قلات کے الحاق کا تنازعہ

قلات کے الحاق کا تنازعہ

ڈاکٹر عبدالمجید عابد کا یہ مضمون دی نیشن اخبار کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا۔ یہ مضمون یوگینا وینا کے ایک مضمون 'بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا-ایک تاریخی تناظر ' کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ لالٹین کے قارئین کے لیے اس مضمون کا ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔

یوگینا وینا کی تحریر کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا درست بیان جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاریخ کے سرکاری بیانیے میں قلات کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں پاکستان سے الحاق کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا تذکرہ سرے سے موجود نہیں
کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قضیے میں تاریخ 'فاتحین' کے قلم سے رقم ہوتی ہے۔ گزشتہ صدی کے دوران محکوم اور بے اختیار طبقات کے نقطہ نظر سے تاریخ نویسی کا آغاز ہوا۔ تاریخ نویسی کا یہ ڈھنگ پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں اپنایا گیا ہے۔ حسب توقع مقتدر حلقے تاریخ نگاری کے اس اسلوب کی حوصلہ افزائی یا سرپرستی کے قائل نہیں۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران 'ارفع مقاصد' کے حصول کی خاطر حقائق میں تحریف کے باعث یہ اسلوب بھی کڑی جانچ کے عمل سے گزارا گیا ہے۔ سہولت کی خاطر حقائق پر سمجھوتہ قوم پرست مورخین کے کارہائے نمایاں میں شامل ہے، لیکن یہی سمجھوتہ ان مورخین کو 'جابرین' کے برابر لا کھڑا کرتا ہے۔

ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کا درست بیان جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاریخ کے سرکاری بیانیے میں قلات کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں پاکستان سے الحاق کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا تذکرہ سرے سے موجود نہیں (اگرچہ خان آف قلات دونوں ایوانوں کی رائے پر عمل درآمد کے پابند نہیں تھے پھر بھی یہ نکتہ قابل غور ہے)۔ دوسری جانب بلوچ قوم پرستوں کی جانے سے بیان کی جانے والی تاریخ ایک بالکل مختلف تصویر کشی کرتی ہے۔ اس تاریخ میں معاملات جوں کے توں رکھنے کے معاہدہ، جناح صاحب کی طرف سے خان آف قلات کے اعتماد کو مجروح کرنے اور اپریل 1948 میں کی گئی فوجی جارحیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ کے ان دو مختلف بیانیوں میں مشترک بنیادوں کی تلاش تقریباً ناممکن ہے خصوصاً جب فریقین اپنے اپنے نقطہ نظر کو الہامی سچائی خیال کرتے ہوں۔ تاہم دونوں بیانیوں کی تشکیل میں اندھے اعتقاد کی بنیاد پر کی گئی حاشیہ آرائی کا بھی گراں قدر حصہ ہے۔

ہندوستان کے انتظامی امور سے علیحدگی کے اسی احساس کے تحت قلات کے ہندوستان کی ایک شاہی ریاست ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوا۔
اسی موقر روزنامے میں ایک مضمون "بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا-ایک تاریخی تناظر" کے عنوان سے شائع ہوا ہے، مضمون میں "بلوچستان کی حقیقی تاریخ کے انکشاف" کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے مضمون کے آغاز میں نوآبادیاتی دور میں اس صوبے کی جغرافیائی اہمیت کے تذکرے کے بعد قلات اور پاکستان کے مندوبین کے مابین خط و کتابت کا حوالہ دیا ہے۔ مضمون کا اگلا حصہ قلات کے الحاق پر جناح صاحب کے موقف میں تبدیلی اور بالآخر قلات کے پاکستان سے الحاق کا داستان پر مشتمل ہے۔ مضمون کا اختتام بلوچستان میں انسانی وسائل کی ترقی اور سیاسی ماحول کی مخدوش صورت حال کے ذکر پر ہوتا ہے۔ اس مضمون کا آخری جملہ میرا پسندیدہ فقرہ ہے: "یہ دانشوروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر تحریف شدہ دستاویزات کی بنیاد پر حقائق سامنے لائیں"۔

