فیصلہ

فیصلہ
“تم نے یہاں آنے کا فیصلہ ہی کیوں کیا”

بالااخر شوذب نے چپ توڑتے ہوئے سوال داغ دیا۔ پچھلے کتنے سالوں سے میں اور شوذب ساحلِ سمندر پر اکٹھے ہوتے اور دیر تک خاموش سمندر کو خاموشی سے گھورتے رہتے۔ ہم کوئی بات نہ کرتے اور شاید اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس خاموشی میں بہت سے سوال سرگوشیاں کرتے رہتے۔ لہریں آتیں اور ہمارے نیچے سے آہستہ آہستہ ریت پھسلتی رہتی ہمارے سوال اور نیچے کی زمین اُسی طرح رہتی یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہم چپ چاپ گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ آج پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ شوذب نے یکایک ایک غیر متوقع سوال کر دیا۔ میں بہت دیر تک چپ رہا کہ شاید لہریں یہ سوال بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائیں۔ لیکن جب یہ سوال لنگر انداز ہو گیا اور اس کے بطن سے مسافروں کی طرح بہت سے سوال قطار بنا کر اُترنے لگے تو میں گویا ہوا:

“اس سمندر کے تیسرے کنارے پر اندھیرے میں ڈوبا ایک ویران اور بے آباد جزیرہ ہے۔ سنا ہے کہ وہاں ٹھیک آدھی رات ادھ جلی ہزاروں روحیں صف بنا کر ماتم کرتی ہیں اور سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی مکمل جل کر سمندر کا حصہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے بین میں اتنی نحوست ہوتی ہے کہ چمگادڑیں بھی اس جزیرے کا رخ نہیں کرتیں۔ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ یہ آج سے لاکھوں سال پہلے کا قصہ ہے کہ اُس جزیرے پر ایک وحشی قوم رہتی تھی۔ یہ لوگ ننگ دھڑنگ رہتے اور اپنے مُردوں کا کچا گوشت کھاتے، انہیں کوئی بھی زبان بولنی نہ آتی تھی۔ ہزراوں سال وحشت، ننگ،بھوک و افلاس کی اس جزیرے پر حکمرانی رہی۔ پھر ایک شام بستی والوں نے دیکھا کہ سورج کہ غروب ہونے سے محض ایک ساعت پہلے سمندر کی لہروں کے فرش پر چلتا ہوا ایک شخص اس جزیرے کے ساحل پر اُترا اور وہیں چٹان بن کر کھڑا ہو گیا۔ اُسی رات سمندر نے سینکڑوں مچھلیاں ساحل پر اُگل دیں۔ وہ مچھلیاں اتنی لذیذ تھیں کہ بستی کہ ہر فرد کی صدیوں کی بھوک مٹ گئی۔ پھر اس بستی پر اتنا ہن برسا کہ جل تھل ہو گیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ سب لوگ خوشحال ہو گئے، وحشی مہذب ہو گئے اور ہزاروں سال تک اُس بستی میں کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہوا۔ ان ہزاروں سالوں میں وہ درویش ساحل پر کھڑا رہا۔ وہ جس شخص کی سمت دیکھتا خوشحالی اس گھر کی باندی ہو جاتی، وہ جس کو چھو لیتا اسے کوئی مرض نہ چھو سکتا، اس کے قدموں کا بوسہ لیتے پانی کا اگر ایک گھونٹ بھی کوئی بانجھ عورت پی لیتی تو اس کے گود ایسی ہری ہوتی کہ خوش جمال اور دلیر فرزند پیدا ہوتے۔ لوگ کون و مکاں کے ہزاروں سوال اس کہ پاس لے کر آتے اور وہ ریت پر چند لکیریں کھنچتا اورسب مسئلے اور سوال یوں حل ہو جاتے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ یہاں تک کہ بستی کے لوگوں نے سوال کرنا چھوڑ دئیے۔ لوگ اپنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اُس بزرگ کے پاس لاتے اور وہ ان میں دو دو کا جوڑا بنا دیتا۔ پھر ان گھروں میں کبھی لڑائی نہ ہوتی۔

