مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں
مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں
وہ سال کے مختلف دنوں میں
اپنے اپنے خداؤں کا سنگھار کر کے
باہر نکالتے ہیں
پھر میری طرف استہزایئہ ہنسی کے
کنکر پھینکتے ہیں
میں تیس سال سے
خداؤں کی جنگ دیکھ رہا ہوں
میں نے اکثر دیکھا ہے
خالی کھوپڑیوں والے سپاہیوں کو
اپنے بھیجے کے بم بنا کے
اپنے خداؤں کو خوش کرتے ہوئے
ان کے خدا ان کو
ہر وقت عالمِ خواب میں رکھتے ہیں
میں یہ خواب نہیں دیکھنا چاہتا
میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا

Image: Frank Vincentz


Related Articles

آ ہم جسموں کا روزہ افطار کریں

آ ہم جسموں کاروزہ افطار کریں

ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

سدرہ سحر عمران: ہم نے آوازوں کے شہر میں جی کر دیکھا
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی

تم جانتے ہو

عارفہ شہزاد:
میں اس خوبصورت عورت کی طرح کیوں بننا چاہتی ہوں؟
تم جانتے ہو