اگرچہ میں مصنفہ کہ اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتا ہوں کہ قلات کے الحاق کا معاملہ ہماری نصابی کتب اور ذرائع ابلاغ کا پسندیدہ موضوع نہیں رہا، تاہم اس موضوع پر بائیں بازو کے دانشور اورمحققین مصنفہ کے ہم خیال رہے ہیں اور ہمیشہ اسی نقطہ نظر سے بات کرتے اور لکھتے آئے ہیں۔ انٹرنیٹ کی اس دنیا میں بلوچستان کی 'متبادل' تاریخ تک رسائی محض چند کلک کے فاصلے پر ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کے زیر انتظام سائبر سپیس میں سینکڑوں ویب سائٹس، فیس بک گروپ اور ٹویٹر اکاونٹ فعال ہیں۔ اس معاملے پر دیانت دارانہ بحث کا جلد از جلد انعقاد ضروری ہے۔

حکومت ہند نے جون 1942 میں فیصلہ سناتے ہوئے قلات کو دیگر شاہی ریاستوں کے مساوی ریاستی حیثیت کا حامل قرار دیا اور قلات سے کسی بھی امتیازی سلوک کے تاثر کو رد کیا۔
تاریخ سے متعلق بات کرتے ہوئے 'سیاق و سباق' کو ایک اہم پہلو تصور کیا جاتا ہے۔ قلات اور پاکستان کے مندوبین کے مابین 'مراسلت' کسی خلاء میں وقوع پذیر نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی 'برطانوی دور میں بلوچستان کی حیثیت کا مسئلہ' (جیسا کہ مصنفہ نے اسے بیان کیا ہے)۔ ڈاکٹر یعقوب بنگش اپنی کتاب 'A Princely Affair’ میں لکھتے ہیں: 'تقسیم کے بعد قلات (رقبے کے اعتبار سے) سب سے وسیع ریاست تھی جو پاکستان کا حصہ بنی'۔ مغل سلطنت میں ایک مختصر مدت کے لیے شامل رہنے اور برطانوی ہند کے دائرہ کار کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے قلات کے دہلی (یا کلکتے) سے براہ راست روابط بے حد کم رہے ہیں۔ قلات کی ریاست میں اسی لیے عمومی ہندوستانی امور سے علیحدگی کا احساس بھی پیدا ہوتا چلا گیا'۔ ہندوستان کے انتظامی امور سے علیحدگی کے اسی احساس کے تحت قلات کے ہندوستان کی ایک شاہی ریاست ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوا۔ 1942 میں کرپس مشن کی ہندوستان آمد کے بعد خان آف قلات نے بلوچستان کی آزاد ریاست کا مقدمہ کمیشن کو بھیجا۔ حکومت ہند نے جون 1942 میں فیصلہ سناتے ہوئے قلات کو دیگر شاہی ریاستوں کے مساوی ریاستی حیثیت کا حامل قرار دیا اور قلات سے کسی بھی امتیازی سلوک کے تاثر کو رد کیا۔ قلات کی ریاستی حیثیت سے متعلق یہ ابہام 1877 کے شاہی دربار کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے باعث پیدا ہوا۔ شاہی دربار کے آغاز کے موقع پر قلات کو خان آف قلات کے ساتھ ایک ایسی ریاست کے نمائندے کا سا رویہ رکھا گیا جسے شاہی ریاست قرار نہیں دیا گیا، تاہم دربار کی کارروائی کے دوران ان کا درجہ بڑھا کر ایک شاہی ریاست کے نمائندے کے برابر کر دیا گیا۔ تین جون 1947 کے منصوبے کے تحت قلات کو ایک ہندوستانی شاہی ریاست کے طور پر ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک ریاست سے الحاق کا فیصلہ کرنا تھا۔

