قائد اعظم یونیورسٹی؛ پرووسٹ کی برطرفی کے لیے طلبہ احتجاج، یونیورسٹی بند

قائد اعظم یونیورسٹی؛ پرووسٹ کی برطرفی کے لیے طلبہ احتجاج، یونیورسٹی بند
اسلامی جمعیت طلبہ کی سرپرستی اور مالی معاونت کے الزامات کے تحت قائد اعظم یونیورسٹی کے پرووسٹ ڈاکٹر انور شاہ کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے احتجاج کے باعث یونیورسٹی کی بس سروس اور تدریسی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔ احتجاج کا آغاز پیر کی صبح ہوا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رکن اور شعبہ کیمیا کے طالب علم فیاض ربانی کو پرووسٹ کی سرپرستی کے باعث ہاسٹل میں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمرہ مہیا کیا گیا۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ فیاض ربانی کالعدم جہادی تنظیموں کا لٹریچر تقسیم کرنے کا بھی مرتکب ہوا ہے۔

یونیورسٹی کا ماحول خراب ہو رہا ہے

احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق فیاض باری اور دیگر اراکین جمعیت، یونیورسٹی پرووسٹ کی سرپرستی میں یونیورسٹی میں جمعیت کے اثرورسوخ میں اضافے کی کوشش میں مصروف ہیں جو یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک ہے۔
تفصیلات کے مطابق 24 فروری کی شب بعض پشتون طلبہ نے فیاض باری کو اس کے ہاسٹل سے اٹھایا اور اس سے کالعدم تنظیموں سے روابط کا اعترافی بیان حاصل کرنے کے لیے زدوکوب کیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق فیاض باری اور دیگر اراکین جمعیت، یونیورسٹی پرووسٹ کی سرپرستی میں یونیورسٹی میں جمعیت کے اثرورسوخ میں اضافے کی کوشش میں مصروف ہیں جو یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کے لیے خطرناک ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطابق فیاض کے پاس سے شدت پسند لٹریچر بھی برآمد ہوا اور انور شاہ کی جانب سے جمعیت کو دیے گئے چنفے کی دستخط شدہ رسیدیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین پر یونیورسٹی میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کے لیے من پسند "مذہبی اخلاقیات" کے نفاذ کی کوششوں کا بھی الزام ہے۔

24 فروری کے واقعے کے خلاف ایک جانب اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا جبکہ قائدیئن سٹوڈنٹ فیڈریشن (قوم پرست طلبہ کا متحدہ سیاسی پلیٹ فارم) کی جانب سے جمعیت کی انتظامی سرپرستی کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔ لالٹین کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قائدیئن سٹوڈنٹس فیڈریشن کی وائس چانسلر سے ملاقات کے بعد احتجاج ایک ہفتہ ملتوی کر دیا گیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے 24 فروری کے واقعہ کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پریس کلب کے سامنے احتجاج کے دوران قوم پرست لسانی طلبہ تنظیموں کی جانب سے یونیورسٹی کا ماحول خراب کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے کسی بھی کالعدم، جہادی یا شدت پسند تنظیم سے روابط سے انکار کیا ہے۔ واقعہ کے خلاف فیاض ربانی کی جانب سے دی گئی درخواست میں نامزد طلبہ کے خلاف یونیورسٹی کی جانب سے سخت کارروائی کی گئی ہے اور تین طلبہ میرواعظ،زرق خان اور عادل کو تیس تیس ہزار جرمانے اور ہاسٹل بدری کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سزا سنانے والی کمیٹی کی سربراہی بھی یونیورسٹی پرووسٹ انور شاہ کر رہے تھے۔

میرے لیے تمام طلبہ برابر ہیں

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پرووسٹ کے خلاف دی گئی درخواست پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے طلبہ نے احتجاج شروع کیا ہے جس میں بعض طلبہ کو سزا سنائے جانے کی وجہ سے شدت آ گئی ہے۔
انور شاہ نے کسی بھی طلبہ تنظیم کی سرپرستی یا اس سے وابستگی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ "میرے لیے تمام طلبہ برابر ہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو سزا نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پرووسٹ کے خلاف دی گئی درخواست پر کوئی کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے طلبہ نے احتجاج شروع کیا ہے جس میں بعض طلبہ کو سزا سنائے جانے کی وجہ سے شدت آ گئی ہے۔

دھمکیاں اور اساتذہ میں تقسیم

قوم پرست طلبہ کے احتجاج سے پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث یونیورسٹی وائس چانسلر کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اساتذہ کی تنظیم کی جانب سے پرووسٹ کے خلاف کارروائی کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم اساتذہ کی ایک بھاری اکثریت قائدیئن سٹوڈنٹس فیڈریشن کے موقف کی حمایت کر رہی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لالٹین سے بات کرتے ہوئے ایک استاد کا کہنا تھا کہ 102 فیکلٹی اراکین میں سے 73 کی ہمدردیاں احتجاج کرنے والے طلبہ کے حق میں ہیں۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کو اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے دھمکیوں کا بھی سامنا ہے، اسلای جمعیت طلبہ کے کیمپس اور کیمپس کے باہر موجود اراکین کی جانب سے قائدئین سٹوڈنٹس فیڈریشن کی حمایت کرنے والے طلبہ اور اساتذہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انتھروپولوجی کے سرائیکی طلبہ اور ڈین سوشل سائنسز ڈاکٹر عالیہ بٹ کو بھی دھمکیاں موصول ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مطالبات اور مذاکرات

یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے باوجود یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں بحال نہیں کی جا سکیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے باوجود یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیاں بحال نہیں کی جا سکیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کی جانب سے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ پرووسٹ ڈاکٹر انور شاہ کی برطرفی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی انتظامیہ میں موجود حمایت کے خاتمے اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ سروس رولز سرکاری ملازمین کو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں براہ راست شامل ہونے سے منع کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ قائد اعظم یونیورسٹی میں موجود یگانگت اور ہم آہنگی کا ماحول برقرار رکھنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ بائیو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر وسیم احمد طلبہ سے مذاکرات کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جلد اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔

پاکستانی جے این یو؟

بعض حلقے اس احتجاج کو دلی میں جواہر لال نہرو یونویرستی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں اور ان کے خیال میں دونوں میں کافی مشابہت موجود ہے۔ این ایس ایف کے ایک سابق رکن اشتیاق احمد کے مطابق جے این یو میں بھی ایک دائیں بازو کی مذہبی جماعت کو سرکاری سرپرستی میں موقع دیا گیا کہ وہ وہاں کے سیکولر اور جمہوری ماحول پر اپنا اثرورسوخ بڑھائیں جبکہ یہاں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کو سرکاری سرپرستی میں قوم پرست اور ترقی پسند طلبہ کے خلاف صف آراء کیا جاتا ہے۔ اشتیاق نے قوم پرست طلبہ کی جانب سے جمعیت کارکن کو زدوکوب کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ طریقہ مناسب نہیں تھا۔

اسلامی جمعیت طلبہ اور قوم پرست طلبہ تنظیموں کے مابین اس سے قبل کراچی یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی میں بھی تشدد کے واقعات ہو چکے ہیں۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Faran Ali Saif

Faran Ali Saif

The author is a chapter coordinator of khudi Pakistan in QAU and a youth activist pursuing his bachelor degree in qau. He has been raising his voice for the youth on various platforms.


Related Articles

طلبہ مظاہرے کے باعث فیسوں میں اضافے کا فیصلہ تبدیل

کراچی یونیورسٹی کی جانب سے امتحانی و تدریسی واجبات میں دوسو فیصد اضافے کا فیصلہ طلبہ مظاہرے کے بعد تبدیل کردیا گیا ہے، یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے دوسو فی صد کی بجائے صرف پچاس فی صد اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بلوچستان :قوم پرست رہنمانصاب کا حصہ؛ "نوجوان نسل کو دھوکہ نہیں دے سکتے"وزیرِ اعلیٰ

بلوچستان حکومت نے تعلیمی نصاب میں نواب اکبر بگٹی سمیت پانچ دیگر قوم پرست رہنماوں سے متعلق اسباق نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جامعہ کراچی کی ڈائری

اخباری اطلاعات کے مطابق طلبہ تنظیموں کے علاوہ جامعہ کراچی میں دو کالعدم تنظیمیں (سپاہ محمد اور سپاہ صحابہ) بھی سرگرم عمل ہیں جو نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف دیواروں پر چاکنگ کرتی ہیں بلکہ جامعہ کے حدود میں اسٹڈی سرکلز کا انعقاد بھی کرتی ہیں۔