قید سے آزادی تک

قید سے آزادی تک
میرے پیارے مگر بزدل انسان! تم گھٹن زدہ معاشرے کی زنجیروں میں خود جکڑے قصے کہانیوں سے خوفزدہ ہوکر دن کو خاموش رہتے ہواور خواب میں وہ سب کر گزرتے ہو جو دن کی روشنی میں کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے
میں خوابوں پہ یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی کواب دیکھتی ہوں ۔خواب تو بس خواب ہی ہوتے ہیں ۔وہ خواہشیں اور چاہتیں جو انسان زندگی میں دبا کر رکھتا ہے ،وہ خوبصورتیاں اور دلکشیاں جو معاشرے کی بندشوں اور مذاہب کی وجہ سے انسان اپنے اندر سنبھال کر رکھتا ہے ، جنہیں پورا کرنے کی انسان میں جرات نہیں ہوتی انہیں پورا کرنے کو ہی تو و وہ خوابوں کا سہارا لیتا ہے ۔انسان خوابوں کا سہارا لے کر اپنے آپ کو بے وقوف بناتا ہے۔اے! قیدی انسان جاگتے لمحوں ،منٹوں اور گھنٹوں میں تم جو خواہشیں پوری نہیں کرسکتے انہیں پورا کرنے کے لیے سپنوں اور خوابوں کے پیچھے کیوں دوڑتے بھاگتے پھرتے ہو۔
میرے پیارے مگر بزدل انسان! تم گھٹن زدہ معاشرے کی زنجیروں میں خود جکڑے قصے کہانیوں سے خوفزدہ ہوکر دن کو خاموش رہتے ہواور خواب میں وہ سب کر گزرتے ہو جو دن کی روشنی میں کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ بزدل اور قیدی انسان جو زندہ لمحوں میں منافقت کرتے ہیں وہ سب کچھ خواب میں کرتے ہیں ۔ دن کی خوبصورت خواہشیں ،رات کے اندھیروں میں مکمل کرنے والے بناوٹی انسان تم زیادہ سے زیادہ فطرت کے قریب ہو جاؤ۔۔۔۔اس طرح تم آزاد ہو جاؤ گے۔شیطان اور رحمان کے کھیل نے انسان کو قیدی بنایا ہوا ہے ۔میرے لالچی انسان !مذاہب کے نام پر اپنے جذبات مت چھپاؤ۔اپنے آپ کے خلاف قید کے اصول مت بناؤ۔جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔۔۔جو کچھ بولنا چاہتے ہو کہہ ڈالو ۔کسی کی پروا مت کرو ۔کسی کی خیالی نعمتوں پر مت قربان ہو جاؤ۔معصوم،سادہ اور فطری زندگی کی طرف پلٹ آؤ۔۔۔۔۔جو انسان فطری زندگی گزارتے ہیں انہیں خواب نہیں آتے۔
خالی الذہن ہو کر کائنات کی آوارہ گردی کرو ۔کائنات میں اور کائنات کے باہر کوئی ازلی اور ابدی نہیں ۔کسی حقیقت اور حقیقی صورتھال کا کوئی وجود نہیں ۔تمام الوہی سوالات غیر حقیقی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔زندگی راز ہے
یہ تمام خیالات وہ بیان کرتی جارہی تھی ۔چاروں طرف اندھیر نگری تھی ۔اندھیر نگری کے اس پار روشنی ہی روشنی تھی ۔۔۔۔۔۔اندھیرے کے اس پار کروڑوں موم بتیاں روشنی بکھیرتی نظر آرہی تھی ۔اس روشنی میں رنگ برنگی تتلیاں رقص کرتی نظر آرہی تھیں ۔میں اس کے سامنے دوزانو بیٹھا اس کی باتیں یوں سنے چلا جارہا تھا کہ جیسے وحی اترتی ہے۔۔۔۔پسینے سے شرابور ،خیالات کے انتشار سے آزاد ۔۔۔۔۔میں اس حسن کی مجسم شکل کے ساتھ کہاں تھا ۔۔۔اور کیوں تھا ،سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ مجھے حیران و ششدر دیکھ کر وہ پھربولی پریشان مت ہو۔غصہ مت کرو ۔جو تمہارے اندر غصہ پیدا کرنے کی کوشش کرے اسے جواب مت دو۔چوبیس گھنٹے بعد اسے جواب ضرور دو۔۔۔۔جو ذہن میں آتا ہے اسے جواب دو۔یہ سب تمہارے لیے عجیب و غریب ہے لیکن ڈرو مت۔اسی طرح تم کو آزادی ملے گی ۔
ابدی اور لازوال خوبصورت زندگی !اپنی حفاظت کرنے کا فن سیکھو ۔میں بھی ایک دن مر جاؤں گی، میری آوز بھی خاموش ہو جائے گی ۔خالی الذہن ہو کر کائنات کی آوارہ گردی کرو ۔کائنات میں اور کائنات کے باہر کوئی ازلی اور ابدی نہیں ۔کسی حقیقت اور حقیقی صورتھال کا کوئی وجود نہیں ۔تمام الوہی سوالات غیر حقیقی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔زندگی راز ہے ۔اسے بے خوف ہو کر جیو ۔محبت گناہ نہیں ۔محبت مقدس تجربہ ہے ۔یہ مذاہب ہیں جن کی وجہ سے محبت گناہ بن چکی ہے ۔محبت کو مذاہب نے برباد کردیا ہے ۔محبت کو گناہ کی طرح مت کرو ۔یہ گناہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔گناہ و ثواب کے کھیل سے باہر نکلو گے تو آزاد ہو گے ۔محبت بدصورتی نہیں ۔محبت فطرت کا انمول ،دلکش اور خوبصورت تحفہ ہے۔
وہ بولتی چلی جارہی تھی اور میں سحرزدہ حالت میں اسے تکتا جارہا تھا ، اسے جسے تکنا ممکن نہیں تھا، جسے جاننا بس میں نہیں تھامگر وہ تھی اور مجھے قید سے آزادی دلانی پر تلی ہوئی تھی۔
یہ سب خالص ہے جس کا تمہیں مزہ لینا ہے ۔جسمانی ملاپ سے تم نہیں تمہارا جسم بنتا ہے ۔موت سے تم نہیں ۔تمہارا جسم مرتا ہے ۔اپنے اندر نئے انسان کو جگہ دو
