ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ !
تھوڑی دیر ذرا یہ جیون آنکھیں کھولو
مجھ کو اپنے نرم مسیحا ہاتھوں پر بوسہ دینے دو
جن رحمان صفت ہاتھوں نے
زخموں کا مذہب نہیں دیکھا
آہوں سے مسلک نہیں پوچھا
ماں رتھ فاؤ
تم کو جنّت سے کیا لینا
تم خود دھرتی کی جنّت ہو !
ماں رتھ فاؤ
دھرتی کو جنّت سے خالی مت کر جاؤ
ایک جنم پھر سے لے آؤ
ماں رتھ فاؤ
آؤ !
اپنے بچّوں میں پھر سے آ جاؤ !
ماں رتھ فاؤ !

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے

روح زیست کے ٹرائل روم میں کھڑی ہے

سوئپنل تیواری: روح کھڑی ہے
جسم پہن کر
زیست کے ٹرائل روم پھر سے
عمر کے آئینے میں خود کو دیکھ رہی ہے

کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

نصیر احمد ناصر:
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی