی یا نظریے سے نہیں ہونی چاہیے۔ آپ اگر اپنے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں تو جان لیں کہ وہ ایک الگ شعبہ ہے۔ آپ بے شک کتابیں لکھیے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آزاد رہنا چاہتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ آزاد رہنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے کمیونسٹ بھائیوں کو خدا حافظ کہیے۔ اگر مسلم لیگ والے آئیں تو ان سے بھی کہیے کہ آپ کی تحریک بہت اچھی ہے لیکن میں آپ کے حق میں کچھ نہیں لکھوں گا۔
وہ صاحب بہت لائق و فائق تھے۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ کمٹ منٹ لکھے ہوئے لفظ سے ہونی چاہیے، کسی تحریک سے نہیں۔ وہ کہتے تھے، اپنا الگ اسلوب وضع کرنے کی کوشش کرو، جو رفتہ رفتہ تمہاری دسترس میں آئے۔ جسے پڑھ کر لوگ کہیں کہ یہ اسد کا اسلوب ہے۔ اگر تم کسی مشہور ادیب کے اسلوب میں لکھو گے تو لوگ کہیں کے یہ تمہارا نہیں بلکہ اس کا اسلوب اور اس کا بیانیہ ہے۔ تم ان تمام چیزوں سے اٹھ کر، دردمندی سے، انسانی سطح پرکسی بھی مسئلے کو سوچو اور اسے اپنے طور پر بیان کرو۔ تو وہ تمہاری اپنی لکھت ہوگی۔ ان کا یہ بر وقت مشورہ میرے بہت کام آیا۔ اس کے بعد میں نے ایک افسانہ لکھا اور اسے بنگلور سے محمود ایاز کی ادارت میں نکلنے والے ادبی جریدے سوغات میں چھپنے کے لئے بھیجا۔ میراپہلا افسانہ سوغات میں چھپا۔ وہ اسی طرح کا تھا جیسے افسانے اس وقت لکھے جا رہے تھے۔ بہت بعد میں یعنی 1982ءمیں میں نے اپنے پیسے جمع کرکے اپنی پہلی کتاب چھپوائی۔ اس کا نام تھا ” کھڑکی بھر آسمان“۔ اس میں تیرہ افسانے تھے۔ اور نظمیں بھی شامل تھیں۔

میرے پہلے مجموعے کھڑکی بھر آسمان میں کوئی چالیس بیالیس نظمیں شامل ہیں اور تیرہ افسانے بھی ہیں۔
سوال: آپ کے بارے میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ آپ نے ادب میں اپنا آغاز شاعری سے کیا تھا۔ آپ نے شاعر کے طور پر شہرت بھی حاصل کرلی تھی۔ پھرآپ اچانک شاعری چھوڑ کر افسانے کی طرف آگئے۔ کیا یہ درست ہے؟
اسد محمد خاں: جی یہ بالکل صحیح ہے۔ میرے پہلے مجموعے کھڑکی بھر آسمان میں کوئی چالیس بیالیس نظمیں شامل ہیں اور تیرہ افسانے بھی ہیں۔ میں پہلے نظم کہتا تھا اور گیت لکھتا تھا۔ غزل میں نے آج تک نہیں کہی۔ ہاں ایک مرتبہ ایک غزل کہی تھی۔ اطہر نفیس ہمارے بہت پیارے دوست تھے۔ وہ کہنے لگے کہ سب لوگ کہتے ہیں کہ اسد غزل نہیں کہتا۔ ایک طرحی مشاعرہ ہونے والا ہے، جس کے لیے مصرعہ دیا گیا ہے: لختِ جگرِ حیدرِ کرار ہیں بابا۔ (یہ مصرعہ یوسف شاہ کی غزل کا تھا۔ جو اطہر نفیس کے پیرومرشد تھے)۔ اطہر بھائی نے کہا، تم غزل کہو۔ ساقی نے کہا کہ اگر تم نے غزل نہ کہی تو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ خیر، میں نے ایک غزل کہی۔ غزل بھی گیت جیسی ہی تھی۔ ” دنیا تو سمٹتی ہوئی بے رنگ کلی ہے۔ پر آپ کمل روپ ہیں، مہکار ہیں، بابا۔ “ اطہر نفیس یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے کہ یار تو نے تو کمال کر دیا۔ میں نے کہا۔ ساقی نے دھمکی دی تھی، جان تو بہر حال بچانی تھی۔ وہ بہت ہنسے۔

سوال: شاعری کا تجربہ کیسا رہا؟
اسد محمد خاں:شاعری کا تجربہ تو بہت اچھا رہا۔ لیکن میری دو کہانیاں ” مئی دادا“ اور ”باسودے کی مریم“ ایسی بھری ہو ئی آئی تھیں کہ لوگوں نے کہا کہ اب آپ کو زیادہ تر افسانہ لکھنا چاہیے۔

سوال:آپ کے گیتوں کی وجہ شہرت کیا تھی؟
اسد محمد خاں:اس زمانے میں گیتوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ کل سات یا آٹھ گیت کہے تھے۔ ”انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند“ راگ درباری میں تھا۔ جب کہ ایک نظم بھی بہت مشہور ہوئی تھی۔ ”میں وندھیا چل کی آتما“۔ میں اسے اپنے انداز میں ترنم سے پڑھتا تھا۔ میں نے اس نظم میں اپنی زاد بھوم بھوپال کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ شروع شروع میں اٹھارہ اٹھارہ سال وہاں جانا نہیں ہوتا تھا۔ اس دوری نے مجھ سے ایسی نظمیں گیت لکھونے میں زیادہ کردار ادا کیا۔ ایسا نہیں تھا کہ یہا ں اپنے وطن میں مجھے کوئی تکلیف تھی۔ یہاں میرے پاس کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ایک بہت اچھی نوکری تھی۔ کام کے دوران وہاں وقت ملا تو میرا پڑھنا لکھنا بھی جاری رہا۔ اس کے علاوہ کمرشل کام بھی بہت ملنے لگا تھا۔ مثلاً ریڈیو اور ٹی وی کے لیے۔ ٹی وی پر مدبر رضوی، عبیداللہ علیم اور افتخار عارف تھے۔ وہ دوست فرمائش کرتے تھے۔ میں ان سے کہتا تھا تم میرے دوست ہو۔ تم اگر چاہتے ہو کہ میں لکھوں تو ٹھیک ہے میں ضرور لکھوں گا۔ افتخار عارف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تم کچھ نہ کچھ لکھ کر ہمیں دیتے رہو۔ خیال گائیکی کے ایک استادٹی وی میں موجود تھے۔ استاد عاشق علی خاں۔ وہ اصرار کر کے کہہ کہہ کے راگوں پر لکھواتے رہے۔ اس زمانے میں 50 یا 25 گیتوں کا ایک مجموعہ طبع ہوا۔ ویسے کل دو ڈھائی سو گیت نظمیں لکھیں۔

سوال: آپ کے ایک افسانے ”ہے للا للا“ میں جس عاشق علی خاں کا ذکر ہے، کہیں یہ وہی تو نہیں؟
اسد محمد خاں : جی ہاں۔ وہی ہیں۔ وہ جینوئن آدمی تھے۔ افسروں سے کہتے تھے کہ اگر آپ لوگ مجھے ٹی وی پر کام نہیں دے رہے توہمیں فارغ کر دو۔ کیوں کہ باہر کتنے ہی لوگ ہیں جو ہم سے کام کروانا چاہتے ہیں۔ استاد عاشق علی خاں نیپئیر روڈ کے بدنام محلے میں کسی پلازا کی چھت پر چھپر ڈال کے رہتے تھے۔ وہ بہت ہی باکمال، درویش مزاج آدمی تھے۔ میں ایک دوست کے ہم راہ ان کے گھر بھی گیا تھا۔ ہم وہاں جا کر لرز کر رہ گئے تھے۔ بچیاں ان کی بہت چھوٹی تھیں، گھر سے پڑھنے کو نکلتیں تو لمبے برقعوں میں ملفوف ہو کے نکلتی تھیں۔ مگر وہ کیا کرتے، اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں تھی۔ اس محلے میں وہ راگ داری تعلیم دینے کی ٹیوشن دیتے تھے۔ عاشق علی خاں کراچی میں خیال گائیکی کے دو بے مثال گانے والوں میں سے ایک تھے۔ اس وقت پورے پاکستان میں صرف چار یا پانچ لوگ ہی خیال گا سکتے تھے۔ وہ بہت درد مند آدمی، بہت ہی محبت کرنے والے انسان تھے۔ خدا مغفرت کرے۔
میں نے ٹی وی کے لئے کام کرتے ہو ئے بہت کچھ سیکھا اور وہاں بہت اچھے لوگوں سے ملاقاتیں رہیں۔ عبیدللہ علیم تو پرانا دوست تھا،اس نے میری بہت ہمت بڑھائی اور کہا۔ اسد بھائی، ٹی وی کے لیے بھی لکھتے رہو۔ اور گیتوں سے زیادہ توجہ اپنی کہانیوں پر دو۔ ابھی تم نے دو کہانیاں لکھی ہیں، پانچ چھ، پچاس، ساٹھ، سو اور لکھو۔ تو ان سب دوستوں نے فکشن لکھنے کے لئے اصرار کیا، حوصلہ بڑھایا۔

سوال: تو کیا آپ کی گیت نگاری اور نظم گوئی کا اثر آپ کے افسانوں پر بھی ہوا؟
اسد محمد خاں: جی ہاں۔ جیسے میں نے عاشق علی خاں پر افسانہ لکھا تھا۔ ان کی درد مندی اور جس عذاب سے وہ گزر رہے تھے، اس کا ذکر کیا تھا۔ ان کا خاتمہ بہت ہی الم ناک صورتِ حال میں ہوا تھا۔ سوائے آواز کا فن (راگ درباری) سکھانے کے ان کے پاس روزی کمانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔

سوال:آپ کے خیال میں ریڈیو اورٹی وی کے ڈراموں میں کہانی کہنے اور کرداروں کے ٹریٹ منٹ اور تکنیک میں کیا فرق ہے؟
اسد محمد خاں: ریڈیو اور ٹی وی کے فرق کو میں زمانوں کے حوالے سے دیکھتا ہوں۔ ایک وہ ریڈیو تھا جس میں یاورمہدی جیسے کمیٹیڈ آدمی کام کرتے تھے۔ ایک ایسے آدمی جن کی علم و ادب اور فنون پر مضبوط گرفت تھی۔ انہوں نے ڈھیروں کتابیں پڑھ رکھی تھیں، جو بے گنتی کلاکاروں کے کام کو سمجھتے تھے۔ پھر ریڈیوپرحمید نسیم صاحب تھے۔ قمر جمیل صاحب تھے۔ قمر صاحب نے مجھے ریڈیو سے ٹی وی کی طرف جانے کے لیے کہاتھا۔ وہ کہتے تھے،تم ریڈیو پر خاکے لکھنا چھوڑواور ٹی وی کوڈرامہ لکھ کر دو۔ اور ایسا ڈرامہ لکھوکہ لاہور سے تمہیں فون آئے کہ ہم ان صاحب کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہوا بھی ایسے ہی۔ انہوں نے کہاکہ ڈرامے کے لیے منفرد موضوع منتخب کرو اور اسے سرسری طور پر نہیں بلکہ مفصل انداز میں تحریر کرو۔ تا کہ سب کو معلوم ہو کہ یہ اسد محمد خاں کا تحریر کردہ ڈرامہ ہے۔ وہ ڈرامہ کاغذ پر بھی لوگوں کو اچھا لگے اور جب ان کی سماعتوں تک پہنچے تب بھی انہیں بھلا لگے۔ میں قمر جمیل صاحب کا احسان مند ہوں کہ وہ مجھے خاکے لکھنے سے ہٹا کر ڈرامے کی طرف لائے۔ انہوں نے یہ بھی سمجھایا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر آدمی کی فرمائش پوری کرو۔ یہ وہی دور تھا جب میں نے اپنے اولین افسانے ” مئی دادا“ اور ”باسودے کی مریم “لکھے تھے۔ قمر جمیل وہ افسانے پڑھ کر بہت خوش ہوئے۔ وہ برابر مجھے افسانے لکھنے کی طرف راغب کرتے رہے۔

سوال: آپ کے پہلے شعری مجموعے کا کیا نام تھا؟
اسد محمد خاں: میرے پہلے شعری مجموعے کا نام تھا ”رکے ہوئے ساون“۔ اس میں گیت، آزاد نظمیں اور نثری نظمیں شامل تھیں۔ اس میں نثری نظمیں کم کم تھیں کیوں کہ میرا رجحان گیت نگاری کی طرف زیادہ تھا۔ میری آزاد نظموں میں بھی گیت کا سا ترنم ہوتا تھا۔ نثری نظم میں میرے بعد ذی شان ساحل اور افضال احمد سیدنے بے حد قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ میں نے ان کا ذکر اپنی ایک نثری نظم میں بھی کیا ہے۔ ان دونوں شاعروں کی اٹھان بہت شان دار تھی، انہوں نے بعد میں اپنے آپ کو جس طرح منوایا، سب جانتے ہیں۔

سوال: آپ نے اپنا پہلا افسانہ کب لکھا اور کون سا؟
اسد محمد خاں: ” باسودے کی مریم“ میرا پہلا افسانہ تھا۔ اسے لکھتے ہوئے میں یہ سمجھ رہا تھا کہ میں اپنی یادداشتیں یا خاکہ لکھ رہا ہوں۔ وہ ایک زندہ کردار تھا۔ انہوں نے ہماری اور ہماری بہنوں کی پرورش میں ہاتھ بٹایا۔ انہیں ہمارے گھر والے مریم بوا کہتے تھے۔ وہ وسطِ ہند کے علاقے باسودے کی رہنے والی تھیں۔ میرے پاس ان کے نوٹس لکھے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا تھا کہ ان پر خاکہ سا لکھوں گا۔ وہ ایک افسانے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ میری پہلی کہانی تھی جو میں نے قمر جمیل کے کہنے پر لکھی تھی۔ جب انہیں دکھائی تو انہوں نے کہا بہت اچھا افسانہ ہے۔ تم اسے سوغات کو بھیجو۔ ” مئی دادا“ بھی ان کے کہنے پر لکھا۔ یہ بھی ایک حقیقی کردار تھا۔ ان کا اصل نام عبدالمجید خاں تھا۔

افسانے میں اردو نے زبر دست طریقے سے قدم جمایا۔ پریم چند سے انور سجاد تک ایک سے بڑھ کر ایک شان دار افسانہ نگار اردو کے افق پر نمودار ہوئے۔
سوال: آپ نے جس دور میں افسانہ نگاری شروع کی، تب اردو افسانے کے افق پر علامت اور تجرید کا راج تھا؟ اور کہانی گم ہو جانے کا غوغا برپا تھا۔ اس صورتِ حال میں آپ نے حقیقت پسند افسانے ہی کیوں لکھے؟
اسد محمد خاں: میرے ان دو مشہور افسانوں کے بعد میرے جتنے افسانے بھی آئے،ان کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ میں نے عالمی ادب میں علامتی شاعری اور علامتی افسانے کو تلاش کر کے اس طرح پڑھا تھا جس طرح کوئی ہفتوں کا بھوکا کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ تاہم مجھے گمان سا رہتا تھا کہ یہ کسی طرح کا ” گِمِک“ ہو سکتا ہے جو چل رہاہے۔ مغرب دھیرے دھیرے story tellingسے دور ہو رہا تھا۔ کیوں کہ کہانی کے اس پہلو سے بے زار ی بڑھتی جا رہی تھی۔ کیوں کہ ان کے ہاں فلم کا بہت طاقت ور میڈیم آچکا تھا، اور ٹی وی بھی آچکا تھا۔ انہیں روز ایک نئی پروڈکشن کی طلب ہو نے لگی۔ یہ بے زاری دھیرے دھیرے ان کے ہاں نافذ ہوئی اور بعد میں ختم ہو گئی۔
ہماری اردوایک کھِلتی ہوئی، وقت کے ساتھ اجلتی ہوئی زبان ہے۔ افسانے میں اردو نے زبر دست طریقے سے قدم جمایا۔ پریم چند سے انور سجاد تک ایک سے بڑھ کر ایک شان دار افسانہ نگار اردو کے افق پر نمودار ہوئے۔ منفرد افسانہ نگار بلراج مین را کا افسانے کے ساتھ کمٹ منٹ قابلِ تقلید ہے۔ تاہم ایک گڑبڑ چلتی رہتی ہے جب کوئی تخلیق کار کچھ دریافت کرتا ہے تو وہ اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ بلراج مین را کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ وہ اپنے آپ کو اردو کا سب سے بڑا آدمی سمجھنے لگا تھا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ یہ بات دوسرے لوگ کہیں گے۔ تم یہ مت کہا کرو۔ وہ کہنے لگا کہ یار توُ میرا کام تو دیکھ۔ میں نے کہا کہ خدا کرے تو ایسا ہی کام کرتا رہے۔ اور رہی عظمت تو اس کا پتہ بعد میں چلے گا بیٹا۔ معلوم نہیں میری اس بات کا کچھ اثر اس پرہوا بھی یا نہیں۔ دراصل اس دور میں علامت اور تجرید کے ڈھول بج رہے تھے۔ انور سجاد اور مین را اِسے خوب بڑھاوا دے رہے تھے۔ بلراج مین را دو مرتبہ پاکستان آیا اور انور سجاد کے ہاں لاہور میں ٹھہرا۔ انہوں نے اسے اس کا پشتینی گھر بھی دکھایا۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ اس طرح آئے جس طرح بڑے لوگ آتے ہیں۔ " بڑے لوگ“یعنی منشی پریم چند کی طرح منکسرالمزاج۔ ۔ ۔ تکبر کے ڈھول تاشے بجاتے گزرنے والے نہیں۔

سوال: آپ کی کتاب ” کھڑکی بھر آسمان “ کی اشاعت پر ادبی حلقوں کی جانب کیسا رد عمل سامنے آیا؟
اسد محمد خاں: اسے پذیرائی ملی تھی۔ بہت پسند کیا گیا تھا۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ تھی کہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ افسانے اور نظمیں ایک کتاب میں یک جا کردی گئی تھیں۔ چونکہ وہ کتاب میں خود شائع کر رہا تھا تو میں نے سوچا کہ نظموں کے لئے الگ سے مجموعہ کیوں شایع کروں۔ اس میں تیرہ افسانے اور چالیس بیالیس نظمیں ایک ساتھ چھپیں۔ اس کتاب کی رقم ہماری بیگم نے گھر گرہستی سے روپے بچا کر ہمیں فراہم کی تھی۔ یعنی فی الاصل ہماری پہلی کتاب کی پبلشر ہماری بیگم تھیں۔ یہ 1982ءکا واقعہ ہے۔ اس سے اگلا افسانوی مجموعہ ” برجِ خموشاں“1990ءمیں شائع ہوا۔ یہ بھی” کھڑکی بھر آسمان“ کی طرح اپنے وسائل سے شائع کیا گیا۔

سوال: آپ نے ” کھڑکی بھر آسمان“ میں ” منشور“ نامی ایک تحریرمیں دعوی کیا تھا۔ ”ادب صرف اپنے آمروں کو پہچانتا ہے اور میں بڑی بے شرمی کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی اپنی ایک چھوٹی سی قلم روتراش کر اس کی حدوں میںاپنا حکم نافذ کرنے آیا ہوں۔ “آپ کو کم و بیش چالیس پچاس برس ہوگئے لکھتے ہوئے۔ اب آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی قلم رو تراش سکے یا نہیں تراش سکے؟
اسد محمد خاں: وہ دعوی تو ایک نوجوان ذہن کی پیداوار تھا۔ میں تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ مجھے اردو افسانے کے حوالے سے پہچانا جائے۔ بس اتنا کافی ہے۔ دیکھیے” قلم رو “تو تراشی تھی منٹو صاحب نے۔ ایک عمر گزارنے کے بعد یہ کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ منٹو صاحب اپنی زندگی میں کمرشل کام بھی کرتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ڈھائی سو فلمیں لکھیں، واللہ علم۔ اور ریڈیو کے لئے بھی وہ لکھتے رہے۔ اس لئے کہ یہ ایک ہی کام انہیں آتا تھا۔ اردو میں کہانی کہنا۔ یہ کام انہوں نے بہت سلیقے سے کیا۔ میرا مسئلہ بھی یہی تھا۔ والد صاحب نے مجھے انجینئر بنانے کی کوشش کی۔ میں سب گڑبڑ کرکے بیٹھ گیا۔ میرا شعبہ فائن آرٹس کا تھا۔ میں اگر جے۔ جے۔ اسکول سے ڈگری حاصل کرلیتا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ یہاں مجھے کتنے ہی لوگوں نے کہا کہ اگر تمہارے پاس جے جے اسکول کی ڈگری ہوتی،تو ہم تمہیں بڑی نوکری پر لگوا دیتے۔ میں کہتا، میرے پاس سرٹیفیکیٹ ہے۔ وہ کہتے نہیں۔ اگر تمہارے پاس ڈگری ہوتی تو تمہیں کسی اشتہاری کمپنی میںلگوا دیتے۔ اس زمانے میں بہت تنخواہ بھی ملتی۔ میں نے اپنے لیے یہ راستہ خود تلاش کیاکہ جہاں مجھے مکمل آزادی ہو۔ میں جو چاہوں آزادی سے لکھ سکوں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے مجھے یہ سہولت دے دی۔ وہاں ملازمت شروع کرنے کے بعد جب ان لوگوں کو یہ معلوم ہواکہ میں ادیب شاعر ہوں اور میں نے گیت ” انوکھا لاڈلا“ لکھا ہے! وہ حیران ہوئے کہ یہ تم نے لکھا ہے۔ بھئی ہمیں تم سے ایسی اور چیزیں چاہئیں۔ ہمارے افسر نے چیف انسپیکٹر سے بلا کر کہاکہ یہ جو سپروائزر ہے اسد محمد خاں۔ ان سے کوئی کام نہیں لینا ہے۔ اس لیے کہ یہ تو قومی کام کر رہے ہیں۔ صابر صاحب ان کا نام تھا۔ وہ بڑے افسر تھے۔ انہوں نے مجھے یہ سہولت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ دیکھیے اِدھرکا کام تو ہوتا رہے گا۔ ان کی وجہ سے میں 1993ءتک یعنی اپنی ریٹائرمنٹ تک کے پی ٹی کی سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کے کام بھی کرتا رہا۔ کمرشل کام کا پوچھتے ہیں تومیں نے کل سات آٹھ سیریل لکھے ہوں گے۔ مجھے تو ان کے نام بھی یاد نہیں رہے۔ ہاں سنجیدہ کام جو میں نے کیا۔ اس کے بارے میں ادب پڑھنے اور تحقیق کرنے والے جانتے ہوں گے کہ اسد محمد خاں اپنی قلم رو تراش سکا یا بس کاغذ کالے کرتا رہا۔

