ماں ہونا ضروری نہیں

ماں ہونا ضروری نہیں
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہماری زندگیوں میں عورتوں کے تصور کا وہ خانہ بالکل سیاہ ہے، جس میں ہماری ماں، بہن یا کوئی بھی ایسی مقدس عورت اپنی تمام تر جنسی ضرورتوں اور جسمانی اعضا کے ساتھ موجود ہو۔ وہ کون سا وقت تھا جب ہم نے ان عورتوں کی زندگی کے وہ مسائل سنے تھے، جو ان کے ذہنوں پر بوجھ کی طرح لدے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جتنی آسانی سے آپ کی بیوی آپ کو یہ بات بتا سکتی ہے کہ اس کے پستان چھوٹے ہیں،اور اسے یہ بات پسند نہیں، کیا آپ کی ماں یا بہن اس مسئلے کا اظہار آپ کے سامنے کرسکتی ہیں۔ اگر نہیں تو یقینی طور پر آپ اس معاملے کو کتنے ہی شرم اور جھجھک، مصلحت یا رشتے کا لبادہ اڑھائیں، یہ بات آپ کے لاشعور نے تسلیم کرلی ہے کہ آپ کی ماں یا بہن وہ عورت نہیں ہے، جو دوسری عورتیں ہوا کرتی ہیں۔ ہونے کو ہمیں ان سے بے انتہا محبت ہے، ہم ان کی خوشیوں اور غموں کا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مائیں سوسائٹی میں دوسرے مردوں کے ساتھ اتنی ہی آسانی سے دوستی کریں، گفتگو کریں یا پھر چیٹنگ یا کالنگ کرسکیں، جیسی کہ ہم دوسری لڑکیوں یا عورتوں کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ عام طور پر ہمارے سماج میں یہ فقرہ شرم دلانے کا مجرب نسخہ سمجھا جاتا ہے کہ 'تم جس عورت کو غلط نگاہ سے دیکھتے ہو، وہ بھی کسی کی ماں ، بہن یا بیٹی ہے۔ 'یہ فقرہ بتاتا ہے کہ آپ عورت کو ان مدارج کی تھیلیوں میں لیپٹ کر کیسے اس کی اپنی ذات سے اسے الگ کرتے ہیں اور شرم کے فریزر میں ڈال کر اسے ایک ایسا سرد ترین نکتہ بنانا چاہتے ہیں، جس میں عورت نام کے لفظ کی کوئی حرارت موجود نہ ہو۔ہمیں شرمانا کن باتوں سے چاہیے۔ اس بات سے کہ ہم اپنی یا دوسروں کی شناخت کو دبا رہے ہیں یا پھر اس سے کہ ہم ان کی شناخت کو تسلیم کررہے ہیں۔

میں ایک لوئر مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ میری فیملی ایک ایسی سطح پر تیرتی ہے، جس کی سماجی، معاشی اور علمی حیثیت بہت زیادہ اہم نہیں سمجھی جاتی اور ہم خود کو ترقی کے راستوں پر لے جانے کی خواہش رکھنے والے کچھ بھائی بہن ہیں، جن میں سب کی سوچ یکساں نہیں۔ ممکن ہے کہ میرے ان فقروں سے جو میں اس مضمون میں لکھ رہا ہوں، میرے بھائی یا بہن اختلاف کریں۔ مگر مجھے یہ پوچھنے میں نہ تو کسی قسم کی جنسی لذت حاصل ہونی ہے اور نہ کوئی شرم ورم آنی ہے کہ آخر عورت کو ماں ، بہن یا بیٹی سمجھنا اتنا ضروری کیوں ہے بجائے ایک عورت سمجھنے کے۔

