ماہِ میر؛ مسخ شدہ تاریخ کا پلندہ

ماہِ میر؛ مسخ شدہ تاریخ کا پلندہ
چند روز قبل ہمارے دوست زبیر فیصل عباسی صاحب ہمیں سینٹورس کے ایک مہنگے سینما میں لے گئے جہاں ہم نے ماہِ میر جیسی سستی فلم دیکھی۔ ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ ایک متشاعر میر جیسے نابغہ اور عظیم شاعر کو کیا خاک فلمائے گا کیونکہ اس سے پہلے ہم اِسی صاحب کے ڈائریکٹ کیے ہوئے منٹو کے ایک افسانے سوگندی کو دیکھ چکے تھے، جس میں حضرت صاحب نے افسانے کے آخر ی حصے میں جا کر اپنا لُچ تلا تھا، یعنی منٹو کا افسانہ کچھ تھا، لیکن اِنہوں نے ڈرامہ بناتے وقت بچارے منٹو کی اچھی خاصی تصیح کر دی تھی۔ خیر بر سرِ مطلب زبیر صاحب سے ہمارے دوستانہ مراسم ایسے تھے کہ اُن کے اصرار کو رد نہ کر سکے اور فلم دیکھنے نکل گئے۔

فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے
فلم شروع ہوئی، پانچ منٹ گزرے، دس گرزے، پندرہ، آدھ گھنٹا ہو گیا، ہمیں میر کی کہیں خبر نہیں مل رہی، ایک لونڈا ہے جو جدید شاعر بنا ہے اور کراچی کی کھولیوں میں اور قہوے خانوں میں اور اخبار کے دفتروں میں گھوم پھر رہا ہے، اور بے سُری اور بے تُکی نظمیں پڑھ رہا ہے، جس کی زبان، لغت، ادائیگی غرض ہر شے غلط تھی اور یہ نظمیں یہ نظمیں سرمد صہبائی کی ہی تھیں۔ تب کھُلا کہ یہ فلم میر پر نہیں تھی، فلم کا سکرپٹ لکھنے والے نے خود اپنے آپ پر بنائی ہے جس میں اپنی چند نظمیں اورایک غزل فلم کے ہیرو فہد مصطفیٰ سے پڑھوائیں۔ ان نظموں اور غزلوں کا معیار اس قدر پست ہے کہ ناظر کو شاعری سے ہی نفرت ہو جائے۔ فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے اور کم و بیش ایک گھنٹے بعد جب میر کا کردار منظر نامے میں داخل ہوتا ہے، تو بوریت کے ساتھ غصے کا بے پناہ غلبہ خود اپنی ہی آنکھیں نوچ لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ گاہے گاہے میر کے شعر جس طریقے سے پڑھوائے گئے، اُن کا تلفظ، صوتی تاثر اور ادائیگی اس قدر تیسرے درجے کی ہے کہ خدا پناہ، میر صاحب اگر خود دیکھ لیں تو کہیں منہ چھپا کے پیٹتے ہوئے جنگلوں میں نکل جائیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اداکار تو ایک طرف خود پروڈیوسر کو بھی میر صاحب کے اشعارکا شعور نہیں۔ ایک جگہ تو 'میر' نے خود اپنا ہی شعر غلط پڑھا بعض مقامات پر تو قرات کا تلفظ اتنا بُرا تھا کہ یقین نہیں آیا کہ ایک شاعر اس فلم کی تیاری میں شامل رہا ہے۔ اس فلم میں میر صاحب تو ایک طرف، اُن کے زیرِ ناف تک کا حق ادا نہ ہو سکا۔

فلم میں موجود دیگر تکنیکی خامیوں کا بیان تو کارِ فضول ہے کہ وہ بالکل ہی گلی محلوں کے تھیڑ سے بھی گیا گزرا تھا۔ اصل تشویش تاریخی کرداروں کے مسخ ہونے پر تھی:

1۔ تاریخی واقعات کی عکاسی میں میر صاحب کے زمانے کی تہذیب، رکھ رکھاو اور وضع قطع کی نمائندگی کی بجائے لاہوری گجروں کا رنگ ڈھنگ نمایاں تھا۔

فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے
پوری فلم میں میر صاحب کو 20 یا 22 سال کا لونڈا دکھایا گیا ہے، جس کا نہ اردو کا تلفظ ٹھیک، نہ لباس، نہ وضع قطع۔ ممکن ہے سوانحی فلم نہ ہونے کے سبب فہد مصطفیٰ خود کو اور اپنی محبوبہ کو میر صاحب اور مہتاب بیگم کی جگہ تصو ر کر رہے ہوں لیکن اس کے باوجود ایمان علی اور فہد مصطفیٰ کی اداکاری کسی بھی طرح اس زمانے کی نشست و برخاست سے مطابقت نہیں رکھتی۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ میر تقی میر ماہتاب بیگم نامی ایک طوائف پر عاشق ہے جسے عشق کا سلیقہ تک نہیں۔ غضب یہ کہ اُسی طوائف کا عاشق نواب آصف الدولہ کو بھی دکھایا گیا ہے اور غضب پر غضب یہ کہ نواب صاحب طوائف کا رشتہ لینے اُس کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ نواب صاحب کی شکل کسی لاہوری غنڈے سے کم نہیں۔ فلم میں اُسی طوائف کے سبب نواب آصف الدولہ کو میر صاحب کا رقیب اور دشمن ظاہر کیا گیا جبکہ میر کی زندگی میں کسی طوائف کا وجود نہیں تھا۔ نواب صاحب تو آخر دم تک میر صاحب کے مربی اور دوست رہے اور تمام تاریخی کتب اُنہیں فرشتہ سیرت انسان ثابت کرتی ہیں جس نے مرتے دم تک میر صاحب کا وظیفہ جاری رکھا۔ نواب صاحب کا طوائف کے گھر اُس کا رشتہ لینے چلے جانا تو ایسا عجوبہ ہے کہ جسے غلطی بھی نہیں کہا جا سکتا، یہ ایک صریح حماقت ہے۔ نوابان لکھنو سے یہ کثافت منسوب کرنے کا کوئی جواز ممکن نہیں۔

2۔ فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے۔ جب میر صاحب دہلی سے لکھنئو آئے تو اڑسٹھ برس کے تھے جبکہ انشا اُس وقت لکھنئو میں تھے ہی نہیں، وہ دہلی میں تھے اور بیس برس کے تھے۔ سید انشا تو سعادت علی خاں کے دور مٰیں لکھنئو آیا اور اُسی کا مصاحب تھا اور اُس وقت تیس برس کا تھا جب میر صاحب سے ملاقات ہوئی۔

3۔ فلم میں میر کو لکھنئو میں بیس برس کی عمر کا دکھایا گیا ہےجو کہ سرا سر غلط ہے۔ اور جو میر صاحب کے منہ سے مثنوی کہلوائی جاتی ہے وہ بھی کہیں ستر برس کی عمر میں میر صاحب نے کہی تھی، جب کہ فلم میں اُن کی زبان سے بیس برس کی عمر میں سُنوائی گئی اور وہ بھی انشا کے سامنے، جو تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔

4۔ انشا کی جانب سے میر کو خلعت پیش کیے جانے کا واقعہ سعادت علی خاں کے دور کا ہے جبکہ فلم میں اسے آصف الدولہ کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔ جہاں انشا موجود ہی نہیں تھے۔ تب وہ ایک لڑکا تھا جو دہلی میں مقیم تھا۔
5۔ نواب صاحب کے دربار کا نقشہ کسی غنڈے کی حویلی سے زیادہ کا نہیں لگتا، اس میں نہ لکھنوی رنگ ہے نا نوابی شان۔ ممکن ہے بجٹ کی کمی اس مفلسانہ عکسبندی کی وجہ بنی ہو۔

فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔
6۔ میر صاحب کا مجرا سننا اور مجرے کے دوران شراب پینا تو سبحان اللہ۔ میر نے کبھی شراب کو چھوا تک نہیں تھا ۔ البتہ یہ دونوں فعل اسکرپٹ رائٹر نے اپنے اوپر ضرور منطبق کیئے ہیں۔

7۔ میر صاحب کا بچپن آگرہ میں، لڑکپن، جوانی اور ادھیڑ عمری دہلی میں اور بڑھاپا لکھنئو میں گزرا مگر فلم میں ان ادوار کا کوئی تذکرہ کہیں موجود نہیں۔ اگر کچھ لڑکپن یا جوانی اناڑی پنے اور بھونڈے انداز میں دکھائی بھی گئی تو فلم یہ بتانے میں ناکام رہتی ہے کہ یہ واقعات کس علاقے میں رونما ہو رہے ہیں۔

8۔ فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔

یہ فلم میر تقی میر سے ایک (جدید) شاعر کا ذاتی تعارف تو ہو سکتا ہے مگر اسے میر کے کلام یا حالات زندگی پر نمائندہ کام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بادی النظر میں پرو ڈیوسر اس فلم کے ذریعے خود کو اور اپنی شاعری کو متعارف کرانا چاہتے ہیں جس کی ایک مثال آخر میں اپنی کتاب ماہِ عریاں کی برملا تشہیر ہے۔ خدائے سخن کی یہ غیر معیاری نمائندگی ماہِ میر کا سب سے بدصورت پہلو ہے اور اس فلم کو ناپسند کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی۔
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

پاکستانی مصنوعات کے استعمال پر فخر کریں

ہر قوم اپنی مصنوعات پر فخر کرتی ہے اور بحیثیت قوم ہمیں بھی اپنی مصنوعات پر فخر کرنا چاہیے ۔

معاشرتی عدم استحکام اورذرائع ابلاغ

۔ آج یہ صورتحال ہے کہ حقیقی دنیا میں افراد کے احساسات اور جذبات سے واقفیت حاصل کئے بغیر ہی موبائل اور انٹرنیٹ پر وائرلیس اورآن لائن محبت کی جاتی ہےاوراگربات نہیں بن پاتی توکسی فلمی سین کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محبت کے یہ جیالے حقیقت میں بدلہ لینے نکل جاتے ہیں ۔

ماں ہونا ضروری نہیں

تصنیف حیدر: عورت کا عورت ہونا کافی ہونا چاہیے، جبکہ ماں بنا کر ہم اس کی صنفی کشش اور ضروریات کو دبانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