قلات اور پاکستان کے مابین بات چیت ابھی جاری تھی جب خاران اور لسبیلہ کے مقامی سرداروں نے حکومت پاکستان سے اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کر دی۔
ایک ہندوستانی شاہی ریاست کے طور پر قلات کی ریاست سے متعلق ایک اہم معاملہ قلات اور برطانیہ کی حکومتوں کے مابین پٹے پر حاصل کی گئی زمین کے معاہدوں کا بھی تھا۔ حکومت ہند نے قلات سے 1833 میں کوئٹہ، 1903 میں نوشکی اور 1903 میں ناصر آباد کے علاقے اجارے پر حاصل کیے تھے۔ برطانوی انخلاء کے ساتھ حکومت ہند اور شاہی ریاستوں کے مابین ہونے والے تمام معاہدے بھی ختم ہو جانے تھے۔ ڈاکٹر بنگش کے مطابق،"قلات کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر حکومت پاکستان کا ضمیر مکمل طور پر مطمئن تھا، حکومت پاکستان اس امر سے بخوبی آگاہ تھی کہ برطانیہ اور ہندوستان میں سے کوئی بھی قلات کو ایک علیحدہ مملکت تسلیم نہیں کرے گا۔ اس لیے (قلات کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا) محض ایک مراسلہ کسی طرح نقصان دہ ثابت نہیں ہو گا۔ تزویراتی طور پر اس قدر اہم محل وقوع کا حامل ہونے کی وجہ سے کوئٹہ اور پٹے پر دیئے گئے دیگر علاقوں کوقلات کی عملدآری سے دور رکھنا پاکستان کے مفاد میں تھا'۔ قلات اور پاکستان کے مابین مراسلت میں ثالثی کے باوجود ماونٹ بیٹن نے خود اس اعلامیے پر دستخط نہیں کیے۔ اگرچہ قلات کے وفد نے برطانیہ کی جانب سے ایک آزادی ریاست تسلیم کیے جانے کی علامت کے طور پر ماونٹ بیٹن کے دستخط نہ کرنے پر بہت زیادہ ردوقدح نہیں کی، تاہم اسی حقیقت کی بناء پر 11 اگست 1947 کو ہونے والا قلات پاکستان الحاق کا اعلامیہ بے مصرف قرار دیا جا سکتا ہے۔

قلات اور پاکستان کے مابین بات چیت ابھی جاری تھی جب خاران اور لسبیلہ کے مقامی سرداروں نے حکومت پاکستان سے اپنی جداگانہ حیثیت تسلیم کرانے کی کوشش کر دی۔ جناح صاحب نے 1948 کے سبی دربار میں خان آف قلات کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کی امید پر شرکت کی، تاہم خان آف قلات اس دربار میں تشریف نہیں لائے۔ اس تحقیر سے جناح صاحب اور خان آف قلات کے مابین تعلقات مجروح ہوئے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے خاران، لسبیلہ اور مکران کو علیحدہ ریاستوں کے طور پر تسلیم کر لیااور مارچ 1948 تک ان کی آزاد حیثیت برقرار رہنے دی۔ خاران اور لسبیلہ کے نواب ، برتری کے خواہاں خان آف قلات پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے۔ پاکستان نے اس بد اعتمادی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔

اس الحاق کے فوراً بعد حکومت پاکستان نے مذکورہ بالا ریاستوں میں مواصلات اور بندرگاہوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے فوجی اور لیوی اہلکار بھجوائے۔ مارچ 1948 کے اختتام تک خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کر لیا تھا۔ خان آف قلات کے ایک بھائی عبدالکریم کی شادی ایک افغان شہزادی سے ہوئی تھی۔ عبدالکریم نے افغانستان کو مرکز بنا کر وہاں سے قلات میں ایک عوامی بغاوت کو ہوا دینے کی کوشش کی، تاہم یہ بغاوت عام لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہی۔ اگرچہ شہزادہ عبدالکریم کی بغاوت بہت مختصر عرصے کے لیے ہی جاری رہ سکی لیکن بلوچ قوم پرستوں کے تاریخی بیانیے میں 'آزادی کی یہ پہلی جنگ' دیومالائی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔

Related Articles

مندر جو مدرسے بنادیئے گئے

1992 میں ہندوستان میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ایک طرف جب مدرسوں کے کچھ طلبہ ہجوم کی شکل میں مندروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف تھے تو دوسری جانب بعض ایسے بھی تھے جو مدارس میں بدل دیئے جانے والے ان مندروں کا تحفظ کر رہے تھے۔

دو قومی نظریہ اور تقسیم ہند: تقسیم در تقسیم کی نفسیات

تقسیمِ ہند، تاریخ کا جبر تھا جو گیا۔ اب ہمارے مستقبل کا تحفظ اور فلاح، بالغ نظر ممالک کی طرح کنفیڈریشن بنا کر رہنے میں ہے۔ جہاں سرحدیں بس نام کی ہوں۔

اسیری

لی میرے کل: تمہارے معیار پر
پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا