ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ

ماں رتھ فاؤ !
تھوڑی دیر ذرا یہ جیون آنکھیں کھولو
مجھ کو اپنے نرم مسیحا ہاتھوں پر بوسہ دینے دو
جن رحمان صفت ہاتھوں نے
زخموں کا مذہب نہیں دیکھا
آہوں سے مسلک نہیں پوچھا
ماں رتھ فاؤ
تم کو جنّت سے کیا لینا
تم خود دھرتی کی جنّت ہو !
ماں رتھ فاؤ
دھرتی کو جنّت سے خالی مت کر جاؤ
ایک جنم پھر سے لے آؤ
ماں رتھ فاؤ
آؤ !
اپنے بچّوں میں پھر سے آ جاؤ !
ماں رتھ فاؤ !

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

تمنا آنکھ بھرتی ہے

عمران ازفر: وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے

بلڈ کینسر

رضی حیدر: میں اک جوالا مُکھی کا قصہ ہوں
میں انفجارِ عظیم کی طاقتوں میں ذرَہ ہوں

یکم اپریل 1954ء

نصیر احمد ناصر: ماں نظم کو گود میں لیے بیٹھی رہتی
نظم کے ہاتھ چومتی
اور ایک الُوہی تیقن سے مسکرا دیتی