ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ !
تھوڑی دیر ذرا یہ جیون آنکھیں کھولو
مجھ کو اپنے نرم مسیحا ہاتھوں پر بوسہ دینے دو
جن رحمان صفت ہاتھوں نے
زخموں کا مذہب نہیں دیکھا
آہوں سے مسلک نہیں پوچھا
ماں رتھ فاؤ
تم کو جنّت سے کیا لینا
تم خود دھرتی کی جنّت ہو !
ماں رتھ فاؤ
دھرتی کو جنّت سے خالی مت کر جاؤ
ایک جنم پھر سے لے آؤ
ماں رتھ فاؤ
آؤ !
اپنے بچّوں میں پھر سے آ جاؤ !
ماں رتھ فاؤ !

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

آبائی گھروں کے دکھ

نصیر احمد ناصر: آبائی گھر ایک سے ہوتے ہیں
ڈیوڑھیوں، دالانوں، برآمدوں، کمروں اور رسوئیوں میں بٹے ہوئے
لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے

ھل من ناصرًا ینصرنا

کوزہ گر، تو نے جب
مجھ کو تشکیل دی تھی تو اتنا تو کرتا
مجھے اک مبارز بناتا
مرے ہاتھ میں ایک تلوار دیتا
کہ اپنی حفاظت مرا کام ہوتا
مگر میں نہتّا، اکیلا کھڑا دیکھتا ہوں
عدو چاروں جانب سے یلغار کرتے ہوئے آ رہے ہیں

The Hate Poem from the Rebel in Each of Us

The Hate Poem from the Rebel in Each of Us A ghost scared to death The infinite terror of children’s