سوال: آپ کے افسانے مئی دادا کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اس کردار کا آپ کے خاندانی پس منظر سے بہت گہرا تعلق ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟
اسد محمد خاں:جی ہاں ایسا ہی ہے۔ میں نے ایک نیا افسانہ ایک مہینہ پہلے ختم کیا ہے، جو عنقریب شایع ہوگا۔ اس کا نام ہے ” مرشدِ بخشندہ“۔ وہ دس صفحات کا ایک افسانہ ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ افسانوں کی سیریز بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے اس افسانے میں اپنے دادا کی زندگی کو جس طرح دیکھا، اسی طرح بیان کیا ہے۔ اتر پردیش اور یو پی کے بہت بڑے علاقے میں قحط پھیلا تھا جسے” بھُک مَری“ کہا جاتا ہے۔ یہ شاید 1870ءکی بات ہے یا شاید اس سے پہلے کی۔ میرے داداکے پاس زمین تھی، جس پر انہوں نے باغات لگائے تھے، جن سے انہیں بہت آمدنی ہوتی تھی۔ قحط کی وجہ سے اترپردیش اور یو پی کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے علاقے کی طرف بھاگے۔ ہمارے دادا کمال محمد خاں نے ان کے لیے کیمپ بنایا تھا جو پتھریلے علاقے میں اونچی سطح پر تھا، وہاں ڈیڑھ دو سو سے زیادہ لوگ نہیں آسکتے تھے۔ دادا نے انہیں خوراک بھی فراہم کی تھی۔ قحط ختم ہونے کے بعد سب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ ان میں سے تین بچوں کو دادا نے مستقل اپنے پاس رکھ لیا۔ ان کے وارث مارے گئے ہوں گے۔ ۔ ۔ یا انہیں چھوڑ گئے ہوں گے۔ دادا کہنے لگے، میں انہیں پالوں گا۔ ان میں سے ایک تھا مجید دادا، دوسرا چھوٹا مجید،اور تیسرا سلطان۔
میرے ایک افسانے کا نام” جانی میاں“ ہے،اور ایک فسانے کا ”مئی دادا“۔ افسانہ”جانی میاں“ سلطان کی کہانی ہے۔ میں یہاں سے دو تین مرتبہ سلطان کے پاس ممبئی جا چکا ہوں۔ ماشااللہ وہاں ان کی امپورٹڈ سائکلوں کی دکان تھی۔ انہوں نے پنکچر لگانے سے اپنا کام شروع کیا تھا۔
وہ ان تین لڑکوں میں سے ایک تھے۔ ان میں سب سے بڑے مجید دادا تھے، وہ زیادہ ذمہ دار تھے۔ وہ سلطان اور چھوٹے مجیدکو قابو میں رکھتے تھے۔ یہ تینوں چھوٹے تھے اور لاوارث تھے، اسی لیے رہ گئے۔ مجید دادا کی آنکھیں ہری تھیں۔ ان کے چہرے کارنگ کھلتا ہوا تھا۔ کچھ لوگ انہیں پٹھان کہتے تھے۔ انہوں نے خود ہی اپنا نام نام عبدالمجید خاں رکھ لیا تھا۔ بعد میں کہنے لگے تھے کہ میں یوسف زئی قبیلے سے ہوں۔ ویسے سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ وہ ہمارے والد سے بھی دس بارہ سال بڑے تھے۔ وہ ان کا نام لے کر انہیں عزت میاں پکارا کرتے تھے۔ جب کہ ہمارے یہاں صرف بزرگوں کو نام لینے کی اجازت تھی۔ ۔ ۔ دوسر ے سب لوگ بھائی اور بھائی میاں وغیرہ کہہ کر پکارتے تھے۔ بعض لوگوں نے اس بات کا برا مانا اور والد سے شکایت کی، والد نے کہا کہ میں جب اتنا سا تھا تو تب سے ہمارے بڑوں نے انہیں پالا ہے۔ وہ میری بہت عزت کرتے اور محبت کرتے ہیں۔ اگر نام لیتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں۔ مجید دادا ایک طرح سے۔ ۔ خاندان کے بزرگ۔ ۔ تھے۔ چھوٹا مجید اگر کبھی دارو پی کے آ جاتا تھا تو وہ اسے تالاب کے کنارے لے جاکر جوتے سے اس کی ٹھکائی کرتے تھے۔ اگر وہ اسے گھر میں پیٹتے تو لوگ پوچھتے تو انہیں بتانا پڑ جاتا۔ انہوں نے کوشش کر کے چھوٹے مجید کو ان سب چیزوں سے دور رکھا۔ پھر اس کی شادی کروائی۔ وہ ہماری والدہ کو بِیا کہہ کر پکارتے تھے۔
لوگ چھوٹے مجید کے لئے رشتہ لے کر آئے تو مجید دادا کہنے لگے کہ ہم کچھ نہیں جانتے، اس کا فیصلہ بِیا کریں گی۔ خیر، بیا نے اپنی رائے دی۔ شادی کی تاریخ طے ہوئی پھر نکاح ہو گیا۔

سوال:باسودے کی مریم جیسے لازوال کردار کی تخلیق کا پس منظر کیا تھا؟
اسد محمد خاں: باسودے کی مریم بھی حقیقی کہانی ہے۔ کہانی کی ضرورت کے مطابق پلاٹ وضع کرنا پڑتا ہے۔ اب چونکہ ایک زمانہ گزر گیا، مجھے یاد بھی نہیں آتا کہ اس کا پورا قصہ کیا تھا۔ مریم کے دوبیٹے تھے۔ ایک ممدو تھا،جوچھوٹا تھا اور اسے بہت عزیز تھا۔ اور جو بڑا تھا وہ کچھ آسودہ حال تھا اور کوئی ملازمت کرتا تھا۔ اس افسانے کا موضوع ایک ماں کی محبت ہے، جو اسے اپنی اولاد سے تھی۔ اس محبت کی وجہ سے اس نے اپنی پوری زندگی کا جو سرمایہ محنت کرکے کمایا تھا، اسے جمع کر رکھا کہ وہ اس پیسے سے حج کرے گی۔ بہر حال کہانی تو سب نے پڑھی ہے۔ مریم دو شہروں مکے اور مدینے کو ایک ہی سمجھتی تھی۔ وہ جب حضور کا نام لیتی تھیں تو ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں پر لگاتی تھیں۔ مریم بوا کے نزدیک نبی کریم کی ذاتِ پوری کائنات کا مرکز تھی۔ ایسے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے دل میں اس طرح کی ایک خوب صورت دنیا بسائے رکھتے ہیں۔ اور اسی پر توکل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی بنائی دنیا میں رہتے ہیں۔ مریم کا بھی مسئلہ یہی تھا۔ ان کا بڑا بیٹا آسودہ حال تھا۔ وہ اس کے لیے دعائیں مانگتی تھی۔ اس کے گھر بھی چلی جاتی تھی۔ مگر اس کی زیادہ محبت چھوٹے بیٹے ممدو سے تھی جسے کینسر تھااورجس کی سرجری ہوئی تھی۔ مریم سرجری کے قصے کو ہنس کر سناتی تھی کہ ڈاکٹر حرامیوں نے کیا کیا کہ اس کے گال میں کھڑکی بنا دی۔ یہ کہہ کر وہ ہنستی تھی، پھررونے لگتی تھی۔

سوال: افسانے باسودے کی مریم کا راوی ایک بچہ ہے، جو کہانی کو بیان کر رہا ہے۔ کیا وہ راوی آپ خود ہیں؟
اسد محمد خاں: جی ہاں۔ مریم کی پوری زندگی میں نے قریب سے دیکھی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں گرمی کی چھٹیاں گزارنے اپنی خالہ کے گاﺅں گیا ہوا تھا۔ گاﺅں کوئی ستر اسی میل دور ہوگا۔ میرے گھر والوں نے میرے میزبانوں کو منع کیا تھا کہ اسد کو یہ نہ بتاناکہ مریم گزر گئیں۔ تو خالہ نے یا کسی نے مجھے نہیں بتایا۔ جب ہم لوگ چھٹیاں گزار کر گھر پہنچے تو میں نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیاکہ مریم کہاں ہے؟ گھر والوں کو میری ان سے شدید قربت کا علم تھا۔ میری پرورش ایک طرح سے والدین نے ہی کی، لیکن میں دن رات کا خاصا حصہ مریم کی کوٹھڑی میں گزارتاتھا۔ میرے والد کو انہوں نے دودھ پلایا تھا تو گھر میں ان کا ایک مقام اورمرتبہ تھا۔ میں اپنے گھروالوں سے جھگڑا کرتا، ان پر چیختا تھا۔ اور جب میری پٹائی ہوتی تھی تو میں پناہ مریم بوا کے پاس ہی لیتا تھا۔ گھر والے کہتے تھے کہ اس کے اور مریم کے درمیان مت آﺅ۔ اب جب مریم نہیں رہیں تو امی نے دلاسا دیتے ہو ئے کہا۔ بیٹا! دنیا کے معاملات تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ گزر گئیں تمہاری مریم بوا، مرضی اللہ کی۔ میری سمجھ میں نہیں آیاکہ وہ کیوں گزر گئیں؟مجھے لگا کہ میں کسی بہت بڑی چیز سے محروم ہوگیا۔ پھر والدہ نے دھیرے دھیرے مجھے سنبھالا کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ جو میری کیفیت تھی۔ ہم تین بھائیوں میں، میں بیچ کا تھا۔ میرے بڑے بھائی تو بہت بھلے اور پیارے آدمی تھے۔ جب میں کوئی گڑ بڑ کرتا تھا تو وہ لا تعلق ہو جاتے تھے کہ اب اس کی پٹائی ہوگی۔ چھوٹا کبھی میری چمچہ گیری کرتا، کبھی لاتعلق ہوجاتا، یا کبھی جا کر میری شکایت لگا دیتاکہ منجھلے بھائی نے کیا ہے،مجھے نہیں پتہ۔ ہم تینوں بھائیوں میں ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ سال کا فرق تھا۔ ہمارے بعد ہماری بہنیں تھیں۔ ان کو تو ہم سمجھتے تھے کہ یہ” گڑیائیں“ ہیں کھیلنے کی۔ میرے بڑے بھائی کا انتقال عمر کے ساڑھے انیسویں برس میں ہوا۔ اسی شہر میں ان کا انتقال ہوا۔

سوال: ترلوچن آپ کا ایک منفرد افسانہ ہے۔ اس کا مرکزی کردار عین الحق لوگوں کے دکھ، ضروریات، ان کے مسائل اور ان کا حل لکھتا رہتا ہے۔ اس افسانے کی انسپائریشن کہاں سے لی تھی؟
اسد محمد خاں: اس کی انسپائریشن دیوتا ترلوچن ہی تھا۔ ۔ ۔ ہزاروں سال پرانی ہندو اساطیر۔ ۔ ۔ ، میں اسے دیومالا ہی کہوں گا۔ ان کے بے گنتی دیوتا اور دیویاں ہیں۔ شنکر، ہندو دیو مالا کا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ شنکر کی تین آنکھیں تھیں۔ لوچن کا مطلب ہے آنکھ۔ یہ بانسری سناتا اور امن پھیلاتا ہے۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ شنکر راحم بھی ہے اور قہار بھی۔ جب کوئی بھیانک جرم سامنے آتا ہے تو یہ اپنی تیسری آنکھ کھول دیتا ہے۔ یعنی جب کسی فتنے یا فتنہ کار کو ختم کرنا ہوتا ہے، تو شنکر اپنی تیسری آنکھ سے قہر کا کام لیتا ہے۔
شنکر کا کردار متضاد کیفیات کا عکاس ہے۔ وہ بانسری بجاتے تھے۔ پاروتی ان کی محبوبہ اور بیوی تھی۔ ہندو دیومالا کا کمال یہ ہے کہ فارسی اساطیر او ر دیومالا کے خلاف یہاں جو مرد کی محبوبہ ہے وہی اس کی بیوی ہے۔ (یا جو بیوی ہے وہی اس کی محبوبہ ہے)۔ یہ ان کے یہاں کا کلچرل سیٹ اپ ہے۔ پاروتی شنکر کی بانسری سن کر ان پر فدا ہوئیں اور بعد میں ان کی بیوی بن گئیں۔ ایک ہزار عورتیں شنکر پر جان نچھاور کرتی تھیں مگر وہ صرف پاروتی کوبانسری سنانے جاتے تھے۔ میرا خیال ہے اس تصور کو جان بوجھ کر رائج کیا ہوگا تا کہ” گھر“ کی بنیاد پڑے۔ تا کہ لوگ یہ سیکھیں کہ گھر اس طرح بستا ہے کہ جس سے آپ کا بندھن ہوا ہے۔ وہی آپ کی بیوی ہے۔ آپ کی محبوبہ ہے۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ رام اور سیتا، کرشن اور رادھا، شنکر اور پاروتی۔ گویا یہ تین مثالی جوڑے بنے۔ دنیا کو ختم کرنے والا اور دنیا کو سنبھالنے والاجو تصور ہمیں ملا ہے۔ اسے ہندو دیومالا نے مختصر کیا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ کائناتی تصور آسمانی ہو۔
تین سامی مذاہب یعنی یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے گئے تھے اساطیرنے ادیان کو۔ ۔ یا ان کے نازل کرنے(اتارنے) پھیلانے والوں کے بارے میں زیادہ تردُد سے کام نہیں کیا، واللہ علم۔ افسانے ترلوچن کے مرکزی کردار کا نام ہے عین الحق یعنی حق کی آنکھ۔ ۔ یعنی شنکر کی تیسری آنکھ۔ میں نے شنکر کو حق کہا ہے۔ حق کے معنی وہ جو سچا ہے۔ اس لیے کہ آپ کو دو ڈھائی ہزار سال پرانے مذہب کو بھی ایک Recognition دینی ہے،یا کم سے کم ان کا اثبات کرنا ہے۔ ہمارا دین تو ڈیڑھ ہزار سال پرانا ہے۔ نبی کریم اور ان کی آسمانی کتاب نے یہ کہاکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے۔ اس لیے میں تو کٹرمولوی سے یہ کہتا ہوں کہ کسی دین اور مسلک کو برا مت کہو۔ فتنہ گر کے سواکسی راہ روُ کوشیطان اور مردود اور ملعون نہ کہو۔ تمہیں کیا پتا کہ اس کا مسلک ان نامعلوم ایک لاکھ چوبیس ہزار میں سے ایک ہو۔ جو اچھی بات کر رہے ہیں، وہ اچھے ہیں۔ تمہیں کیا معلوم کہ گوتم بدھ ان میں سے نہیں تھے۔ میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ بدھ پیغمبر نہیں تھے۔ (اور کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ تھے)۔ اس لیے کہ کتاب اللہ نے تو بس سات آٹھ دس پیغمبروں کے نام لیے ہیں۔ داﺅد، موسی، عیسی، ابراہیم، یوسف، یونس وغیرہ۔ جنہیں ہم جانتے ہیں۔ یا جن کا ذکر بائبل ( Old testament)میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کہا گیا تھا کہ ایک آخری اور آنے والا ہے، جس پر یہ پورا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ یہ بائبل میں بھی کہی گئی طے شدہ بات ہے۔ اگر چہ نبی کریم کا نام نہیں بتایا گیامگر یہ طے ہوا کہ نبی موعود جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ حضرت محمد نبیِ آخرالزماںہیں، آپ تشریف لائے اور آنے والوں کا سلسلہ ختم ہو ا۔
اب میں اپنی بات سناتا ہوں۔ ۔ میں شنکر کے اسطورے سے بہت متاثر تھا کہ جو اپنی بانسری سے اس پورے نظام میں ایک ربط، تسلسل اور sensibilityقائم کرتا ہے۔ اس کی بانسری اک سناٹے یا بے ترتیبی کو سروں سے مرتب کرنے کا کام کرتی ہے۔ ربط، تسلسل اور معنویت۔ ۔ یہ گویا اساطیر سے لائے ہوئے شنکر کا کارنامہ ہے۔ آپ کو اس Legend کی معنویت کا پتا لگانا ہو گا۔ اس لیے کہ ایک خلقت اس کے ساتھ ہے۔ یعنی جو لوگ دین دھرم کی صورت اس Legend کو مانتے ہیںیعنی شنکر کے اسطورے کو، جس کی رفیقہ پاروتی ہے جو ان کی واحد محبوبہ ہے اور جس کے محبوب وہ خود ہیں۔

سوال: آپ کے افسانے ترلوچن کا عین الحق اپنی نوٹ بک میں جن دکھوں اور عذابوں کو رقم کر رہا ہے اور اپنے تئیں انہیں حل کرنا چاہتا ہے، وہ سارے دکھ اور عذاب تو آج کی دنیا کے انسان کے دکھ اور عذاب لگتے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟
اسد محمد خاں جی ہاں وہ آج ہی کے دکھ ہیں۔ عین الحق دراصل وہ عنایتِ خاص ہے جو کبھی دنیا میں پیغمبروںکی صورت میں آئی۔ جو بہت پہلے دیومالا کے اسطوروں کی شکل میں دنیا میں آئے۔ جیسے راما، کرشنا،گوتم بدھ۔ انہوں نے دنیا میں فساد نہیں پھیلایابلکہ دنیا کو جوڑا، امن اور سلامتی کی سعی کی۔ گوتم بدھ کا آخری جملہ تھا۔ سرَوم، دَکھم، دُکھم۔ ” سارا دکھ ہی دکھ ہے۔ ۔ ۔ مُصلِحوں کی طرح پھر اس نے دکھ میں سکھ پیدا کیا۔ بدھ کی زندگی بہت با معنی تھی۔ وہ خود ایک راج کمار تھے اور گدی نشین تھے پھر انہوں نے ان سب چیزوں سے دست برداری اختیار کرلی۔ اورجب ایک عرصے بعد انہیں نروان اور دانش حاصل ہوئی کہ یہ دنیا تو کچھ اور ہی طرح کی ہے تو وہ اصلاح کے لئے چل پڑے۔ ترلوچن گوتم بدھ اور شنکر جیسے مصلحین کی کہانی ہے۔ آپ عین الحق کوشنکر سے منسوب صلاحیت کا اردو ترجمہ سمجھ لیجیے۔ یعنی خدا کی آنکھ۔ ہندو اسطورے سے اٹھایا گیا یہ کردارایک باکرامت صوفی ہے اور صوفی کی طرح برتاﺅ کرتا ہے۔

شنکر ایک طرف بانسری بجا کر امن کا نفاذ کرتا ہے اور دوسری طرف اپنی تیسری آنکھ کھول کرسب کچھ فنا بھی کرسکتا ہے۔
سوال: کیا عین الحق افسانہ نگار یا تخلیقی آدمی نہیں ہے، جو اپنے گردوپیش کے لوگوں کے دکھ درد دیکھ کر اضطراب میں مبتلا ہے۔
اسد محمد خاں: یہ آپ جانتے ہیں کہ عین الحق ترلوچن کا مرکزی کردار ہے۔ یہ ایک بامعنی تخلیق ہے، جس کے ڈانڈے سامی مذاہب کے عذاب اور ثواب کے عقیدے سے ملتے ہیں بلکہ ہزاروں برس قدیم ایک اسطوری کردار (شنکر) کے بھی مماثل ہے۔ شنکر ایک طرف بانسری بجا کر امن کا نفاذ کرتا ہے اور دوسری طرف اپنی تیسری آنکھ کھول کرسب کچھ فنا بھی کرسکتا ہے۔ افسانہ نگار نے عین الحق افسانہ نگار کا قصہ نہیں لکھابلکہ شنکر کے اسطورے پر قلم اٹھایا ہے۔

سوال: آپ کے دوسرے افسانوی مجموعے ”برج خموشاں“ میں ایک کہانی ہے ” جشن کی ایک رات“۔ وہ کہانی شناور غِلزئی کے بارے میں ہے۔ اس سے پہلے آپ کے ہاں ایسی کہانی موجود نہیں تھی۔ جس کا تعلق کسی مخصوص زمانے یا کسی مخصوص تاریخی شخصیت سے ہو۔ اس کے بعد آپ کے ہاں ایسی کہانیاں تواتر کے ساتھ آنے لگیں۔ اس کی کیا وجہ تھی؟
اسد محمد خاں:میاں! شناور غِلزئی کوئی تاریخی کردار یا شیر شاہ سوری کا دوست نہیں، بلکہ فکشن کا ایک کردار ہے۔ میں نے شیر شاہ پر کوئی آٹھ نو کہانیاں لکھی ہیں۔ اس تاریخی شخصیت ( شیر شاہ سوری) سے میں نوعمری سے واقف ہوں۔ قلعہ رائے سین (سینٹرل انڈیا) جس کا شیر شاہ نے سو دن تک محاصرہ کیا اور جسے اپنی مملکت میں شامل کیا، میرے مولد بھوپال سے 27 میل کے فاصلے پر ہے،میں نے درجنوں بار اس قلعے کو دیکھااور نوعمری سے ہی شیر شاہ کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ ” جشن کی ایک رات “ سے پہلے بھی میں نے تاریخی افسانے لکھے ہیں اور یہ تواتر کے ساتھ نہیں بلکہ وقفوں سے لکھتا رہا۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے صدر ڈاکٹر حسین خان نے شیر شاہ پر سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ ان سے پہلے دو تین مورخین تھے جنہوں نے اپنی کتابوں میں شیرساہ پر صرف چند ابواب ہی لکھے تھے۔ ڈاکٹر حسین خان بہت کمیٹیڈ اسکالر تھے۔ انہوں نے جو کام کیا ہے، وہ اعلی پائے کا ہے۔ شیر شاہ سوری کے اجداد کا گاﺅں” روہ ری“ دریائے گومل کے کنارے ایک ٹیلے پرواقع تھا۔ اسی گاﺅں میں ایک وسیع حویلی تھی جہاں شیرشاہ کے بزرگ رہتے تھے ڈاکٹر حسین خاں نے یونیورسٹی کے طالب علموں کے ساتھ جاکر اس گاﺅں میں بہت دن کام کیا تھا۔
حسن خاں جو شیر شاہ سوری کے والد تھے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ” روہ ری “ گاﺅں سے چلے گئے تھے۔ جب وہ مشرقی پنجاب میں پہنچے توان کے ہاں شیر شاہ پیدا ہوا۔ یہ ان کا بڑا بیٹا تھا۔ پنجاب کے اس مقام کا نام نرنول ہے۔ حسن خاں نے اپنے بیٹے کا نام فرید خاں رکھا تھا۔ جو شیرشاہ سوری ہوا۔ میں نے محقق ڈاکٹر حسین خان کو خط بھی لکھا تھاکہ آپ کی بے مثال تصنیف ” استادِ شاہاں “مجھے بہت انسپائر کرتی ہے۔ وہ فیروز سنز نے شایع کی تھی1989 میں۔

سوال: آپ کے خیال میں ڈائجسٹوں کے لئے کہانی لکھنے میں اور ادبی فکشن لکھنے میں کیا فرق ہے؟
اسد محمد خاں: ان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ڈائجسٹوں میں آدمی صرف پیسہ کمانے کے لیے لکھتا ہے مگر جب وہ ادبی فکشن پر کام کرتا ہے تو اس کا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہوتا۔ اپنے Talent کا اظہار ہوتا ہے۔ ادبی تخلیقات کے لیے اس ملک عزیز میں کوئی رقم نہیں دی جاتی۔ ( صرف اسلام آباد کا سرکاری جریدہ ”ادبیات“ ایک طے شدہ معمولی رقم کا چیک ڈیڑھ دو مہینے بعد ادیب کو پوسٹ کردیتا ہے۔ ) اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ بہت سادہ سی بات ہے کہ ڈائجسٹ کی ”فرمائشی تخلیقات“ کسی Creative writerکی ادبی شناخت نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ روٹی کمانے کے لیے لکھی جاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ لکھنے والا ادبی تخلیق کو ہڑبڑی میں قلم اٹھا کے لکھنے بیٹھ جائے۔ ادبی کام سنجیدہ کاوش اور اپنی شناخت ہوتی ہے جب کہ ڈائجسٹ کی لکھائی صرف مزدوری ہوتی ہے۔

سوال: کمرشل فکشن اور ادبی فکشن لکھنے کے لحاظ سے کس طرح مختلف ہے؟
اسد محمد خاں: بہت سادہ سی بات ہے اگر کہیں سے آپ کو میری کوئی پرانی کہانی یا سیریل ہاتھ لگ جائے تو اسے میرے آٹھ افسانوی مجموعوں میں شامل کسی بھی کہانی کے مقابل رکھ کر پڑھتے چلے جائیں۔ دوچار صفحوں میں ہی آپ کو فرق نظر آجا ئے گاکہ دونوں الگ الگ دنیاﺅں سے تعلق رکھتی ہیں۔ خیر اب تو میں کمرشل رائٹنگ نہیں کرتا۔

سوال: آپ کے تیسرے افسانوی مجموعے ” غصے کی نئی فصل“ کی ٹائٹل والی کہانی میں آپ نے ایک بہت عجیب و غریب فرقے اور اس کی رسم کو بیان کیا ہے۔ جس میں لوگ ایک دائرے کے گرد بیٹھے ہوئے جانوروں کی سی آوازیں نکال رہے ہیں۔ وہ کیسی رسم تھی؟اور وہ فرقہ کہاں پایا جاتا ہے؟
اسد محمد خاں:وہ” مردوزی “ فرقے کی رسم تھی۔ یہ فرقہ میں نے اپنی فکشن سجانے کے لیے خود ایجاد کیا تھا۔ ایک بارجب میں لمبے دورے پر بریڈفورڈ اور لندن گیا تھا تو وہاں اپنے ایک دوست کے ہاں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ٹھہرا تھا۔ ان کے ایک جرنلسٹ دوست آئے۔ وہ کہنے لگے، بھائی! ہم نے دنیا جہاں کی ڈکشنریاں کھنگال ڈالیں۔ یہ” مردوزی“ فرقہ ہمیں نہیں ملا۔ میں نے کہا یہ بہت آسانی سے مل جا ئے گا اگر تم مردود اور قلاعوذی کو جوڑدو۔ (بھوپال میں چڑ کرکہا جاتا تھا کہ یار تم تو قلاعوذی ہو۔ یعنی تم سے دور رہنا چاہیے)۔ ان دو کو ملا کر ہی میں نے ” مردوزی“ بنایا تھا۔ اس فرقے کا کہیں کوئی وجود نہیں۔ یہ پورا فکشن ہے۔ کہانی میں بتایا ہے کہ وہ لوگ رات کو چھت پر جا کر وِرد کرتے تھے۔ میں نے دکھایا تھا کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو غصے سے اور منفی رجحانات سے خالی کرتے تھے۔ ہر آدمی کے اندر غصہ موجود ہوتا ہے اور خباثت بھی ہوتی ہے۔ اب اس کی بہترین صورت ” مردوزیوں“ نے یہ نکالی کہ ان کا مرشد انہیں ایک دو گھنٹے وِرد کرواتاتھا اور کہتا تھا اپنے اندر کی خباثت نکالو۔ وہ رات میں چھت پر بیٹھ کر ایک دوسرے کو گھورتے اور بک بک کرتے تھے۔ پہلے میں نے لکھا تھا کہ گالی گلوچ کرتے تھے۔ بعد میں اسے کاٹ کر یوں کردیا کہ وہ غراتے اور بدکلامی کرتے تھے۔ یہ افسانہ پڑھ کر بہت سے لوگوں کے خط آئے کہ یہ فرقہ کہاں ہوتا ہے۔ بعض نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ ایران میں ہوگا۔ یہ ایران توکیا کہیں بھی نہیں تھا۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک پٹھان ہے جو سفر پر وہاں آیا ہے۔ وہ یہ منظر دیکھ کر بھاگتا ہے کہ لا حول ولا قوت! میں کن لوگوں میں آ گیا ہوں۔

سوال: اسی کتاب میں ایک اور افسانہ ہے طوفان کے مرکز میں۔ جس میں کراچی کی پرانی زندگی کی جھلکیاں ہیں۔ اسے لکھنے کی انسپائریشن کیا تھی؟
اسد محمد خاں:اس میں میری اپنی زندگی اور میرے کچھ دوستوں کی گزرتی ہوئی زندگی بیان ہوئی ہے۔ میں نے ان کی، اپنی مصیبتیں اور تلخیاں بیان کی تھیں۔ ان اچھے وقتوں کابیان بھی تھا جو ہم نے کراچی صدر کے علاقے میں گزارے۔ صدر کا علاقہ اب تو بالکل ہی بدلا ہواہے۔ ایک میرا دوست انتھونی گومزتھا۔ اس کا تعلق گوا سے تھا۔ وہ ہر سال گرہ پر میرے لیے کوئی نہ کوئی کتاب لے کر آتا تھا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ میں دو طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ ایک تو وہ جو ہر وقت اپنی جیبیں بھرتے رہتے تھے۔ اور دوسرے گومز جیسے ایمان دار۔ وہ میرے حساب سے ایک بے نیاز آدمی تھا۔ وہ رومن کیتھولک تھاتومیں اس سے کہتا تھا کہ تمہاری faith سنیوں کے کچھ قریب ہے۔ تم بھی میری طرح بزرگوں کی باتیں سن کے نیک ہو گئے ہو۔ جیسے میں سنی سنائی باتوں کی وجہ سے سنی ہوں، تم بھی ویسے ہی سنی ہواور میں بھی سن کر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر عمل تو مجھ بےچارے سے ہوتا نہیں۔
ایک دن میں نے پوچھا۔ ” تم یہ اچھی اچھی کتابیں تم کہاں سے لے کر آتے ہو؟“۔ کہنے لگا”۔ نہیں بتاﺅں گا“۔ میں نے کہا۔ ” بتادو، یار“۔ وہ میرا دوست تھا۔ اس نے بتایا کہ صدر کے پوسٹ آفس کے سامنے والے فٹ پاتھ پہ ہمارے گوا والے کبھی کبھی بیٹھتے ہیں۔
یہ پڑھے لکھے عیسائی اچھی خاصی اردو انگریزی بولتے تھے۔ بعض تو ٹائی بھی پہن کر آتے تھے۔ یہ لوگ نہ صرف رسالے اورکتابیں بیچتے تھے بلکہ انگریزی کی ٹیوشن دینے اور پڑھنے میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔
مجھے امریکہ میں شایع ہونے والی کتاب Roots خریدنی تھی۔ میں وہاں گیا تو کتب فروش کہنے لگا۔ ” لے جاﺅ لے جاﺅ“۔ کتاب مہنگی اور بھاری بھر کم تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ لے جاﺅ، کچھ پیسے ابھی دے جاﺅ، کچھ اگلی بار دے دینا۔ میں نے کہا کہ نہیں، میں ادھار کا قائل نہیں ہوں۔ اس نے پوچھا۔ پھر کیا کریں؟۔ میں نے کہا تم ایسا کرو۔ یہ کتاب تو بک جائے گی۔ اس کے بعد جب بھی یہ تمہارے پاس آئے۔ تو تم سنبھال کے رکھ لینا۔ میں دوتین مہینے بعد آﺅں گا تو لے لوں گا۔ ایک دو مہینے بعد اس مہربان نے مجھے آواز دے کر بلایا۔ کہنے لگا۔ اب یہ کتاب پرانی ہو گئی ہے۔ اس کی قیمت کم ہو گئی، لے جاﺅ۔ میں نے کہا کہ میں نے بھی روپے جمع کر لیے ہیں۔ کہنے لگا ویری گڈسر۔ اب یہ ایک سو پچھتر روپے کی ہے۔ تو اس طرح اس کتب فروش سے میری دوستی ہوگئی۔ اسے پتہ تھا کہ میں کتاب کا کیڑا ہوں۔ اس دور میں سو روپے بھی بڑی رقم ہوتی تھی۔ یہ کمال وضع داری تھی کہ اس نے Roots میرے لیے چھپا کر رکھی۔ قیمت کم ہوگئی تو مجھے بیچ دی۔
افسانے ” طوفان کے مرکز میں“ اردو کے صاحبِ طرز شاعر ظہیر کاشمیری کا بھی ذکر ہے، انہیں ہم نے خوب دیکھا۔ اس زمانے کے لوگوں میں ایک اچھی بات یہ تھی کہ پڑھنے والے کسی شاعر ادیب کو اپنا آیڈیل بناتے تھے اور اس سے محبت کرتے تھے۔ اس کے لیے دعا بھی کرتے تھے۔ ظہیر کاشمیری میرے آئیڈیل تھے۔ کچھ لوگ مذاق اڑاتے تھے کہ یار دیکھو، ظہیر کاشمیری نے شراب پی پی کراپنے آپ کو خراب کرلیا،اب وہ کیا لکھیں گے۔ جھک ماریں گے باقی عمر۔ میں ان سے کہتا۔ ایسا مت کہو۔ ان کے لیے دعا کرو، وہ کہتے۔ تم اس کے بارے میں اچھی اچھی باتیں سوچتے رہومگر وہ باز نہیں آئے گا۔ میں کہتا،مجھے اس آدمی کی چھ نظمیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ مجھے ساتویں بھی چاہیے۔ دسویں بھی چاہیے۔ وہ کہتے، ہاں تو ٹھیک ہے، کرو انتظار۔ میں ان سے کہتا کہ میں چاہتا ہوں وہ خوب لکھیں،اور یہ کوئی بری خواہش تو نہیں ہے؟
ظہیر کاشمیری کو ہم نے لاہور میں کتنی بار دیکھا تھا۔ ایک بار میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تھا۔ انہیں دیکھ کر میں نے کہا بھیا!وہ دیکھو، ظہیر کاشمیری جا رہے ہیں۔ بھائی نے کہا۔ تو کیا ہوا۔ میں نے کہا۔ واہ کیوں نہیں ہوا۔ یہ اتنا شان دار اور خوبصورت آدمی ہے۔ اور اس کی نظمیں بھی بہت اچھی ہیں۔ میرا بھائی کہنے لگا۔ چھوڑو، یہاں تمہیں ایسے بہت سے ملیں گے۔ لاہور تو ہے ہی ادیبوں اور شاعروں کا شہر۔ میرے بھائی نے انہیں اس طرح نظر انداز کردیا۔ ظہیر کاشمیری اس زمانے میں بہت ٹھاٹھ دارکپڑے پہنتے تھے۔ پھر لوگوں نے ان کی وہ حالت بھی دیکھی کہ وہ کسی خیراتی ادارے میں پڑے تھے۔ اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ وہ بہت کمال آدمی تھے۔ ظاہر ہے کشمیری تھے اور طویل قامت تھے۔ وہ ترقی پسندوں کے ساتھ ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔ اسی لیے اس زمانے میں وہ میرے پسندیدہ شاعر ہوئے۔ لوگ کہتے تھے، ارے چھوڑو یار۔ ظہیر کاشمیری show off کرتا رہتا ہے۔ میں کہتا تھا کہ تم کیوں برا مانتے ہو، تم بھی شو آف کرو۔ ۔ میں بار بار یہی کہتا تھا جیسی اچھی نظمیں انہوں نے لکھیں، ویسی کسی اور نے لکھی ہیں؟

