قبریں اور دیگر کہانیاں

قبریں اور دیگر کہانیاں

youth-yell

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
قبریں
قبرستان میں بھی کتنی تفریق ہے،
امیر لوگوں کی قبریں،
عالیشان قبریں۔
کسی قبر کا تعویز سنگ مرمر کا تو کسی کا سنگ سرخ کا،
لوح پہ تحریر خوش نویس کاتبوں کے ہاتھ کی،خوش نما رنگوں سے مزین۔
درمیانے طبقے کی قبریں سیمنٹ کا تعویز اوپر چونے کا لیپ،ادھ مٹی لوح،شکستہ ادھ مٹے حروف،
جو پڑھے نہیں جا سکتے
غریب کچی قبریں،
بے سروسامان،بے نام و نشا ن جیسے ان کا کوئ والی وارث نہیں۔
رنگو گورکن جب رات کو
قبریں کھود کر ہڈیاں چراتا ہے،
حکیم بندو خان کو بیچنے کے لئے
تونہ جانے کیوں
ان سے نکلنے والےسب ڈھانچے
ایک جیسے ہوتے ہیں۔
رات
رات جب گاؤں کی گلیوں میں اترتی
تو وہ ایک زندہ رات ہوتی
طاقچے میں دیا روشن ہوتا
دیےکی لو پھڑپھڑاتی
روشنی آنگن میں رقص کرتی
بچپنے کا کھلنڈرا پن
ہم شور مچاتے آنگن میں کھیلتے
خوب ادھم مچتا
آوازوں کا شور آسمان سر پہ اٹھا لیتا
اب بڑھاپے کی دہلیز پہ
شہر کی اداس تنہا راتیں ہیں
ایک مردہ سی چکا چوند ہےاور
یادوں میں کہیں
ایک دیا اور ایک طاقچہ زندہ ہے
علاج
اس کے پاؤں کے تلوے ساری ساری رات جلتے رہتے، سوئے سوئے لگتا جیسے اس کے تلووں سے کسی نے دہکتے ہوئے انگارے چپکا دیئے ہوں۔حلق سوکھ کے کانٹا ہو جاتا ، زبان تالو سے چپکی رہتی، آنکھوں کی بینائی دھیمی پڑتی جا رہی تھی، رات کو پیشاب کے لیے بار بار اٹھنا پڑتا ، اس کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ شوگر نے اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ وہ پیر جی کا مرید تھا، پیر جی شوگر کے لیے چینی دم کرتے تھے۔ اس نے دم کی ہوئی چینی خوب کھائی، اس کی تمام تکلیفیں دور ہو گئیں۔۔۔۔ اب آرام سے قبر میں لیٹا ہے۔

Related Articles

یہ پرچم تمہارے حوالے

سدرہ ڈار: ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

گمنام شہید اور زندہ لاشیں

ٹھیک پچاس سال پہلے، آج ہی کی تاریخ تھی، 16 ستمبر۔۔۔۔لاہور کی بی آر بی نہر میں ایک لاش بہہ رہی تھی۔

دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