اُسی بستی میں ایک عورت تھی جس کے حُسن کی تاب کوئی نہ لاتا۔ اُس کا خاوند ایک وفا شعار اور محنتی کسان تھا۔ ایک رات کہ پچھلے پہر چاند کو دیکھتے ہوئے اُس عورت نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور ایک عجیب سی خواہش میں مبتلا ہو گئی۔ اب کوئی پل اسے چین نہ پڑتا۔ ایک رات انتہائی بے چینی کے عالم میں وہ بستر سے اُٹھی اور آنکھیں بند کئے ساحل کی طرف جانا شروع ہو گئی، وہ ساحل سے چند قدم دور تھی کہ اُس نے دیکھا کہ چاند کی چاندنی میں سینکڑوں پریاں اُس بزرگ کہ گرد طواف کر رہی ہیں۔ اس نور نے پھیلتے ہوئے اُس کے وجود کو حصار میں لے لیا وہ اس کی تاب نہ لا سکی اور غش کھا کر گر گئی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ابھی رات اُسی طرح باقی ہے اور درویش کے گرد پریوں کا رقص جاری ہے اُس نے نفرت سے زمین پر تھوکا اور دوڑتی ہوئی گھر واپس آگئی۔ اگلی بہت سی راتوں میں وہ اپنے پیٹ اور خواہش کو دباتی رہی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد اس عورت کہ ہاں ایک بچے نے جنم لیا جس کی زبان اُس کے ہونٹوں کے آگے لٹکتی رہتی اور اُس کی پیاس کبھی نہ بجھتی تھی۔ اس بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس گھر میں زوال آنا شروع ہو گیا۔ وہ جتنی بھی محنت کرتے پر برکت نہ ہوتی۔ خوشحالی کے لئے کئی سال تک اُس عورت کا شوہر باقاعدگی سے درویش کے لئے کھانا بھیجتا مگر وہ اُس میں سے ایک نوالہ بھی نہ کھاتا۔ ایک شام جب اُس کا گونگا بیٹا کھانا لے کرجا رہا تھا کہ اُس نے تھال کا ڈھکن اُٹھا کر دیکھا اور بھوک سے نڈھال ہو کر چند نوالے کھا لئے۔ اُس کے بعد وہ روز ہی ایسا کرنے لگا۔ گھر کی بھوک تو نہ مٹنا تھی نہ مٹی،پر اُس کی بھوک کا سامان ہو گیا تھا۔ جوں جوں وہ جوان ہوتا جا رہا تھا اُس کو عجیب سے دورے پڑنے لگے تھے وہ آدھی راتوں کو گلیوں میں روتا دوڑتا پھرتا رہتا اور اکثر ساحل کی طرف نکل پڑتا جس طرف جانا سب کے لئے ممنوع تھا۔ وہ ساحل کہ کنارے کھڑی کشتوں میں چھپ چھپ کر روتا رہتا۔ ایک رات وہ رو ہی رہا تھا کہ اُس کی نظر ساتھ والی کشتی پر پڑی جہاں ایک نہایت حسین لڑکی زاروقطار روتی جا رہی تھی۔ اُسے اپنے درد بھول گیا اور وہ بے خود ہو کر ساتھ والی کشتی میں اُتر گیا۔ پھر ایسا روز ہونے لگا۔ ایک صبح جب ان دونوں کی آنکھ کُھلی تو انہوں نے دیکھا کہ کشتی کے اوپر بستی کے لوگوں کہ سر جُھکے ہوئے تھے وہ انہیں حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ ان دونوں کو پکڑ کر درویش کے پاس لے گئے کہ وہ ان دونوں کے ہاتھ تھما کر انہیں جوڑا بنا دیں۔ لیکن راستے میں ہی میں اس نے زور سے لڑکی کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ یہ ناقابل معافی جرم تھا۔ درویش کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں۔ اُس نے لڑکی کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھین کر ایک اور نوجوان کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ چلایا، گڑگڑایا اور گونگی زبان میں لاکھوں مناجات کیں، لیکن درویش کسی نہ ختم ہونے والی عبادت میں مصروف ہو گیا۔

اُسی رات ہزاروں سال بعد پھر اُس بستی میں قتل ہوا۔ گونگا اُس لڑکی کے شوہر کو قتل کر کے اپنی محبوب کو اُٹھائے کشتی کے پاس پہنچا۔ اُن کی کشتی چلنے ہی والی تھی کہ اسے کچھ خیال آیا اور کود کر کشتی سے نیچے اُترا اور دوڑ کر درویش کی طرف گیا جو کسی گہرے مراقبے میں تھا۔ درویش نے آنکھیں کھولیں اُس کی سمت ایک نگاہ دوڑائی اور بولا
“بالک، بیٹھو آج میں تمیں سنسار کا انت سمجھاتا ہوں، ہر کرم ایک جیون ہے، اس ساگر کا ہر دھارا پچھلے کی راکھ اپنی ادھ کھلی باہوں میں لئے پھرتا ہے، تم اگر چاہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

ابھی درویش اتنا ہی بول پایا تھا کہ اُسے اپنے دل میں خنجر کی دھار محسوس ہوئی۔ خنجر اُس کے دل کو کاٹ چکا تھا۔ لڑکا بھاگم بھاگ کشتی میں پہنچا۔ کشتی لہروں پر دھیری دھیرے چلنے لگی۔۔۔ ساحل پر خون بکھرتا رہا۔ سُنا ہے کہ رات اُس بستی پر آگ برسی اور ہر ذی روح، ہر شجر جل کر راکھ ہو گیا”

میری کہانی ختم ہو چکی تھی۔ شوذب حیرت سے میرٰی طرف دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر یوں ہی دیکھتے رہنے کے بعد اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا

“ اُسس کش۔۔۔کشتی کا ک ک کیا بنا”

میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔

“ آج کی شام کتنی لمبی تھی” میں نے سوچا۔ شوذب جیب میں سے شاید سگریٹ تلاش کر رہا تھا۔

Image: Jason de Caires Taylor

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.


Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.