قومی سلامتی محض ریاستی دائرہ کار نہیں-اداریہ

قومی سلامتی محض ریاستی دائرہ کار نہیں-اداریہ
سرل المائڈہ کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شمولیت افسوسناک بھی ہے اور تشویش ناک بھی۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ بعض موضوعات اور ادارے حکومت اور ریاست کی نظر میں تاحال عوام اور صحافتی دائرہ کار سے باہر اور مقدس تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ اقدام یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ موجودہ جمہوری بندوبست تاحال اس قدر مضبوط نہیں کہ وہ شہری آزادیوں کو ایک بنیادی حق کے طور پر محفوظ بنا سکے۔ سرل المائیڈہ پر عائد کی گئی پابندی کو جمہوری بندوبست کی جانب سے طاقتور عسکری اداروں سے اپنے اختلافات کو سامنے نہ لانے کی مجبوری کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اس غیر جمہوری حکومتی رویے کا بھی مظہر ہے جس کے تحت قومی مفاد اور قومی سلامتی کو محض ریاستی اداروں (اور ریاست میں بھی صرف عسکری اداروں کا) کادائرہ کار سمجھا جاتا ہے۔ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں سرل المائڈہ کا نام ڈالے جانے کی کچھ بھی توجیہہ پیش کی جائے اس اقدام کو کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سیرل المائڈہ کی جانب سے چھ اکتوبر کو دی جانے والی خبر کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا ایسی معلومات کا افشاء کیا جانا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے یا نہیں۔ لیکن کیا قومی سلامتی صرف ریاستی اداروں کا مسئلہ ہے؟ قومی سلامتی کی ریاستی تعریف نے پاکستان کو عالمی تنہائی، مذہبی دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریکوں جیسے مسائل سے دوچار کیا ہے ایسے میں قومی سلامتی اور قومی مفاد پر ایک عمومی بحث کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ خبر کے مندرجات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست کے مقتدر خفیہ اور عسکری ادارے تاحال اپنے تذویراتی اثاثوں کو بچانے کی کوشش میں ہیں اور اس ضمن میں سیاسی قیادت سے ان کے اختلافات ہیں۔ اگر حقیقت یوں نہیں ہے تو اس کا اظہار سرل المائڈہ کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرنے کی بجائے کالعدم جہادی تنظیموں کے خلاف عملی کارروائی کے ذریعے کیا جانا چاہیئے تھا۔ جب تک کالعدم جہادی تنظیموں کے سربراہان اور ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کے ذمہ داران انصاف کی پہنچ سے دور ہیں تب تک سرل المائڈہ کی دی گئی خبر پر مہرِ تصدیق ثبت ہوتی رہے گی۔

سرل المائڈہ کانام ای سی ایل میں ڈالا جانا ایک اور اہم مسئلے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ریاست کے آمرانہ طرزِحکومت کا بھی اظہار ہے جس کے تحت قوانین اور بنیادی انسانی حقوق سے بالاتر ہو کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل وفاق وزیرِداخلہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ای سی ایل میں کسی شہری کا نام ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی ہدایت پر ڈالا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عسکری اداروں یا تفتیشی اداروں کی سفارش پر لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے جا سکتے ہیں۔ سرل المائڈہ کے معاملے میں حکومت اس اصول کی نفی کرتی نظر آتی ہے۔ وزارتِ داخلہ کو یہ وضاحت کرنا ہو گی کہ سرل المائڈہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا گیا۔

یہ اقدام ایک فرد کے نقل و حرکت کے حق کی نفی کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے عدم تحفظ میں اضافے کا بھی باعث ہے۔ رائع ابلاغ نے اس واقعے سے قبل بھی ایک ایسی خود ساختہ سنسنر شپ خود پرعائد کر رکھی تھی جس کے تحت طاقت ورعسکری اداروں پر تنقید سے ہر ممکن گریز کیا جاتا ہے۔ یہ اقدام آنے والے دنوں میں اس سنسنر شپ میں اضافے کی توقع ہے۔ یہ اقدام ذرائع ابلاغ کو ریاست کی مقرر کردہ حدود اور متعین کردہ پالیسیوں کے مطابق کام کرنے کا واضح پیغام ہے۔ جمہوری طور پر منتخب حکومت اور عسکری اداروں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان کی قومی سلامتی اور قومی مفاد ایک ایسے جمہوری تسلسل میں ہے جہاں صحافتی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہی جمہوری تسلسل ذمہ دار صحافت اور قومی سلامتی کی ایک بہتر تعریف اور حدود متعین کرنے کا بھی باعث بنے گا۔

ریاستی ادارے نہ تو قومی سلامتی کے واحد شراکت دار ہیں اور نہ ہی صحافتی آزادی کی حدود متعین کرنے میں واحد و یکتا، صحافتی ادارے دنیا بھر میں قومی سلامتی کی تنگ نظر، غیر منصفانہ اور غیر منطقی حدود کو چیلنج کرتے آئے ہیں اور یہی آزاد صحافت کا بنیادی وظیفہ ہے کہ وہ ریاست کو اس کی غلطیوں، خامیوں اور کوتاہیوں کے لیے عوام کے سامنے جواب دہ بنائے خصوصاً جب کہ ان غلطیوں کا نتیجہ عالمی تنہائی اور پچاس ہزار شہریوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

میرے والد کے قاتل کا جنازہ

تصاویر میں ممتاز قادری کی لاش لے جانے والی پھولوں کی پتیوں سے لدی ایمبولینس اور اس کے گرد لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا؛ کہ کیا یہ کسی سزایافتہ قاتل کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا؟

گیتا اپنے وطن بھارت واپس چلی گئی

پندرہ سال قبل غلطی سے سمجھوتا ایکسپریس کے ذریعے سرحد عبور کر کے لاہور، پاکستان آنے والی گیتا (فرضی نام) پیر 26 اکتوبر 2015ء کو اپنے وطن بھارت واپس چلی گئی۔ گ

Counting the Countless: Madaris Funding and Foreign Students

Finally, state Minister for Interior Baleeghur Rehman has confessed that some of the seminaries are getting foreign funding from ‘some