سوال: آپ کی چند کہانیوں میں نیپیئر روڈ کے بازارِ حسن کا ماحول بھی دکھائی دیتا ہے۔ نیپیئر روڈ تو اب قصہِ پارینہ بن چکا۔ اس کا نام و نشان بھی مٹ چکا۔ کچھ اس بازار کی زندگی کے بارے میں بتائیں۔
اسد محمد خاں:جی میری بعض کہانیوں میں وہاں کا ماحول جھلکتا ہے۔ قصہ یوں ہے کہ میں اس زمانے میں ٹی وی کے لیے گیت لکھا کرتا تھا۔ اس وقت جتنے بھی اچھے کمپوزر تھے، تقریباً سب ہی مجھ سے کہتے۔ اسد بھائی، آپ ایک آدھ گھنٹے کے لیے میوزک روم میں آجائیں۔ گیت کی پہلی Reading یہ بی بی کرے گی۔ ہم چاہتے ہیں یہ آپ کے سامنے پڑھ دے۔ اس کے بعد ہم جانیں اور یہ جانے۔ میں کہتا کہ ہاں بالکل آجائیں گے۔ افتخار عارف یہ چاہتے تھے کہ میں زیادہ سے زیادہ گیت لکھوں۔ کیوں کہ اس طرح ان کی جان چھوٹ جاتی تھی۔ اسلام آباد ہیڈکواٹر سے حکم آتا تھا کہ فوراً اتنے گیت چاہئیں۔ تو وہ کہتے تھے کہ اسد بھائی اگر آپ شروع کردیں گے تو مجھے دو تین اور دوستوں کی طرف سے بھی کام ملنا شروع ہو جائے گا۔ وہ دیکھیں گے کہ اسد لکھ رہا ہے تو وہ بھی لکھیں گے۔ اس طرح دس پندرہ بیس روز میں میرا پورا پروگرام ریکارڈ ہو جائے گا۔ ظاہر ہے یہ ان کے عہدے کی مجبوری تھی۔ وہ میوزک روم میں کمپوزرز کو بٹھادیتے تھے۔ خاص طور پر عاشق علی خاں کو۔ عاشق علی خاں کہتے، اسد بھائی، آپ سن لیں۔ اس گانے والے یا گانے والی کا تلفظ ٹھیک ہے۔ یہ صحیح جگہ رک رہی ہے کہ نہیں؟ اس کی ادئیگی ٹھیک ہے؟ کہیں اس نے کوئی گڑ بڑ تو نہیں کردی۔ ایسا نہ ہو کہ یہ غلط ریکارڈ ہو جائے تو میری مصیبت آجائے۔ کبھی عبیداللہ علیم اور میں، اور بعض اوقات میں اکیلا میوزک روم میں ریہرسیل میں جایا کرتا۔
عاشق علی خاں بہت کمال کے آدمی تھے۔ وہ گانے والی بائیوں کو سمجھاتے تھے۔ دیکھو، ان کے سامنے سگریٹ وگریٹ مت پینا۔ زیادہ بک بک نہ کرنا اورایک دوسرے کو جو تم گالیاں بکتی رہتی ہو۔ چھنال چھنال کرتی رہتی ہو۔ یہ سب نہیں کرنا۔ اس لیے کہ یہ شاعر بڑی مشکل سے قابو میں آئے ہیں۔ اس طرح عاشق علی خاں انہیں ڈرا کے رکھتے تھے۔
ایک دفعہ وہ مجھ سے ہنس کرکہنے لگے۔ یہ جو ابھی اٹھ کر گئی ہے کیا ٹھیک پڑھتی تھی۔ میں نے کہا کہ ہاں، ٹھیک پڑھتی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ بہت بے قابو لڑکی ہے۔ آپ کو ان کا کچھ پتہ نہیں۔ اس لیے انہیں اور گانے والے من چلوں کو ڈرا کر رکھنا ضروری ہے۔ مگر استاد بھی اور لکھنے والے بھی دیانت داری سے ان کے آﺅٹ پٹ کی تعریف کرتے تھے۔ اورگلوکارائیں بھی خوش ہو کے لوگوں سے کہتی تھیں کہ ان صاحب کافلاں فلاں گیت،(جیسے انوکھا لاڈلا )ہم نے بھی گایا ہے۔ اس زمانے میں یہ سب ہوتا تھا۔ ہم جب وہاں جاتے تھے تو میوزک روم بہت سلیقے کا ہوتا تھا۔ وہاں آکروہ بائیاں گیت پڑھ کے، سمجھ کے چلی جاتی تھیں۔ میں نے ایک روز علیم سے کہاکہ ان بے چاریوں کو لوگ برا کیوں کہتے ہیں۔ علیم نے جواب دیا کہ کبھی تم کمپوزرز کی میٹینگ کے وقت میرے کمرے میں آنا۔
ایک دن میں وہاں گیا تو ایک گانے والی واقعی رو رہی تھیں۔ میں وہاں ایک طرف خاموشی سے بیٹھ گیا۔ وہ اپنی ماں کی خباثت کا ذکر کر رہی تھی۔ یا جس نے اسے پالا تھا، اس کی کمینگی بیان کر رہی تھی۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔ وہ بتا رہی تھی کہ اسے پالنے والی نے ایک بار ایک پینسٹھ سالہ آدمی کے ساتھ اسے چلتا کیا۔ ،کہنے لگی،میں گئی اور اس کتے کے ساتھ تین مہینے تک رہی۔ کبھی اس کا بھتیجا بھی چلا آتا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ اس کی کہانی بہت الم ناک تھی۔ جسے وہ رو رو کرسنا رہی تھی۔ علیم بھی درد مند دل رکھنے والے دوست تھے۔ وہ ایسی صورت حال کا بھی سامنا کرتے تھے۔ ایسی لڑکیوں سے کہتے کہ سب بھول جاﺅ۔ اب میں تمہارااستاد ہوں۔ تم میری شاگرد ہو۔ بس بسم اللہ کرکے گانا شروع کرو اور، نام کماﺅ۔ وہ جو تمہارے ساتھ آتا ہے نا دَلا،اس سے میں نمٹ لوں گا۔ اسے اوپر والوں سے دھمکی دلواﺅں گا۔ اور علیم نے ایسا کیا بھی۔ اس نے ساتھ آنے والے سے کہاکہ دیکھو بھئی، اب یہ ٹی وی کی آرٹسٹ ہے۔ تم اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کرو گے۔ جیسے اس روز تم نے اس پر جوتا اٹھا لیا تھا۔ اب یہ نہیں چلے گا۔ یہ ٹی وی اسٹیشن ہے۔ تمہارا بدمعاشی کا اڈہ نہیں ہے۔ علیم نے اس دلے کو ایسا ڈرا دیا تھا کہ بس۔
اس زمانے میں اسلم اظہر ٹی وی کے کرتا دھرتا تھے۔ وہ ایک میٹنگ میں مجھ سے پوچھنے لگے۔ اسد، تم خوش ہو نا؟لکھنے کا ماحول Positive ہے؟۔ میں نے کہا، بہت دن بعد ہوا ہے مگر اب بالکل پازیٹو ہے۔
میں بھی سوچتا تھا کہ ان عورتوں کے سُراتنے سجل اور خوب صورت ہیں اور یہ محنت بھی کرتی ہیں ان کے ساتھ یہ کیا تماشے ہو رہے ہیں؟ ایک گانے والی چار دن ریہرسیل میں نہیں آئی،اور جب آئی ہے تو ہر وقت آنسو پونچھتی رہتی ہے۔ مگر یہ سب علیم manageکرلیتے تھے۔ وہ ان سے کہتے تھے کہ دیکھو بی بی، یہ تمہارا مستقبل ہے، کیرئیر ہے۔ اور رہے وہ بدمعاش، تو ہم ان کا دماغ ٹھیک کردیں گے۔ علیم ان ساتھ آنے والوں کو ڈانٹ کر رکھتے تھے اور ان سے کہتے تھے ریڈیو اور ٹی وی کی تمہاری ساری بکنگ کینسل کروادوں گا۔ بیٹھے رہنا پھر، ایک ایک مجرے کے لیے۔ تو وہ جواب دیتے۔ نہیں سر، جیسے آپ کہیں گے ویسے ہی ہوگا۔

سوال: آپ کے نزدیک ایک فکشن رائٹر کی بنیادی ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟ فکشن رائٹر کو جمہوریت یا آمریت میں سے کس کا ساتھ دینا چاہیے؟
اسد محمد خاں:نہیں، کسی کا ساتھ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کسی کمٹ منٹ کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ایک فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب، اور کہانی کے patteren سے ہوتا ہے۔ آپ کہانی لکھنے آئے ہیں۔ قوم کی اصلاح کرنے نہیں آئے۔ دیکھیں یہ بابائے اردو جیسے بڑے لوگوں کا کام تھاکہ جنہوں نے زبان کو رفعت بخشی۔ آج اردو زبان کو جو رتبہ ملا ہے، یہ ہمارے ان ہی اسکالرز کی وجہ سے ہے۔ لیکن ایک عام تخلیقی کام کرنے والے، لکھنے والے کوجس کا کام کہانی کہنا ہے، گیت لکھنا ہے۔ اسے صرف کہانی کہنے اور گیت لکھنے سے سروکار ہوناچاہیے۔ سرخ انقلاب کے چکر میں کتنے اچھے اچھے ادیب ضایع ہوگئے۔ یہ سب کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے با صلاحیت لوگ اس طرح خراب ہو ئے۔ فکشن رائٹر اور ایک شاعر کا کمٹ منٹ صرف اپنے کرافٹ اور فن کے ساتھ ہے۔ اور یہ بھی کہ اصل کرافٹ وہ ہے جونظر نہ آئے اور آپ کے کہانی کہنے کے انداز میں گم ہو جائے۔ ورنہ لوگ کہیں گے کہ اوہو، ان کے ہاں تو پوری Mathsہے، دو اور دو چار ہورہے ہیں۔ فکشن میں دو اور دو چھ بھی ہوتا ہے۔ کرافٹ کی پرواہ چھوڑیے۔ بس اپنا کام کرتے رہیے۔ جو پسندیدہ بھی ہو اور معیاری بھی۔

