کیا سینئہِ دیوار میرا رفو گر ہوا؟

کیا سینئہِ دیوار میرا رفو گر ہوا؟
عورت جب جب اور جب تک چپ رہنے کو راضی رہے، جب تک وہ اُن کے پٹھوں کو گلوکوز کی ضروری فراہمی سے اُن کا "تنتنا" بحال ہو جائے تو "کھول دے" کی فرزانگی پہ ناک منہ نا چڑھائے، ذرا برابر بھی حجت نا کرے؛ ناقص العقل قرار دینے پر بھی بہ رضا و رغبت سٹاک ہوم سنڈروم کی نتھ پہن لے، تو انہیں اسے "رحمت" قرار دینے میں اک ذرا برابر بھی تامل نہیں؛ اس اطاعت و فرمانبرداری کے صلے میں جنت اس کے قدموں میں ہونے کی محصول چُونگی بھی عنایت کر ماریں۔

انعامات و اکرامات !

چُپ رہو، سہتی جاؤ تو تم بلند اخلاق۔ خاموش رہو تو تصویرِ کائنات میں رنگ کا دم تمہارے دم سے قرار دے ڈالیں، قوموں کی عزت کا جُھومر بھی دِلا دیں؛ (پر یاد رکھئے کہ لینے والے ہاتھ اور دینے والے ہاتھ کے قانونی تعین سے بھی تو تعلق داری کا ایک رشتہ ترتیب پاتا ہے)

انعامات و اکرامات!
لیکن!

جونہی عورت اپنی ہستی کو عطا کردہ حیثیت پر احتجاج کرے تو اس کی بودی رد میں، اس کے گونگے بیانیاتی ردِعمل میں کسی بھی استبدادی طبقے کی طرح مردوں نے اخلاقیات کی توپوں کا سہارا لیا ہے۔
مکرر کہیں گے لیکن، جونہی عورت اپنی ہستی کو عطا کردہ حیثیت پر احتجاج کرے تو اس کی بودی رد میں، اس کے گونگے بیانیاتی ردِعمل میں کسی بھی استبدادی طبقے کی طرح مردوں نے اخلاقیات کی توپوں کا سہارا لیا ہے۔ کہہ دیا کہ یہ کوئی طریقہ ہے اس طرح بات کرنے کا؛ کہ تمہیں تو ہم نے مستور کہا تھا یعنی چھپی ہوئی چیز کہ ہمارے ضبطِ نازک کے تم امتحان لیتی ہو، کہ ہم مردوں (ہیں؟ کیا یہ واقعی مرد ہیں خود اپنے ہی وضعی معنوں میں بھی!) کی مردانگی پر تو پہلے ہی تمہارے سینہ بندوں کی سٹریپس (straps) سے ہی سانپ لوٹنے لگتے تھے؛ ہماری صورتِ پارہ صنفِ سخت جان کے نازک سَروں پر شیطانِ رجیم سوار ہو جاتا تھا کہ اب تم تو مزید حدوں کو پھلانگ رہی ہو۔ اب تم نے کیا کر ڈالا کہ ہماری ذاتی تعمیر اور نفسیاتی و سماجی اینٹ، پتھر گارے سے بنی راج دُلاری تہذیب کے دامن کو تار تار کر دیا اور اس کی بنیادوں پہ سیلاب کا پانی چھوڑ دیا؛ اری ناقص العقل کیا کر دیا! کہ تُم نے تو ہماری شرم و حیا کی صدیوں سے رواں شٹل سروس کو سرِ دیوار چُن دیا، تو اب سزا ملے گی، حد لگے گی، اسی دیوار ہی میں چُنی جاؤ گی۔ اے ننگِ ملت و ننگِ معاشرہ!

آپ جانتے ہی ہوں گے پر پھر بھی بتاتے چلیں کہ لاہور کی ایک یونیورسٹی کی لڑکیوں نے ماہواری جیسے فطری عمل کے متعلق روا ناک پہ انگلی رکھ کر "پیچھے ہٹ، پیچھے ہٹ" کی تف تُفیوں پہ اور اسے وجہِ نقصِ ہستی جاننے کی بابت اِک سوال قائم کیا، تو طاقتور اور طاقت کے تقسیم کار طبقوں کے عقائد میں ہلچل برپا ہو گئی؛ ایمان و عقائد اور طاقت کے نشے میں چُور ہو کے کی گئی فقہ دانیاں اور قانون سازیاں مشتعل ہو گئیں۔ ایک فطرت کے مظہر کو ٹابو (taboo) کی اونچی فصیلوں سے نکالنے کے لئے زور کا شبیہی نعرہِ مستانہ لگا تو اسے معاشرے میں پائے جانے والی مربیانہ مردانہ ذہنیت پر چابک کے طور محسوس کیا گیا۔

دیوار پہ فطرت کے اس ایک مظہر سے متعلق عکس بنایا گیا، وہی عکس جو ان طاقت کے مراکز کے سپاہیوں اور سپہ سالاروں کی اس دنیا میں آنکھ کھولنے کی ہی فطری سند تھی، تو یہ دیوار پہ چسپاں تصویریت شرک کی حدوں کو پھلانگتی ہوئی قرار دی جانے لگی۔ نئی تمثیلیں نازل ہونا شروع ہو گئیں کہ اس نئے نویلے لبرلزم آموز ملک (ہر چند کہ وہ تو کاروبار اور معیشت کے معنوں میں ارشاد ہوا بیاں تھا) میں اب جنسی عمل بھی بر سرِ بازار اور سینہِ دیوار ہوں گے۔ ان کی مثالوں کی تیز نظریوں اور کشادہ دماغیوں پہ کون سی سطر اور کون سا شبد انصاف کرے گا۔

واہ، حضرتِ آدم آپ کے فرزندان کے انصاف پہ حوا کو بس اب ہنسی آ سکتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ شرم و حیا جب پاؤں کی زنجیر بن جائے تو اسے توڑنا اچھا! اور یاد رکھیو کہ شاید تمہاری منصفی کو ہی اب سوال کی نوک پر رکھا جا نے لگا ہے۔
تعزیروں اور حدوں کے "خود بچاؤ" ضابطوں کو اپنی خواب و خُمار آلود رومانویت کی حامل خورد بینوں سے نظام ہائے حکومت و ریاست سمجھنے والوں کو تو دوسروں کے ترانہ ہائے کرب بھی تلواریں لگتی ہیں۔ انہوں نے تو اپنے استدلال کے اندر فطرت اور اعلٰی رتبے کی تقسیم کاری اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے عورت کو شئے مخصوصہ ہی قرار دیا ہے، اسے بار ہا باور کرایا گیا ہے کہ تم کون ہوتی ہو اپنا حق جتانے والی، میں ہوں مرد، میں کروں گا انصاف، میں تمہیں بتاؤں گا تمہارا منصب کیا ہے، تمہاری فطرت کیا ہے، لیکن پردے میں در حقیقت یہی کہا جا رہا ہے کہ میں تمہیں بتاؤں گا کہ میری منشاء کیا ہے۔

میں مرد جب شاعرِ خوش نوا کے طور اپنے آپ کو منوا چُکوں تو تمہیں اپنی مرضی سے "مجھ سے پہلی سی محبت" مانگنے پہ کسی وقت بھی دُھتکار سکتا ہوں؛ کہ اس کی فراہمی و ارزانی صرف میری مرضی پر ہی منحصر ہے، میرے پاس ہی اس خزانے کی چابیاں ہیں اور میں جب چاہوں اسے زبردستی اپنی دسترس میں لا بھی سکتا ہوں کہ میں مرد ہوں۔ سینہِ دیوار کو بھی اپنا ہمراز نا کرو کہ میں مرد ہوں اور یہ میں بتاؤں گا کہ جو غلط ہے اور جو صحیح ہے، کہ میں ہی خالص العقل ہوں۔ میں تعین کروں گا کہ گناہِ اولین کی وجہ کون تھا، سب پاپائیت کے دفتر میرے، ساری نظریاتی کونسلیں میری !

لیکن!

واہ، حضرتِ آدم آپ کے فرزندان کے انصاف پہ حوا کو بس اب ہنسی آ سکتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ شرم و حیا جب پاؤں کی زنجیر بن جائے تو اسے توڑنا اچھا! اور یاد رکھیو کہ شاید تمہاری منصفی کو ہی اب سوال کی نوک پر رکھا جا نے لگا ہے۔
Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

پاکستانی مصنوعات کے استعمال پر فخر کریں

ہر قوم اپنی مصنوعات پر فخر کرتی ہے اور بحیثیت قوم ہمیں بھی اپنی مصنوعات پر فخر کرنا چاہیے ۔

لبرل اور جمہوری پاکستان کا خواب چکناچور

جہلم میں احمدیوں کے خلاف دہشت گردی کے اس واقعے سے وزیر اعظم نواز شریف کے لبرل جمہوری پاکستان کے دعوے زمین بوس ہوگئے ہیں، اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضربِ غضب اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بلندوبانگ دعوے اصل میں وہ طفل تسلیاں ہیں جن کے ذریعے حکمران عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

میں بھی سوچوں، تُو بھی سوچ۔۔۔۔

مٹی کی خوشبو خون میں رچی ہوتی ہے، پھر چاہے آپ اِدھر کے ہو جائیں یا اُدھر کے، آنکھوں میں ایک خاص چمک، لہجے کی مٹھاس اور طبیعت کا اوتار آپ کو اپنی مٹی سے پیوستہ رکھتا ہے، دھرتی ماں کی محبت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