مجھے اپنی غداری پر فخر ہے

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے
مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری نے ملک نہیں توڑا تھا، ملک آپ کی حب الوطنی نے توڑا ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کوئی مسخ شدہ لاش نہیں ملی، کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا گیا اور کسی پر غداری کے فتوے نہیں لگائے گئے یہ آپ کی حب الوطنی ہے جو اپنے ہی ملک میں رہنے والوں اور اپنے آئینی حقوق مانگنے والوں کے خلاف عقوبت خانے کھولے بیٹھی ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کبھی کسی منتخب حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا، میں نے کبھی ملک کاآئین معطل نہیں کیا اور میں نے کبھی خود کو آئین و قانون سے ماورا نہیں سمجھا۔

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری آپ کی حب الوطنی کو آئینہ دکھاتی ہے۔ میری غداری اس جبر، استحصال اور بربریت کو بے نقاب کرتی ہے جو آپ اپنی حب لوطنی کے نام پر روا رکھتے ہیں۔ میرے جیسے ہی غدار ہیں جو اس ملک میں آپ جیسے طاقت ور اداروں کے غیر آئینی اقدامات پر چھوٹے موٹے مظاہرے کرتے ہیں، کبھی ان ڈیڑھ سو عورتوں کی شکل میں جو مال روڈ پر آپ کے بنائے غیر انسانی مذہبی قوانین کے خلاف نکلتی ہیں، کبھی اوکاڑہ میں آپ کی دہشت اور بربریت کے خلاف مقدمے برداشت کرنے والے مزارعوں کی شکل میں، کبھی ایم آر ڈی کے بھیس میں، کبھی ماما قدیر بن کر تو کبھی عاصمہ جہانگیر کی شکل میں۔

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ ہم غداروں نے اس ملک میں نفرت کی وہ دکانیں نہیں کھولیں جہاں سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں، دوسرے ملکوں میں رہنے والوں، دوسرے صوبوں میں رہنے والوں اور وردی کے بغیر سانس لینے والوں سے نفرت کی پڑیاں لپیٹ لپیٹ کر دی جاتی ہیں۔ مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق احمدی اس ملک کے مساوی شہری ہیں اور انہیں آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے، مجھے اپنی غدری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق بلوچستان میں رہنے والوں کا ہے۔

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میرے غدارانہ افکار کے مطابق فلاح و بہبود سیکیورٹی پر مقدم ہے۔ میں دفاعی اخراجات میں کمی کا حامی ہوں، ہندوستان سے جنگ کا قائل نہیں، عسکری اداروں کی پراکسیز کا خاتمہ چاہتا ہوں، سول بالادستی کا حامی ہوں اور مذہب کو سب کا ذاتی معاملہ خیال کرتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میری غداری توہین مذہب کے قوانین کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتی ہے، تحفظِ پاکستان ایکٹ کے تحت کی جانے والی زیادتیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور جتھے بنا کر شریعت کے نفاذ کو غلط قرار دیتی ہے۔

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ یہ غداری ان کی میراث ہے جو پاکستان بننے کے فوراً بعد غدار قرار پائے، جن کی منتخب حکومتیں معزول کی گئیں، جن کے اخبار ملکی سلامتی کی خاطر بند کیے گئے، جنہیں سرعام کوڑے لگائے گئے، جنہیں لاپتہ کیا گیا اور جنہیں اندھی گولیوں سے چھلنی کر کے پھینکا گیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں غدار ہوں آپ کی طرح محبِ وطن نہیں۔۔۔۔
Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmed is a marketing executive from Bahawalpur and regularly writes for Laaltain.


Related Articles

A Pakistani Guide on Writing a News Report about Sexual Harassment in India

A step-by-step guide on how to write a news report in Pakistan about sexual harassment (or any other crime or 'sin') committed by an Indian celebrity.

"پاکستان ہم نہیں تم توڑنا چاہتے ہو"

بظاہر پاکستان میں بلوچوں کی بات کرنا منع ہے اور اکیس ہزار لاپتہ بلوچوں اور چھ ہزار مسخ شدہ لاشوں کی بات کرنا ممنوع تر۔

سن پینسٹھ کی بازگشت:کون جیتا، کون ہارا

سن پینسٹھ کی بازگشت

"پیارے بچو، 6 ستمبر 1965ء کا ذکر ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح پاکستان کے دل لاہور پر حملہ کر دیا