میں نے تاریخ کے مطالعے سے یہ اخذ کیا کہ کہانی کو عام آدمیوں کے ذریعے اٹھایا جائے کیوں کہ مختلف ادوار کی تنظیمی خرابیوں سے یا اہلیت سے عام آدمی کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔
سوال: آپ کا ایک طویل افسانہ ہے ” رگھوبا اور تاریخِ فرشتہ“۔ اس میں ایک نوجوان کی کہانی بیان کی گئی ہے، اس کے بعد اسے سپہ گری کی مکمل تربیت دے کرجاسوسی کے لیے مختلف مہمات پر بھیجا جاتا ہے۔ وہ کہانی لکھنے کی انسپائریشن کیا تھی؟اور اس کہانی کا تعلق کس دور ہے؟
اسد محمد خاں: دیکھیے صاحب،اس دور کی بات یہ ہے کہ میں جب شیر شاہ سوری پر قسط وار کہانی لکھ رہا تھا،تو اس وقت میں نے ایک کردار تخلیق کیا تھا۔ شناور غِلزئی۔ (غِلزئی پختونوں کا ایک قبیلہ ہے)۔ تو اس طرح کچھ کردار بنانے پڑتے ہیں۔ شناور کا پورا پس منظر سپاہیانہ ہے۔ وہ ایک ملازمت پیشہ پٹھان ہے اور اس کے اندر قبائلی self respectموجود ہے۔ وہ اپنی مالی حیثیت سے لوگوں کو متاثر کرنا نہیں چاہتا کیوں کہ وہ کہتاہے۔ غلزئی کبھی کسی سے ڈینگیں نہیں ہانکتے، کبھی کمزور پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتے۔ کوئی بے غیرتی کی حرکت نہیں کرتے۔ پیٹ نہیں بھرتا ہو نہ بھرے، مر جاﺅ، لیکن ہاتھ مت پھیلاﺅ،compromise مت کرو۔ جوتے گانٹھ لو۔ وہ کام ہے، پالش کرنا بھی کام ہے۔ لیکن کبھی کوئی بے غیرتی نہ کرنا۔ تو یہ ایک code of ethics ہے جسے پختون ولی کہا جاتا ہے، یعنی پٹھانوں کانظامِ اخلاق۔ اسے ہندوستان کے پٹھان ”پٹھن ولی“ بھی کہتے ہیں۔
اس کردار میں یہ ساری بنیادی باتیں ہیں۔ ان چیزوں کو بیان کرنے لیے میں نے شناور غلزئی جیسا کردار تخلیق کیا۔ اسی طرح کچھ اور کردار بھی بنائے۔ آپ نے رگھوبا کا ذکر کیا۔ میں نے اسے ایک convert ظاہر کیا، جو ہندو سے مسلمان ہوا ہے۔ یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ یہ خلجی بادشاہوں کا دور تھا۔ آپ جانتے ہیں،میں نے بادشاہوں پر کبھی نہیں لکھا۔ ان باشاہوں کے ادوارو اذکار آئے بھی تو، عام لوگوں یا ان کا کوئی اہل کاروں کے حوالے سے، جن کے ذریعے ان کا دور کھل کر ہمارے سامنے آیا۔ کبھی بھی عہد کی شان وشکوہ اور دبدبہ سلاطین سے نہیں ہوتا۔ میں نے کسی بھی دور کاحال سنایا تو کریڈٹ میں نے کبھی بادشاہوں کو نہیں دیاکہ یہ بادشاہوں کا کمال نہیں تھا۔ ان کے منتظمین اور عوام کا کمال تھا۔ شیرشاہ سوری کا ایک منتظم” ٹوڈر مل “بھی تھا۔ اٹھارہ سال کے اس نوجوان سے شیر شاہ لاہور میں ملا تھا۔ شیرشاہ سوری نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم نے زمین ناپنے کا اصول سمجھ لیا ہے۔ لو ہماری زمین کی پیمائش کرو۔ اس کے پاس شعور اور علم تھا۔ یہ ٹوڈر مل عہدِ مغلیہ میں بہت مشہور ہوا۔ اکبر بادشاہ نے اسے راجہ ٹوڈر مل کا خطاب دیا تھا تب وہ ادھیڑ عمر کا تھا۔ تو یہ شیرشاہ کا کمال تھاکہ وہ عام لوگوں میں سے باہنر لوگ ڈھونڈلیتاتھا۔ وہ خود بھی ایک عام آدمی کی طرح اٹھا تھا۔ کسی بادشاہ کی اولاد نہیں تھا۔ (سلطان ابن سلطان نہیں تھا)۔ مغلوں میں ایسا ضرور ہوا کہ نسل در نسل سلسلہ چلا۔ خلجیوںمیں بھی یہ رواج چلا۔
میں نے تاریخ کے مطالعے سے یہ اخذ کیا کہ کہانی کو عام آدمیوں کے ذریعے اٹھایا جائے کیوں کہ مختلف ادوار کی تنظیمی خرابیوں سے یا اہلیت سے عام آدمی کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔ بادشاہ تغلق نے اپنے دور میں طرح طرح کے تماشے کیے۔ سکوں کے ڈھیر لگ گئے تھے۔ اس نے کاغذ کا سکہ ایجاد کیا۔ اس عہد کے لوگ تانبے پیتل کے سکوں کو مانتے تھے مگر تغلق نے بالکل ہٹ کر نیا سکہ رائج کردیا۔ میں نے یہ احوال پڑھتے ہوئے سوچا کہ عام لوگوں کے ہجوم سے ایک ذہین و فطین کردار آنا چاہیے، اور وہ تھا رگھوبا۔ وہ خلجیوں کے دور میں کبھی ایک کارنامہ کر دکھاتا ہے کبھی دوسرا۔ وہ عام لوگوںکی واردات سناتا ہے۔ ظل اللہ کا چمچہ نہیں ہے۔
میری کہانیوں میں دربار کا ایک منظر نہیں ملے گا۔ کیوں کہ میرے تئیں بادشاہ خود سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے ٹھاٹھ باٹھ سے مجھے کبھی سروکار نہیں رہا۔ اس لیے یہ سب چھوڑ کر کیوں نہ ہم باڑے میں جائیں، جہاں بھینس کا دودھ دوہا جارہا ہے۔ جہاں بھُک مری کا قصہ سنایا جا رہا ہے، تو وہاں سے،حقیقی زندگی سے کہانیاں نکالنی چاہئیں۔

سوال: کیا آپ لکھتے ہوئے خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کرتے ہیں؟ یا آپ اپنے ذہن پر کسی قسم کا سینسر عائد کرتے ہیں؟
اسد محمد خاں: میں بس ایک بات کا خیال رکھتا ہوں کہ جس نے بھی زمین پر شر کو پھیلایا، کبھی میری تحریر میں اس کی تعریف نہ آئے۔ ہمیشہ اس پر تنفر کے جوتے ہی پڑیں۔ اور یہ بات نمایاں بھی نہ ہو۔ یعنی میں اگر ایک پورا جملہ بھی لکھ دوں کہ ہم لکھنے والے شر کو ختم کرنے آئے ہیں اور ہم خیر کا فروغ چاہتے ہیں۔ بات نہیں بنے گی نہیں۔ جی نہیں۔ یہ سب کچھ بین السطور ہونا چاہیے۔

میں بس ایک بات کا خیال رکھتا ہوں کہ جس نے بھی زمین پر شر کو پھیلایا، کبھی میری تحریر میں اس کی تعریف نہ آئے۔ ہمیشہ اس پر تنفر کے جوتے ہی پڑیں۔
سوال: آپ کے بیشتر افسانوں کے بین السطور غصے کی ایک زیریں لہر ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ جو مختلف لفظوں اور جملوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا کیا سبب ہے؟
اسد محمد خاں: اس غصے کا سبب ہمارے ملک کی تاریخ ہے۔ دیکھیے نا ہمارے ہاں چار ڈکٹیٹر آئے۔ آپ نے اپنی نوعمری میں دیکھا سناہوگا کہ کچھ اچھے لوگ بھی آئے ہیں، ایک مقصد لے کر۔ لیکن انہیں نہ کچھ کرنے دیا گیا اور ہٹا دیا گیا۔ توکیا یہ سب صرف ہمارے لیے ہی رہ گیا ہے، کہ یہاں اسی طرح کے نامعقول لوگ آتے رہیں اور برسوں مسلط رہیں۔ آپ جنوبی ہندوستان کو دیکھیے۔ ایک شخص درزی کا کام کرتا ہے۔ وہ اپنی بیگم کے ساتھ مل کر یہ کام چلاتا ہے۔ اسے سیاست میں کچھ درک ہوتا ہے۔ وہ خوب حصہ لیتا ہے اور آگے چل کر وہ پورے علاقے کا ایڈمنسٹریٹر بن جاتا ہے۔ اور جنوبی ہند کے اخبارات اس کی ایمان داری کی تعریفیں کرتے ہیں۔ جب اسے اپنے ذاتی کام سے جانا ہوتا ہے تو اپنی بیوی سے گاڑی مانگتا ہے۔ اگر گاڑی تو خراب ہوتی ہے تو وہ اپنی موٹر سائیکل پر چلاجاتا ہے۔ وہ وہاں کا وزیرِاعلی ہے۔ وہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اور لا مذہب ہے۔ آدھی رات کو اس کے گھر جا کر لوگ اسے اپنا مسئلہ بتائیں، تو بھی خندہ پیشانی سے سنتا ہے اور اسے حل کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ وہاں کامیاب ہے، اس لیے کہ وہ ایک عام آدمی ہےاور عام آدمیوں کے لیے کام کرتا ہے۔

سوال: کیا آپ پورا افسانہ، اس کی جزیات سمیت پہلے سے سوچ لیتے ہیں اور اس کے بعد من و عن اسے لکھتے ہیں؟ یا لکھنے کے دوران دھیرے دھیرے اس کی جزئیات کو گرفت میں لاتے ہیں؟
اسد محمد خاں:ایک خیال پیدا ہوتا ہے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کوئی واقعہ یا فقرہ ذہن میں آجائے۔ ۔ مثلاًایک سڑک چلتا آدمی پریشانی میں ہے، اس سے کوئی شخص ایک ایسا فقرہ کہے جس سے حوصلہ بندھ جائے، ہمت پیدا ہویہ سوچ توانائی سے آئے تو۔ کہانی ڈیویلپ کروں گا۔ یا پھر کوئی ایک فقرہ haunt کرتا رہتا ہے۔ یا پھر کوئی event۔ کوئی ایسا event جو مجھے اپنی گرفت میں لے لے۔ اس طرح میں اس کردار کے ساتھ بندھا رہتا ہوں۔ کبھی وہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ مجھے نچلا نہیں بیٹھنے دیتا، تو میں اس واقعے کو لکھ کر چلتا ہوں اور کہانی بننے لگتی ہے۔

سوال: آپ کا لکھنے کا وقت یا اوقات کیا ہیں؟
اسد محمد خاں:یہ تو بیس پچیس سال سے زیادہ پرانی کہانی ہے۔ پہلے میں رات کے دوڈھائی بجے تک جاگتا تھا، صبح مجھے آفس جانا ہوتا تھا،تو ایک خاص وقت پر میں الارم سے اٹھ جاتاتھا۔ بیگم ناشتہ دیتی تھیں،میں روانہ ہوجاتا تھا۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ محکمے والوں نے میرے لیے صبح ایک گھنٹے کی خاص رعایت کی تھی۔ لیکن مجھ پر ذمہ داری تو تھی۔ میں جلد از جلد وہ کام نمٹاتا۔ پھر لکھنے بیٹھ جاتا۔ وہاں انسپیکٹر امپورٹس تھاتومجھے انسپیکشن کے بعددستخط کرنے ہوتے تھے۔ تاہم میں پانچ ساڑھے پانچ بجے گھر آجاتا تھا۔ گھر آنے کے بعد گھر کے کام یعنی سودا سلف اور دیگر کام نمٹا کر میں رات میں لکھنے کے لیے بیٹھتا تھا تو مجھے تین چار گھنٹے مل جاتے تھے۔ بیگم اردو کی لیکچرار تھیں۔ ان کو صبح جانا ہوتا تھا۔ ریٹائر منٹ کے بعد مجھے لکھنے کے لیے کچھ زیادہ وقت ملنے لگا۔ بعض مجموعے میں نے ریٹائر منٹ کے بعد ہی مکمل کیے۔

سوال: کیا آپ روزانہ لکھتے ہیں؟
اسد محمد خاں:نہیں۔ جب وقت ملتا ہے۔ اور کتنی دیر لکھتا ہوں، یہ طے نہیں۔ جب مطمئن ہوجاتا ہوں تو ختم شد۔ پھر کبھی تو وہ تحریر بھول جاتا ہوں،اورعنوان بھی یاد نہیں رہتا۔ کبھی مجھے بھی تعجب ہوتا ہے کہ اچھا،یہ میں نے لکھا تھا۔ یہ بھی ہوتا ہے۔ جب تک کوئی تحریر پوری لکھی نہیں جاتی، میں مسلسل بے چین رہتا ہوں۔ ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب اطمینان ہو جاتا ہے۔