وہ بولی۔قیدی انسان محبت میں جھگڑا اور دلیل نہیں ہوتی ۔کمرے کے اندر داخل ہو جاؤ،نہاؤ،پھر محبت کی دنیا میں اس طرح داخل ہو جاؤ جس طرح تم مندر ،گرجے اور مسجد میں داخل ہوتے ہو ۔محبت میں جلدی مت کرو ۔محبت شعور ہے آگاہی ہے اور آزادی ہے ۔محبت قید سے آزادی کا شعور ہے ۔محبت تخلیق ہے اور تخلیق کو خوف کی بھینٹ مت چڑھاؤ۔ملاپ اور محبت سے ہی تمہارے اندر کا غصہ اور نفرت مرے گا ۔اور پھر تم شاندار تبدیلیاں محسوس کرو گے ۔یہ سب فطری ہے ۔پریشان مت ہو میرے پیارے انسان ۔۔۔۔۔ جوجسمانی ملاپ سے پیدا ہوتا ہے اسے مرنا ہے ۔ملاپ کرنے والا جسم لازوال اور لافانی نہیں ہوتا ۔ملاپ اور موت سے آزاد ہو جاؤ۔ملاپ اور موت سے کہیں آگے جاکر تم کو ابھرنا ہے ۔تمہاریروح جنس اور موت سے اوپر اٹھے گی تو تب ہی اے انسان تمہیں آزادی نصیب ہوگی ۔تم آزاد ہو گے ۔۔۔
اے میرے انسان !جانور اپنے اپنے علاقوں پر قبضے کرتے ہیں اور سرحدیں بناتے ہیں اور پھر قیدی انسان ان سرحدوں پر بیٹھ کر اپنے جیسے قیدی انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں
یہ سب خالص ہے جس کا تمہیں مزہ لینا ہے ۔جسمانی ملاپ سے تم نہیں تمہارا جسم بنتا ہے ۔موت سے تم نہیں ۔تمہارا جسم مرتا ہے ۔اپنے اندر نئے انسان کو جگہ دو ۔ ہر حرف نگل جاوشعور بڑھاتے جاؤاور پھر دنیا کے انسانی شعور میں حصہ ڈالتے جاؤ۔جو کہو اندر سے کہو۔ یہ دین دھرم مذہب تو صرف حیلے ہیں ۔شراب کو تبدیل کرتے جاؤ۔بوتل وہی پرانی رہنے دو ۔رازوں سے بھرپور زندگی ہی سچائی تلاش کرتی ہے ۔ماضی کے تمام پہاڑ ڈھا دو۔اعتماد اور بہادری کے ساتھ تمام جھوٹی کہانیوں سے رشتہ توڑ دو ۔حال کے لیے زندہ رہنا سیکھو ۔ان کی تعلیمات انسان اور انسانیت کے خلاف ہیں جس کے پیچھے تم زندگی کو جہالت میں پھینک دیتے ہو ۔یہی تو ہیں جو غربت اور جہالت کے ذمہ دار ہیں ۔یہی تو ہیں جن کی وجہ سے تم قید میں ہوان کے خلاف کھڑے ہو جاؤ۔مذاہب کے تمام ماضی کو انسانی تاریخ سے بھگا دو۔مذاہب کی تاریخ سے رشتہ ٹوٹے گا تو پھر ہی نئی دنیا وجود میں آئے گی ۔دیکھتے رہو حقیقت تک پہنچ جاؤ گے ۔تمام پتے میز پر چھوڑ دو پھر ہی تم پر حقیقتیں کھلیں گی ۔پھر ایسی ذہانت اور دانائی تمہارا مقدر بنے گی جو تمہیں آزادی دلوا دے گی ۔
مذاہب نعمت نہیں خوبصورت الفاظ کا مجموعہ ہیں اورانسانوں کو قیدی بنا ڈالا ہے ان خوبصورت الفاط نے ۔ان کے چکر میں مت پڑو ۔یہ امارت اور تخلیق کے دشمن ہیں ۔او میرے انسان میرے پیارے انسان ۔یہ اصول ،نظریات اور نظام جو ان بطاہر خوبصورت الفاظ سے بنتے ہیں ان سے نجات سے ہی آزادی ملے گی ۔ذہنی خیالات اور تجربات میں مداخلت مت کرو صرف ان کو دیکھو ۔زندگی عظیم حیرت ہے اسی حیرت ایک ایسا لمحہ آئے گا جب تم ان خوبصورت الفاظ سے نجات پاجاؤ گے ۔جب تم آزاد ہو گے تو ہر طرف تمہیں خوبصورتی ہی خوبصورتی ناچتی نظر آئے گی ۔تمام نفرتیں ایک طرف رکھ دو ۔صرف اس لمحے کا خاموشی سے انتطارکرو ۔سوچو تم عیسائی ہو ،نہ ہندو ہو، نہ یہودی نہ مسلم۔۔۔اس کے بعد پھر تم ہمیشہ اسی لمحے میں رہو گے ۔ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاؤ گے ۔پھر تمہیں مندر جانے، سر جھکانے، گریہ کرنے اور صلیبوں کا بوجھ اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔۔۔۔تمہارا وجود ہی مسجد، مندر اور چرچ بن جائے گا ۔سنو پرندوں کے نغمے ،سونگھو پھولوں کی خوشبو ۔سمندروں ،دریاؤں اورجھرنوں میں بہتے پانی سے تمہیں وہ کچھ ملے گا جس سے تم قید سے نجات پا جاؤ گے ۔جب تمہارا دل ان کے ساتھ ناچاکرے گا تو سمجھ لو تم نے سچائی پالی ۔تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئے ۔
تم سوئے ہوئے ہو ۔تم نے فطرت کو فراموش کردیاہے ۔تم خود ایک جیل ہو ۔خوبصورت الفاظ سے تیارکردہ کھلونے انسان کو بڑا نہیں ہونے دے رہے ۔جاگو! جاگو! جاگو!تمہارا احساس کمتری اس طرح تباہ ہو گا ،تمہاری انا اسی طرح ختم ہوگی ،اے میرے انسان !جانور اپنے اپنے علاقوں پر قبضے کرتے ہیں اور سرحدیں بناتے ہیں اور پھر قیدی انسان ان سرحدوں پر بیٹھ کر اپنے جیسے قیدی انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں ۔ یہ امریکہ روس بھارت جرمنی جاپان پاکسان برطانیہ کچھ نہیں ،یہ ملک نہیں قید خانے ہیں ۔پاسپورٹوں اور ویزوں کی بندشوں سے آگے نکلو ۔ہم سب انسان ہیں اور انسانیت اہنی آزاد شکل نمودار ہو گی تو ہی آزادی ملے گی۔جاگو! جاگو! جاگنے سے ہی تمہارے دماغوں اور ذہنوں کی زینت ہو گی۔ اس آزادی کو پانے کے لیے جرات اور بہادری کی ضرورت ہے جو تمارے پاس نہیں ۔انسان قید میں ہے ۔اسے اس شعور سے آگاہی چاہیئے کہ وہ قید میں ہے ۔ وہ شعور کہیں سے ڈھونڈ لاؤ۔قید سے نکلنا ہے تو اس شعور کو پانا ہوگا۔انسان قید میں ہے قید میں ہے اور یہی سچ ہے ۔۔۔۔ پہلے خود تسلیم کرو کہ تم قید میں ہو ۔ پہلا اصول یہ تسلیم کرنا ہے کہ میں قید میں ہوں ۔پھر آزادی ہی آزادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

دس برسوں کی دلی - قسط نمبر1

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں نے دہلی میں دوردرشن اردو کے کچھ معمولی سے کام کرکے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ اب تو ہم بھی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں، ہماری بھی عزت چوک چوراہوں پر ہے، آٹو رکشہ والے کو آنکھیں دکھائی جاسکتی ہیں، معمول کی ناانصافیوں کو غصے کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ان پر اپنے جرنسلٹ ہونے کی دھونس جمائی جاسکتی ہے اور بہت سے ایسے کام کیے جاسکتے ہیں جو کم از کم خودتشفی کے زمرے میں آتے ہوں۔

گدڑی

بھاری بھرکم مشینوں کی سمع خراش اور تخریب آمیز آوازیں میری نیند میں ایسی مخل ہوئیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے اپنے اوپر منوں بوجھ محسوس کیا۔

ضرورت "اجتہاد" کی ماں ہے

کوئی چیز جو پہلے ہمارے مولوی صاحبان کی جانب سے حرام قرار پائی ہو اور پھر بتدریج حلال بن گئی ہو اس کا ایک اہم ضابطہ و اصول، شرعی نصوص (جو کہ ہمیشہ ایک ہی ہوتے ہیں) سے کہیں زیادہ یہ ہے کہ وہ چیز کسی خاص طبقے اور عوامی ضرورت سے آگے بڑھ کر مولوی حضرات کی ضرورت بن جائے۔