ہزاروں سال سے ہم نے ایک نفسیاتی کرب کا غلاف اوڑھ رکھا ہے اور وہ نفسیاتی کرب یہ ہے کہ جب کبھی ہماری قریب ترین عورتوں کو جنہوں نے ہمیں جنم دیا ہے، ان کے جنسی معمولات یا جسمانی مسائل کا ذکر ہوگا تو ہمارے منہ لال ہوجایا کریں گے، کنپٹیاں سرخ اور ماتھے پسینوں سے تر ہوں گے۔حالانکہ یہ سب کھوکھلی باتیں ہیں۔ شرم ہماری سوسائٹی میں اتنا ہی کومپلکیسڈ مسئلہ ہے، جتنا کہ تقدیر ۔ جیسے ہم تقدیر کو ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں، شرم کی بھی کوئی کھلی ڈھلی تعریف ہمارے پاس نہیں ہے۔ میں اس سماج میں رہ کر دیکھتا ہوں کہ عورتیں اپنے نام، فون نمبر، اپنی تصاویر، آواز اور بدن سبھی کا پردہ کرتی ہیں۔وہ عورتیں تو خیر بہت سے سیکولر ذہنوں کی جانب سے بہت ہمددردیوں اور غصے کو سہتی سنتی ہیں، جو برقعے پہنتی ہوں، سکارف میں ڈھکی رہتی ہوں یا پھر گھر گھسنی ہوں۔ مگر ان عورتوں کا کیا، جو عام طور پر کھلے ذہن کی سمجھی جاتی ہیں، پھر بھی اس بات کے خوف میں مبتلا رہتی ہیں کہ ان کا نام، نمبر یا آواز اگر ایک مخصوص دائرہ تعلق سے باہر نکلے تو وہ بدنام ہوسکتی ہیں۔ شرم اور بدنامی کی یہ ایک ایسی سیڑھی ہے، جس پر سے اترتے ہی سماج کے سانپ ہنکارتے ہوئے ان کی جانب بڑھیں گے اور انہیں زبردستی زندگی کی گیم سے باہر دھکیل دیا جائے گا۔ ضروری ہے کہ اب اس کلیشے کو سلجھایا جائے اور سمجھا جائے کہ عورت کوئی بھی ہو، اس کی جنسی خواہش کو مصلوب کرنا یا اسے اپنے ہی جسمانی اعضا سے شرم دلانا ایک نہایت واہیات اور پتھروں کے زمانے والا طریقہ کار ہے۔ایک عورت نے باتوں ہی باتوں میں مجھے بتایا کہ وہ نہاتے وقت اکثر اپنے بدن سے نظریں چراتی ہے اور گزشتہ بائیس پچیس برسوں سے اس کا یہ معمول ہے کہ وہ خود کو آئینے میں بھی ننگا دیکھنا پسند نہیں کرتی۔جہاں آئینے سے اتنا خوف ہو، وہاں اولاد سے ڈر کیوں نہ لگے گا۔دراصل جب ہم سوچتے ہیں کہ ہمیں اپنے بدن کے کسی مخصوص حصے کو اتنے لوگوں سے چھپانا ہے تو ہم یہ بات فر ض کررہے ہوتے ہیں کہ ہمارے بدن کا یہ مخصوص حصہ ہمارے لیے الجھن اور بکھیڑوں کا باعث ہے۔ جو چیز جتنی زیادہ چھپی رہے گی، اتنا زیادہ اس کو دیکھنے کی عادت اور جاننے اور سمجھنے کی عادت ختم ہوتی جائے گی۔ایسی جگہوں کے نام اور ان سے منسلک بیماریوں تک سے ہمیں چڑ ہوگی، خوف آئے گا اور ایک قسم کی کراہت بھی پیدا ہوگی، مثال کے طور پر اگر ہمیں معلوم ہو کہ ہمارے درمیان موجود کسی شخص کو بواسیر ہے تو ہم یا تو ہنستے ہیں یا پھر ہمارا رد عمل اس مخصوص طرز عمل کے طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اس جگہ پر بیٹھنے سے بھی گھبراتے ہیں ، جہاں وہ شخص بیٹھ چکا ہو۔ اس بیماری کے تعلق سے طرح طرح کے توہمات گڑھ لیے جاتے ہیں، نت نئی باتیں پھیلتی ہیں اور بہت سی غیر ضروری نفسیاتی الجھنیں بیمار کے ساتھ ساتھ سماج کے دوسرے لوگوں پر بھی حاوی ہوجاتی ہیں۔ ایڈز جب نیا نیا متعارف ہوا تو یار لوگوں نے کیسی کیسی باتیں بنائیں، آج بھی کم علم معاشروں اور لوگوں میں اس کے تعلق سے ایک قسم کی گھن اور عجیب طرح کا خوف دکھائی دے گا۔

یہ کوئی ایسی باتیں نہیں، جنہیں ہم نہ جانتے ہوں، بس مسئلہ اتنا ہے کہ ہم ان پر گفتگو کتنی کرتے ہیں اور اس گفتگو کی اہمیت کو کس قدر سمجھتے ہیں۔ کسی عورت کو ماں بنادینے کا کیا مطلب ہے، اسے ہمیں سمجھنا ہوگا۔ جب ہم ایک پراسس کو تعریفی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں تو یہ طے ہوجاتا ہے کہ اس کے خلاف اگر کہیں کوئی طریقہ نظر آیا تو ہم اس کو نہ صرف برا اور غلط سمجھیں گے، بلکہ اس کو ناجائز، حرام اور ایسے الفاظ سے بھی نوازیں گے، جس سے یا تو سامنےوالے کی زندگی خود دوبھر ہوجائے یا پھر ہم یہ فریضہ خود انجام دے کر اس کی غلیظ زندگی کو ایک بھیانک نتیجے تک پہنچانے میں کامیاب ہوں۔ مثال کے طور پر دو عورتیں ہیں، ایک شادی کے بعد سماج کی مرضی کے ساتھ حاملہ ہوتی ہے اور دوسری اس کے بغیر۔ ہم اس دوسری عورت کو کسی قسم کا سماجی درجہ دینے کے لیے تیار نہیں، اسے طوائف، بے حیا، رکھیل اور نہ جانے کس قسم کے الفاظ سے نوازیں گے، جس میں ماں نام کی کوئی رمق اور چاندی کے ورق سے لپٹی ہوئی نفاست دور تک بھی دکھائی نہ دے گی۔میں ان سماجی ضابطوں کی مخالفت کرتا رہا ہوں، جن میں کوئی ایسا جما جمایا ہوا طریقہ موجود ہو جس کے برعکس ہونے والا کوئی بھی عمل ہمیں حرام یا ناجائز نظر آئے۔ ظاہر ہے ہم دوسری عورت کو پیٹ سے ہونے کے باوجود ماں کا تقدس عطا نہیں کرتے، لیکن اسے نظروں سے گرانے کے بجائے ہمیں شادی کے بعد ماں بننے والی عورت کی تقدیس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ایک عورت اپنی مرضی سے ایک شخص کو چنتی یا اپنے خاندان کے دباؤ میں آکر، مگر جب وہ حاملہ ہوجاتی ہے، ایک بچے کو جنم دیتی ہے تو ہم اسے ماں کا ٹائٹل بخشتے ہیں۔ یہ ٹائٹل کیوں دیا جاتا ہے۔دراصل یہ ایک ڈیوٹی کا نام ہے۔ جو عورتیں اس ڈیوٹی میں اپنے عورت پن یا انسان ہونے کی وجہ سے ناکام ہوجاتی ہیں، انہیں بھی ہماری سوسائٹی حیرت سے دیکھتی ہے اور ان پر فتوے عائد کرتی ہے۔ ایسی خبریں کس نے نہیں دیکھی یا سنی ہوں گی، جس میں ان عورتوں کو، جو اپنے بچوں سے اس قسم کے لگاؤ کا اظہار نہ کرپانے کے سبب انہیں چھوڑ دیتی ہیں یا ان کے ساتھ کچھ جرم کربیٹھتی ہیں، ہمارا نیوز رپورٹر لعن طعن کررہا ہوتا ہے۔ان خبروں پر'ایک ماں ایسی بھی' یا 'ماں کے بھیس میں ڈائن' کی خونی لائنیں چسپاں کی جاتی ہیں۔ ان بلاسبب کی ذمہ داریوں سے عورت کو آزاد کرانے کی فکر پر بات ہونی چاہیے یعنی یہ کہ کوئی عورت کیا کسی اولاد کو ایک لڑکی یا لڑکے کی صورت میں دیکھ سکتی ہے، ایک آزاد، الگ اور اس کے بھرپورتشخص کے ساتھ۔ نہ کہ اس درخت کے طور پر، جسے اس نے پانی دے دے کر سینچا ہے، اور نہ ہی اس کامیاب ہوتی یا ٹوٹتی ہوئی توقع کے طور پر جو اس نے کسی دوسرے انسان سے لگا رکھی تھی۔

میں نے کسی ماہر نفسیات کے مضمون میں یہ بات پڑھی تھی کہ عورتوں کی سب سے بڑی رقیب ان کی بہوئیں ہوا کرتی ہیں۔ حالانکہ سرسری طور پر دیکھنے سے یہ ایک مزاحیہ فقرہ معلوم ہوتا ہے، مگر یہ ایک اہم نکتہ ہے۔'ماں' ہمارے یہاں ایک سروس سینٹر کا نام ہے۔مرد قدرتی طور پر تو ویسے بھی بچہ پیدا کرنے، دودھ پلانے جیسی ذمہ داریوں سے آزاد تھا ہی، اس کے اس شاندار خطاب نے اسے ان تکلیفوں سے بھی راحت دلادی، جو ایک عام عورت کے سر پر اچانک 'ماں ' بنتے ہی ٹوٹ پڑتی ہیں۔ماں بچے کا پوری طرح خیال رکھتی ہے اور اسے لاشعوری طور پر یہ دھوکا ہوجاتا ہے کہ جس فرد کی پرورش وہ کررہی ہے، اس کا پورا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، اس کی پوری ذات اسی سے وابستہ ہونی چاہیے۔اور یہ توقع اس شاندار خطاب کے مقابلے میں پیدا ہونا عین فطری ہے اور ایسا ہوتا ہی ہے۔اسی وجہ سے جب عورتیں خاص طور پر اپنے لڑکوں یا عمومی طور پر اپنی اولادوں کی زندگی میں کسی دوسرے شخص کو آتا ہوا دیکھتی ہیں تو ان کی جاسوسی سے لے کر نگرانی، ڈانٹ ڈپٹ، رقابت اور جھگڑوں تک کی سچویشن پیدا ہونے لگتی ہے۔اور اس میں عورتیں غلط نہیں ہوتیں، پندرہ بیس سال یا اس سے بھی کئی زیادہ برسوں تک اک شخص کو اپنی میراث یا دولت سمجھنے کے بعد یہ محسوس کرپانا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ اب اسے کوئی اور خرچ کرے گا یا اس پراپرٹی پر اب آپ کا نام نہیں لکھا ہے۔ان مسائل کو اجاگر نہ کرپانے والی ہماری سوسائٹی بعد میں اس قسم کے چٹکلے نما 'حقیقت پسند' فقرے گڑھتی ہے کہ 'عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہوا کرتی ہے۔' لیکن ایسا کیوں ہوا، اس کی طرف توجہ دینے کو ہم بالکل بھی اہم نہیں سمجھتے اور نہ ہی مستقبل میں سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عورت کا عورت ہونا کافی ہونا چاہیے، جبکہ ماں بنا کر ہم اس کی صنفی کشش اور ضروریات کو دبانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین کو ان کے ناموں کے ساتھ بلائیں تاکہ ہم میں یہ احساس باقی رہے کہ وہ ایک آزاد فرد ہیں نہ کہ ہماری زندگیوں کے ذمہ دار اور ٹھیکیدار۔ وہ بس ایک ایسے قدرتی مرحلے سے گزر کر ہمیں دنیا میں لانے کے ذمہ دار ہیں، جس میں ان کی اپنی مرضی اور دلچسپی بھی شامل تھی۔ماں ہونا یا ماں بنادیا جانا، دراصل عورت کی کہانی میں ایک قسم کا کتھارسز پیدا کرتا ہے، جس کی انتہا احمقانہ توقعات، عجیب و غریب منطق اور فرسودہ سماجی تکنیک کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرلینے تک جاپہنچتی ہے۔جب آپ بطور فرد کسی چیز کی مخالفت یا موافقت کا اعلان کرتے ہیں تو آپ کا سماج سب سے پہلے اسی جذباتی سیڑھی پر بیٹھا نظر آتا ہے، جسے آپ ماں کہتے ہیں۔ اور کسی بھی عورت کو ایسا غیر جمالیاتی اور غیر دلچسپ کام سونپ دینا ہماری سوسائٹی کا بہترین مشغلہ ہے۔

Image: Farah Mahmood Adnan

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

سیاسی اسلام کی ناکامی

عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد مولانا مودودی اور حسن بناء کا وضع کردہ 'سیاسی اسلام' کا نظریہ متنوع سیاسی اور سماجی حالات کے حامل متعدد ممالک میں ناکام ہو چکا ہےاور اب اسے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دینے کی ضرورت ہے۔

'حادثہ ایک دم نہیں ہوتا'

ہزارہ نسل کشی اور فرقہ واریت کا تاریخی پس منظر (الف-ف) مذہبی معاشروں میں پیشوائیت کے اندرونی تصادم اور عام

مرد،عورت اور قبائلی سماج

روایتی صنفی کرداروں میں موجود تفاوت اس تاریخی معاشرتی ارتقاء کی بھی پیداوار ہے جو قبائلی اور زرعی دور میں مردوں کی مرکزی حیثیت کے باعث عورتوں کی کم تر حیثیت کا وکیل ہے۔