سوال: کیا آپ لکھنے کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں یا کاغذ پینسل سے لکھتے ہیں؟
اسد محمد خاں:کمپیوٹر میں نے چار سال پہلے تک خوب استعمال کیا لیکن اب بہت کم کم۔ میں نے اپنی کچھ کہانیاں اور کچھ کمرشل اسکرپٹ کمپیوٹر پر کیے تھے۔ میری بیٹیوں نے کہا۔ اب آپ لیپ ٹاپ استعمال کیجیے۔ ،تو میں ان دنوں رومن اردو میں لکھتا ہوں۔ میں نے اپنی بڑی نواسی سے کہا ہے کہ مجھے لیپ ٹاپ میں ان پیج ڈال کر دو، اسے Testsاور امتحانوں سے فرصت نہیں ہے۔ خیر۔ کمپیوٹر کے استعمال سے پہلے میں کاغذ قلم سے ہی لکھتا تھا۔ اب بھی زیادہ تر کام قلم سے لکھ کر ہی کرتا ہوں۔

سوال: آپ کسی افسانے کو کتنی مرتبہ لکھتے ہیں؟
اسد محمد خاں: ان گنت مرتبہ۔ میں عام طور پر سولہ سترہ مرتبہ تو اس میں ردوبدل کرتا ہی ہوں۔ بعض کہانیاں بہت جلدی بھی لکھی جاتی ہیں۔ میں اپنے افسانوں میں punctuation کا خاص خیال رکھتا ہوں۔ اگر آپ صحیح جگہ کوما یا فل اسٹاپ نہ لگائیں توبعض اوقات پورا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

افسانے کاآغاز اور اختتام پر کشش ہونا چاہئیے۔ اگر افسانے کا پہلا پیراگراف کسی کو گرفت میں نہیں لیتاتو ممکن ہے وہ اسے بالکل نہ پڑھے۔ اس لیے پہلا جملہ بہت اہم ہوتا ہے۔
سوال: آپ افسانے کو فائنل کرتے ہوئے کس طرح کی ایڈیٹنگ کرتے ہیں؟
اسد محمد خاں: افسانے کاآغاز اور اختتام پر کشش ہونا چاہئیے۔ اگر افسانے کا پہلا پیراگراف کسی کو گرفت میں نہیں لیتاتو ممکن ہے وہ اسے بالکل نہ پڑھے۔ اس لیے پہلا جملہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اچھا اس میں یہ بھی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مصنوعی طور پر Draftکیا ہوا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں، پھر بھی افسانے کو اتنا متوازن ہونا چاہیے کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ یہ کوئی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔ اس کے بعد story telling ہے، کردار ہیں، مختلف واقعات ہیں۔ ایک خاص واقعہ[ چاہے وہ واقعہ نہ ہو ایک جملہ ہی ہو،] اورایک خاص تفہیم، کردار میں اچانک سے آتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے افسانہ ختم ہوا۔ تو اس کے بعد بڑھانے کی ضرورت نہیں۔ وہیں ختم کردینا چاہیے۔ خاتمہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ آپ کو مطمئن کردے اور پڑھنے والے کو بھی بتادے کہ بس یہاں بات ختم ہو گئی ہے۔ اب اس سے آگے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ مختصر یہ کہ بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ کئی کئی بار لکھنا پرتا ہے۔ کوئی پیراگراف جو فضول لگے اسے ہٹانے میں تامل نہیں کرنا چاہیے۔

سوال: انسانی معاشرے میں فکشن کا بنیادی کام کیا ہے؟
اسد محمد خاں: روز اول سے پہلے مائیں، اس کے بعد دانش مندلوگ یعنی گاﺅں کے مکھیے، سردار، بوڑھے اپنی بات پہنچانے کو کہانی سنانے یا داستان گوئی سے کام لیتے تھے۔ بچے کہانی کی فرمائش کرتے تھے مائیں کہانی سناتی تھیں۔ اس کا مقصد یہ بھی ہوتا تھاکہ بھلے لوگوں کیسے زندگی گزارتے ہیں، یہ بچوں کو بتایا جائے۔ ان میںبھی اچھا آدمی بننے کی خواہش پیدا ہو۔ اس طرح کہانی بچوں کی تربیت کا ایک طریقہ ہوتی تھی۔

سوال: آپ کس طرح کی کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں؟ یعنی فلسفیانہ، تاریخی، یا فکشن کی کتابیں؟
اسد محمد خاں:میرے لیے فکشن پڑھنا سب سے زیادہ پسند یدہ کام ہے۔ میں نے اردو اور انگریزی کی وساطت سے دنیا کی دیگر زبانوں پولش، جرمن، روسی، فرانسیسی وغیرہ کا ادب پڑھا۔ انگریزی نظم ونثرکا خوب مطالعہ کیا۔ تاریخ کے موضوعات بھی میرے لیے کشش رکھتے ہیں۔

سوال:عالمی ادب میں آپ کے پسندیدہ ادیب کون کون سے رہے؟
اسد محمد خاں: وہی جو مشہور و معروف ہیں۔ اور جن تک ہماری پہنچ ہے۔ ایک زمانے میں جن ادیبوں کامیں نے خوب ترجمہ کیا، ان میں بورخیس شامل تھے۔ ”خوب ترجمہ“ کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اجمل کمال سہ ماہی ” آج“ نکال رہے تھےاور ”آج“ کی سپلائی برقرار رکھنی تھی۔ ہمارا ایک چھوٹا سا گروپ تھا۔ تو ہم چاہتے تھے کہ ہمارے واسطے سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ چیزیں پڑھنے کو ملیں۔ میرے نوجوان ساتھی بیس بیس سال کے ہوں گے اور میں پچاس سال کا ہونے والا تھا۔

سوال: آپ نے جو فکشن پڑھا، اس میں آپ کے پسندیدہ کردار؟
اسد محمد خاں:پسند تو بہت سے آئے مگر یاد نہیں رہے۔ اصل میں جب آدمی اپنا لکھنا شروع کرتا ہے تو ’دوسروں کے کردار‘ اسے متاثر تو کرتے ہیں مگر اس کے اندر جگہ نہیں بناتے۔ وہ اپنے کرداروں میں کھویا رہتا ہے۔ آدمی پہلے اپنا گھر دیکھے گا نا۔ تومیں اپنے کرداروں میں کھویا رہتا تھا خواہ وہ کیسے ہی ہوں؛ رگھوبا جیسے بھی۔ جو کبھی چمچہ گیری کرتا پھرتا ہے۔ کبھی کچھ اور۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔ میرے اپنے کردار میرے ساتھ رہتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ بعد میں میں ان پر کچھ اور لکھوں۔

سوال:آج کی دنیا میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے اور جسے دنیا بھر میں پڑھا جا رہا ہے، اسے اس کی قومیت یا اس کے ملک کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لیے مختلف اصطلاحیں استعمال کی جا تی ہیں، جیسے ہندوستانی ادب، امریکی ادب، یا پاکستانی ادب وغیرہ۔ کیا ہم ادب کو اس طرح کی حدود کا پابند کر سکتے ہیں؟ یا ادب کو ان حدود کو خاطر میں نہین لانا چاہیے؟ اپ کیا سمجھتے ہیں؟
اسد محمد خاں: کسی ملک، یا کرہ ارض کے کسی علاقے کی زبان یا کلچر دوسرے علاقوں سے تو مختلف ہو گا ہی۔ لیکن انسانی مسائل، دکھ اور خوشیاںجن سے وہ دوچار ہوتا ہے، اس کی سرشاریاں،اور اس کی فہم و ذکاوت،یہ سب تمام انسانوں میں ایک جیسی ہیں۔ آدمی کہیں بھی پیدا ہو۔ وہ نفرت کرتا ہے۔ محبت کرتا ہے۔ طیش میں آتا ہے۔ وہ خیر کے بارے میں غور کرتا ہے۔ ایک شر بھی اس کے اندر پیدا ہوتا ہے،جو چیزوں کو بگاڑنا چاہتا ہے۔ [کیوں کہ آدمی تو وہی ہے۔] یہ سب جاری ہے، سو اس کے بارے میںپڑھتے رہنا چاہیے۔ یوں اندازہ ہوگا کہ کرہ ارض پر کہاں کیا ہورہا ہے۔ کس چیز پر زور دیا جارہاہے۔ اسے اس طرح علاقوں اور لوگوں کی زندگی زیادہ معنی خیز ہونظر آئے گی۔ یعنی ادب تمام حدود سے بلند ہے۔ وہ سارے کا سارا نفسِ انسانی کے بارے میں ہے۔ اس میں ایک ایسی کشادگی ہے، جس کا اطلاق دنیا کے تمام انسانوں پر کیا جا سکتا ہے۔ یوں اپنی زبان میں ہم لوگوں کو ہم بتائیں گے تو ادب ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے بھی زیادہ با معنی اور مفید ہو سکتا ہے۔

ہم جب واجد اسکوئر پہنچے تھے تو اس وقت اس کے کمپاﺅنڈ پر چھٹی کے دن کی صبح کی مخصوص خاموشی طاری تھی۔ مگر اب سہ پہر ڈھلنے والی تھی۔ کھڑکیوں سے بچوں اور نوجوانوں کا غوغا سنائی دے رہاتھا۔ کھڑکیوں سے دور دور رہنے والی دھوپ اب بے جھجھک دبے پاﺅں کمرے کے اندر داخل ہوچکی تھی۔ اسد محمد خاں صاحب جس کرسی پربیٹھ کر ہم سے باتیں کر رہے تھے،دھوپ سیدھی اسی کرسی پر آرہی تھی۔ ان کے چہرے پر اس طویل گفتگو سے ہونے والی تھکن کا نام و نشان تک نہ تھا، البتہ ان کی آواز اور ان کا لہجہ تھکن کی چغلی کھا رہا تھا۔ جتنی دیر ہم ان کے ساتھ رہے، اس تمام وقت ان کی بیگم صاحبہ وقفے وقفے سے میزبانی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ ہمیں انہیں تکلیف دینے پر ندامت سی ہو رہی تھی مگر اسد صاحب کا کہنا تھا کہ ان کی بیگم صاحبہ کایہی وطیرہِ میزبانی ہے۔
انٹرویو تمام ہونے کے بعد ہم نے اسد محمد خاں صاحب سے رخصت چاہی۔ وہ ہمیں دروازے تک چھوڑنے آئے۔ ہم نے ان سے الوداعی مصافحہ کیااور سیڑھیوں سے اترنے لگے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کشف

میں جھٹ سے اپنا وجود سمیٹتے ہوئے دور بھاگ جاتی ہوں"نہیں یہ وہ نہیں ہے جو مجھے سہار سکے، آخر یہ سب سجھتے کیوں نہیں کہ میں ٹکڑوں میں زندہ نہیں رہ سکتی، مجھے تقسیم ہونا نہیں آتا، میں تو اکائی کی قائل ہوں۔ م

محشرِخیال

سب خیال اڑتے، بھاگتے، چلتے، رینگتے، گھسٹتے، اٹھتے، گرتے اور تیرتے ہوئے تمام تر ممکنہ تیزی سے اس کے دما غ میں گھس گئے۔ کھلا در اندر سے بند کر لیا گیااور پھر دماغ کی بندر بانٹ بڑی بے دریغی سے کی گئی۔

نظریات کا گورکھ دھندا؛ اردو ادب کے تناظر میں

جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاو ت نہ کیے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