لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ

لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ
لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ
لاہور کو گاڑیاں چبا کر کھا گئیں
ہمشکل گھروں کی شرمندگی اور ڈھٹائی میں
اینٹ کی نظمیں، غزلیں بن گئیں
عمارتیں، پتھرائی
جدید نقشوں میں سلب
اپنی روحوں کی تصویر بناتی رہتی ہیں
مردہ دماغ، نامرد ہاتھ، کھوکھلی کوکھ
ایجاد کے فیصلوں پر حاوی ہو گئے
اور اس رات میں
اس کے اندہوناک غم کی آواز میں
شہر کے ابنِ ٹِک ٹِکوں کے میلے میں
ایک میں سے
ایک تم
لپٹ کر سو گئے
لاہور، البتہ، بحیثیت شہر
اب سو نہیں سکتا
بم کی طرح
ٹِک ٹِک کرتا رہتا ہے

 

میں جانتا ہوں شہروں کی نیندیں اجڑنا عالمی المیہ ہے
مگر بھاڑ میں جاۓ لندن اور نیو یارک کی لال آنکھیں
وہاں کی اینٹوں کی نظموں کا غزلوں میں ڈھلنے کا غم
وہاں کے رہنے والوں کو ہو تو ہو
مجھے نہیں ہے

 

میں ایک عام سا منافق ہوں
جس کا جسم لاہور میں گڑا ہوا ہے
اور روح لندن، نیو یارک میں دفن
میں یہ ماننا ہی نہیں چاہتا کے ہم سات آٹھ ارب لوگ
اب صرف لندن، نیو یارک میں رہتے ہیں
اور اگر نہیں رہتے
تو پھر ہمیں رہنے ہی نہیں دیا جاتا
مگر میری باری ابھی نہیں آئی ہے
میں چھوٹا سا منافق
اس بات سے خوش ہوں کہ
لاہور کا غم میرا ہے
اور میں لاہور میں رہتا ہوں

 

اس نظم میں منٹو کا ذکر نہیں ہے
منٹو کے ذاکر زیادہ سنے جاتے ہیں
منٹو سینے پر لگا لیں تو
چھوٹے منافق بھی بڑے ہو جاتے ہیں
اور کوئی ماننے کو تیار نہیں
کہ منٹو ہم اندھوں کا
کانا راجا ہے

Image: Joshua Wait

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

خوابوں کی افادیت

نصیر احمد ناصر: خواب دیکھتے ہوئے
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلآ گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوست

نامکمل

سلمان حیدر: نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں

لعوقِ عشق و عرقِ آگہی

حسین عابد: تجسس کی ہوا لگتے ہی ایسا عارضہ لاحق ہوا
کوچہ بہ کوچہ مانگتا ہوں وہم کی خیرات
رہ چلتوں کی جیبوں سے ڑا لیتا ہوں سکے بے یقینی کے
جھپٹ کر چیل کی منقار سے شک کا نوالہ چھین لیتا ہوں